8

اسرائیلی قتل گاہیں-انجم نیاز

گذشتہ پیر اسرائیلی فوج نے غزہ میں مظاہرین پہ گولی چلائی اور بڑی ہی بے رحمی سے درجنوں غیر مسلح فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ ہزاروں افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے ہیں۔ شہید ہونے والوں کی تعداد اس وقت تک باسٹھ بتائی جا رہی ہے اور اس میں اضافہ بھی متوقع ہے۔

عین اسی وقت جب غزہ میں یہ قتل عام جاری تھا۔ وہاں سے چالیس میل دور امریکی دختر اول آئیوانکا ٹرمپ اپنے (یہودی) شوہر جیرڈ کشنر سمیت تل ابیب سے یروشیلم منتقل کئے گئے نئے امریکی سفارتخانے کے افتتاح کی تقریب میں موجود تھی۔ یہ دونوں اس تقریب میں تالیاں بجاتے اور خوب مسکراتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ہماری ٹی وی سکرینوں پہ اس تقریب اور ان ہلاکتوں کی خبریں اور تصویریں بیک وقت چل رہی تھیں اور ہم دہشت، کراہت اور بے یقینی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔

ٹرمپ کے حامی اسرائیل کو ہر قسم کے قصور سے آزاد ٹھہراتے ہوئے اس صورتحال کی ساری ذمہ داری حماس پہ ڈال رہے تھے کہ اسی کے اکسانے پہ یہ مظاہرین غزہ میں جمع ہوئے۔ لعنت ہو ان پر! اگر حماس نے انھیں احتجاج کے لئے جمع کیا بھی تھا تو یہاں تو بات انسانی زندگیوں کی ہو رہی ہے!! اسرائیل نے یہ سب کیا بھی توماہِ رمضان کے آغاز سے صرف ایک دن پہلے!!

کئی ایک تجزیہ کار جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں آباد دو ملین فلسطینیوں کی زندگی کو جہنم بنا کے رکھا ہوا ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ مظاہرین سرحد پہ جانیں نچھاور کرنے کو تیار ہو کر آئے تھے کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لئے کچھ اور بچا ہی نہیں۔ غزہ ایک کھلی جیل کی طرح ہے۔ چند لوگ ہی اس میں داخل ہو سکتے ہیں یا اس سے باہر نکل سکتے ہیں۔ بجلی، پینے کے پانی کے سا تھ ساتھ دیگر وسائل وروزگار کی عدم دستیابی نے اس علاقے کی فضاء کو ناامیدی اور مایوسی سے بھر رکھا ہے۔

مسلمان دنیا کے لئے یہ شرم کا مقام ہے کہ ان کے مسلمان بھائی بہن ایسی تکلیفوں سے گزر رہے ہیں اور اس نے چپ سادھ رکھی ہے۔ فلسطینیوں کے حالیہ قتل عام پہ صرف ترکی نے ہی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی سفر کو ملک بدر کیا اور اپنے سفیر کو بھی اسرائیل وامریکا سے واپس بلوا لیا ہے۔ امریکا کی جانب سے ملنے والی کھلی کھلی حمایت نے اسرائیلی صدر نیتن یاہو کو بے حد بے باک کر دیا ہے۔ اس نے ٹوئٹر پہ ترک صدر طیب اردوان کے بارے میں لکھا کہ ’’وہ حماس کے ایک بہت بڑے حامی ہیں لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دہشت گردی اور قتل عام کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ وہ ہمیں کم از کم اخلاقیات کا درس نہ دیا کریں۔‘‘ ترک صدر طیب اردوان نے عہد کیا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے امریکی منصوبے کو خاک میں ملا دیں گے۔ تاہم ، آج وہ مسلمان لیڈروں کے جھنڈ میں تنہا آواز بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بیاسی سالہ محمود عباس کی زیر سربراہی فلسطینی اتھارٹی کے لئے بھی یہ نہایت شرم کا مقام ہے کہ انہوں نے غزہ کے لوگوں کو یوں تنہا چھوڑ دیا ہے صرف اس لئے کہ وہاں حماس کا کنٹرول ہے اور اس سے وہ نفرت کرتے ہیں۔ گذشتہ دسمبر میں امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے اعلان کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوجی ایک سو فلسطینیوں کو شہید کر چکے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ تقریباً پوری دنیا نے ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس اقدام کو خطرناک، تباہ کن اور غیر ذمہ دارانہ ٹھہرایا تھا۔

مشرقی یروشیلم سے ہمیں ہماری دوست امل حبیبی نے لکھا کہ کس طرح امریکی صدر کے اس اعلان نے فلسطینیوں کے ان امیدوں کا گلا گھونٹ دیا ہے کہ وہ کبھی اس علاقے کو اپنا دارالحکومت بنا سکیں گے۔ ’’ٹرمپ نے ہماری اس مقدس سرزمین کو ایک وار زون میں بدل کر رکھ دیا ہے۔‘‘ امل حبیبی اسی علاقے میں ایک ہوٹل کی مالکہ ہیں۔ تین سال قبل ہم نے ان ہی کے ہوٹل میں قیام کیا تھا۔ ہر سال ماہِ رمضان کے قریب آنے پہ ہمیں اپنے گائیڈ رمضان کی ای میل بھی موصول ہوتی ہے۔ رمضان نے ہمارے فلسطین کے قیام کے دوران ہمیں یروشیلم، الخلیل اور بیت اللحم کی سیر کروائی تھی۔ اس سال ابھی تک ہمیں ان کی ای میل موصول نہیں ہوئی ۔ یہاں ہم ان کی 2016ء والی ای میل کی چند سطور قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہیں گے۔

انہوں نے لکھا تھا ’’ماہ رمضان قریب آ چکا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ ایک بار پھر تشدد اور خونریزی کی ایک لہر اٹھے گی۔ یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ہمارے مقدس ترین مہینے میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی ہیں اور یہ بھی کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم لوگ جو مدتوں سے یروشیلم میں آباد ہیں ہمیں اس ماہ کے دوران ہمارے مقدس ترین مقامات کی زیارت سے صرف اس لئے روک دیا جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ یہ آپ کی خو ش قسمتی ہے کہ آ پ کو یروشیلم میں زیتون اور دیودار کے درختوں کے سائے میں بیٹھ کر اس شہر کی روحانیت کو اپنی سانسوں میں سمونے کا موقع حاصل ہوا تھا۔ ہم لوگ ایک بینچ پر بیٹھ کر مسجد اقصیٰ کی عظمت کا براہِ راست نظارہ کر رہے تھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے حضور اکرم ﷺ نے اپنے معراج کے سفر کے دوران آسمانوں کی جانب صعود فرمانے سے قبل نماز ادا کی تھی۔‘‘

رمضان نے اپنی اس ای میل میں ہمیں یاد دلایا تھا کہ امریکا کے علاوہ باقی ساری دنیا یروشیلم پر اسرائیلی قبضے پہ نکتہ چینی کر چکی ہے۔ صرف امریکا ہی ہے جو اسرائیل کی پشت پناہی کرتا آ رہا ہے۔ سب سے زیادہ فوجی امداد بھی امریکا ہی اسرائیل کو فراہم کرتا ہے۔ اسی لئے اگر داعش نے آگے آ کر یروشلم کو اسرائیل سے چھڑانے کے عزم کا اظہار کیا ہے تو اس میں کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ البتہ اچھی خبر نہیں کیونکہ اسرائیلی فوج پہلے ہی انھیں شک اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔’’ذرا سوچئے کہ اگر داعش نے اسرائیل میں در اندازی شروع کر دی تو پھر کیا ہو گا۔ ہم جیسے عرب اسرائیلیوں کے لئے یہ صورتحال دہری مصیبت لے کر آئے گی۔ ہم نہیں چاہتے کہ جرائم پیشہ لوگوں کا یہ جتھہ آکے ہم پہ قابض ہو۔‘‘ بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

Hits: 1

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں