66

رمضان کا آخری عشرہ اور اعتکاف – خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے(بمطابق رؤیت 16) 17 رمضان 1439 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں “رمضان کا آخری عشرہ اور اعتکاف” کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ زندگی میں اللہ کی اطاعت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں ہے اور جنت یا جہنم کا فیصلہ بھی اسی کی بنا پر ہو گا، چنانچہ اگر کوئی جنت پا گیا تو وہی کامیاب ہے۔ ماہ رمضان اسی لیے اللہ تعالی نے ہمیں نصیب کیا ہے کہ ہم اطاعت کر لیں اور اپنے گناہوں کو معاف جبکہ دعاؤں کو قبول کروا لیں ؛ کیونکہ رمضان میں اپنی مغفرت حاصل نہ کرنے والے کے متعلق جبریل علیہ السلام نے بد دعا کی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر آمین کہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی کام کا نتیجہ آخری مراحل کے مطابق ہوتا ہے؛ لہذا رمضان کا اختتام اچھا بنانے کیلیے خوب محنت کریں، خصوصاً آخری عشرے میں رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر چلیں کہ آپ آخری عشرے میں دیگر ایام رمضان سے بڑھ کر عبادت کرتے تھے، آخری عشرے میں شب قدر بھی آتی ہے جو کہ رحمتوں سے مالا مال ہوتی ہے، اس رات میں سارے سال کے فیصلے کیے جاتے ہیں، یہ ایک رات ہزار ماہ کی عبادت سے بھی بہتر ہے، اسی رات کی جستجو کے لیے اعتکاف بیٹھنا مسنون عمل ہے، اعتکاف میں انسان دنیاوی امور سے منقطع ہو کر اللہ تعالی کی بندگی میں مصروف ہو جاتا ہے اور جدید آلات میں مشغول نہیں رہتا، نہ ہی فضول گپ شپ اور میل جول میں وقت ضائع کرتا ہے، انہوں نے تمام معتکفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوران اعتکاف انتہائی دل گدازی اور رقت قلبی کے ساتھ اللہ سے مناجات میں مشغول رہیں، جبکہ دیگر تمام مسلمانوں کو مسجدوں کے حقوق سے آشنا رہ کر مسجدوں کا ادب کرنے کی ترغیب دلائی، آخر میں امور حرمین کی نگران کمیٹی کی کوششوں کو سراہا اور زور دیا کہ تمام زائرین انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، اور آخر میں دعا بھی کروائی۔

پہلا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جس نے توبہ کرنے والوں کیلیے راستہ بنایا۔ اپنی طرف رجوع کرنے والوں کیلیے دائمی قیام اور آرام کی جگہ بنائی، اللہ کی بندگی میں پروان چڑھنے والوں کے لیے طویل سائے بنائے، اب جو چاہے اپنے پروردگار کے راستے کا انتخاب کر لے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ، عظمت و مقام میں اس کا کوئی شریک نہیں، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، امامت اور رہنمائی کے لیے آپ ہی کافی ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں سلامتی اور رحمتیں نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں آپ سب اور اپنے آپ کو تقوی الہی کی نصیحت کرتا ہوں؛ کیونکہ تقوی کے بنا سعادت کا اور اللہ تعالی کی اطاعت کے بغیر کامیابی کا تصور بھی ممکن نہیں۔

اور یہ بھی ذہن نشین کر لو کہ اللہ تعالی کی اطاعت ؛ غنیمت اور کرنے کا بہترین کام ہے، اللہ تعالی کی رضا مندی اعلی ترین منفعت اور ہدف ہے۔

جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے اور جہنم کو شہوانی چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے، اور تمہیں تمہارا اجر قیامت کے دن پورا ملے گا، لہذا جس شخص کو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہو گیا۔

روزے دارو!

اللہ تعالی آپ کی اطاعت قبول فرمائے اور آپ کی بہتری کا سامان فرمائے، اس مہینے کے باقی ماندہ دنوں میں آپ کو مزید توفیق سے نوازے، نیز پورے سال کے ایام میں آپ کو اطاعت گزاری پر ثابت قدمی لکھ دے۔

مسلم اقوام!

یہ ایام آپ کے لیے بہت بڑی غنیمت ہیں، اس لیے نیکیوں کے لیے تاخیر مت کرو؛ کیونکہ فضل و کرم سے بھر پور ماہ ختم ہوتا جا رہا ہے، اس مہینے کی راتیں اور دن اختتام کی جانب رواں دواں ہیں، اس لیے باقی ماندہ دنوں میں بڑھ چڑھ کر نیکیاں کر لیں، عظمت و جلال والی ذات کے سامنے توبہ کر لیں، وگرنہ سستی کرنے والوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا، خسارہ پانے والوں کی حسرت بہت بڑی ہو گی، اور غافلوں کو سخت تکلیف سے دوچار ہونا پڑے گا۔

ایک بار (رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے تو آپ نے فرمایا: آمین، آمین، آمین)” پھر جب آپ منبر سے اترے تو اس بابت پوچھا گیا اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:(میرے پاس جبریل آئے تھے اور انہوں نے بد دعا دی کہ: اس شخص کا ستیاناس ہو جائے جو رمضان بھی پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، وہ جہنم میں جائے اور اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے دھتکار دے، کہو: آمین ، تو میں نے آمین کہی۔ پھر [جبریل نے بد دعا دی کہ] اس شخص کا بھی ستیاناس ہو جو اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرے، وہ مرے تو جہنم جائے، اللہ تعالی اسے بھی اپنی رحمت سے دھتکار دے، کہو: آمین، تو میں نے آمین کہی۔ پھر [جبریل نے بد دعا دی کہ] اس شخص کا بھی ستیاناس ہو جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، اللہ اسے بھی اپنی رحمت سے دور کر دے، کہو: آمین، تو میں نے آمین کہی)

یہ بھی پڑھیں: رمضان ؛ تمام عبادات کا سنگم – خطبہ جمعہ مسجد نبوی
کسی بھی کام کی کارکردگی کا نتیجہ اختتام کے مطابق ہوتا ہے، اس لیے اختتام اچھا بنانے کیلیے خوب محنت اور تگ و دو کرو، گنتی کے دن باقی رہ گئے ہیں، رمضان کا آخری عشرہ بھی تمہارے سامنے ہے، جو کہ افضل ترین اوقات میں شامل ہے، یہ عشرہ خیر و بھلائی اور نیکیوں کی بہار ہے، اس عشرے میں نیکیوں کے لیے خوب محنت کرنے کا حق بنتا ہے، اگرچہ اس مہینے کے سارے دن ہی عظیم فضیلت والے ہیں، لیکن اس عشرے کا مقام بہت بلند ہے اور اس میں اجر و ثواب بھی زیادہ ملتا ہے۔

یہ عشرہ گناہ معاف کروانے کا عشرہ ہے، گناہوں کی صفائی کا عشرہ ہے، یہ دعائیں قبول کروانے کا عشرہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ: (رسول اللہ ﷺ ان ایام میں اتنی عبادت فرماتے تھے کہ کسی اور وقت میں اتنی عبادت نہیں کرتے تھے) اور جب (آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو کمر کس لیتے ، ساری رات عبادت کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگا کر رکھتے)

اس لیے اس عشرے کا مکمل خیال کرنا، یہ بہت بڑی غنیمت ہے، اس عشرے کی خیر و برکات سے فائدہ اٹھانے والا مبارکباد کا مستحق ہے۔

اللہ کے بندو!

آخری عشرے میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے، اس رات میں رحمتیں نازل ہوتی ہیں، دعائیں قبول کی جاتی ہیں، گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے، اور لغزشوں کو معاف کر دیا جاتا ہے، جو شخص بھی حالت ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ اس رات میں قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہوں کو معاف کر دیا جاتا ہے ۔

اس رات میں سستی دکھانے والا، اور اس کی برکتوں سے محروم ہونے والا حقیقی محروم اور دھتکارا ہوا ہے۔

اس رات کو لیلۃ القدر کہتے ہیں، یہ مومنین کی مطلوبہ رات ہے، یہ نیک لوگوں کی امید اور متقی لوگوں کی امنگ ہے، اس رات میں ہر چیز کی مقدار لکھ دی جاتی ہے، اس رات میں حکمت بھرے فیصلے ہوتے ہیں، اس لیے اس رات میں قیام کریں، اس رات کی جستجو میں لگے رہیں، اس کی تلاش میں مکمل کوشش کریں، اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑائیں؛ کیونکہ اللہ کی قسم! یہ رات انتہائی آسانی سے حاصل ہونے والا مال غنیمت ہے کہ: صرف ایک رات کی عبادات ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے، بہت امید ہے کہ اس رات کا متلاشی نامراد نہیں ہو گا؛ کیونکہ اللہ کا فضل بہت وسیع اور عظیم ہے۔

أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3) تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ (4) سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ} یقیناً ہم نے اس [قرآن] کو شب قدر میں نازل فرمایا [1] اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ [2] شب قدر ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے [3] اس میں روح [یعنی جبریل علیہ السلام]اور فرشتے اپنے پروردگار کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں [4]یہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک۔[القدر: 1 – 5]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، اللہ تعالی نے اطاعت گزاری کو رضائے الہی کا راستہ بنایا، اور اپنی رضا کو جنتیں حاصل کرنے کا وسیلہ قرار دیا، پھر مومنوں کو اطاعت کی توفیق دی تو وہ اللہ کی بندگی میں مگن ہو گئے، انہوں نے اپنی لذتوں اور شہوانی امور کو چھوڑ دیا اور رضائے الہی کو ہر چیز پر فوقیت دی۔

اللہ کے بندو!

اعتکاف یہ ہے کہ عبادت کے لیے مسجد میں محصور ہو جائیں، نفس کو شہوت اور دنیاوی لذتوں سے روک کر دنیا اور دنیاوی فتنوں سے بالکل منہ موڑ لیں، لہو و لعب سے کنارہ کشی اختیار کر کے اللہ تعالی سے مناجات میں دل لگائیں۔ میل جول ، لغویات، فضول گپ شپ سے بالکل الگ تھلگ ہو جائیں، اللہ تعالی کے ساتھ تجدید عہد کریں، دل کو دنیاوی زندگی کی میل کچیل سے پاک صاف کر کے روشن بنائیں۔

اللہ تعالی نے مسجدوں میں اعتکاف کو شریعت کا حصہ بنایا اور پھر مساجد کو اعتکاف کرنے والوں کے لیے تیار کرنے کا حکم بھی دیا: {وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ} اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔ [البقرة: 125]

یہ بھی پڑھیں: رمضان ؛ تمام عبادات کا سنگم – خطبہ جمعہ مسجد نبوی
اللہ کے بندو!

اعتکاف بیٹھنا سنت ہے، اور رمضان کا پسندیدہ ترین عمل ہے، جبکہ آخری عشرے میں اس کی بہت زیادہ ترغیب ہے، چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: (رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو وفات سے ہمکنار کیا، پھر آپ کی بیویوں نے آپ کے بعد اعتکاف کیا) متفق علیہ

اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : (رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے)

اللہ کے گھروں میں آنے والو!

زمین پر مسجدیں اللہ تعالی کے گھر ہیں؛ اس لیے مساجد کے حقوق سے آشنا رہیں، یہاں پر مکمل آداب کا لحاظ رکھیں، مساجد کے مقام و مرتبے کا خیال رکھیں، مساجد کو صرف عبادت کے لیے بنایا جاتا ہے، اس لیے مسجدوں میں سکون اور وقار کے ساتھ رہیں، مساجد کو لہو و لعب یا خرید و فروخت کی جگہ مت بنائیں، مسجدوں میں موجود نمازیوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں کو اذیت مت دیں؛ کیونکہ اس طرح ان کی عبادت میں خلل پیدا ہوتا ہے، اور ان کے خشوع و خضوع میں کمی آتی ہے۔

اعتکاف بیٹھنے والو!

تم اللہ کے گھروں میں عبادت اور دنیا سے قطع تعلقی کر کے آخرت کی تیاری کرنے کے لیے آئے ہو، اس لیے اللہ تعالی کی جانب قلبِ منیب اور دل گدازی کے ساتھ متوجہ ہو جائیں۔ انتہائی عاجزی، انکساری اور رقت قلبی کے ساتھ اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑائیں۔ اپنے آپ کو ان سے متصادم چیزوں سے بچائیں، موبائل اور دیگر برقی آلات سے دور رکھیں، فضول گپ شپ مت لگائیں، اور مساجد کے احترام کو مکمل طور پر ملحوظ خاطر رکھیں۔

رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اعتکاف بیٹھنے والو!

جنرل پریزیڈنسی برائے امور حرمین نے تمہارے استقبال کے لیے قابل قدر کد و کاوش کی ہے، اور مسجد نبوی کی چھت کو ضروری آلات سے لیس کر کے معتکفین کے لیے مختص کر دیا ہے، جنرل پریزیڈنسی کے تمام ملازمین آپ کی خدمت میں مصروف عمل ہیں، اس لیے آپ بھی تمام ذمہ داران کے ساتھ تعاون کریں اور نظم و ضبط کے مطابق چلیں، تا کہ مسجد نبوی کا احترام بھی ہو اور یہاں آنے والے مہمانوں کی خدمت بھی، نیز عبادت گزاروں کی اعانت بھی، ساتھ میں اجر و ثواب بھی ملے اور شرعی احکامات کی تعمیل بھی ہو، اللہ تعالی کا اس بارے میں فرمان ہے کہ: {وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ} اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے کعبہ کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف، قیام، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا ۔[الحج: 26]

اللہ تعالی آپ کا اعتکاف اور دیگر تمام عبادات قبول فرمائے۔

یا اللہ! ہمارے روزے اور قیام قبول فرما، یا اللہ! ہمارے روزے اور قیام قبول فرما۔

یا اللہ! ہمیں شب قدر میں ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ قیام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! بیشک توں معاف کرنے والا ہے، توں معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، اس لیے ہمیں معاف فرما دے۔ یا اللہ! بیشک توں معاف کرنے والا ہے، توں معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، اس لیے ہمیں معاف فرما دے۔ یا اللہ! بیشک توں معاف کرنے والا ہے، توں معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے، اس لیے ہمیں معاف فرما دے۔

یا اللہ! ساری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! ساری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں صرف ایسے کاموں کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کی بھلائی ہو، جس میں ملک و قوم کی بھلائی ہو، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، اور ہمارے فوجیوں کی مدد فرما، یا قوی! یا عزیز!

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

Hits: 52

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں