8

رمضان المبارک میں صحت کو کیسے بہتر رکھیں؟ – عبد الحفیظ

رمضان المبارک آن پہنچا ہے۔ سحری اور افطاری میں تیار کیے جانے والے پکوانوں کی فہرست تیار ہو رہی ہے۔ کھانے اور مشروبات بنانے والی کمپنیاں اپنی پراڈکٹس کو دلکش انداز میں پیش کرنے میں لگی ہوئی ہیں لیکن ان سارے حالات میں ہر رمضان کی طرح ایک چیز کی کمی ہے، وہ یہ کہ سحری اور افطاری میں کیا اور کتنا کھایا جائے کہ ہماری صحت بہتر رہے۔ گو کہ افطاری کے وقت دستر خوان پر بڑھنے والے ہاتھوں کو سوچ سمجھ کر چلانا ہی بہادری ہے لیکن ایسے بہادر ہمارے ہاں بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ابھی دو چار روزے ہی گزرتے ہیں کہ معدے کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں جو کہ پھر عید کے بعد ہفتے دو ہفتے تک چلتے رہتے ہیں۔ کسی بھی روزہ دار کو پوچھ لیں وہ بھوکے رہنے کے سائنسی، طبی اور روحانی ڈھیروں فوائد بیان کرے گا لیکن جونہی افطاری ہو گی وہ سب کچھ بھول کر ایسا کچھ اور اتنا کچھ پیٹ میں بھر لے گا کہ پیٹ ساری رات بد دعائیں دیتا رہے گا۔

اس مضمون میں میں چند ایسے نقاط کی طرف توجہ مبذول کرواؤں گا جس پر عمل کر کے ہم رمضان میں صحت کے مسائل سے دور رہ سکتے ہیں۔ کیا کھانا / پینا چاہیے؟

1۔پانی
پانی ہماری روزہ مرہ کی انتہائی اہم ضرورت ہوتی ہے۔ رمضان میں ہم سارا دن پانی نہیں پی سکتے لہذا کوشش کریں کہ جب سحری میں کھانا کھا لیں تو اُس کے کچھ دیر بعد، سحری کا وقت ختم ہونے کے بالکل قریب، ایک لیٹر پانی پیئں۔ اگر آپ اِس پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر پی لیں گے تو اِس کا فائدہ دگنا ہو جائے گا۔ اِسی طرح روزہ کھولنے کے بالکل ساتھ ایک لیٹر پانی آدھا لیموں ڈال کر پیئں۔ پھر سونے تک کوشش کریں جتنا ہو سکے وقفے وقفے سے پانی پیئیں۔ آپ جتنا زیادہ پانی کا استعمال کریں گے، اُتنا ہی جسم کے لیے فائدہ رہے گا۔ اِس سے نہ صرف آپ کی دن بھر پانی نہ پی سکنے کی وجہ سے پیدا ہوئی کمی پوری ہو گی بلکہ یہ آپ کو اگلے دن دوبارہ روزہ رکھنے کے لیے بھی مدد فراہم کرے گا۔ کھانے اور پانی پینے کے درمیان مناسب وقفہ رکھیں تا کہ کھانا اچھی طرح ہضم ہو سکے۔

2.ناریل کا پانی
ہمیں رمضان میں سحری کے وقت ایسے کھانوں اور مشروبات کا چناؤ کرنا چاہیے جن سے ہمارے جسم کو زیادہ دیر تک توانائی ملتی رہے اور اِسی طرح افطاری میں ایسے کھانے اور مشروبات استعمال کرنا چاہیئں جو پورے دن کی بھوک پیاس کی کمی کو اچھی طرح دور کر سکیں۔ کھانوں کی تفصیل تو ذرا آگے بیان ہو گی، لیکن ایک ایسا مشروب ہے جو اِس پیمانے پر پورا اُترتا ہے، وہ ہے ناریل کا پانی (Coconut Water)۔

ناریل کے پانی میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو جسم میں پیاس اور پسینے کے اخراج سے پیدا ہونے والی نقاہت دور کرتے ہیں۔ غذا اور ورزش کے ماہرین ، عموماً اور ورزش کے بعد خصوصاً ناریل کا پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں تا کہ دوران ورزش توانائی صَرف ہو جانے سے پیدا ہونے والی وقتی تھکاوٹ اور پیاس جلد دور ہو سکے کیونکہ اِس کے اندر الیکٹرولائٹس ہوتے ہیں۔ اِس میں ایسے اجزاء ہیں جو جسم کو Dehydrate نہیں ہونے دیتے۔

اگر آپ سحری میں کھانے کے کچھ دیر بعد، روزہ کا وقت شروع ہونے سے قبل، اور پھر افطاری کے وقت روزہ کھولنے کے بالکل ساتھ ناریل پانی (کوکونٹ واٹر) کا ایک گلاس (تقریبا 240 ملی لیٹر) پیتے ہیں تو اِس سے آپ کو بہت فائدہ ہو گا۔ سحری کے وقت یہ آپ کو دن کے ایک خاص حصے تک نقاہت اور کمزوری آنے سے دور رکھے گا۔ اور افطاری کے وقت، سارا دن بھوکے پیاسے رہنے سے پیدا ہونے والی نقاہت اور پیاس جلد دور کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ اگر آپ نے کبھی رمضان المبارک میں ناریل کا پانی استعمال نہیں کیا تو اِس بار استعمال کر کے دیکھیں، مجھے اُمید ہے کہ آپ آئندہ بھی اِسے رمضان المبارک کی خریداری لسٹ میں شامل کریں گے۔ ناریل کے پانی کی بوتلیں عموماتھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائشیا سے برآمد ہوتی ہیں جو کہ آپ کو کسی بھی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور سے مل جائیں گی۔ یاد رہے 100 فیصد خالص ناریل پانی ہی لیں۔ اِس میں کسی قسم کے دوسرے اجزاء کی آمیزش نہ ہو۔

3.سلاد اور پھل
ہمارے جسم کے لیے مائیکرو نیوٹرنٹس مثلا وٹامنز، منرلز اور فائبر وغیرہ بہت ضروری ہوتے ہیں۔ رمضان میں کھانے کے محدود اوقات اور مقدار کی وجہ سے ہم یہ مائیکروز نہیں لے پاتے اِس لیے اِس کمی کو دور کرنے کا بہتر حل یہ ہے کہ ہم سلاد اور پھلوں کا استعمال کریں۔ افطاری کے بعد روزانہ کوئی ایک پھل ضرور کھائیں۔ آپ مختلف پھلوں کی چاٹ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ آپ کھانے کے ساتھ یا کچھ دیر پہلے سلاد کا استعمال کریں۔ سلاد اور پھلوں کے استعمال سے ہمارے جسم میں اِن مائکروز کی کمی نہیں ہو گی.

4۔دودھ/ دہی
دودھ میں موجود صحت بخش اجزاء کی وجہ سے اِسے ایک مکمل غذا کہا جاتا ہے۔ رمضان کے علاوہ تو دودھ، دہی کا استعمال ہوتا ہے لیکن رمضان میں کھانے کے محدود اوقات کی وجہ سے اِن کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔ سحری یا افطاری میں کوشش کریں دودھ یا دہی کا استعمال کریں۔ آپ رات سونے سے بیس، تیس منٹ قبل بھی دودھ یا دہی لے سکتے ہیں۔

5۔ترتیب
سحری کے وقت بیدار ہوتے ہی پانی پیئیں، پھر کچھ دیر بعد کھانا کھائیں اور سحری کا وقت ختم ہونے سے قبل ایک لیٹر سادہ پانی اور ایک گلاس ناریل کا پانی پئیں۔

افطاری میں کھانے کی ترتیب کچھ یوں رکھیں، کھجور سے روزہ افطار کر کے آدھے سے ایک لیٹر تک سادہ پانی اور ایک گلاس ناریل کا پانی پیئں، پھر کچھ دیر ٹھہر کے پھل کھائیں ، پھر تھوڑی وقفے بعد سلاد اور کھانا کھائیں۔ اور سونے سے کچھ دیر قبل دودھ / دہی لیں۔

ہر انسان کی طبیعت مختلف ہوتی ہے اور چیزوں کے اثر کرنے کا انداز بھی کئی دفعہ مختلف ہوتا ہے تو اگر آپ اپنی طبیعت کے حساب سے اِس ترتیب میں کچھ ردو بدل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔

کیا نہیں کھانا / پینا؟
اب کچھ اُن چیزوں کی طرف آتے ہیں جن سے رمضان المبارک میں جتنا ہو سکے، پرہیز بہتر ہے:

1۔مصنوعی میٹھے سے پرہیز
ہمارے ہاں عموما افطاری کے وقت چینی یا شکر سے تیار کردہ مشروبات روزہ کھولنے کے بالکل ساتھ استعمال کیے جاتے ہیں جو صحت کے لیے بہتر نہیں ہیں۔ اِن سے وقتی طور پر تو پیاس بجھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ دیرپا راحت نہیں دیتے۔ افطاری کے وقت سافٹ ڈرنکس بھی عموماً استعمال ہوتے ہیں۔ اِن کا استعمال صحت کے لیے کسی بھی طور درست نہیں اور افطاری کے وقت تو انتہائی نقصان دہ ہے۔ اپنا دستر خوان ایسے مشروبات سے صاف رکھیں۔ ایسے مشروبات کی جگہ آپ، جیسے کے اوپر بیان کیا گیا ہے، سادا پانی اور ناریل پانی پیئیں۔ اِسی طرح افطاری میں مصنوعی میٹھے سے بنی ڈشوں کا استعمال بھی نہ کریں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ افطاری میں اگر میٹھے شربت، سافٹ ڈرنکس اور میٹھی ڈش نہیں ہو گی تو افطاری کا مزہ کہاں آئے گا۔ بات یہ ہے کہ رمضان میں ایک دو بار تو ایسی چیزوں کے کھانے/پینے کی گنجائش نکل سکتی ہے ، لیکن اگر آپ روزانہ افطاری میں ایسی چیزوں کا استعمال کریں گے تو اِس سے وقتی مزہ تو مل جائے گا لیکن آپ کی صحت پر جو بُرے اثرات مرتب ہو گے، وہ شاید آپ کے گمان میں نہیں ہیں۔

2۔ تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز
رمضان میں سحری اور افطاری کا اچھے طریقے سے اہتمام کرنا اچھی بات ہے لیکن پراٹھوں، پکوڑوں، سموسوں، چپس وغیرہ سے دستر خوان بھر دینا کسی بھی طور پر قابلِ تحسین نہیں۔ 15، 16 گھنٹوں سے پانی کی بوند کو ترسے جسم کو آپ اگر افطاری کے وقت غیر صحت بخش تیل میں ڈوبے پراٹھوں، سموسوں، پکوڑوں اور ایسی ہی دوسری چیزوں سے بھر دیں گے تو یہ جسم کے ساتھ انتہائی نا انصافی ہو گی۔ ایسی چیزوں سے ہر حال میں دور رہنا ہی بہتر ہے لیکن رمضان میں تو خصوصا ایسے کھانوں سے دور رہیں۔ لوگ کھانے پینے کے معاملے میں بہت سی مشہور ہو چکی غلط باتوں پر عمل کرتے ہیں جیسے گرمیوں میں خشک میوہ جات، مچھلی اور انڈے جیسی صحت بخش چیزوں کو “گرم” چیزیں سمجھ کر چھوڑ دیں گے لیکن پراٹھے، پکوڑے، سموے، چپس اور ایسی ہے تیل میں اچھی طرح تلی ہوئی غیر صحت بخش چیزوں کو شوق سے کھائیں گے جیسے اِن میں “گرمی” یا صحت کے لیے نقصان دہ نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی۔کوشش کریں رمضان میں آپ کے دستر خوان پر صرف صحت بخش کھانے ہی موجود ہوں۔

3۔سادہ/سفید چاول اور بازاری آٹے سے پرہیز
اگر آپ سفید چاول کھانے کے شوقین ہیں اور سحری اور افطاری میں سفید چاول استعمال کرتے ہیں تو کم از کم ایک ماہ کے لیے اِن کا استعمال ختم یا محدود کر دیں۔ ایسے ہی بازاری (ریفائنڈ) آٹے کا استعمال بھی کم کریں۔ کیونکہ یہ دونوں سمپل کاربوہائیدریٹس ہوتے ہیں اور ان میں فائبر کی کمی ہوتی جس کی وجہ سے یہ معدے میں جا کر تھوڑی ہی دیر میں ہضم ہو جاتے ہیں اور ہمیں جلد بھوک لگ جاتی ہے۔ رمضان میں ہمیں ایسے کاربوہائیڈریٹس کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے معدے کو زیادہ دیر تک بھرا رکھیں تا کہ ہمیں توانائی ملتی رہے لہذا سحری اور افطاری میں ریفانڈ آٹے کی بجائے چکی کا خالص گندم کا آٹا اور سادے چاول کی جگہ براؤن رائس (Brown Rice) استعمال کریں۔ (Brown Rice) آپ کو کسی بھی ڈیپارٹمنٹل سٹور سے ایک / ڈیڑھ کلو کی پیکنگ میں مل جائیں گے۔ آپ ، Oats جو کہ کمپلیکس کاربوہائیڈریٹ کی ایک بہترین قسم ہے، بھی کھا سکتے ہیں۔

کتنا کھائیں؟
ایک اہم بات یاد رکھیں کہ پیٹ مکمل بھر کر یا آسان الفاظ میں ٹھونس کر کھانا نہ کھائیں۔ ایسا کھانا آپ کے جسم کو توانائی اور سکون دینے کی بجائے پریشانی اور تھکاوٹ دے گا۔ چاہے سحری کا وقت ہو یا افطاری کا، کوشش کریں کہ جب آپ کا پیٹ بھرنے کے قریب ہو تو کھانا چھوڑ دیں۔

اُمید ہے اِن گزارشات پر عمل کرنے سے رمضان میں آپ کی صحت اچھی رہے گی ۔ رمضان مبارک

نوٹ: یہ مضمون عام لوگوں کے لیے ہے۔ جو لوگ کسی بیماری کا شکار ہیں، وہ اپنے معالج اور جو لوگ کسی قسم کی جسمانی ورزش یا کھیل سے منسلک ہیں، وہ اپنے کوچ سے مشورہ کر کے اِس پر عمل کریں۔

Hits: 3

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں