10

روزہ کی فرضیت واہمیت- محمد رفیق طاہر

اللہ سبحانہ وتعالى نے اہل اسلام پر رمضان المبارک کے دنوں کا روزہ رکھنا فرض قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ [البقرة : 183]
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض تھا جو تم سے پہلے تھے , تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ ۔

روزہ اسلام اور ایمان کا جزء لازم ہے: رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا :
الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (صحيح مسلم : 8) اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں , تو نماز قائم کرے , زکاۃ ادا کرے , رمضان کے روزے رکھے , اور اگر تو استطاعت رکھتا ہے تو بیت اللہ حج کرے ۔

اسی طرح ایمان باللہ وحدہ کی تعریف کرتے ہوئے آپ ﷺ فرماتے ہیں :
شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ المَغْنَمِ الخُمُسَ ( صحيح البخاري : 53 ) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی بھی معبود برحق نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں , اور نماز قائم کرنا , زکاۃ ادا کرنا , رمضان کے روزے رکھنا , اور تمہارا مال غنیمت میں سے خمس ادا کرنا ( اللہ وحدہ لا شریک پر ا یمان ہے)۔

یعنی روزہ رکھنے کو نبی مکرم ﷺ نے اسلام اور ایمان باللہ کا جزء لازم قررا دیا ہے , جسکے بغیر انسان نہ تو مسلم بن سکتا ہے اور نہ مؤمن ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزہ کی صرف فرضیت تسلیم کر لینے کو ایمان یا اسلام قرار نہیں دیا بلکہ روزہ رکھنے کے عمل کو ایمان باللہ اور اسلام قرار دیا ہے ۔ یعنی کسی بھی شخص کے مسلم یا مؤمن ہونے کے لیے اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ روزہ کی فرضیت کو تسلیم کر لے , بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ عملا رمضان المبارک کے مکمل مہینہ میں روزہ رکھے , وگرنہ اس میں اسلام اور ایمان متحقق نہیں ہونگے ۔ روزہ کے فضائل : کسی بھی عمل کی سب سے بڑی فضیلت ہی یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالى اسے اپنے بندوں پر فرض قرار دے دیں ۔کیونکہ کسی بھی عمل کے فرض ہونے کا معنى یہ ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالى کو یہ عمل اسقدر محبوب ہے کہ انہوں نے اپنے مطیع وفرمانبردار انسانوں پر اسے لازم قرار دے دیا۔

لیکن اسکے ساتھ ساتھ بعض اعمال کے کچھ دیگر فضائل بھی کتاب وسنت میں مذکور ہیں ۔ اسی طرح روزہ کے فرض ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ اضافی فضائل بھی ہیں مثلا : رسول اللہ ﷺ کا فرمان ذی شان ہے : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (صحيح البخاري : 38) جس نے بھی ایمان کی حالت میں ثواب حاصل کرنے کی نیت سے رمضان بھر روزہ رکھا اسکے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔

نیز فرمایا : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ (صحیح البخاری :7492) اللہ عزوجل فرماتے ہیں روزہ میرے لیے ہے اور میں اسکی جزاء دوں گا ۔ (روزہ دار) اپنی شہوت اور کھانا پینا میری خاطر چھوڑ دیتا ہے ۔

اور روزہ ڈھال ہے ۔ اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں , ایک خوشی افطاری کے وقت اور ایک خوشی جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا ۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے ۔

اسی طرح نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے : ” ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ: الصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَالإِمَامُ العَادِلُ، وَدَعْوَةُ المَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الغَمَامِ وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ ” (جامع الترمذي : 3598) تین افراد ایسے ہیں کہ جن کی دعاء رد نہیں ہوتی ۔ روزہ دار (کی دعاء) جب تک وہ افطار نہ کر دے , عادل امام , اور مظلوم کی دعاء کو اللہ بادلوں کے اوپر سے اٹھا تے ہیں اور اسکے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتے ہیں اور فرماتےہیں کہ میری عزت کی قسم میں اسکی مدد ضرور کروں گا اگرچہ کچھ دیر بعد ہی ۔

Hits: 2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں