51

اے خیر کا ارادہ رکھنے والے! آگے بڑھ

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن ابراہیم الشریم
جمعۃ المبارک 2 رمضان المبارک 1439ھ بمطابق 18 مئی 2018
عنوان: اے خیر کا ارادہ رکھنے والے! آگے بڑھ
پہلا خطبہ:
الحمد للہ! وہی عزت والا اور معاف فرمانے والا ہے۔ وہی طاقتور، واحد اور سب پر غالب ہے۔ وہی رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لانے والا ہے۔ ساری بھلائی اسی کے ہاتھ میں اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ وہ جو چاہتا ہے، پیدا کر تا ہے اور جسے چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے چنیدہ رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے پیغام الٰہی احسن انداز میں پہنچایا، امانت ادا فرمائی اور فرمان برداری اور استغفار پر قائم رہے۔ اللہ کی رحمتیں، اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے پاکیزہ اہل بیت پر۔ مہاجرین وانصار پر، ان کے راستے پر چلنے والوں اور قیامت تک ان کے طریقے پر عمل کرنے والوں پر۔
بعدازاں!
بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لے کر جاتی ہے۔
اے لوگو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ تقویٰ ہی مومن کا حقیقی سرمایہ ہے اور یہی پریشان لوگوں کی رہنمائی کرنے والا ہے۔ جو اسے تھامے رکھتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو اس سے دور ہو جاتا ہے اسے گھاٹا اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ اللہ کے عذاب سے بچانے والی بہترین چیز ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ‘‘
(یونس: 62-63)
اللہ کے بندو!
زمانہ چکی کی طرح گھوم رہا ہے۔ رات گزرتی ہے تو دن آ جاتا ہے مگر لوگ مختلف رویوں کے حامل ہیں۔ کسی کو دنیا کی فکر کم اور کسی کو زیادہ ہے۔ کوئی محنت کرتا ہے اور کوئی بس سویا ہی رہتا ہے۔ کوئی اسے سنجیدگی سے لیتا ہے اور کوئی اسے تفریح سمجھتا ہے۔ ہر کوئی اپنے نفس کا سودا کرتا ہے، کوئی تو اسے کامیاب کر لیتا ہے اور کوئی اسے ہلاک کر دیتا ہے۔
سعادت مند وہی ہے جو خیر کی بہار میں بہترین کمائی کر لیتا ہے، جو خوب محنت کرتا ہے اور عبادت میں کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔ خیر کی بہار، نیکیاں کمانے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا نے کا موقع انہی لوگوں کو ملتا ہے جو واقعی سنجیدہ اور محنت کش ہیں۔ سست اور بے ہمت لوگ ایسے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔ زمانہ بڑی تیزی سے گزرتا چلا جاتا ہے اور کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ جو کسی ایک لمحے میں کوتاہی کر بیٹھتا ہے، اسے وہ لمحہ دوبارہ کبھی نہیں مل پاتا۔ جو وقت ایک مرتبہ گزر جاتا ہے، وہ ہمیشہ کے لیے چلا جاتا ہے اور مستقبل تو غیب کا حصہ ہوتا ہے۔ لہٰذا انسان کے ہاتھ میں صرف وہ لمحے ہوتے ہیں جنہوں وہ اس وقت جی رہا ہوتا ہے۔
تو اے بھلائی کا ارادہ رکھنے والے! آگے بڑھ! اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! اب تو رک جا!
لوگوں کے دل بھی دوسری چیزوں کی طرح مختلف چیزوں کا اثر لیتے ہیں۔ کبھی یہ لوہے کی طرح زنگ آلود ہو جاتے ہیں۔ کبھی جانور کے تھن کی طرح خشک ہو جاتے ہیں اور کبھی کھیتی کی طرح سوکھ جاتے ہیں۔ پھر انہیں کسی ایسے محرک کی ضرورت ہوتی جو ان کا زنگ اتار دے، ان کی خشکی دور کر دے اور انہیں پھر سے تر کر دے۔
صبح وشام کی مصروفیات میں انسان ایسا مصروف ہو جاتا ہے اسے دل کو پاکیزہ کرنے، اسے نیکی کی ترغیب دلانے اور اسے ہمت دلانے کا وقت ہی نہیں ملتا۔
رمضان المبارک کا مہینہ دلوں کا پاکیزہ کرنے اور ان میں عبادت کا جوش وجذبہ پیدا کرنے کا بہترین موقع ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں‘‘
(البقرۃ: 185)
یہ مہینہ، نیکی، روزہ، نماز، رحمت اور باہمی مودت کا مہینہ ہے۔ یہ شہوات نفس کو لگام دینے کا مہینہ ہے، یہ نفس کو نیکی کی طرف لانے کا مہینہ ہے۔ نفس کو کمال کے فریب سے نکالنے کا مہینہ ہے، کمال کا گمان ایسی رکاوٹ ہے کہ جو انسان کو سنہری موقعوں سے فائدہ اٹھانے سے روکتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان حلال اور بے فائدہ چیزوں کے جھنجھٹ گھر جاتا ہے۔ پھر وہ اسی میں اپنا سارا وقت لگانے لگتا ہے اور انہی کو اپنا سرمایہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ خیر اور بھلائی کے بہت سے شاندار مواقع کو گوا بیٹھتا ہے۔ پھر وہ اپنی خواہشات، سستی اور کاہلی کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔
سنو! رمضان تقویٰ کے لباس سے مزین ہونے کا موقع ہے۔ کوئی شخص رمضان المبارک کی برکتوں سے بےنیاز تو نہیں ہے۔
جی ہاں! اللہ کے بندو! ہم اپنے اموال اور اولاد میں ایسے مصروف ہو چکے ہیں کہ ہمارے پاس اپنے دلوں کو پاکیزہ کرنے اور ان میں خیر اور بھلائی کا جذبہ پیدا کرنے کا وقت ہی نہیں رہا۔ بعض دلوں میں سختی آ گئی ہے۔ ایسے دلوں کو نرم کرنے کے لیے رمضان المبارک کی رحمتیں کافی ہیں۔ بعض لوگوں کے مال میں بے برکتی ہے۔ انہیں بڑھانے اور ان میں برکت پیدا کرنے کے لیے رمضان کی برکتیں کافی ہیں۔ بعض زبانوں میں سختی آ گئی ہے۔ ایسی زبانوں کو اچھے بول کا عادی بنانے کے لیے رمضان المبارک کی عطائیں کافی ہیں۔ بعض جسموں میں سستی ہے۔ انہیں ہمت وطاقت دینے کے لیے رمضان المبارک کی عظمتیں بہت ہیں۔
یہ ماہ تقویٰ کی تربیت دینے والا ایک مکمل کورس ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی‘‘
(البقرۃ: 183)
تو اے بھلائی کا ارادہ رکھنے والے! آگے بڑھ۔ اور اے برائی کا رادہ رکھنے والے! اب تو رک جا۔
غیرت مند مسلمان کو یہ دیکھ کر انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس مہینے میں بھی ویسی ہی زندگی گزارتے رہتے ہیں جیسی وہ عام طور پر گزارتے ہیں جس کا محرک عادت اور روٹین ہوتی ہے۔ جو عبادت کی روح اور فرمان برداری کے جذبے سے بالکل خالی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ بابرکت مہینہ نفس کو تربیت دینے کا بہترین موقع ہے۔
یہ مہینہ ہمیں اللہ کے حقوق یاد دلاتا ہے۔ اس کی اکثر مجلسوں سے ایمانی جذبات کی مہک آتی ہے۔ لوگ عبادت، نیک اعمال اور تلاوت میں مصروف نظر آتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو تبدیل کرنے کے لیے تیار کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کا حال بدل دیتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘
(الرعد: 11)
جی ہاں! اللہ کے بندو! اس مہینے میں بہت سے لوگوں کے دلوں میں یہ احساس تازہ ہو جاتا ہے کہ انہیں پانی اور ہوا کی طرح کتاب اللہ کی بھی ضرورت ہے۔ کتاب اللہ ان کے معاملات کو بکھرنے سے محفوظ رکھتی ہے اور انہیں اختلافات سے بچاتی ہے۔ وہ اس کی بدولت بھائی بھائی بن جاتے ہیں، تفرقہ بازی وحدت میں بدل جاتی، خوف کی جگہ امن لے لیتا ہے اور بدنظمی کی جگہ بہترین نظام آ جاتا ہے۔
رمضان المبارک میں مسلمان کے طاقت کے پیمانے بلند ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ اس کے دوران صحیح طرح عبادت کر لے اور اس میں پوشیدہ برکتوں اور رحمتوں کو پا لے تو اس کا راہ راست سے ہٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’جب ماہ رمضان آ جاتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔‘‘ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اے بھلائی کا ارادہ رکھنے والے! آگے بڑھ! اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! اب تو رک جا!
جو مسلمان رمضان کو قرآن کے بغیر گزارنا چاہتا ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو پانی اور ہوا کے بغیر زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ بعض مسلمانوں کا قرآن کریم سے تعلق بڑا ہی سطحی ہوتا ہے۔ وہ اسے بس اپنی زبانوں کے اوپر سے گزراتے ہیں۔ انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں کیا پڑھا ہے، انہیں کچھ سمجھ نہیں ہوتی کہ انہوں نے کیا تلاوت کی ہے۔ تلاوت کے دوران ان کی نظر سورت کے آخر پر ہوتی ہے کہ کب یہ سورت ختم ہو گی۔ ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے کہ:
’’ان میں ایک دوسرا گروہ امّیوں کا ہے، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جا رہے ہیں‘‘
(البقرۃ: 78)
یعنی وہ قرآن کریم کی تلاوت اس طرح کرتے ہیں کہ اس کا اثر ان کے گلے سے نیچے نہیں جاتا۔ اسے بہترین لہر اور شاندار آواز میں پڑھنے پر ساری توجہ لگا دیتے ہیں اور یوں وہ قرات کی روانی اور تدبر سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ابو عمرو دانی ﷫ جو کہ قراءات اور تفسیر کے ایک بڑے امام ہیں، فرماتے ہیں: تجوید زبان چبانے، منہ بڑا کرنے، جبڑوں کو پھیرنے، آواز میں لرزہ پیدا کرنے، شد کو لمبا کرنے، مد کو کاٹنے، غنے کو تکلف سے ادا کرنے اور راء کو زیادہ موٹا کرنے کا نام نہیں ہے۔ تجوید سے پڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسی تلاوت کی جائے جسے انسانی طبع ناپسند کرے، دل اور کان اس سے اکتاہٹ محسوس کریں۔ بلکہ صحیح قرات وہ ہے کہ جس میں حروف نرمی سے ادا کیے جائیں اور جو سننے والوں کو حسین اور خوبصورت لگیں۔
رمضان المبارک کے دن نفس کو پاکیزہ کرنے کا بہترین موقع ہیں، رات تک انہیں خوب پاکیزہ کر لیجیے تاکہ وہ تدبر قرآن کے لیے تیار ہو جائیں۔ رات کی تلاوت میں تدبر بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ دن کے وقت انسان روزے سے ہوتا ہے جس سے دل کو پاکیزگی ملتی ہے اور رات کے وقت وہ قیام میں مصروف ہوتا ہے جس سے دل میں نیکی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے‘‘
(المزمل: 6)
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن کریم میں برکت عطا فرمائے! آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے ، آپ کے لیے، اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی سے معافی مانگو۔ یقینًا وہ معاف فرمانے والا اور حم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ:
اللہ کے احسان پر اسی کی حمد وثنا بیان کرتا ہوں۔ اس کی توفیق اور کرم نوازی پر اس کا بے حد شکر گزار ہوں۔
بعد ازاں!
اے روزے دارو! اللہ سے ڈرو اور ذہن نشین کر لو کہ یہ ماہِ مبارک سخاوت، انفاق فی سبیل اللہ اور رحم دلی کا ماہ ہے۔ یہ سخی نفسوں اور محسن ہاتھوں کا مہینہ ہے۔ اس میں مصیبت زدہ لوگوں کی نظریں اہل خیر سے لگی رہتی ہیں۔
ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھائے۔ اہل علاقہ میں سے جتنے حاجتمندوں، یتیموں اور بیواؤں کے آنسو پوجے جا سکیں انہیں پوجنے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں کرے۔ ان کا فاقہ ختم کرنے اور ان کی مصیبت دور کرنے میں کنجوسی نہ کرے۔
اس معاملے میں کنجوسی سے بچو، کیونکہ کنجوسی ایسی برائی ہے کہ جس سے نبی کریم ﷺ نے پناہ مانگی ہے، حالانکہ وہ تو سب سے بڑے سخی تھے کہ جن کے بارے میں آتا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں لوگوں کے لیے تیز ہوا سے بھی زیادہ فائدہ مند ہوتے تھے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ جب بھی کسی نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگا تو رسول اللہ ﷺ اسے کبھی نا نہیں کی۔
خرچ کرنے سے صرف مسکین ہی کو فائدہ نہیں ہوتا بلکہ خرچ کرنے والوں کو خود بھی اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ فرمانِ نبوی ہے:
صدقہ کرنے والے اور بخیل کی مثال ان دو لوگوں کی طرح ہے جو سینے سے گردن تک لوہے کا لباس پہنے ہوئے ہیں، جب سخی خرچ کرنا چاہتا ہے تو وہ لباس کھل جاتا ہے یا اس کے جسم پر کشادہ ہوجاتا ہے اور بخیل جب خرچ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لباس کی ہر کڑی اپنی جگہ پر جم جاتی ہے۔ وہ بار بار اسے کھولنا چاہتا ہے مگر وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اللہ کے بندو! اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب سخاوت کرنے والا صدقہ کرنے لگتا ہے تو اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ ثواب کی امید سے خوش ہو جاتا ہے۔ پھر وہ دل کھول کر خرچ کرتا ہے اور اسے یہ لوہا تنگ نہیں کرتا بلکہ وہ کشادہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب بخیل اور کنجوس صدقے کی نیت کرتا ہے تو اس کا سینہ تنگ ہو جاتا ہے اور اس کے ہاتھ رک جاتے ہیں۔ اسے لگتا ہے کہ وہ اپنی عمر یا اپنے جسم کا حصہ دے رہا ہے۔ پھر وہ بے انتہا تنگی میں رہتا ہے اور خود پسندی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے کسی کی حاجت سے کوئی غرض نہیں رہتا۔ گویا کہ اس نے اپنے ہاتھوں میں طوق اور زنجیریں ڈال رکھی ہیں جن سے اس کا ہاتھ گردن سے بندھا ہوا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اے محمدؐ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے‘‘
(الاسراء: 100)
یاد رکھیے! شیطان پر سب سے زیادہ سخت گزرنے والا، اس کی چالوں کو ناکام بنانے والا اور اس سب سے بڑھ کر اس کا وسوسہ دور کرنے والا کام وہ صدقہ ہے جسے مستحقین تک پہنچا کر انسان یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ خواہشات نفس پر، شیطان پر اور اس کے ڈراوے پر غالب آ گیا ہے۔ شیطان تو انسانوں فقر وفاقہ سے خوف زدہ کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں‘‘
(النساء: 120)
اسی طرح فرمایا:
’’شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے‘‘
(البقرۃ: 268)
یہ شیطان کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ اس کے برعکس ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ہرگز اللہ اپنے وعدے سے ٹلنے والا نہیں ہے‘‘
(آل عمران: 9)
اے بھلائی کا اردہ رکھنے والے! آگے بڑھ اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے! اب تو رک جا!
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! درود وسلام بھیجو نبی ہدایت اور مخلوق میں بہترین ہستی پر، محمد بن عبد اللہ ﷺ پر جو حوض کوثر والے اور اہل ایمان کے سفارشی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتے ہوئے پہلے اپنا ذکر فرمایا، پھر تسبیح کرنے والے فرشتوں کا ذکر فرمایا پھر اے مؤمنو! کہہ کر آپ سے مخاطب ہوا۔ فرمایا:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو‘‘
(احزاب: 56)
اے اللہ! رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرما روشن چہرے والے اور پاکیزہ پیشانی والے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر۔ اے اللہ! خلفائے راشدین، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سے اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اپنا خاص فضل وکرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکوں کو رسوا فرما! اے اللہ! اپنے دین کی، اپنی کتاب کی، سنت رسول ﷺ کی اور اپنے نیک اور مؤمن بندوں کی نصرت اور مدد فرما!
اے اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما! مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبتیں دور فرما! قرض داروں کے قرض ادا فرما! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما!
اے اللہ! اے پروردگار عالم! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما! ہماری حکمرانی ان لوگوں کے ہاتھ میں دے جو تجھ سے ڈرنے والے اور پرہیزگار ہوں اور تیری رضا مندی کے طالب ہوں۔
اے اللہ! اے رب ذو الجلال! ہمارے حکمران کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما، جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے زندہ وجاوید! اے اللہ! اس کی کابینہ کی اصلاح فرما! اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو اعمال کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہو۔
اے اللہ! ہر جگہ ہمارے کمزور بھائیوں کی مدد فرما! اے اللہ! تو ان کی مدد فرما اور ان کے خلاف دوسروں کی مدد نہ فرما! اے اللہ! اے رب ذو الجلال! ان پر ظلم کرنے والوں کے خلاف ان کی نصرف فرما!
اے اللہ! سرحدوں میں ہمارے بھائیوں کی مدد فرما! اے اللہ! اے زندہ وجاوید! ان کی مدد فرما اور ان کے دشمنوں پر انہیں فتح نصیب فرما!
اے اللہ! ہم تجھ سے جو خیر مانگتے ہیں، وہ ہمیں عطا فرما! جو نہیں مانگتے وہ بھی ہمیں عطا فرما! اور جو بھلائی ہمارے علم، عمل اور امید سے بالا تر ہے یا اللہ! تو وہ بھی ہمیں عطا فرما!
’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے‘‘
(الصافات: 180-182)
ترجمہ: محمد عاطف الیاس

Hits: 35

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اے خیر کا ارادہ رکھنے والے! آگے بڑھ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں