62

مضبوط ایمان کی علامات-خطبہ جمعہ خانہ کعبہ

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل بن جمیل غزاوی
جمعۃ المبارک 9 رمضان 1439ھ بمطابق 25 مئی 2018
عنوان: مضبوط ایمان کی علامات
پہلا خطبہ:
الحمد للہ! حمد وثنا اللہ ہی کے لیے ہے۔ اسی نے اپنے بندوں کو خیر کی بہاریں نصیب فرما کر معافی اور بخشش کا موقع عطا فرمایا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ و احد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی عطائیں بے شمار اور احسانات بے انتہا ہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے، رسول اور تمام انسانوں کے سردار ہیں۔ آپ ﷺ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور پرہیز گار ہیں۔ بھلائی کے کاموں میں سبقت لیجانے والے اور نیکی کے مواقع سے بہترین فائدہ اٹھا نے والے ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر، عزت وہمت والے صحابہ کرام پر اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں اور ان کا طریقہ اپنانے والوں پر۔
بعد ازاں!
اللہ کے بندو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ ہر کھلے اور چھپے کام میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ وہ آپ کو دیکھتا ہے۔ اس کی شریعت پر قائم رہو اور اس کی خوشنودی کے طالب بنو۔
اے مسلمانو!
دین اسلام قوت، عزت اور کرامت کا دین ہے اور اللہ تعالیٰ کو بھی کمزور مومن کی نسبت طاقتور مومن زیادہ پسند ہے۔
ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کمزور مومن کی نسبت طاقتور مومن کو زیادہ پسند فرماتا ہے، تاہم دونوں ہی میں خیر موجود ہے۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث میں طاقت سے مراد ایمان، علم اور فرمان برداری کی طاقت ہے۔ نفس اور ارادے کی طاقت ہے۔ اگر انسان کی جسمانی طاقت نیکی میں اس کی مدد گار ہو تو ہی اسے حقیقی طاقت تصور کی جا سکتا ہے۔
امام نووی ﷫ فرماتے ہیں: اس طاقت سے مراد پختہ عزم اور ارادہ اور آخرت کے معاملات میں پیش قدمی کا جذبہ ہے۔ چنانچہ طاقتور مومن جہاد میں آگے بڑھ کر لڑنے والا بھی ہوتا ہے، جہاد کے لیے نکلنے میں بھی توانا ہوتا ہے اور جہاد میں شامل ہونے کی تڑپ بھی رکھتا ہے۔ اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں بھی بلند ہمت والا ہو گا اور تمام طرح کی اذیتوں پر صبر کرنے والا ہوتا ہے۔ نماز، روزہ، اذکار اور دیگر عبادات میں بھی زیادہ توانا اور مستقبل مزاج ہوتا ہے۔
سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت سو جاتے۔ جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو تیزی سے اٹھتے۔ اس کی شرح میں امام نووی ﷫ فرماتے ہیں کہ تیزی سے اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کا پورا اہتمام کرتے اور اس کے لیے مکمل توانائی کے ساتھ اٹھتے۔ یہی مفہوم اس حدیث کا بھی ہے کہ ’’کمزور مومن کی نسبت اللہ تعالیٰ کو طاقتور مومن زیادہ پسند ہے۔‘‘
بعض دیگر شارحین نے فرمایا ہے کہ طاقتور مومن سے مراد وہ مومن ہے جو ہر طرح کی نیکی اور ہر مشکل عبادات میں توانا رہتا ہے، جو مصیبتوں کے مقابلے میں صبر وتحمل سے کام لیتا ہے، جو جاق وجوبند رہتا ہے، جو اسباب کو دیکھتے ہوئے اپنے معاملات کو صحیح انداز میں ترتیب دیتا ہے اور آخرت کو بہتر بنانے کی خوب فکر کرتا ہے۔
اللہ کے بندو! روزے کے ثمرات یہ ہیں کہ اس سے نفس میں طاقت آ جاتی ہے اور اسی طاقت کی بدولت روزہ دار کھانا، بینا، جماع اور دیگر مفطرات سے رکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، جو سال بھر اس کے لیے جائز تھیں اور رمضان میں اللہ کی خوشنودی کی خاطر وہ ان سے رک جاتا ہے۔
رمضان کے دنوں میں روزہ توڑنے والی تمام چیزوں سے رک جانا، شہوات اور خواہشات نفس پر غلبہ کا اعلان ہے۔ اس کے ذریعے انسان مشکل عبادات اور مشقت بھری جسمانی عبادت کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ جہاد، صدقہ، قربانی اور پیش قدمی۔
اسی لیے جب طالوت اپنی قوم کے ساتھ میدان جنگ میں جا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ انہیں ایک نہر کے ذریعے آزمایا۔ طالوت نے اپنی قوم سے کہا:
’’جو اس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے‘‘
(البقرۃ: 249)
پھر وہی لوگ کامیاب ہوئے جو طاقت والے اور صبر کرنے والے تھے اور جو اپنے نفس پر قابو پانے اور نفس کو لگام دینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ جو شہوات نفس کی پیروی سے محفوظ ہو گئے تھے اور نفس کے پیروکاروں اور شہوات نفس کے پیچھے چلنے والوں کی اتباع سے باز رہے تھے۔
اے بھائیو!
صحیح عقیدہ کبھی ختم نہ ہونے والا سرمایہ ہے۔ یہ ہمیشہ توانا ، پر عزم اور پر ہمت رہنے، مشکلات سے نمٹنے اور آزمائیشوں کا مقابلہ کرنے میں بہتری معاون ہے۔ جب ایمان دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے تو اس کا اثر انسان کے جسم اور اخلاق میں نظر آنے لگتا ہے۔ پھر جب انسان بولتا ہے تو مکمل یقین کے ساتھ بولتا ہے اور جب کوئی کام کرتا ہے پورے اعتماد سے کرتا ہے اور جب کسی طرف چلتا ہے تو اس کا ہدف اور منزل واضح اور متعین ہوتی ہے۔
حقیقی مومن ان چیزوں سے دور رہتا ہے جو دین اسلام کی روح سے درست نہیں ہیں۔ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا۔ غیر اللہ کے سامنے نہیں جھکتا۔ اپنے جیسی مخلوق کا غلام نہیں بنتا اور اپنی خواہشات کے پیچھے نہیں چلتا۔
اللہ کے بندو! یہ مہینہ عزم وہمت اور طاقت کا مہینہ ہے۔ یہ قربانیوں اور فتوحات کا مہینہ ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ بدر میں مسلمانوں نے اسی ماہ میں فتح پا کر دلیری اور بہادری کی شاندار مثال رقم کی تھی۔ جب مسلمان صرف تین سو تھے اور انہوں نے ایک ہزار مشرکوں کا مقابلہ کر دکھایا۔ یہ فتح اہل اسلام کی سب سے بڑی اور اپنی نوعیت کی پہلی فتح تھی۔ جب مسلمان میدان جنگ میں گئے تھے تو پورے ایمانی جذبے اور مکمل یقین کے ساتھ گئے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے بھی ان کی نصرت اور مدد فرمائی اور وہ اپنے دشمن پر غالب ہو گئے۔
اس غزوے کے نتائج یہ تھے کہ حق وباطل کا معرکہ اہل اسلام کی فتح پر ختم ہوا۔ مسلمانوں کو بڑی فتح نصیب ہوئی۔ انہوں نے ستر مشکوں کو مار ڈالا اور ستر کو قید کر لیا۔ ان کے صرف چودہ لوگ شہید ہوئے۔ چنانچہ اس دن کا نام یوم الفرقان، یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کر دینے والا دن، رکھ دیا گیا جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے۔
یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جنگ کے وقت اہل ایمان کے پاس کون سی ایسی طاقت تھی کہ جس کی بدولت وہ کافروں پر غلبہ پانے میں کامیاب ہو گئے؟
وہ عقیدے، اخلاق اور روح کی وہ طاقت لے کر میدان جنگ میں گئے تھے جس سے کافر محروم تھے۔ چنانچہ مشرکین کو بد ترین شکست کا سامنا ہوا اور قرآن کریم نے اسے شاندار مثال کے طور پر بیان کیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ ایمانی طاقت جسمانی طاقت سے زیادہ کارگر ہے۔
اسی طرح مسلمانوں نے اسی مہینے میں دوسری جنگیں بھی لڑیں، جن میں یرموک، قادسیہ، حطین اور دیگر جنگیں شامل ہیں۔ کیا اگر مسلمان روزہ داروں کے اخلاق کو نہ اپنائے ہوئے ہوتے اور ان میں عفت، بلندی، قربانی کا جذبہ، مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور اس پر مکمل ایمان نہ ہوتا تو کیا پھر بھی انہیں یہ کامیابی مل سکتی تھی؟
کیا اگر وہ بزدل بن کر ان جنگوں میں حصہ لیتے اور ان کے جذبات ایمان سے معمور نہ ہوتے، بلکہ ان پر شہوات نفس کی حکمرانی ہوتی اور وہ خواہشات کے غلام ہوتے، شیطان کے پیروکار ہوتے، تو کیا پھر بھی انہیں اتنی ہی کامیابی مل پاتی؟
نہیں! ہر گز نہیں! یہ روزہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، اس کے ذریعے مسلمان کو دو قسم کی قوت ملتی ہے۔ ایک صحت اور تندرستی کی قوت اور دوسری روحانی قوت۔ روزہ انسان کو بہت سی مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اور اسے روحانی پاکیزگی نصیب ہوتی ہے اور یہ روحانی پاکیزگی صحت کی نسبت زیادہ اہم ہے۔
اللہ کے بندو! روزے سے انسان کو کئی طرح کی قوت ملتی ہے اور ہی قوت اس کی سعادت کی ضامن ہوتی ہے۔ روزہ انسان کو صبر وتحمل سکھاتا ہے، نظم وضبط سکھاتا ہے، محنت، اطاعت اور ایمان سکھاتا ہے۔
اے بھائیو!
طاقتور مسلمان رمضان کے دوران فضائل کمانے اور نیک اعمال کا ذخیرہ کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔ وہ چیزیں اسے مصروف نہیں کرتیں جن میں دوسرے لوگ مصروف رہتے ہیں۔ وہ تفریحی پروگراموں کو دیکھنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا ہے جن سے رمضان کی روحانیت ختم ہو جاتی ہے اور اس کا روح پرور ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ ان پروگراموں کو بنانے اور انہیں باقاعدگی سے دیکھنے کی بے وقوفی وہی لا مبالی اور بے ہمت شخص ہی کر سکتا ہے کہ جس کا نفس انتہائی کمزور ہو چکا ہو اور شیطان نے اسے اپنے جال میں پھنسا لیا ہو۔ ایسے لوگ ہی شیطان کی پیروی کرتے ہوئے رمضان المبارک کی حرمت کو پامال کر سکتے ہیں اور خواہشات کے نشے میں آ کر رمضان میں بھی اسی زہر کے پیچھے لگے رہتے ہیں جس کے پیچھے سال کے باقی دن لگے رہتے ہیں۔ خیر کے مہینوں میں بھی ان سے گریز نہیں کرتے۔ ایسے لوگ آگے بڑھنے اور اوقات کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہوتے ہیں۔
اگر انسان خیر کی بہاروں میں اور رحمت ومغفرت کے شاندار مواقع سے گزرتا ہوا بھی غفلت کا شکار رہے تو پھر اس کی زندگی میں کیا خیر ہو سکتی ہے؟
ابن قیّم ﷫ فرماتے ہیں: انسان میں دینی فضائل، نافع علوم اور اعمال صالحہ میں غفلت برتنے سے بری چیز کوئی نہیں ہو سکتی۔ ایسے لوگ ایسے غیر منظم اور بے قیمت لوگ ہوتے ہیں جو معاشرے کو گندا کرتے ہیں اور قیمتیں بڑھاتے ہیں۔ وہ جیتے ہیں تو ناقابل تعریف زندگی جیتے ہیں اور مرتے ہیں تو ان کی کوئی کمی محسوس نہیں کرتا۔ ان کی موت میں لوگوں اور قوموں کی راحت ہے۔ نہ ان پر آسمان روتا ہے اور نہ زمین ان سے اداس ہوتی ہے۔
اے مسلمانو!
رمضان کے اس بابرکت مہینے میں ہمیں یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کچھ چاہتا ہے اور لوگ ہم سے کچھ اور ہی چاہتے ہیں ۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ‘‘
(النساء: 27)
یعنی وہ اللہ ہی ہے جو تمہیں معاف کرنا چاہتا ہے اور تمہاری خطائیں مٹانا چاہتا ہے، جبکہ خواہشات کے پیروکار تمہیں دین سے کہیں دور لے جانا چاہتے ہیں، گناہوں کی طرف دھکیل کر خطائیں کرانا چاہتے ہیں۔ وہ تمہیں گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے! بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی پکار کو بس پشت ڈال چکے ہیں۔ انہیں اللہ کی مراد کی کوئی فکر نہیں۔ شہوات اور خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ رمضان کے چند دنوں میں بھی وہ بھلائی اور خیر سے محروم ہیں۔ یہ دن کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے بلکہ ان سے فائدہ نہ اٹھانا حسرت اور ندامت کا باعث بنے گا۔ رمضان تو ہمیں طاقتور بننا سکھاتا ہے۔ بلندی ہمتی سکھاتا ہے۔ ہمیں اپنی خواہشات کے سامنے اتنا کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ مخلوق کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے۔ گمراہ کن افکار کے داعیوں کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے۔ اپنے عقائد، اصول ومبادی سے نہیں ہٹنا چاہیے۔ جس چیز میں ہمارے دین اور دنیا کا فائدہ ہو ان چیزوں میں اپنا وقت لگانا چاہیے۔
میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ عظیم وجلیل اللہ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے معافی مانگتا ہوں۔ معافی مانگنے والے ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔
دوسرا خطبہ:
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ درود وسلام ہے ہمارے نبی پر، آپ ﷺ کی پاکیزہ آل پر، نیک وکار صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعدازاں! اے اللہ کے بندو!
طاقتور مومن کو بہت سی علامات سے پہچانا جاتا ہے، ان علامات کے ذریعے اس کی شخصیت کا کمال ظاہر ہوتا ہے۔ جیسا کہ بھلائی کے کاموں میں پیش قدمی کرنا، عبادات میں محنت کرنا، نیکیاں کمانے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے مواقع سے فائدہ اٹھانا۔ مومن کی جسمانی طاقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے وقف ہوتی ہے۔
اسی طرح طاقتور مومن کی علامت یہ بھی ہے کہ وہ قوی الارادہ اور بلند ہمت ہوتا ہے۔ وہ نہ کبھی کمزور ہوتا ہے اور نہ کٹنے ٹیکتا ہے۔ بلکہ وہ آزمائیشوں کے وقت دلیری سے پہچانا جاتا ہے، مشکل اوقات میں ثابت قدمی سے جانا جاتا ہے۔ اس کے قدم کبھی متزلزل نہیں ہوتے۔ اس پر جتنا بھی سخت وقت آ جائے، بھر حال وہ ثابت قدم رہتا ہے۔ عربی شعر کا ترجمہ ہے کہ
اگر میں بیمار ہو جاتا ہوں تو میرا صبر تو بیمار نہیں ہوتا، اور اگر مجھے بخار ہو جاتا ہے تو میرے عزم کو تو بخار نہیں ہوتا۔
اسی طرح طاقتور مومن کی علامات میں یہ بھی ہے کہ وہ دین پر حملہ کرنے والوں کے حملے روکنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ طاقتور مومن اپنے دین پر کیے جانے والے حملوں سے غصے میں آتا ہے۔ وہ اپنے نفس کے لیے بدلہ نہیں لیتا، بلکہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے معاف کر دیتا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کے دین کا معاملہ ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے لیے بدلہ لیتا ہے۔ یعنی وہ اپنے حق کو معاف کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حق لے کر رہتا ہے۔
اسی طرح مومن کی طاقت کی علامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو پانے والا ہوتا ہے۔ خاص طور پر جذبات سے بھر پور اور مشکل مواقع پر۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: طاقتور وہ نہیں ہے جو دوسرے کو کُشتی میں ہرا دیتا ہے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے سیدنا ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔
یعنی طاقتور وہ نہیں ہے کہ جو لڑائی کے وقت دوسروں کو ہرا دیتا ہے۔ بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو پا لیتا ہے۔
طاقت کا پتا اس وقت چلتا ہے جب انسان غصے کی حالت میں ہوتا ہے۔ طاقتور تو اس وقت بھی اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے جبکہ کمزور شخص پر اس کا غصہ غالب آ جاتا ہے۔ پھر وہ جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے اور جو دل میں آتا ہے کر گزرتا ہے۔
روزے کے دوران لڑائی، جھگڑا اور غصہ پیدا کرنے والی چیزوں سے دور رہنا چاہیے۔ روزہ دار اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے اور ہر چھوٹی یا بڑی وجہ سے جذباتی نہیں ہوتا۔ لڑائی اور جھگڑے کے وقت بھی وہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور نہ دنیا کے زائل متاع کے پیچھے دل میں نفرتیں پالتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: جب تمہارے روزے کا دن ہو تو نہ بد کلامی کرو اور کوئی فضول کام ۔ اگر کوئی تمہارے ساتھ جھگڑا کرے تو بس اتنا کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں۔ میں روزے سے ہوں۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے سیدنا ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔
اے مسلمانو!
ہدایت پانے کے لیے ہمیں اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرنا ہو گا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے‘‘
(العنکبوت: 69)
فضالہ بن عبید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرمان برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرتا ہے اور مہاجر وہ ہے جو گناہوں اور غلطیوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ اسے امام احمد اور امام ابن حبّان اور دیگر علمائے حدیث نے روایت کیا ہے۔
ابن القیم ﷫ بیان فرماتے ہیں: دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے جہاد کرنا، نفس کے جہاد کی فرع ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ نفس سے جہاد کرنا دشمنان اسلام سے جہاد کرنے پر مقدم ہے، کیونکہ جو شخص اللہ کے احکام کو بجا لانے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے رکنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ جہاد نہیں کر پاتا، وہ اپنے بیرونی دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے سے بھی قاصر رہے گا۔ بھلا جس کے جسم میں پلنے والا دشمن اس پر غالب ہو، وہ باہر کے دشمنوں سے کیا جہاد کرے گا؟
اللہ کے بندو! ہمیں جہاد بالنفس کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے صبر وتحمل سے کام لینا ہو گا۔
ابن رجب ﷫ فرماتے ہیں: نفس کے ساتھ جہاد کرنے میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شیطان اور نفس کے ساتھ جہاد میں صبر کام لیتا ہے، اسے غلبہ نصیب ہو جاتا ہے، نصرت اور کامیابی مل جاتی ہے۔ پھر وہ اپنے نفس کا مالک بن جاتا ہے اور عزت سے جیتا ہے۔ اسی طرح جو اپنے نفس سے جہاد میں ناکام ہو جاتا ہے وہ مغلوب ہو جاتا ہے، اپنے نفس کا قیدی بن جاتا ہے اور شیطان کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتا ہے۔ عربی شعر کا ترجمہ ہے:
اگر انسان اپنی خواہشات کو قابو میں نہ کامیاب نہ ہو تو اس کی خواہشات اسے وہاں لے جاتی ہیں جہاں عزت والے بھی رسوا ہو جاتے ہیں۔
اے روزہ دارو! اپنے نفس کے ساتھ جہاد میں خوب محنت کرو اور اپنے رب کی فرمان برداری پر قائم رہو۔ اس مہینے کے بقیہ حصے کو غنیمت جانو اور اس کا بھر پور فائدہ اٹھا۔ دیکھو! اب اس کا تیسرا حصہ گزر چکا ہے اور تیسرا حصہ تھوڑا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہماری مختصر عمر بھی گزر جائے گی۔ تو وقت گزرنے سے پہلے موقع کو غنیمت جانو اور گھاٹا پانے سے پہلے نیکیاں کمانے کی کوشش کر لو۔
درود وسلام بھیجو نبی مصطفیٰ، رسول مجتبیٰ ﷺ پر۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قرآن مجید میں یہی حکم دیا ہے۔ فرمایا:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘
(الاحزاب: 56)
اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر اور تمام صحابہ کرام پر۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما! دشمنان دین کو ہلاک فرما! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما! اے اللہ! دین کی نصرت کرنے والوں کی نصرت فرما! اہل ایمان کو رسوا کرنے والوں کو رسوا فرما!
اے اللہ! اے پروردگار عالم! ہمیں ہمارے گھروں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھ میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے، تیری خوشنودی کے طالب اور پرہیز گار ہوں۔ اے اللہ! ہمارے حکمران کو ان باتوں اور کاموں کی توفیق جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے زندہ واجاوید! اسے نیکی اور تقویٰ کی طرف لے جا۔
اے اللہ! مسلمانوں کے دلوں کو جوڑ دے۔ ان کے جھگڑوں کو ختم فرما! انہیں سلامتی کی راہ دھا۔ ان کی صفیں مضبوط فرما! اے پروردگار عالم! انہیں حق پر اکٹھا فرما! اے اللہ! اے زندہ وجاوید! انہیں ان کے دشمنوں کے خلاف فتح نصیب فرما!
اے اللہ! کمزور مسلمانوں اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد فرما! سرحدوں پر پہرہ دینے والوں کی مدد فرما! اے اللہ! اے پروردگار عالم! ان کا مدد گار بن جا، ان کی نصرت فرما اور ان کی نگہبانی فرما!
اے اللہ! اے پروردگار عالم! مجرموں اور اپنے دشمنوں پر اپنا سخت عذاب نازل فرما جس سے مجرموں کو کوئی نہیں بچا سکتا!
اے اللہ! ہمارے روزے اور تہجد قبول فرما! ہمارے گناہوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما! اے اللہ! رمضان میں ہمیں کامیابی نصیب فرما! ہمیں قبولیت کے شرف سے نواز دے۔ ہمارے مہینے کو خیر، برکت، نصرت اور امت کی عزت کا مہینہ بنا۔ اے پروردگار عالم! ہمیں ایمان اور اخلاص کے ساتھ روزہ رکھنے والوں میں شامل فرما! ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے بخش دیا ہے اور جس کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
ترجمہ: محمد عاطف الیاس (ریسرچ سکالر پیغام ٹی وی )

Hits: 41

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں