6

تخلیق کائنات کی غرض وغایت-علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک)

دور حاضر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور مادیت کی فراوانی نے جہاں انسانوں کی سہولیات میں اضافہ کیا ہے، وہیں پر کائنات کی تخلیق اور اس کے اسرارورموز کے حوالے سے انسان کا ذہن مذہبی نقطہ نظر کے حوالے سے شکوک شبہات کا بھی شکار ہوا ہے۔ اچھے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے اور یورپی معاشروں میں سکونت اختیار کرنے والے یا وہاں آمدورفت رکھنے والے بہت سے لوگ کائنات کی تخلیق کی بنیاد اور اللہ احکم الحاکمین کی ذات کے حوالے سے شکوک وشبہات کا شکار نظر آتے ہیں۔ مذہب اور اہل مذہب سے دوری کی وجہ سے تخلیق کائنات کے حوالے سے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات کا جب انسان ازخود تسلی بخش جواب ڈھونڈنے سے قاصر رہتا ہے تو اس کے نتیجے میں کئی مرتبہ سنی سنائی باتیں اور ماحو ل کی اثرات کی وجہ سے اس فکر پر ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ وہ کائنات کی تخلیق کے حوالے سے قرآن مجید اور الہامی کتب میں مذکور حقائق سے منحرف ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
فی زمانہ دنیاوی اعتبار سے پڑھے لکھے اور مالی اعتبار سے مستحکم لوگ دہریت کا ہدف ہیں۔دہریت سے متاثر لوگ مذہب کو انسانی تخیل کی کمزوری قرار دے کر اس کی افادیت سے قریباً انکاری ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ہم اپنے گردوپیش میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں، جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھنے کی بجائے کائنات کی ازخو د تخلیق کے فلسفے سے متاثر ہیں۔ ایسے لوگ ارکان اسلام کی بجا آوری میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں رکھتے اور پیغمبران دین کو بھی فقط اخلاق کے معلم ہی سمجھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ الہامی کتب میں اللہ احکم الحاکمین اور کائنات کے حوالے سے بیان کی جانے والی تفصیلات پر توجہ کے ساتھ غور کرنے کے بعد انسان کے دل ودماغ میں اپنے خالق کی معرفت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
جب ہم کسی خوبصورت بلڈنگ کو دیکھتے ہیں تو اس کے نقشہ بنانے والے انجینئر اور معمار کا خیال یکسر ذہن میں ابھرتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہمیں یہ بات کہے کہ یہ بلڈنگ ازخود بن گئی ہے تو ہم کبھی اس کی بات پر یقین کرنے کے لیے آمادہ وتیار نہیں ہوتے، لیکن دہریے وسیع وعریض کائنات کی تخلیق کے حوالے سے اسی بے بنیاد بات کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ کائنات کی واحد چھت جو بغیر ستونوں کے کھڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے، وہ آسمان ہے۔ کائنات کی چھت پر رات کے وقت نظر آنے والے کروڑوں اربوں حسین قمقمے خالق کی کبریائی کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ دن کے وقت ابھرنے والا سورج ایک آفاقی گھڑی کی حیثیت سے انسانوں کو صبح وشام کے آنے جانے کی خبر دیتا ہے اور رات کے وقت مسکرانے والا چاند ایک آفاقی کیلنڈر کے حیثیت سے ہفتوں اور مہینوں کی آمدورفت کا پتا دیتا ہے۔ انسانوں کی بنائی ہوئی گھڑیاں اور کلینڈر اللہ تبارک وتعالیٰ کے ان کلینڈروں کے مقابلے میںکوئی وقعت اور حیثیت نہیں رکھتے۔ کائنات میں پائی جانے والی تنظیم پکار پکار ایک طاقتور خالق کا اعلان کرتی ہے۔ چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 189سے 191تک عقل مندوںکی نشانیاں بتلائیںکہ جو کائنات کے اسرارورموز پر غور کرنے کے بعد اپنے خالق ومالک کی معرفت کو حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں:
”اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں یقینا عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ وہ لوگ جو ذکر کرتے ہیں اللہ کا کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر اور اپنے پہلوؤں کے بل اور غوروفکر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تو نے یہ (سب کچھ ) بیکار، تو پاک ہے (ہر عیب سے) پس بچا ہمیں آگ کے عذاب سے۔‘‘
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اسرارورموز پر غور کرنے کے بعد انسان کو اپنے خالق ومالک کی معرفت کو حاصل کرنا چاہیے اور زمین وآسمان کی تخلیق اور صبح وشام کے آنے جانے کو بیکار سمجھنے کی بجائے اللہ احکم الحاکمین کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے عذاب سے بچنے کی جستجو کرنی چاہیے۔ تفکر فی الخلق کے اعتبار سے سورہ نحل ایک مثالی سورت ہے۔ اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کائنات کے بہت سے منظم نظاموں کو بطور مثال پیش کیا۔ اس سورت میں فضائے بسیط میں دوران پرواز اپنے پروں کو کھولنے اور بند کرنے والے پرندوں کی مثال دیتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ ان کو زمین وآسمان کے مابین تھامنے والی ذات فقط اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کی ہے۔اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے جانوروں کے دودھ کے حوالے سے بھی انسانوں کی سوچ وفکر کو متوجہ کرتے ہوئے سورہ نحل کی آیت نمبر 66میں ارشاد فرمایا :
”اور بے شک تمہارے لیے چوپاؤں میں یقینا بڑی عبرت ہے، ہم پلاتے ہیں تمہیں اس میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہے(یعنی)گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ (جو) حلق سے آسانی سے اتر جانے والا ہے پینے والوں کے لیے۔ ‘‘
اللہ تبارک وتعالیٰ نے مختلف پھلوں‘ پھولوں اور شہد کی مکھی کے بطن سے نکلنے والے شہد کا بھی بڑے خوبصورت انداز میں ذکر فرمایا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ نحل کی آیت نمبر 67 سے 69میں ارشاد فرماتے ہیں ”اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے (بھی) (کہ) تم بناتے ہو اس سے نشہ آور چیزیں (بھی)اور (اس کے برعکس)اچھا رزق(بھی)، بے شک اس میں یقینا نشانی ہے اس قوم کے لیے (جو)سمجھتے ہیں۔ ا ور الہام کیا تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف کہ تو بنا پہاڑوں میں گھر اور درختوں میں اور ان میں جن (چھپروں) پر یہ لوگ بیلیں چڑھاتے ہیں پھر تو کھا ہر قسم کے پھلوںسے ۔ پھر تو چل اپنے رب کے راستوں پر (جو) مسخر کیے ہوئے ہیں ، نکلتی ہیں ان کے پیٹوں سے پینے کی ایک چیز مختلف ہیں ، اس کے رنگ اس میں شفاء ہے لوگوں کے لیے ۔بے شک اس میں یقینا نشانی ہے اس قوم کے لیے (جو) غوروفکر کرتے ہیں۔‘‘
اسی سورت کی آیت نمبر80 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمارے گھروں کو ہمارے لیے سکونت کی جگہ بنایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔ ”اور اللہ نے بنائی تمہارے لیے تمہارے گھروں سے رہنے کی جگہ اور بنائے تمہارے لیے چوپاؤں کے چمڑوں سے گھر (خیمے) ۔تم ہلکا پھلکا پاتے ہو انہیں اپنے سفر کے دن اور اپنی اقامت کے دن اور ان کی اون سے اور ان کی پشم اور ان کے بالوں سے گھر کا سامان اور ایک وقت تک فائدہ اُٹھانے کی چیزیں بنائیں۔
جب ہم سورہ روم کی آیت نمبر 20 سے26 تک غور کرتے ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی تخلیق میں پائے جانے والے تنوع کودیکھتے ہیں تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس رنگ برنگی اور منظم دینا کا خالق فقط اللہ احکم الحاکمین ہی ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ ان آیات میں فرماتے ہیں ”اوراُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیا تمہیں مٹی سے پھر اچانک تم انسان ہو (جابجا) پھیل رہے ہو۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیا تمہارے لیے تمہارے نفسوں (یعنی تمہاری جنس) سے بیویوں کو تاکہ تم سکون حاصل کرو ان کی طرف (جاکر) اور اس نے بنا دی تمہارے درمیان محبت اور مہربانی۔ بے شک اس میں یقینا نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے (جو) غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف(الگ الگ ہونا) بے شک اس میں یقینا نشانیاں ہیں علم والوں کے لیے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے تمہارا سونا رات کو اور دن کو اور تمہارا تلاش کرنا اس کے فضل سے۔ بے شک اس میں یقینا نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے (جو) سنتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے (کہ) وہ دکھاتا ہے تمہیں بجلی ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور وہ نازل کرتا ہے آسمان سے پانی پھر وہ زندہ کرتا ہے اس کے ذریعے زمین کو۔ اس کی موت (ویرانی)کے بعد بے شک اس میں یقینا نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے (جو) عقل رکھتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ قائم ہیں اسمان اور زمین اس کے حکم سے پھر جب وہ پکارے گا تمہیں ایک بار پکارنا زمین سے ، (تو) اچانک تم سب باہر نکل آؤ گے ۔ اور اسی کا ہے جو (بھی) آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔‘‘
ان نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد ان آیات سے متصل آیت نمبر27 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”اور (اللہ) وہی ہے جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کوپھر وہی اسے لوٹائے گا (یعنی دوبارہ پیدا کرے گا) اور وہ بہت آسان ہے اس پر اور اسی کے لیے ہے اعلیٰ مثال آسمانوں اور زمین میں اور وہی انتہائی غالب بہت حکمت والا ہے۔ ‘‘
خالق ومالک کی معرفت کو حاصل کرنا درحقیقت انسان کے لیے انتہائی سود مند اور مقصد حیات کو سمجھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انسانوں کو یقینا دنیا میں اپنی استعداد اور صلاحیتوں کے مطابق اپنی دنیاوی راحت اور سہولیات کا بندوبست کرنے کے لیے تگ ودو کرنی چاہیے، لیکن کائنات کے اسرارورموز پر غور کرنے کے بعد اپنے خالق ومالک کی معرفت کو حاصل کرنے کی بھی جستجو کرنی چاہیے اور اس کو پا لینے کے بعد اس کی تابعداری اوررضا حصول کے لیے بھی اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا چاہیے کہ درحقیقت حقیقی کامیابی خالق ومالک کی معرفت اور بندگی ہی میں پنہاں ہے اور اس کے بغیر دنیا کی تمام صلاحتیں ،استعداد ، سہولیات، عہدے اور مناصب بے مقصد اور بے معنی ہیں۔ کاش کہ انسان کو کائنات کے اسرار ورموز پر غور کرنے کے بعد اپنے مقصد تخلیق کی صحیح معنوں میں پہچان ہو جائے۔ آمین

Hits: 5

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں