8

اظہار رائے کی آزادی کا فلسفہ- سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری

اظہار رائے کی آزادی کو فریڈم آف اسپیچ اینڈ ایکسپریشن سے تعبیر کیا جاتاہے۔جس کا سادہ سامطلب بولنے کی آزادی ہے۔ عمل اور لکھنے کی آزادی کو بھی اظہار رائے کی آزادی میں شمار کیا جاتاہے۔ یعنی ہر انسان تقریر وتحریر اورعمل کرنے میں آزاد ہے۔

رائے کی آزادی اور کسی کی دل آزاری میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آجکل آزادی رائے مغرب میں صرف اسلام کی توہین کو ہی سمجھ کر اس پر بڑے شوق سے عمل پیرا ہوا جاتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی تعلقات کی نت نئی شکلیں پیدا کرکے ان کے دائرے کو وسیع ترکردیا ہے۔ ان ہی ترقیاتی شکلوں میں نیٹ ورک سوشل میڈیا بھی ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں اس میں انتہائی تیز رفتار ترقی ہوئی ہے اور اب سوشل میڈیا نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی کا محور و مرکز بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ سے تعلق رکھنے والا ہر شخص فیس بک، ٹوئٹر، لنکڈ اور دیگر بہت سی سوشل سائٹس سے جڑی دنیا کا باشندہ بن چکا ہے۔ آج جملہ ذرایع ابلاغ میں سوشل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ ہورہا ہے اور آزادیٔ اظہار رائے کو آڑ بنا کر فتنہ وفساد پھیلایا جا رہاہے۔ عام تأثر یہ ہے کہ اسلام آزادیٔ اظہار رائے کے خلاف ہے۔ حالانکہ اسلام نے آزادی رائے کو مقدم رکھا ہے اور ہر اس رائے کی حوصلہ افزائی کی ہے جو باعث اصلاح اور تعمیری ہو ۔

حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ کلمات خیر کہے یا پھر خاموشی اختیار کرے۔ اسلام نے ہر اس لفظ اور جملے کی مذمت کی ہے جو عام لوگوں کی عزت نفس کو مجروح اور کسی مذہب کی دل شکنی کرتا ہو۔ اسلامی تاریخ میں بے شمار واقعات ایسے ہیں جن میں عام عوام نے خلیفۂ وقت پر تنقیدی رائے دی۔

حقیقت میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے اظہار رائے کی آزادی کا فلسفہ دیا۔ اس سے پہلے لوگ غلام تھے، مصنوعی خداؤں کے آگے جھکتے تھے، ان کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ اسلام سے قبل روم وفارس میں لوگ حکمرانوں کے غلام تھے، ان کے خلاف ایک لفظ کہنے کی اجازت تک نہ تھی، یونان کا کلیسا مقدس خدائی کا دعویدار تھا، جس سے اختلاف رائے کا مطلب موت تھی۔ مگر اسلام نے انسانوں کو انسانیت کی غلامی سے نکال کر آزاد کروایا اور صرف ایک اللہ کا بندہ بنانے کا اعلان کیا۔

یہی اسلام ہے جس میں ہر انسان آزاد ہے، وہ جو چاہے کرسکتا ہے، جو چاہے بول سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ’’لااکراہ فی الدین‘‘ (دین میں کوئی جبر نہیں)، ’’لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا‘‘ (کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتے) اور آپﷺکو ’’وشاورھم فی الامر‘‘ (کہ معاملات میں لوگوں سے مشورہ کرو) جیسے سنہری اصولوں سے واضح کردیا کہ اسلام اظہار رائے کی آزادی کاحامی ہے لیکن اسلام اعتدال پسند ہے، فساد کے خلاف ہے۔ چنانچہ اسلام نے رائے کی آزادی کے ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ انسان رائے دینے میں حیوانوں کی طرح بے مہار نہیں، بلکہ اس کی اظہار رائے کی آزادی کچھ حدود کی پابند ہے۔

چنانچہ ارشاد فرمایا: ’’مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید‘‘ (انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا مگر اس پر نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار) اسی طرح سورۂ حجرات میں اظہار رائے کی آزادی کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کسی کا تمسخر نہیں کرسکتا، کسی کی غیبت نہیں کرسکتا، کسی پر بہتان، الزام تراشی، یاکسی کی ذاتی زندگی کے عیب نہیں ٹٹول سکتا، حتی کہ کسی کو برے نام اور القاب سے نہیں پکار سکتا۔

آزادیٔ اظہار رائے کی آڑ میں جو خبیث ایسی اوچھی حرکتوں پر اتر آتے ہیں وہ در اصل ہماری ہی خطا ہے۔ دشمن وقفے وقفے سے ہماری غیرت چیک کرتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ ہم اس کے دیے ہوئے نشے میں پوری طرح ڈوب گئے ہیں تو وہ ایسی ناپاک حرکت کر بیٹھتا ہے۔

آپ نے اختر شیرانی صاحب جو ایک مشہور شاعر تھے کا یہ واقعہ بارہا پڑھا ہو گا کہ ایک دفعہ چند کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے، اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ وہ بلانوش تھے شراب کی دو بوتلیں وہ اپنے حلق میں انڈیل چکے تھے، ہوش و حواس کھو چکے تھے تمام بدن پر رعشہ طاری تھا حتی کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زباں سے نکل رہے تھے۔ ادھر اختر شیرانی کی انا کا شروع ہی سے یہ عالَم تھا کہ اپنے سوا کسی کو مانتے نہیں تھے۔

اختر شیرانی شراب کے نشہ میں مست تھے۔ اسی نشے کی کیفیت میں کسی نے دریافت کیا:

آپ علامہ اقبال سے متعلق کیا فرماتے ہو؟

فرمایا: وہ تو جاہل تھا۔

پوچھا گیا: غالب کے متعلق کیا رائے ہے؟

کہا: وہ بھی فن شاعری سے لابلد تھا۔

سلسلہ وار اسی طرح سوالات ہوتے رہے۔ اخیر کار آزمائش کے طورپر دریافت کیا گیا:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا خیال ہے؟؟

بس اس سوال کا کرنا تھا کہ شیرانی صاحب نے عصا تھام لیا اور سائل کو لگے پیٹنے یہ کہتے ہوئے کہ کمینے شراب کی ناپاک مجلس میں میرے آقاﷺکا پاک نام لینے کی تیری جرأت کیسے ہوئی؟

نہایت غصہ کی کیفیت میں پیٹتے رہے۔ پھر رونے لگے یہ کہہ کر کہ اختر خطاء تو تیری ہے۔ اگر تو شراب کے نشہ میں نہ ہوتا تو کسی کی جرأت کہاں ہوتی کہ اس کیفیت میں پیارے نبیﷺ کا نام لیتا۔

ساری رات روتے رہے۔ کہتے تھے یہ لوگ اتنے بے باک ہو گئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں۔

اسی طرح ہم عشقِ رسولﷺاور سنتِ رسولﷺمیں کوتاہ ہوگئے۔ شاید اسی لئے دشمن کو گستاخی کی ہمت ہوگئی۔ اگر ہم شراب کے نشے(غفلت) میں نہ ہوتے تو دشمن یہ جرأت کیونکر کرتا۔

اے مسلم نوجوان! خدارا! مغرب کے دیے ہوئے غفلت کے نشے سے باہر نکل اور اپنے آپ کو پہچان کہ تیری اسی غفلت کی وجہ سے ان کو بار بار یہ ناپاک جرأت ہو رہی ہے اور یہ بد بخت یاد رکھیں کہ فتح مکہ کے دن اُس رحمۃ اللعٰلمینﷺنے اپنی جان کے دشمنوں کو بخش دیا تھا۔ اپنی بیٹی کے قاتل کو بھی معاف کر دیا۔ لیکن بد زبانی کر کے گستاخی کرنے والے کے لیے فرمایا کہ اگر وہ خانہ کعبہ کا خلاف پکڑے ہوئے بھی ہو تو اسے موت کے گھاٹ اُتار دو!
بشکریہ ہفت روزہ القلم

Hits: 1

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں