11

زمیں پر انسان کا پہلا قدم – حافظ یوسف سراج

تاریخ اور انسانی نفسیات پر کبھی غور کریں تو حیرت کے کئی جہاں آشکار ہو جائیں۔ کئی بار خیال آتا ہے، آخر زمیں پر انسان کا وہ پہلا دن اور پہلا قدم کیسا ہو گا؟ جنت سے اتر کر دو ہم جنسوں نے پہلی بار جو قدم یہاں دھرا اور پہلا دن جو یہاں گزارا تھا، اس پہلے دن کے مقابلے میں یہ دنیا آج آسائشات اور معلومات سے کتنی زیادہ بھر چکی۔ اس کے باوجود آج بھی گھروں سے نکل کر مسافر ہو جانے والوں کو یہاں کتنی آسانیوں اور راحتوں سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں، کتنی دل بستگیوں سے سمجھوتہ کر لینا پڑتا ہے، کجا یہ کہ جنت کی آسائشات چھوڑ کے نیچے اتر آئے ان دو ڈرتے، جھجھکتے اور نئی دنیا کو حیرت بھری آنکھوں سے دیکھتے دو انسانوں کے دلوں کے احوال کا اندازہ لگایا جاسکے۔ سوچ کبھی کبھار یوں بھی بہتی چلی جاتی ہے کہ یہ دنیا تب کیسی دنیا ہو گی کہ جب ابھی اس کا کوئی نقشہ انسان کو معلوم نہ تھا، اس کے سمندر معلوم نہ تھے اور اس کے پہاڑ معلوم نہ تھے، اس کا جغرافیہ معلوم نہ تھا اور اس کا حدود اربعہ معلوم نہ تھا، اس کے مشرق و مغرب معلوم نہ تھے اور اس کے شمال جنوب دیکھے نہ جا سکے تھے۔ اس کے راستے معلوم نہ تھے اور اس کی دلدلیں معلوم نہ تھیں۔

وہ دن کیسا دن ہو گا کہ جب سرکش دریا قابو سے باہر ہوں گے اور فضا سے انسان کو خوف آتا ہو گا؟ کیا اس وقت انسان ڈوب جانے اور بھیگ جانے کے متعلق جانتا بھی ہو گا؟ کیا تب تاروں بھری کسی رات میں آسمان کو دیکھ کے یہ خوف انسان کے دل میں جاگتا تو نہ ہو گا کہ کہیں آسمان سر پر ہی نہ آ گرے؟ وہ وقت کیسا وقت ہو گا کہ یہاں جب نہ کوئی باپ تھا اور نہ ماں تھی، نہ بھائی تھے اور نہ بہن تھی، جب سوائے میاں بیوی کے کوئی رشتہ ابھی وجود میں نہ آیا تھا۔ کیسی دل چسپ بات ہاتھ لگی کہ دنیا کا اور انسانوں کا پہلا رشتہ میاں بیوی کا رشتہ ہے۔ باقی سارے رشتے اسی ایک رشتے کے راستے سے آئے ہیں۔

وہ پہلا دن انسان کو کیسا لگا ہوگا کہ جب اس دنیا میں سرحدیں نہ بنی تھیں، جب کوئی واشنگٹن ڈی سی تھا اور نہ نیویارک، نہ لندن نہ لاہور، نہ دہلی اور نہ ماسکو۔ جب چین تھا اور نہ عرب، جاپان تھا نہ کوریا، ہڑپہ تھا نہ موئن جودڑو، مصری تہذیب تھی اور نہ امریکی فاسٹ فوڈ، جرمنی تھا نہ پیرس۔ انسان تو جنت سے درخت کے پتے پہن کے زمین پر آیا تھا، اس نے اپنا پہلا لباس کب بنا اور اسے موسموں کے ستم سہنے جتنا مضبوط اور موٹا کب بنایا؟ کیا سبزے اور ہریالی سے زمین کی گود پہلے ہی سے بھری تھی یا جنت سے آنے سے پہلے انسان نے کچھ بیجوں کی مٹھیاں بھر لی تھیں، جنھیں زمیں پر لا بکھیرا تھا اور ان کے اگنے تک یہ سورج کے سائے ہی میں بیٹھتا رہا تھا۔ آخر وہ دنیا کیسی دنیا تھی کہ جہاں ضرورت کی کوئی چیز ابھی دستیاب نہ تھی اور خود انسان کو اپنی ضرورتیں بھی بھلا کہاں معلوم ہوں گی؟ آخر انسان کے پاس علم اور تجربہ کے نام پر تھا ہی کیا؟ آئندہ کام آنے والے چند سکھائے گئے نام اور جنت کی حسین فراغتوں سے اٹھائے گئے لطف کی اک یاد۔

جینے اور آگے بڑھنے کی چاہ میں بھی زندگی کیسی کمال قوت اور زرخیزی سے بھری ہے۔ کیسے کیسے حالات میں زندگی اپنی راہیں تراش ہی لیتی ہے اور پھر خدا خود بھی تو انسان کا رہنما تھا۔ سو زندگی آگے بڑھتی گئی۔ انسان سیکھتا گیا، زندگی کے رنگ ڈھنگ سنورتے گئے۔ ظاہر ہے پہلے اس نے اپنے بقا کی تدبیر کی ہو گئی۔ آسمان بہت دور تھا اور زمین اپنی اہلیہ کے ساتھ اتر آئے اس اکیلے انسان کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ جنگل میں کانٹے دار جھاڑیاں تھیں اور خونخوار درندے تھے۔ سوچنا پڑتا ہے کہ آیا انسان نے پہلا ہتھیار اپنے تحفظ کے لیے بنایا اور کیا پہلی سوچ اپنی حفاظت ہی کے لیے سوچی تھی؟ یا پھر اسے پہلی سوچ کوئی اور آئی؟ اچھا پھر جب اسے بھوک لگی تو اس نے زمیں سے وہ پہلی کیا چیز کھائی؟ شادی کے بعد آج بھی جن لڑکیوں کو کھانا بنانا سکھایا نہیں گیا ہوتا، پہلے ہی دن وہ کھانا نہیں بنا پاتیں، تو زمیں پر انسان کے پہلے دن کا مینیو کیا تھا؟ یہ کچھ پکا کھا بھی سکا تھا یا جنت کی یاد اوڑھ کے بھوکا ہی سو گیا تھا؟ پہلے دن اس نے اپنی ننگی پیٹھ کیا ننگی زمین پر ہی بچھا دی تھی یا کچھ اور ہوا تھا؟ پہلی رات یہ سو بھی سکا تھا یا مارے پریشانی اور حیرت کے بس جاگتا ہی رہا تھا۔ کیا اس ایک رات ان دونوں میاں بیوی نے مستقبل کے سہانے خواب بنے تھے یا یہ اپنے کیے پر ایک دوسرے کو دوش دے کے جھگڑتے ہی رہے تھے؟ آہستہ آہستہ بڑھتی ہی جاتی بھوک کی تسکین اور توجہ کے لیے آخر انسان کو کیا کھانا پڑا تھا۔ کوئی پھل یا پتے وغیرہ۔ کیا خدا نے اس معاملے کو انسان پر چھوڑ دیا تھا، یا جنگلوں میں مارے مارے پھرتے انسان پر وحی کی رہنمائی کی چھتر چھایا کر دی تھی؟

پھر کسی دن جب اس کے پیٹ میں درد اٹھا یا کہیں اور تو اس نے جڑی بوٹیوں کی طرف خود ہی رجوع کر لیا تھا یا یہ دیر تک آسمانوں کی طرف دیکھتا رہا تھا؟ انسان کو پہلا زخم کب لگا تھا اور اس وقت اس کا کتنا خون بہا تھا؟ یہ خون کو اور زخم کو کیا سمجھتا اور کہتا تھا؟ کیا وہ پہلا زخم مرد کو لگا تھا یا عورت کو؟ کیا اس وقت ہی انسان نے مرد کے لیے کمانے کے اور عورت کے لیے گھر سنوارنے کے کاموں کی تقسیم کر لی تھی یا ہر جگہ یہ دونوں اکٹھے ہی دیکھے جاتے تھے؟ انسان نے پہلا گھر کب بنایا تھا؟ پہلی سیاسی پارٹی کب بنائی تھی؟ زچگی کے پہلے مرحلے انسان نے کیسے سہے تھے؟ اتنی آسائشوں کے باوجود یہ تو آج بھی انسان کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ انسان نے پہلا جھوٹ کب بولا تھا، پہلا فریب کب دیا تھا؟ انسان کو مخلوق پر اپنی عقلی برتری کا احساس پہلی بار کب ہوا تھا؟ نظریہ ارتقا کے حامیوں نے ایک مووی بنائی ہے، “لوسی” جس کا نام ہے۔ کیا انسان کے اشرف مخلوق ہونے کا نظریہ رکھنے والے بھی انسان کے پہلے دن پر کوئی مووی بنا کے انسان کے ساتھ آسمان سے اتری مشکلات کا احاطہ کر سکتے ہیں؟

کیا ہمارے مستنصر تارڑ صاحب اس ایک دن کا سفرنامہ لکھ کے اپنے تخیل سے ہماری کچھ مدد کر سکتے ہیں؟ کیا اس ایک دن کا ہم تصور کر سکتے ہیں، جس پہلے دن پر پہلا قدم دھر کر انسان آج تک آ پہنچا ہے۔ یعنی اس آج تک کہ جب یہ اتنا کچھ سیکھ گیا ہے اور دنیا پوری طرح آباد ہو گئی ہے تاکہ ہم پہلے انسان کی ہمت کو کچھ توداد دے سکیں، تاکہ ہم انسان کی عظمت کا کچھ ٹھیک سے اندازہ کر سکیں اور تا کہ ہم اللہ کی نعمتِ عقل کے معجزات کا بخوبی جائزہ لے سکیں اور تاکہ ہم اللہ کے انسانوں پر احسانات کے متعلق کچھ سوچ سکیں۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں