32

رمضان المبارک میں دن کے وقت وقت کان میں قطرے ڈالنا

کیا رمضان المبارک میں دن کے وقت کان میں قطرے ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

الحمد للہ:

روزے دار کے لیے کان میں قطرے ڈالنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بعض علماء کرام کہتے ہیں کہ اگر قطرے ڈالنے سے حلق میں ذائقہ محسوس ہو تو پھر احتیاط یہی ہے کہ دن کے وقت روزے کی حالت میں قطرے ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے، اور اگر قطرے کا ذائقہ حلق میں محسوس کرنے والا شخص احتیاطا روزے کی قضاء میں روزہ رکھے تو یہ افضل ہے.

اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرار ہے کہ:

” درج ذیل امور روزہ توڑنے والی اشیاء میں شامل نہیں ہوتے:

کان میں ڈالے جانے والے قطرے، ناک میں ڈالے جانے والے قطرے، ناک دھونے والا لیکویڈ، یا آنکھ میں ڈالے جانے والے قطرے، ناک کی سپرے، جب حلق میں جانے والی ان اشیاء کو نگلنے سے اجتناب کیا جائے تو یہ روزے نہیں توڑےگی ” انتہی

اور شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:

” ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کرنے سے روزے دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا، یہ مسواک کی طرح ہے، لیکن روزے دار کو چاہیے کہ وہ اسے پیٹ میں مت جانے دے، اور اگر بغیر کسی قصد و ارادہ کے اس پر یہ چیز غالب آ جائے تو اس پر روزے کی قضاء نہیں.

اور کان اور آنکھ میں ڈالے جانے والے قطرے بھی ایسے ہی ہیں، علماء کرام کے صحیح قول کے مطابق انہیں ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اور اگر وہ اپنے حلق میں اس کا ذائقہ محسوس کرے تو پھر احتیاط اسی میں ہے کہ روزے کی قضاء کرے لیکن قضاء واجب نہیں.

کیونکہ کان اور آنکھ کھانے پینے کی راہ نہیں، رہا ناک میں ڈالے جانے والے قطروں کا مسئلہ تو یہ جائز نہیں؛ کیونکہ یہ کھانے پینے راہ ہے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” اور ناک میں پانی مغالبہ کے ساتھ چڑھاؤ، لیکن روزے کی حالت میں نہیں ”

سنن ترمذی حدیث نمبر ( 788 ) سنن ابو داود حدیث نمبر ( 142 ) علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے.

اگر کوئی شخص اپنے حلق میں اس کا ذائقہ محسوس کرے تو اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے قضاء کرے گا ” انتہی

دیکھیں: مجموع فتاوی الشیخ ابن باز ( 15 / 260 – 261 ).

اور شیخ بن باز رحمہ اللہ کا یہ بھی کہنا ہے:

” اگرچہ اہل علم کے ہاں اس میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ قطرے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ:

اگر قطرے کا ذائقہ حلق میں پہنچ جائے تو یہ روزہ توڑ دیتا ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ یہ مطلقا روزہ نہیں توڑتا؛ کیونکہ آنکھ کھانے کی راہ نہیں، لیکن اگر وہ احتیاط کرتے ہوئے اور اختلاف سے نکلنے کے لیے روزے کی قضاء کر لے تو یہ بہتر ہے یعنی اگر وہ حلق میں اس کا ذائقہ پائے تو قضاء کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، وگرنہ صحیح یہی ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے آنکھ میں قطرے ڈالے جائیں یا پھر کان میں ” انتہی

دیکھیں: مجموع فتاوی الشیخ ابن باز ( 15 / 263 ).

اور شیخ محمد صالح العثیمین رحمہ اللہ کا کہنا ہے:

” رہا آنکھ کے قطرے کا مسئلہ اور اسی طرح سرمہ ڈالنا اور اسی طرح کان میں قطرے ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛ کیونکہ اس کی کوئی نص نہیں ملتی کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؛ اور نہ ہی اس کو منصوص علیہ کے معنی کا نام دیا جا سکتا ہے.

کیونکہ آنکھ اور کان کھانے پینے کی جگہ نہیں، یہ بھی جسم کے باقی مساموں کی طرح ہیں.

اور اہل علم کا کہنا ہے کہ: اگر کوئی انسان اپنے پاؤں میں نارنج مل لے اور اس کا ذائقہ حلق میں پائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹےگا؛ کیونکہ یہ کھانے کی راہ نہیں، اس بنا پر اگر کسی نے سرمہ لگایا یا آنکھ یا کان میں قطرہ ڈالا تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹےگا، چاہے وہ اپنے حلق میں اس کا ذائقہ بھی پائے.

اور اسی طرح اگر کسی شخص نے علاج کے لیے یا بغیر علاج کے تیل لگایا تو کوئی حرج نہیں، اور اسی طرح اگر سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو تو منہ میں لگانے والی اسپرے کا استعمال کیا تا کہ سانس لینے میں آسانی ہو تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹےگا؛ کیونکہ یہ نہ تو معدہ تک پہنچتا ہے اور نہ ہی یہ کھانا اور پینا ہے ” انتہی

دیکھیں: فتاوی الصیام ( 206 ).

واللہ اعلم .

بشکریہ اسلام کیو

Hits: 21

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں