6

غزہ جنگ : مغربی میڈیا میں فلسطین اور فلسطینیوں کی غلط نمائندگی-ڈاکٹر رَمزی بارود

مغربی میڈیا کی فلسطین اور اسرائیل کے موضوع ، خطے میں جاری اتھل پتھل ، تشدد اور دیرینہ تنازع کی رپورٹنگ بے ربط تو ہوتی ہی ہے ،مگر یہ پراسرار اور نامناسب ادراکات پر بھی مبنی ہوتی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ مغربی میڈیا کی فلسطین کی صورت حال اور اسرائیل کے بارے میں بالکل درست انداز میں رپورٹنگ کی کامیابی یا ناکامی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ موضوعی ہوگا۔

حد تو یہ ہے کہ فلسطین پر قبضے اور اپنی حکومت کی دائیں بازو کی پالیسیوں کی حمایت کرنے والے اسرائیلی بھی اکثر اوقات میڈیا کے تعصب کی شکایت کرتے ہیں ۔تاہم ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مغرب کا مرکزی دھارے کا کارپوریٹ میڈیا اب ناکامی سے دوچار ہورہا ہے۔ صرف اس وجہ سے نہیں کہ بیشتر امریکی اسرائیل نواز رویے کے حامل ہیں اور یورپی ان سے ذرا کچھ کم ہیں ، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ میڈیاغیر متنازع حقائق کو بھی مسلسل نظر انداز کررہا ہے ۔

مثال کے طور پر گوگل کنزیومر سروے کے دو سال پہلے کے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق امریکیوں کی اکثریت اس غلط تصور کی حامل تھی کہ فلسطینیوں نے اسرائیلی سرزمین پر قبضہ کررکھا ہے حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے اور اسرائیل فلسطینی سرزمین پر قابض ہے۔

امریکیوں میں معلومات کا خطرناک اور تباہ کن حد تک یہ فقدان میڈیا کی ناکامی کا بیّن ثبوت ہے کیونکہ امریکی ٹیلی ویژن چینلوں پر بہت زیادہ وقت اور اخبارات کے بہت سے کالم اسرائیل کے بارے میں بحث و تکرار کی نذر کر دیے جاتے ہیں ۔اس عمل نے ایک قسم کا دانشورانہ خلا پیدا کردیا ہے اور میڈیا کے ذریعے اس قسم کے مسخ شدہ نظریات بھی پھیلائے جارہے ہیں کہ ’’ فلسطینی مائیں اپنے بچوں سے ایک طویل عرصے سے جاری مسائل کی وجہ سے نفرت کرتی ہیں ‘‘۔

بدقسمتی سے مذکورہ جملہ امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کی سنہ 2000ء سے 2005ء تک دوسری انتفاضہ تحریک کے دوران میں ایک میڈیا کلپ تھا۔اس خطرناک اور تاریک جملے کے حق میں کوئی بھی عقلی دعویٰ فراہم نہیں ہوسکا تھا لیکن ماضی میں صہیونیت کےنظریات سے اس کا تعلق ضرور رہا تھا۔

یہ نظریہ اسرائیل کی سابق وزیراعظم گولڈا میر سے منسوب ایک بیان سے اخذ کیا گیا تھا ۔ انھوں نے مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ ’’ امن اس وقت قائم ہوگا جب عرب ہم سے نفرت سے زیادہ اپنے بچوں سے پیار کریں گے‘‘۔اس بیان کے مصدقہ ہونے سے قطع نظر اسرائیل کے بہت سے حامیوں نے درحقیقت اس کو ایک ابدی حقیقی نعرہ بنا لیا ہے اور اس کو نسل پرستی کا بھی تڑکا لگا لیا گیا ہے۔

اخلاقی بحران
یہ اخلاقی بحران اس وقت دو چند ہوجاتا ہے جب امریکی میڈیا اس طرح کی خطرناک منطق کو بروئے لاتے ہوئے اپنی تفہیم اور فلسطین پر اسرائیل کے غیر قانونی اور غاصبانہ قبضے اور گذشتہ ستر سال سے فلسطینی عوام کی جاری نسل کشی کو اپنے انداز میں فریم کرتا ہے لیکن کیا اس طر ح میڈیا کے تعصب کو ایک ہی سائز کے چوکھٹے میں فٹ کیا جاسکتا ہے؟

یہ بہت مشکل ہے ۔’ میڈیا تعصب‘ کی اصطلاح مغربی کارپوریٹ میڈیا کے اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ تعلقات کو کوئی انصاف فراہم نہیں کرسکتی مگر یہ تعلق داری درحقیقت جزوی نہیں بلکہ بہت گہری ہے۔یہ لاعلمی کی مظہر تو کسی بھی صورت میں نہیں ہے بلکہ ایک طویل المیعاد اور سوچی سمجھی مہم ہے جس کا مقصد اسرائیل کا تحفظ اور فلسطینیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

اس کا اندازہ غزہ میں حالیہ مقبول عام احتجاجی مظاہروں کی متعصبانہ کوریج سے بھی کیا جاسکتا ہے۔اس کا مقصد کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی طریقے سے فلسطین کے بارے میں سچائی کو چھپانا تھا۔

باہمی سیاسی تعاون ، ثقافتی مشا بہت ، ہالی ووڈ اور اسرائیل نواز اور صہیونی گروپوں کے سیاسی اور میڈیا کے حلقوں میں اثرات ہمیں اپنی وضاحت خود ہی پیش کررہے ہیں کہ اسرائیل سے بیشتر مرتبہ ہمدردی کا اظہار کیوں کیا جاتا ہے اور فلسطینیوں اور عربوں کی مذمت کیوں کی جاتی ہے۔

لیکن اس طرح کی وضاحتیں مشکل ہی سے مناسب معلوم ہوتی ہیں ۔آج کل بہت سے میڈیا ادارے اس عدم توازن کو توازن میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ان میں سے بہت سوں کا تعلق مشرقِ اوسط اور دنیا کے دوسرے حصوں سے ہے۔ فلسطینی اور عرب صحافی ،دانشور اور ثقافتی نمائندے عالمی منظر نامے پر آج پہلے سے کہیں زیادہ موجود ہیں ۔ وہ اسرائیل نواز میڈیا کے بیانیے کو اگر شکست سے دوچار نہ بھی کرسکیں تو اس کا سامنا کرنے کی صلاحیت سے ضرور بہرہ ور ہیں ۔

لیکن وہ بالعموم مغربی میڈیا کو نظر نہیں آتے ہیں ۔یہ تو اسرائیلی ترجمان ہوتا ہے ، جو مرکزی اسٹیج پر ہر کہیں نظر آتا ہے ، وہ بولتا ، چلاتا ، نظریات وضع کرتا اور دوسروں کے لتے لیتا نظر آتا ہے۔اس صورت میں معاملہ میڈیا کی جہالت اور لاعلمی تک محدود نہیں رہتا ہے بلکہ یہ ایک پالیسی بن جاتا ہے۔

مثال کے طور پر 30 مارچ سے قبل غزہ میں سیکڑوں فلسطینی موت کی نیند سلا دیے گئے تھے او ر ہزاروں زخمی ہوچکے تھے۔ایسے میں امریکی اور برطانوی میڈیا کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے تھا کہ فلسطینی مظاہرین کا سامنا کرنے کے لیے سیکڑوں اسرائیلی ماہر نشانہ باز وں اور فوجی ٹینکوں کو غزہ کی سرحد پر کیوں لگایا گیا ہے لیکن اس کے بجائے میڈیا نےغزہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور اسرائیلی اسنائپروں کے درمیان جھڑپوں کو اس انداز میں رپورٹ کیا تھا جیسے دو برابر کی قوتوں میں میدان جنگ میں مقابلہ ہورہا تھا۔

یہ کہنا کہ اسرائیل کا سرکاری پروپیگنڈا یا ’ ہاسبارا ‘ اب مناسب نہیں رہا ہے، درست نہیں ہے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں نہتے فلسطینیوں کو موت کی نیند سلانے کی وضاحت میں حقیقت پسندی کہاں پائی گئی ہے؟ اسرائیلی فوج نے 31 مارچ کو یہ ٹویٹ کی تھی :’’ گذشتہ روز ہم نے 30000 افراد کا سامنا کیا تھا۔ہم مختصر کمک کے ساتھ تیاری کرکے آئے تھے ۔ کچھ بھی کنٹرول سے باہر نہیں ہوا تھا ۔ہر کام ٹھیک ٹھیک ہوا تھا اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ایک ،ایک گولی کہاں گری تھی ‘‘۔

اقبال ِجُرم
صرف یہی کچھ برا نہیں ہوا تھا بلکہ اسرائیل کے کٹڑ قوم پرست وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے اس اقبال جُرم میں یہ بیان داغ کر اضافہ کیا تھا کہ ’’غزہ میں کوئی بھی معصوم نہیں ہے‘‘۔یوں انھوں نے محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی کے ہر مکین کو نشانہ بنانے کو جائز قرار دے دیا۔

میڈیا کی غیر منصفانہ کوریج کو اس سادہ نعرے ’’ ہوشیار اسرائیل ، غیر ذمے دار عرب ‘‘ سے مہمیز نہیں ملی ہے بلکہ مغربی میڈیا اسرائیل کی پردہ پوشی اور اس کو ڈھال فراہم کرنے میں بھی ملوث ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے دشمنوں کے تشخص کو بڑی محتاط روی سے مجروح کررہا ہے۔

مثال کے طور پر اسرائیل نے یہ بے بنیاد پروپیگنڈا کیا تھا کہ غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے حق ِ واپسی کے لیے مظاہرے کی کوریج کے دوران اسرائیلی نشانہ باز کی گولی کا نشانہ بن جانے والے صحافی یاسر مرتجیٰ حماس کے ایک رکن تھے۔

سب سے پہلے اسرائیل کے ایک بے نامی عہدہ دار نے یہ دعویٰ کیا کہ یاسر حماس کے زیر اہتمام سکیورٹی ادارے کے رکن تھے۔اس کے بعد لائبرمین نے یہ من گھڑت کہانی بیان کی کہ یاسر سنہ 2011ء سے حماس کے تن خواہ دار ملازم تھے اور وہ کپتان کے مساوی عہدے کے حامل تھے۔بہت سے صحافیوں نے ان بیانات کو مزید کسی تحقیق اور تفتیش کے بجائے آگے چلا دیا تھا ۔اس طرح وہ میڈیا کے ذریعے ایک غلط اطلاع کی تشہیر کا موجب بنے تھے۔

لیکن بعد میں یاسر کے بارے میں ایک بالکل مختلف تفصیل سامنے آئی تھی۔ امریکا کے محکمہ خارجہ کے مطابق یاسر نے غزہ میں یو ایس ایڈ سے ملنے والی معمولی گرانٹ سے ایک میڈیا کمپنی کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد ان کی کمپنی کو سخت چھان بین کے عمل سے گزرنا پڑا تھا ۔مزید برآں صحافیوں کی بین الاقوامی فیڈریشن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یاسر کو تو غزہ میں پولیس نے 2015ء میں گرفتار کر لیا تھا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ اسرائیل کے وزیر دفاع نے اپنے فوجی کے ہاتھوں کے ان کے اندوہ ناک قتل کی پردہ پوشی کے لیے ایک اور من گھڑت کہانی وضع کر ڈالی تھی ۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کا میڈیا اسی طرح ناقابل اعتبار اور خود شکست خوردہ ہے جس طرح شمالی کوریا کا ہے مگر مغربی میڈیا اس کا ایسا امیج کم ہی پیش کرتا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کو اخلاقی چبوترے پر کھڑا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حالات و واقعات سے قطع نظر فلسطینیوں کے بارے میں درست اطلاعات بہم نہیں پہنچاتا ہے۔

اسرائیل کے حق میں مغربی میڈیا کی یہ پھرکی بازی اسی طرح جاری رہے گی تاکہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اپنی متشدد کارروائیوں کو جاری رکھ سکے۔وہ اپنا کوئی اخلاقی احتساب نہیں کرے گا۔وہ بدستور اسرائیل کا وفادار رہے گا اور سچائی اور اس کے ناظرین و قارئین کے درمیان ایک حد فاصل قائم کردے گا۔

اب یہ ہماری اخلاقی ذمے داری ہے کہ ہم اس مذموم گٹھ جوڑ کو بے نقاب کریں اور مرکزی دھارے کے میڈیا کو اسرائیل کے جرائم اور ان جرائم کے ارتکاب پر اسرائیل کی پردہ پوشی پر قابل مواخذہ ٹھہرائیں ۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں