28

اہم ومعروف اردو کتب سیرت کا تعارف (Best Book of Seerat)-مقالہ نگار: مریم شاہ

اہم و معروف اردو کتب سیرت کا تعارف

اکیسویں صدی عیسوی کے اس دور میں یہ دعویٰ کرنا ہرگز مبالغہ آرائی پر مبنی نہ ہو گا کہ دنیا کی تمام زندہ زبانوں میں نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کی سیرت طیبہ پر مختصر، متوسط اور مفصل ضخامت کی اتنی کتابیں لکھی جا چکی ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ بیسویں صدی عیسوی کی ابتداء میں مشہور مغربی مفکر پروفیسر مارگولیتھ (Margoliouth) نے ‘Muhammad and the rise of Islam’ کے نام سے نبی اکرمﷺ کے حالات پر انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی تو اس کی ابتداء ان الفاظ سے کی:

The Biographers of the prophet Muhammad from a long series which it is impossible to end but in which it would be honourable to find a place ([1])

’’حضرت محمدﷺ کے سیرت نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے، جس کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن ان میں جگہ پانا شرف کا باعث ہے۔‘‘
تصنیف وتالیف کا یہ سلسلہ جس کی طرف مارگولیتھ نے اشارہ کیا ہے، تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور انشاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا۔ ڈاکٹر محمد میاں صدیقی اس بارے میں لکھتے ہیں:
’’برصغیر میں سیرت النبیﷺ کے حوالے سے بہت سا کام ہوا ہے اور بے شمار وقیع سرمایہ سامنے آیا۔ اور یہ کہنا مبالغہ سے خالی ہو گا کہ عربی زبان کے بعد ، جو خود صاحب سیرت کی زبان ہے، سیرت کے حوالہ سے سب سے زیادہ لٹریچر اردو زبان میں ہے۔ جب کہ اردو زبان کی تاریخ دو سوسال سے زیادہ پر محیط نہیں ہے۔ لیکن حیرت ہوتی ہے کہ برصغیر پاک وہند کے اہل علم نے دو صدیوں میں چودہ صدیوں کا سفر طے کیا۔ یہ بات بلاشبہ اردو زبان کےلئے باعث فخر وسعادت ہے، اور اردو زبان میں سیرت رسولﷺ کے مختلف پہلوؤں پر لکھنے والوں کے لئے۔‘‘ ([2])
ذیل میں اردو زبان کی چند ایسی کتابوں کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے جنہوں علمی وتحقیقی نقطہ نظر سے سیرت لٹریچر میں ممتاز اور نمایاں مقام پایا اور بے پناہ شہرت ومقبولیت حاصل کی، ان کتب سیرت کا تعارف پیش کرنے میں زمانی ترتیب کو مد نظر رکھا گیا ہے۔
تواریخ حبیب الٰہ:
مفتی عنایت احمد کاکوروی ( 1228ھ۔ 1279ھ) کی سیرۃ النبیﷺ پر معروف کتاب ہے۔ اس کتاب کا زمانہ تالیف 1275ھ؍ 1858ء ہے۔ برصغیر کی تاریخ کے حوالے سے یہ زمانہ مسلمانوں کے لئے اور بالخصوص مسلما علما کے لئے آزمائشوں کا دور تھا، خود اس کتاب کے مصنف قید اور جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے، ان کو نہ تو کوئی لائبریری میسر تھی اور نہ ہی کوئی کتاب ، کوئی ایسا ذریعہ بھی موجود نہیں تھا جس کی بنیاد پر کوئی کتاب لکھی جا سکے۔مگر انہوں نے اپنی قوت حافظہ کے بل بوتے پریہ سیرت کی کتاب تحریر کی اس صورت حال کا اظہار کتاب کے مختصر دیپاچے میں اس طرح کرتے ہیں:
’’راقم حروف کہ نیرنگی سے فی الحال جزیرہ پورٹ بلیر انڈیمان میں وارد ہے، اور کوئی کتاب کسی طرح کی پاس اپنے نہیں رکھتا، پیاس خاطر شفیق غمگسار مصور عنایت برحال زار حکیم محمد ایمر خاں صاحب نیٹیو ڈاکٹر کے یہ رسالہ بیان تواریخ حبیب اللہ ﷺ میں 1275ء میں لکھتا ہے، اور نام تاریخی اس اس کا ’ تواریخ حبیبﷺہے‘۔‘‘([3])
کتابوں اور ضروری مواد کی دستیابی کے بغیر محض حافظے کی مدد سے 176 صفحات کی کتاب لکھ دینا باعث فخر و تحسین ہے۔ کتاب قدیم طرز کی ہے، فصول اور ابواب کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، نہ کوئی پیرا بندی ہے، بسم اللہ سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے اور تمت پر اختتام۔
کسی حوالہ کے بغیر لکھی جانے والی اتنی طویل تحریر میں کوئی چیز خلاف واقعہ نہیں ہے۔ مصنف جب رہائی پا کر وطن واپس آئے تو حدیث اور سیرت کی مستند کتابوں سے رجوع کیا، اپنی تالیف میں تمام حالات و واقعات کا تقابل کیا اور ان کی صحت کا اطمینان ہونے کے بعد کتاب چھاپنے کی اجازت دی۔ مؤلف خود اس کی وضاحت کرتے ہیں:
’’یہ رسالہ فقیر نے بغیر موجودہونے کسی کتاب کے صرف از روئے حافظہ لکھا تھا۔ فضلہ تعالیٰ او رمعاودت کے وطن میں کتب حدیث اور سیرت معتبرہ سے حرف بحرف مطابق کیا۔ الحمد للہ یہ رسالہ بہت معتبر سیرت آنحضرت میں تالیف ہوا۔ زبان اردو میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے۔ رسائل میلاد بزبان اردو بیان حالات آنحضرتﷺ میں جو پائے جاتے ہیں۔ حالات صحیحہ پر مشتمل نہیں ہیں۔ کتب تواریخ غیر معتبرہ کے موافق ہیں یا جہاں سے چاہا، افسانے بے تحقیق اور غلط محض لکھ دیے ہیں۔ مثلاً رسالہ میلاد میں کہ فی الحال بنگالہ میں بہت مروج ہے۔ ثوبیہ کا دودھ پلانا بعد حلیمہ سعدیہ کے لکھا ہے، یا صلح حدیبیہ کے قصہ کو اس طرح لکھا ہے کہ بعد فرضیت حج کے آنحضرتﷺ حج کو تشریف لے گئے تھے، تب وہ قصہ واقع ہوا۔ سو یہ باتیں یقیناً غلط ہیں اور مخالف کتب احادیث اور سیر معتبرہ کے(…)اور وہ بھی رسالے اکثر اس طرح کے ہیں۔ بیان قصہ معراج اور وفات شریف میں بعض کتب تواریخ میں بہت روایتیں نا معتبر لکھی ہیں کہ رسائل میلاد شریف میں انہیں نقل کیا ہے۔ فقیر نے یہ حالات بیشتر موافق روایات صحیح بخاری و دیگر کتب معتبرہ حدیث کے لکھے ہیں۔‘‘ ([4])
مؤلف نے جن معتبر کتب سے استفادہ کیا ہے ان میں صحاح ستہ کے علاوہ مواہب اللدنیہ، اور مدارج النبوت کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مؤلف نے بیہقی، قرطبی، حاکم اور طبرانی کی روایات سے بھی استفادہ کیا ہے۔ کتاب کا سبب تالیف انتہائی مختصر الفاظ میں اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’ مطلع ہونا احوال برکت اشتمال جناب حبیب خدا محمد مصطفیٰﷺ پر موجب سعادت و ہزاروں برکت ہے۔ جیسا کہ وارد ہے:عند ذكر اولياء الله تنزل الرحمته یعنی ذکر اولیاء اللہ کے وقت اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور بھی خدائے تعالیٰ نے فرمایا: اے محمدﷺ کہہ دو اکر دوست رکھتے ہو تو خدا کو تم میری پر چلو، اور میرے تابع رہو تاکہ خدا تمہیں دوست رکھے، اور تمہارے گناہ بخش دے اور اللہ بخشنے والا ہے، نہایت مہربان۔ اور ظاہر ہے کہ پیغمبر صاحب کی اتباع اور آپ کے طریقے پر چلنا بغیر اطلاع کے آپﷺ کے حالات سے ممکن نہیں۔الحمد للہ یہ رسالہ بہت معتبر سیرآں حضرت میں تالیف ہوا۔ زبان اردو میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے۔ رسائل میلاد بزبان اردو بیان حالات آنحضرتﷺ میں جو پائے جاتے ہیں، وہ حالات صحیحہ پر مشتمل نہیں ہیں۔‘‘ ([5])
یہ کتاب کم وبیش ایک سو چودہ برس قبل کی تصنیف ہے اور ظاہر ہے کہ اس کی اور آج کی اردو میں بہت فرق ہے۔ مگر اس کے باوجود اس کی یہ خوبی ہے کہ آج بھی اس کی زبان غیر مانوس نہیں۔ زبان اور اسلوب کا اندازہ لگانے کے لئے یہ اقتباس کافی ہے۔
8؍ہجری میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مشرکین مکہ پر غلبہ عطا کیا۔ نبی اکرمﷺ فتح یاب ہو کر مکہ میں داخل ہوئے تو اس اظہار شان وشوکت کا نقشہ مؤلف اس طرح کھینچتے ہیں:
’’ بوقت داخل ہونے مکہ کے آپﷺ نے بنظر تواضع بجناب ایزدی سرمبارک بہت جھکایا یہاں تک کہ کجاوے سے ریش مبارک لگ گئی۔ یہ خیال کر کے کہ مکہ مکرمہ سے کس طرح نکلنے کا اتفاق ہوا تھا، اور کس عظمت شوکت سے رب العزت نے داخل کیا، اور ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے پالان ہی پر سجدہ کیا، مکہ میں پہنچ کر ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر میں جا کے غسل کیا اور آٹھ رکعتیں چاشت کی نماز پڑھیں۔ ام ہانی نے عرض کیا میرا بھائی علی فلانے کو قتل کیا چاہتا ہے اور میں نے اسے امان دی ہے۔ وہ ام ہانی کے شوہر کے اقارب میں سے تھا، آپﷺ نے فرمایا: ’ جسے تو نے امان دی ہے‘ اسے میں نے بھی امان دی۔‘‘ ([6])
کتاب کی زبان قدیم ہونے کے باوجود سادہ اور عام فہم ہے اور سیرت پاک کے حوالے سے تقریباً تمام بنیادی باتیں اس کتاب میں فراہم کر دی گئی ہبیں۔
کتاب تین ابواب اور ایک خاتمے پر مشتمل ہے:
باب اول میں حالات نور مبارک، ولادت باسعادت، طفولیت، شباب اور آغاز نبوت سے لے کر ہجرت تک کا بیان ہے۔
باب دوم میں ہجرت سے لے کر وفات تک کے حالات ہیں۔
باب سوم میں حلیہ شریف، اخلاق کریمہ اور معجزات کا بیان ہے اور خاتمہ میں شفاعت کبریٰ کا تذکرہ ہے۔ مصنف نے ہر باب کو مختلف فصلوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر واقعہ کے آغاز میں لفظ حال لکھ دیا ہے۔
پہلا باب: چھ فصلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی فصل میں نور محمدیﷺ کا ذکر اور رسول اللہﷺ کے آباؤ اجداد میں عبد المطلب اور آپﷺ کے والد عبد اللہ کا مختصر تذکرہ ہے۔ دوسری فصل میں حضورﷺ کی ولادت باسعادت کا حال بیان کیا گیا ہے اور ان معجزات کا بھی جو آپ کی پیدائش کے وقت ظہور میں آئے۔ چوتھی فصل میں آپﷺ کے حالات شباب تا نبوت درج ہیں، پانچویں فصل ، زمانہ نبوت تا واقعہ معراج کے بیان پر مشتمل ہے۔ اور چھٹی فصل میں واقعہ معراج کا ذکر کیا گیا ہے۔ آخری دو نوں فصلیں ، پہلی چاروں فصلوں کے مقابلے میں قدرے طویل ہیں۔
دوسرا باب: تیس فصلوں پر مشتمل ہے اور یہ سب سے طویل باب ہے ۔ اس باب میں آنحضرتﷺ کی ہجرت سے لے کر وفات تک کے وقائع جمع کیے گئے ہیں۔ مکہ سے مدینہ کی طرف آپﷺ کی ہجرت، مدینہ میں آمد، غزوہ بدر، حضرت فاطمہ ؓ، غزوہ احد، غزوہ بدر ثانی، سریہ رجیع، قصہ بیر معونہ، غزوہ بنی نضیر، غزوہ خندق، غزوہ بنی قرعہ، کعب بن اشرف، قتل ابو رافع یہودی، قصہ افک، حکم تیمم، صلح حدیبیہ، غزوہ خیبر، عمرہ، خالد بن ولید، عمرو بن العاص اور عثمان بن طلحہ کا اسلام لانا، بادشاہوں اور سرداروں کے حق کے خطوط، سریہ ابو عبیدہ بن الجراح، غزوہ موتہ، فتح مکہ، غزوہ حنین، وفود کا بیان، فرضیت حج کا اور ابو بکر صدیق﷜ کا امیر الحج ہونا، مباہلہ، حجۃ الوداع اور حضورﷺ کی وفات کا ذکر اس فصل میں کیا گیا ہے۔
تیسرا باب: حضور اکرمﷺ کے حلیہ شریفہ، اخلاق کریمہ اور معجزات کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس باب میں صرف تین فصلیں ہیں۔ فصل اول حلیہ شریفہ کے بیان میں ہے۔ فصل دوم آپﷺ کے اخلاق کریمہ کا تذکرہ کرتی ہے اور فصل سوم معجزات نبویﷺ کے ذکر پرمحیط ہے۔ اس فصل میں حضورﷺ کے پچاس معجزات بیان کیے گئے ہیں۔
خاتمہ کتاب بھی ایک مختصر سے باب کی طرح ہے اور اس میں شفاعت کبریٰ کا بیان ہے۔ یہ صحیح بخاری اور دیگر کتب احادیث کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے اور اس میں روز قیامت نبی ﷺ کا اپنے امتیوں کے لئے اللہ سے بخشش کی سفارش کا تذکرہ ہے۔
یہ کتاب قدیم ہونے کے باوجود کتب سیرت میں اپنا ایک الگ مقام اور منفرد حیثیت رکھتی ہے۔
الخطبات الاحمدیہ:
سر سید احمد خاں ( 1817ء ۔ 1898ء) نے متعدد کتابیں لکھیں لیکن ان کا اہم کارنامہ ’ الخطبات الاحمدیہ‘ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کا پورا نام ’ الخطبات الاحمدیہ علی العرب والسیرۃ المحمدیہ‘ ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ اصل کتاب جو کہ اردو میں لکھی گئی ، بعد میں شائع ہوئی اور اس کا انگریزی ترجمہ کم وبیش سات برس پہلے 1870ء میں ‘ A Series of essays on the life of Muhammad’ کے نام سے لندن سے شائع ہوا اور اصل اردو کتاب ضروری اضافوں کے ساتھ 1887ء میں ہندوستان سے طبع ہوئی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سر سید احمد خان نے یہ کتاب ولیم میور کی مشہور انگریزی کتاب Life of Muhammad کے جواب میں لکھی۔ ولیم میور نے چار جلدوں پر مشتمل اپنی یہ ضخیم کتاب 1961ء میں شائع کی۔ سرسید کے بقول :
’’جب یہ کتاب چھپی اور ہندوستان میں پہنچی تو لوگوں نے اس کو نہایت ذوق سے پڑھا۔ مگر جب وہ اس حقیقت تک پہنچے کہ اس کتاب میں اسلام کی اور رسول اللہﷺ کی سیدھی سادھی باتوں کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، تو ان کا وہ شوق ٹھنڈا پڑ گیا۔ تاہم انگلستان اور ہندوستان کے تعلیم یافتہ طبقہ کو اس کتاب نے بہت متاثر کیا۔‘‘([7])
ولیم میور نے اسلامی علوم کا مطالعہ کیا اور تفسیر، حدیث، سیرت اور تاریخ کی کتابوں کے غیر مستند حوالے دیتے ہوئے اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی تنقیص کی۔ یہ طریقہ کار سخت خطرناک تھا، چنانچہ سر سید احمد خان لکھتے ہیں:
’’ اس کتاب سے میرے دل پر جو اثر پیدا ہوا، وہ یہ تھا کہ آنحضرتﷺ کے متعلق حالات میں ایک کتاب اس طرح لکھی جاوے کہ جو جو باتیں صحیح، اصلی اور منقح ہیں اور مستند روایتوں سے بخوبی ثابت ہیں، ان کو چھان بین کر کے ترتیب سے لکھا جاوے اور جو حالات مشتبہ اور مشکوک ہیں اور ان کا ثبوت معتبر یا کافی نہیں ہے، ان کو جداگانہ اسی ترتیب سے جمع کیا جاوے۔‘‘([8])
چنانچہ 1969ء میں سر سید احمد خان کے بیٹے کو انگلستان جانے کے لئے تعلیمی وظیفہ ملا تو سر سید احمد خان بھی ان کے ہمراہ لندن چلے گئے اور وہاں جاتے ہی ولیم میور کی کتاب کا جواب لکھنے میں مصروف ہو گئے۔سر سید احمد نے لندن میں موجو د ذرائع وسائل کی مدد سے تقریباً ایک سال کے مختصر عرصے میں بارہ مقالے لکھے اور اردو میں شائع کرنے کے بجائے پہلے ایک انگریزی سے انگریزی میں ان کا ترجمہ کرایا اور 1870ء میں انہیں لندن ہی سے شائع کیا۔
’ الخطبات الاحمدیہ‘ ایک دیپاچہ اور بارہ خطبات پر مشتمل ہے۔ کتاب کے مختلف ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ زیر نظر ایڈیشن 1988ء میں شفیع سجاد آرٹ پریس لاہور سے شائع ہوا یہ مطبوعہ ایڈیشن 803 صفحات پرمشتمل ہے۔ خطبے کی حیثیت ایک باب کی ہے۔ ہر خطبے کا عنوان عربی میں ہے جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
1۔ الخطبة الأولى في جغرافية جزيرة العرب وأمم العرب العاربة والمستعربة (یعنی ملک عرب کا جغرافیہ اور اس کی قوموں کا حال )
2۔ الخطبة الثانية في مراسم العرب وعاداتهم قبل الإسلام (یعنی اسلام سے قبل عربوں کی رسمیں اور ان کی عادتیں)
3۔ الخطبة الثالثة في الأديان المختلفة التي كانت في العرب قبل الإسلام (یعنی اسلام سے پہلے عرب کی مختلف مذاہب اور ادیان کا ذکر)
4۔ الخطبة الرابعة في أن الإسلام رحمته للإنسان وجنته لأديان الأنبياء باوضح البربان (یعنی اسلام انسان کے لئے رحمت ہے اور تمام انبیاء کے مذاہب کی پشت پناہ)
5۔ الخطبة الخامسة في حالات كتب المسلمين (یعنی مسلمانوں کی مذہبی کتابوں، حقیقت اور ان کے رواج کی ابتداء)
6۔ الخطبة السادسة في الروايات في الإسلام (یعنی مذہب اسلام کی روایتوں کی حقیقت اور ان کے رواج کی ابتداء)
7۔ الخطبة السابعة في القرآن وهو الهدى والفرقان ( یعنی قرآن کریم رسول اللہﷺ پر کس طرح نازل ہوا۔)
8۔ الخطبة الثامنة أحوال بيت الله الحرام والسوانح اللتي مضت فيها قبل الإسلام ( یعنی خانہ کعبہ اور اس کے گذشتہ حالات اسلام سے قبل )
9۔ الخطبة التاسعة حسبه ونسبه عليه الصلوٰة والسلام (یعنی رسول اللہﷺ کے نسب نامہ کے بیان میں)
10۔ الخطبة العاشرة في البشارة المذكورة في التوراة والإنجيل (یعنی رسول اللہﷺ کی بشارات کےبیان میں جو توریت اور انجیل میں مذکور ہیں۔)
11۔ الخطبة الحادي عشر في حقيقة شق الصدر وماهئيته المعراج ( یعنی شق صدر کی حقیقت اور معراج کی ماہیت کے بیان میں)
12۔ الخطبة الثاني عشر في ولادة وطفوليته عليه الصلوٰة والسلام (یعنی رسول اللہﷺ کی پیدائش اور بچپن کے حالات۔ 12؍برس کی عمر تک)
خطبات احمدیہ: (تمہید)
سر سید نے ’خطبات احمدیہ‘ کی تمہید میں سب سے پہلے مذہب کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے اور سچے مذہب کو پرکھنے کا واحد اصول اس کا قدرت یا قانون قدرت کے مطابق ہونا قرار دیا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں اور عیسائیوں کی تحریر کردہ کتب سیرت پر سیر حاصل کی تبصرہ کیا ہے۔
سرسید کی رائے میں عربی وفارسی سیرت کی مصادر کتب جھوٹی روایتوں کا مجموعہ ہیں۔ جن میں صحیح اور غلط کا کوئی امتیاز نہیں رکھا گیا۔ بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ جو کتابیں ان میں زیادہ قدیم ہیں مثلاً ابن اسحاق، ابن ہشام، واقدی اور طبری کی کتابیں ان میں اس قسم کا اختلاف نسبتاً زیادہ ہے۔ اس کے بعد سر سید احمد خان ولیم میور کی کتاب لائف آف محمدﷺ کا محاکمہ کرتے ہیں اور آخر میں بعض منصف مزاج عیسائی مورخین کا ذکر بھی کرتے ہیں۔
پہلا خطبہ:
پہلا خطبہ 180 صفحات پر مشتمل ہے اس میں مصنف نے ملک عرب کا مفصل تاریخی جغرافیہ درج کیا ہے تاکہ ان مسلمات کو ثابت کیا جا سکے۔ جن کا ولیم میور نے اپنی کتاب میں انکار کیا تھا۔ پھر خانہ کعبہ کی تعمیر، حضرت اسماعیل﷤ کی آل اولاد کا تذکرہ ہے۔ پھر قوم عاد، ہود، ثمود کا عرب میں ہونا تاریخی شواہد سے ثابت کیا ہے۔ بعد ازاں عرب کے بادشاہوں اوران کی حکومتوں کی تفصیل ہے۔
سر سید احمد نے اپنے خیالات کی تائید اور عیسائی مصنفین کی غلط بیانیوں کی تردید کے لئے قرآ ن مجید، بائبل، کتب احادیث، کتب تاریخ، کتب جغرافیہ، کتب تفاسیر اور دیگر علمی کتب کے جا بجا حوالے دیے ہیں۔
دوسرا خطبہ:
24 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس خطبہ میں اسلام سےقبل عربی اقوام کی عادات وخصائل ، رسوم و رواج اور عقائد اوہام پر روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ عہد جاہلیت کے اخلاق کا صحیح نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جائے۔ یہاں تفصیل سے جاہلی شعراء کے کلام سے مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔
تیسرا خطبہ:
یہ خطبہ بھی مختصر ہے اور 28 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں ان مذاہب کا حال بیان کیا گیا ہے، جو اسلام سے پہلے موجود تھے۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ اسلام نے سابقہ الہامی مذاہب کی تصدیق کی ہے اور یہی چیز اس کی صداقت کی دلیل ہے۔
چوتھا خطبہ:
یہ خطبہ 93 صفحات پر محیط ہے۔ اس میں مصنف نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اسلام دنیا میں رحمت کا باعث ہے اور اس نے تمام انبیاء کے مذاہب کی پشت پناہی کی ہے۔ بالخصوص یہودیت اور عیسائیت تو اس سے بہت فوائد ملے ہیں۔ اس کے نبوت میں ان عیسائی مصنفین کے اقوال درج کیے ہیں جنہوں نے بنی نوع انسان کے لئے اسلام کے مفید ہونے کا اقرار کیا ہے۔ ساتھ ہی سر سید نے عیسائی مصنفین کے اس پر اعتراضات کا شافی جواب بھی دیا ہے۔
پانچواں خطبہ:
اس خطبہ میں مسلمانوں کی دینی کتابوں یعنی کتب احادیث، کتب سیر، کتب تفاسیر اور کتب فقہ کی تالیف وترتیب کا منشاء، غرض اور ڈھنگ بیان کیا گیا ہے۔ سر سید نے پہلے تو کتب احادیث میں موجود روایت کی پر کھ کے لئے ان اصول وقواعد پر روشنی ڈالی ہے جو محدثین نے بڑی کاوش سے مرتب کیے تھے۔ جن کے ذریعے معتبر اور غیر معتبر روایات میں تمیز کی جا سکتی ہے۔ پھر صحاح ستہ کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھا ہے کہ ان میں بھی مشتبہ اور موضوع احادیث کے ہونے کا احتمال ہے۔ کتب سیرت پر بحث کرتے ہوئے سر سید نے ان میں غیر مستند روایات کی موجودگی کا امکان کتب احادیث کی نسبت زیادہ ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ مسلمانوں کے جملہ مصادر و علوم میں علم سیرت سب سے زیادہ غور اور تحقیق کا محتاج ہے۔ سر سید کتب سیرت، کتب حدیث اور کتب تفاسیر کی روایات کو مستند ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
چھٹا خطبہ:
چھٹا خطبہ مذہب اسلام کی روایات پر لکھا گیا ہے۔ اس میں اول روایت کی اصلیت اور یہ کہ ان کے رواج کی ابتداء کیوں کر ہوئی اور نیز یہ کہ دین اسلام انہیں صحیح روایتوں پر منحصر ہے۔ جو تبلیغ رسالت سے علاقہ رکھتی ہیں نہ دیگر دنیوی امور سے، بیان کیا ہے۔ پھر جھوٹی روایت کےراویوں کے درجہ اعتبار بلحاظ ثقہ کے یہودیوں سے روایت کرنے کی اجازت جو آنحضرتﷺ نے صحابہ کی دی، اختلاف روایت کے اسباب، احادیث موضوعہ کا بیان، یہ تمام باتیں مفصل بیان کی گئی ہیں اس کے بعد سر ولیم میور نے جن روایات سے استدلال کر کے اسلام اور بانی اسلام حضرت محمدﷺ پر اعتراضات وارد کیے ہیں ان اعتراضوں کا نہایت شافی جواب الزامی اور تحقیقی صورت میں دیا ہے۔
ساتواں خطبہ:
یہ مقالہ 84 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں قرآن مجید کا آنحضرتﷺ پر نزول، اس کی سورتوں اور آیات کی ترتیب، مختلف قراء تیں، آیات ناسخ ومنسوخ کی بحث، جمع قرآن کا زمانہ، اس کی نقول کی اشاعت، اس کا کامل اور الہامی ہونا بیان کر کے سر ولیم اور دیگر عیسائی مصنفین کی قرآن مجید کے متعلق پھیلائی ہوئی غلطیوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
آٹھواں خطبہ:
63 صفحات پر مشتمل ہے۔ خانہ کعبہ کی اسلام سے قبل کے تاریخی حالات سے بحث کرتا ہے۔ سر ولیم نے آنحضرتﷺ کے بنی اسماعیل ہونے سے انکار کیا ہے اور آپﷺ کے نسب نامہ کے بارے میں شبہات ظاہر کیے ہیں۔ سر سید نے اس خطبہ میں یورپ کے عیسائی محققین اورجغرافیہ دانوں کے تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ حضرت اسماعیل﷤ اور ان کی اولاد عرب میں آباد تھی۔ اس کے بعد توریت کی شہادتوں سے اس امر کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
نواں خطبہ:
یہ خطبہ آنحضرتﷺ کے حسب ونسب کی تحقیق پر ہے اور 25 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس خطبہ میں آنحضرتﷺ کا نسب نامہ جیسا کہ انہوں نے خود تحقیق کیا درج کیا ہے اور اپنا نسب نامہ بھی اس میں شامل کر دیا ہے کیونکہ وہ حضورﷺ کی نسل میں سے ہیں۔
دسواں خطبہ:
یہ خطبہ 74 صفحات پر پھیلا ہوا ہے،مصنف نے وہ بشارتیں درج کی ہیں۔ جو آنحضرتﷺ کی نبوت کےبارے میں توریت اور انجیل میں موجود ہیں۔ آنحضرتﷺ کے سلسلے کی بشارتیں درج کرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ﷤ کے بارے میں ان بشارتوں کا ذکر کیا ہے جو عہد نامہ عتیق میں موجود تھیں تاکہ پتہ چل سکے کہ ان کا انداز اور طریقہ تعبیر کیاتھا۔ پھر آنحضرتﷺ کے بارے میں چھ بشارتیں عہد نامہ عتیق سے اور تین بشارتیں عہد نامہ جدید سے نقل کی ہیں اور ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ﷤ کی بشارت کے مقابلے میں یہ بشارتیں زیادہ صاف، واضح اور روشن ہیں۔ انجیل کی بشارتوں میں فارقلیط ( احمد) نام کے پیغمبر کے آنے کی بشارت بالخصوص قابل ذکر ہے جس کے ضمن میں سر سید نے بڑی دلچسپ بحث کی ہے۔
گیارہواں خطبہ:
یہ خطبہ 55 صفحات پر محیط ہے۔ سر سید نے اس میں آنحضرتﷺ کے سینہ مبارک کے شق کرنے کی حقیقت اور واقعہ معراج کی ماہیت بیان کی ہے۔
سر سید شق صدر کی بجائے شرح صدر کے قائل ہیں اور واقعہ معراج کو صرف قرآن کے حوالے سے مانتے ہیں۔ رہا احادیث میں معراج کا ذکر، تو وہ اسے محض رویا قرار دیتے ہیں اور اس سلسلے کی تمام روایات کو متعارض اور متناقض ہونے کی وجہ سے قابل اعتبار نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے کبھی ان باتوں کے درحقیقت واقع ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔
بارہواں خطبہ:
اس آخری خطبہ میں جو 38 صفحات پر مشتمل ہے۔ سر سید نے آنحضرتﷺ کی ولادت سے بارہ برس تک کی عمر کے واقعات معتبر اور صحیح روایتوں کی مدد سے بیان کیے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ان بےشمار روایات کی تردید بھی کرتے ہیں جو سیرت کی کتب میں درج ہیں۔
سر سید احمد خان نے ولیم میور اور دوسرے مغربی مصنفین کے اعتراضات کے جواب دیتے وقت مناظرانہ انداز اختیار نہیں کیا بلکہ سنجیدہ لب ولہجہ میں گفتگو کی ہے۔ انہوں نے جوابی الزامات سے بھی گریز کیا ہے اور اسلوب بیان سادگی اور روانی کو مد نظر رکھا ہے۔
’الخطبات الاحمدیہ‘ بعض منفرد خصوصیات کی حامل ہے اس میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ جغرافیہ عرب، اور قبائل عرب کے بارے میں ( خطبہ اول میں) سر سید احمد نے جو تحقیق کی ہے وہ اردو میں لکھی جانے والی دوسری کتب سیرت میں اتنی تفصیل سے ہمیں نہیں ملتی ۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ عبرانی بائبل کے حوالے بہت سے مقامات پر دیے ہیں۔ خصوصاً پہلے خطبہ میں اور ایسے تمام حوالے عبرانی زبان اور حروف ہی میں دیے ہیں۔ اردو میں ان کا ترجمہ اور وضاحت کر دی ہے۔
بعض مباحث پر انتہائی تحقیق کے باوجود ’ الخطبات الاحمدیہ‘ اہل علم کی نظروں میں ایک متنازعہ کتب قرار پائی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ سر ولیم میور یا دوسرے مستشرقین نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی ذات سے وابستہ جن واقعات پر اعتراض کیا تھا، سر سید احمد خان ان واقعات کی حقیقت اور وقوع ہی سے دست بردار ہو گئے۔ مثلاً
نبی اکرمﷺ کے ساتھ نبوت ورسالت سے پہلے شق صدر کا واقعہ پیش آیا۔
محدثین اور اسلاف کا اس بارے میں تو اختلاف ہوا کہ یہ واقعہ کتنی بار پیش آیا لیکن جمہور علما نے ہمیشہ اس کے وقوع کو تسلیم کیا ۔ اس کے منکر نہیں ہوئے اور اس کا ذکر ایک معجزے کے طور پر کیا گیا۔لیکن سر سید احمد خان نے شق صدر کا انکار کیا اور اس کو ’ شرح صدر‘ سے تعبیر کیا۔ شق صدر کے اس واقعہ سے بہت سے علما نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد بھی سر سید احمد خان کا یہ کہنا ہے کہ
’’ یہ سب روایات ناقابل اعتبار، اور بے ہودہ اضافے ہیں۔‘‘ ([9])
یہ بات نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ غیر شائستہ انداز فکر ہے۔ اس واقعہ کی طرح سیرۃ النبیﷺ کےبعض مقامات پر تسامحات کا شکار ہوئے۔
ڈاکٹر محمد میاں صدیقی الخطبات الاحمدیہ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں:
’’ الخطبات الاحمدیہ ایک مربوط اور باقاعدہ سوانح عمری کے بجائے بارہ مختلف مضامین کا مجموعہ ہے۔ اگرچہ ان تمام مضامین اور مقالات کا تعلق سیرت ہی سے ہے۔ بالواسطہ یا بلاواسطہ یہی وجہ ہے کہ مصنف نے اس کا نام سیرت کے بجائے خطبات رکھا۔‘‘ ([10])
’الخطبات الاحمدیہ‘ کو لکھتے وقت سر سید احمد خاں جہاں بعض مواقع پر خرد کی تنگ دامانی کا شکار ہوئے وہاں اس کی یہ خوبی بھی ہے کہ یہ اسلوب تحریر کے اعتبار سے سادگی، بے تکلفی ، بے ساختگی اور مدعا نویسی کے اوصاف سے معمور ہے۔ خطبات احمدیہ مغربی سیرت نگاروں کے غیر منصفانہ انداز تحریر کے خلاف بر صغیر پاک وہند میں مدافعتی سیرت نگاری کی اچھی کاوش ہے، جس کے بعد جدید دور کی سیرت نگاری کا مناظرانہ و مدافعانہ رنگ سامنے آیا اور مستشرقین اسلام کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔
نشر الطیب:
یہ مولانا اشرف علی تھانوی ( م 1943ء) کی تصنیف ہے۔ آپ نے اسے 1911ء میں لکھنا شروع کیا اور 1912ء میں مکمل کر لیا۔ یہ کتاب مستند احادیث کی ر وشنی میں لکھی گئی اور اسے ایک مقدمہ اور اکتالیس فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب مکتبہ حمیدیہ صدر بازار، راولپنڈی سے شائع ہوئی۔ اس پر سن اشاعت درج نہیں ہے اور کتاب کے صفحات کی تعداد 391 ہے۔
مولانا نے ایک عربی رسالہ ’شیم الحبیب‘ مصنف مفتی الہٰی بخش کا ندھلوی کی کتاب سے اتنا استفادہ کیا ہے کہ بعض لوگوں نے نشر الطیب کو اس رسالہ کا ترجمہ قرار دیا ہے۔اس کتاب میں وعظ ونصیحت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ۔ تاکہ لوگ حضور اکرمﷺ کے ذکر مبارک کی برکات سے فیض یاب ہوں۔مولانا نے اس کتاب میں حضور اکرمﷺ کے فضائل، آپﷺ کا حسب ونسب، ولادت، طفولیت، شباب، نکاح، معراج، ہجرت حبشہ، مکی زندگی کے متفرق واقعات، ہجرت مدینہ، غزوات اور زندگی کے دوسرے حالات سن کے اعتبار سے درج کیے ہیں۔کتاب کے آخر میں حضور اکرمﷺ کے فضائل، مقام فضیلت اور امت پر آپﷺ کے حقوق، آپﷺ پر درود بھیجنے کے فضائل اور واقعہ معراج کابڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
کتاب کی تحریر میں مولانا نے جب کتب کو ماخذ و مصدر بنایا ہے ان کی نشاندہی خود اس کتاب کے مقدمہ میں کی ہے۔فرماتے ہیں:
’’اس کتاب کو لکھتے وقت صحاح ستہ اور شمائل ترمذی کے علاوہ زاد المعاد ( ابن قیم﷫) مواہب اللدنیہ (قسطلانی) سیرت ہشام ، اشمامۃ النبویۃ ( نواب صدیق حسن خان) تواریح حبیب الٰہ (مفتی عنایت احمد کاکوروی) اور الروض النظیف جیسی کتابیں پیش نظر رکھی ہیں۔ ان کے علاوہ ایک عربی رسالہ ’ شیم الحبیب‘ ( مفتی الٰہی بخش کاندھلوی) سے اس حد تک استفادہ کیا ہے کہ نشر الطیب کو اس کا ترجمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘ ([11])
مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے کتاب کے مقدمہ میں سبب تالیف بھی بیان کیا ہے:
’’ یہ گرسنہ رحمت غفار، وتشنہ شفاعت سید البرار ﷺ وعلی آلہ الاطہار واصحابہ الکبار۔ عاشقان نبی مختار ومحبان حبیب پروردگار کی خدمت میں عرض رسا ہے کہ ایک مدت سے بہت سے احباب کی فرمائش تھی کہ حضور نورﷺ کے کچھ حالات قبل نبوت وبعد نبوت کے صحیح روایات سے تحریر کیے جاویں کہ اگر کوئی متبع سنت بخلاف طریق اہل بدعت بفرض ازد یاد محبت آپ کے ذکر مبارک سے شوق اور رغبت کرے تو وہ اس مجموعہ کو رغبت سے پڑھ سکے۔ پھر ان دنوں اتفاق سے پیہم چند دین دار دوستوں کے خطوط اسی استدعا میں آئے جن میں مجموعاً اس غرض کی اس طرح تقریر کی گئی کہ جو شرائط اس ذکر مبارک سے برکات حاصل کرنے کے اس احقر نے بعض رسائل میں لکھے ہیں کہ کوئی شخص اس طرح ان حالات کو پڑھے مثلاً جمعہ میں نمازی جمع ہو گئے ان کو سنا دیا یا اپنے گھر کی مستورات کو بٹھلا لیا اور ان کو سنا دیا اسی طرح اور شرائط کی عایت واہتمام رکھے تو ایسے موقع کے لئے ایسا رسالہ لکھ دیا جوے حاصل تقریر ختم ہوا۔ ایسی تصریح کے بعد بامید اس کے کہ یہ مجموعہ آلہ ہو جاوے گا ازد یاد محبت برعایت طریق سنت کا لکھنا مصلحت معلوم ہونے لگا اور اس کا مصلحت ہونا اس سے اور زیادہ ہو گیا کہ منجملہ خطوط مذکورہ کے ایک میں یہ بھی استدعا کی گئی کہ موقع سے اس میں مناسب مواعظ ونصائح بھی بڑھا دیے جاویں سو اس طور پر اور زیادہ نفع کی توقع ہوئی پھر ان دونوں مصلحتوں کے ساتھ ہی اس وجہ سے اور زیادہ آمدگی ہوئی کہ آج کل فتن ظاہری جیسے طاعون اور زلزلہ و گرانی وتشویشات مختلفہ کے حوادث سے عام لوگ اور فتن باطنی جیسے شیوع بدعات والحاد وکثرت فسق وفجور سے خاص لوگ پریشان خاطر اور مشوش رہتے ہیں ایسے آفات کے اوقات میں علماے امت ہمیشہ جناب رسول اللہﷺ کی تلاوت وتالیف روایات اور نظم مدائح ومعجزات اور تکثیر سلام وصلوٰۃ سے توسل کرتے رہے ہیں چنانچہ بخاری شریف کے ختم کا معمول اور حصن حصین کی تالیف اور قصیدہ کی تصنیف کی وجہ مشہور و معروف ہے میرے قلب پر بھی یہ بات وارد ہوئی کہ اس رسالہ میں حضورﷺ کے حالات و روایات بھی ہوں گے جا بجا اس میں درود شریف بھی لکھا ہو گا پڑھنے سننے والے بھی اس کی کثرت کریں گے کہ عجب ہے کہ حق تعالیٰ ان تشویشات سے نجات دیں چنانچہ اسی وجہ سے احقر آج کل درود شریف کی کثرت کو اور وظائف سے ترجیح دیتا ہے اور اس کو اطمینان کے ساتھ مقاصد دارین کے لئے زیادہ نافع سمجھتا ہے اور اس کے متعلق ایک علم عظیم کہ اب تک مخفی تھا ذوقی طور پر ظاہر ہوا ہے۔ والحمد لله على ذلك‘‘([12])
کتاب کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ مختصر ہونے کے باوجود سیرت نبوی ﷺ کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ مولانا کی تحریر میں پھیلاؤ نہیں ہے۔ زبان سادہ وسلیس ہے، کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر واقع اور بیان کے بعد اس سے کوئی اخلاقی نتیجہ نکالا گیا ہے۔
ڈاکٹر محمد میاں صدیقی نشر الطیب کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’نشر الطیب دور جدید میں، قدیم طرز تحریر کی نمائندگی کا فرض انجام دیتی ہیں۔‘‘ ([13])
رحمۃ للعالمینﷺ:
قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری ( 1930ء) کی تصنیف ’ رحمۃ للعالمینﷺ‘ کا تعلق بیسویں صدی کےر بع اول سے ہے۔ یہ تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کی پہلی جلد 1912ء میں، دوسری جلد 1921ء اور تیسری جلد مصنف کے انتقال کے بعد 1933ء میں شائع ہوئی۔
قاضی محمد سلیمان منصور پوری صاحب کی خواہش تھی کہ سیرت پاک پر تین کتابیں لکھوں۔ ان مختصر (2) متوسط ( 3) مفصل۔
مختصر کتاب انہوں نے ’ مہر نبوت‘ کے نام سے لکھی جو پہلی بار 1899ء میں شائع ہوئی۔ اور یہ کم وبیش پچاس صفحات پر مشتمل ہے۔
متوسط کتاب کو انہوں نے ’ رحمۃ للعالمین‘ کے نام سے موسوم کیا۔ لیکن خواہش کے مطابق سیرت پاک پر مفصل کتاب نہ لکھ سکے۔
’ مہر نبوت‘ اور ’ رحمۃ للعالمین‘ کے علاوہ قاضی صاحب کی دو کتابیں ’ بدر البدور‘ اور ’ سید البشر‘ بھی ہیں جن میں نبی اکرمﷺ کے حالات زندگی اجمال واختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن قاضی صاحب کے عشق رسولﷺ کا مظہر اور علم وتحقیق کا اصل سرچشمہ ان کی تصنیف ’ رحمۃ للعالمین‘ ہے۔ اس کتاب کے بارے میں ان کے الفاظ یہ ہیں:
’’ اہل خبر آگاہ ہیں کہ سیرت نبویﷺ کا لکھنا کس قدر مشکل کا م ہے۔ اگر ذرہ مقدار خورشید جہاں افروز کے نورگیتی آراء کا مکیال بن سکتا تو مجھ سے بے بضاعت کثیر الاشغال بھی، جس کا اس راہ میں کوئی یارو مددگار نہیں، درست طور پر کچھ بھی لکھ سکتا ہے۔۔۔ لیکن ایک فرض کا احساس ہے کہ سکوت پر غالب آ گیا ہے اور درد محبت ہے، جس نے بے حس قلب کو تڑپا دیا ہے۔ توفیق الٰہی ہے جو برابر اس کام پر مجھے لگائے رکھتی ہے۔ جذبہ ربانی ہے، جس کی کوشش اس طریق حق پر لیے جاتی ہے۔‘‘([14])
اس فرض شناسی نے ان سے ایک ایسی کتاب لکھوائی جو سیرت رسول پر اردو میں نہ صرف ایک جامع اور مفصل کتاب ہے۔ بلکہ استناد کےبھی اونچے مقام پر فائز ہے۔
’ رحمۃ للعالمینﷺ‘ کی پہلی جلد ایک مقدمہ اور پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ مقدمہ میں رسول اللہﷺ کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم﷤کے حالات سے آغاز کر کے آپ کے اجداد کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے۔ پھر عہد جاہلیت کے عرب کا نقشہ کھینچنے کے بعد رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے دین کی برکات اور سیرت نبوی کی خصوصیات گنوائی گئی ہیں۔ پھر انبیاء کی صفات سے آپ کی صفات کا موازنہ کر کے آپ کی شان نبوت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد اصل کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔
جلد اول۔پہلا باب: میثاق مدینہ، غزوات کی ابتداء، غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ احزاب، فتح مکہ، غزوہ تبوک، اسیران جنگ سے نبی ﷤ کا حسن سلوک۔
دوسرا باب:سربراہان مملکت کے نام دعوتی خطوط، دعوت اسلام کے لئے مختلف قبیلوں اور بادشاہوں کی طرف سفارشیں۔
تیسرا باب:ان وفو د کے حالات جو فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے کے لئے مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔
چوتھا باب:مدنی زندگی کے اہم واقعات مثلاً مسجد نبویﷺ کی تعمیر، سلسلہ مواخاۃ، تحویل قبلہ، فرضیت زکوٰۃ، فرضیت صوم، صلح حدیبیہ، حجۃ الوداع، وصال۔
پانچواں باب:نبی ﷤ کے اخلاق حسنہ کا بیان، قرآن حکیم کی تعلیمات۔
’رحمۃ للعالمین‘ کی دوسری جلد آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔
کتاب کی ابتداء میں مصنف نے وضاحت کی ہے:
’’دوسری جلد ایسے مضامین پر مشتمل ہے جنہیں اکثر سیرت نگار کتاب کے اول حصے میں جگہ دیا کرتے ہیں۔ مگر میں نے جلد اول میں ایسے اہم اور بنیادی مضامین کو جمع کیا کہ اگر بقیہ جلدیں نہ لکھ سکوں، یا وہ شائع نہ ہو سکیں تب بھی وہ نقش ناتمام کی صورت میں ادھورا اور ناممکن نظر نہ آئے۔‘‘ ([15])
چنانچہ دوسری جلد میں پہلی جلد کے بعض مضامین کی توضیح و تشریح ہے اور بعض نئے مباحث ہیں۔ ابواب کی تفصیل اس طرح ہے:
پہلاباب:نبی﷤ کا شجرہ نسب، شجرہ طیبہ کی تحقیق میں مصنف نے بڑی محنت کی ہے اور بعض ایسی معلومات جمع کی ہیں جو سیرت لٹریچر میں نوادر کا درجہ رکھتی ہیں۔
دوسرا باب:امہات المؤمنین ﷢ کے مبارک تذکرے کے لئے وقف ہے۔
تیسرا باب:غزوات وسرایا۔ ہر غزوہ کا الگ بیان، لشکر اسلام اور دشمن کی تعداد، حربی قوت کا موازنہ، اس باب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ فاضل مصنف نے حضور﷤ کی دس سالہ مدنی زندگی میں ہونے والے جہاد کا موازنہ پہلی جنگ عظیم سے کیا ہے۔ مہا بھارت اور یورپ کی مقدس جنگوں میں جو جانی نقصان ہوا، اس کا بھی ذکر ہے۔ غزوات وسرایا کے شہداء کی فہرستیں بھی شامل کی ہیں۔
چوتھا باب:اس باب میں عیسائیوں کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے قرآن حکیم میں بیان کیے گئے قصے اور واقعات ایک عیسائی عالم سے سن کر اپنی زبان میں ڈھال لیے تھے۔ اس بات کا بھی جواب دیا کہ مشرکین عرب پچھلے انبیاء اور ان کو قوموں کے حالات کو اساطیر الاولین ( پچھلے لوگوں کے غیر حقیقی قصے کہانیاں) کہتے تھے۔
اس باب میں مصنف نے یہ ثابت کیا کہ قرآن حکیم کی تعلیم دوسری آسمانی کتابوں سے کہیں زیادہ اعلیٰ و ارفع ہے۔
پانچواں باب:سید المرسلین حضرت محمدﷺ کی تمام انبیاء پر فضیلت ظاہر وثابت کی گئی ہے۔
چھٹا باب:یہ باب نبی﷤ کی سب سے بڑی، اور جامع صفت ’ رحمۃ للعالمین‘ کے لئے مخصوص ہے۔ قرآن حکیم کی آیت سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی ذات اقدس تمام زمانوں اور تمام جہانوں کے لئے سراپا رحمت ورافت ہے۔
ساتواں باب:اس کا مرکزی موضوع ’ حب النبیﷺ‘ ہے۔ اس باب میں یہ بات ثابت کی ہے کہ پوری کائنات اور نسل انسانی میں نبی﷤ سے زیادہ کسی اور ذات اور شخصیت سے محبت نہیں کی گئی۔ آپﷺ سے بڑھ کر کوئی بھی محبوب خلائق، محبوب ملائک اور محبوب خدا نہیں ہوا۔
آٹھواں باب:واقعات سیرت کو قلم بند کرتے وقت مصنفین نے کو یہ بہت بڑی دشواری پیش آتی ہے کہ دن اور تاریخ میں تطابق نہیں ہوتا۔ کبھی دن صحیح ہوتا ہے اور تاریخ غلط ہو جاتی ہے اور کبھی تاریخ صحیح ہوتی ہے تو دن غلط ہو جاتا ہے۔ قاضی صاحب نے ہجری سنہ اور تاریخ میں تطابق پیدا کرنے اور معلوم کرنے کا طریقہ بتایا ہے اور باقاعدہ جدولیں بنا کر اسے آسان کر دیا ہے۔
جلد سوئم:رحمۃ للعالمین کی تیسری جلد تین ابواب پر مشتمل ہے۔ تیسری جلد کے تینوں ابواب انتہائی اہم بھی ہیں اور طویل بھی۔ پہلی دو جلدوں کی طرح تیسری جلد بھی ایڈیشنوں کے اختلاف کے باوجود چار سو صفحات سے زائد پر مشتمل ہے۔ لیکن صرف تین ابواب پر حاوی ہے۔
پہلے باب کا عنوان ’ خصائص النبیﷺ‘ دوسرے باب کا عنوان ’ خصائص القرآن‘ اور تیسرے باب کا عنوان ’ خصائص الاسلام‘ ہے۔ گویا اس جلد کا موضوع اسلام، پیغمبر اسلام اور قرآن کے امتیازی خصائص ہیں۔
ڈاکٹر محمد میاں صدیقی تیسری جلد کے اس پہلے باب ’ خصائص النبیﷺ‘ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ رحمۃ للعالمین، اردو میں لکھی جانے والی (سیرت کے موضوع پر ) پہلی کتاب ہے جس میں خصائص النبیﷺ کو تفصیل کےساتھ بیان کیا ہے، اور اس بحث کا خصوصی امتیاز یہ ہے کہ نبی ﷤ کے خصائص کا استنباط زیادہ تر قرآنی آیات سے کیا ہے کیوں کہ اللہ سے بڑھ کر حضور﷤ کے خصائص نہ کوئی جانتا ہے اور نہ جان سکتا ہے۔‘‘ ([16])
قاضی صاحب نے ’رحمۃ للعالمین‘ کو لکھتے وقت صرف اسلامی علوم ومصادر پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ غیر مذاہب کی کتب مقدسہ کی بھی ورق گردانی کی ہے۔ خصوصاً یہود ونصاریٰ کی مذہبی کتابوں سے مضبوط شواہد مبہم پہنچا کر حضور اکرمﷺ کی عظمت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ بقول سید سلیمان ندوی:
’’رحمۃ للعالمینﷺ کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف کے ذوق کے مطابق سوانح اور واقعات کے ساتھ غیر مذاہب کے اعتراضات کے جوابات اور دوسرے صحائف آسمانی کے ساتھ موازنہ اور خصوصیت سے یہود ونصاریٰ کے دعاوی کا ابطال بھی اس میں جا بجا موجود ہے۔ مصنف مرحوم کو توراۃ اور انجیل پر مکمل عبور حاصل تھا اور عیسائیوں کے مناظرانہ پہلوؤں سے جامع پوری واقفیت تھی۔ اسی بنا پر ان کی یہ کتاب ان تمام معلومات کا جامع خزانہ ہے۔‘‘ ([17])
قاضی صاحب جب بھی رسول ﷺ کے بارے میں کوئی واقعہ لکھتے ہیں تو اس کی تائید کے لیے ویسا ہی حوالہ بائبل سے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ مثلاً رحمۃ للعالمین کے پہلے باب میں رسول ﷺ کے نام کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’دادا نے آنحضرتﷺ کا محمد ﷺ اور ماں ے خواب میں ایک فرشتے سے بشارت پا کر احمد ﷺ رکھا تھا۔‘‘
اور فٹ نوٹ میں واضح کرتے ہیں:
’’سید آمنہ بی بی کو نام رکھنے کی بشارت فرشتے کی معرفت ایسے ہی ملی تھی جیسے کہ فرشتے کی بشارت سے ہاجرہ بی بی نے اسماعیل﷤ کا نام ( پیدائش باب 6آیت 119 ) اور مریم نے یسوع کا نام ( لوقا ، باب اول، آیت 31) رکھا تھا۔‘‘ ([18])
قاضی صاحب نے بائبل کو بطور ماخذ سیرت استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سیرت رسولﷺ کے بنیادی مصادر و مراجع یعنی قرآن حکیم، کتب حدیث، کتب سیر ومغازی اور کتب شمائل سے بھی باقاعدہ اخذ و استفادہ کا اہتمام کیا ہے۔
بہرکیف ’ رحمۃ للعالمین‘ اردو میں لکھی جانے والی ایک مکمل سیرت رسول ہے۔ اور اردو زبان کے سیرت لٹریچر میں ایک جامع اور مستند کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔
٭ سیرۃ النبیﷺ:
اردو میں سیرت کے موضوع پر لکھے جانے والی کتابوں میں ایک انتہائی اہم اور ضخیم کتاب علامہ شبلی نعمانی ( 1914ء) اور علامہ سید سلیمان ندوی ( 1953ء) کی مشترکہ تصنیف ’ سیرۃ النبیﷺ‘ ہے۔ جو چھ ضخیم جلدوں اور ایک مختصر (ساتویں) جلد پر مشتمل ہے۔ اس کی ابتدائی دو جلدیں علامہ شبلی نعمانی کے قلم سے ہیں۔ اور باقی پانچ جلدیں ان کےشاگرد رشید سید سلیمان ندوی نے ان کی وفات کے بعد لکھیں۔
سیرۃ النبیﷺ کی پہلی جلد 1918ء میں ( شبلی نعمانی کی وفات کے کم وبیش چار سال بعد) دوسری جلد 1920ء میں،تیسری جلد 1924ء میں، چوتھی جلد 1932ء میں، پانچویں جلد 1935ء میں اور چھٹی جلد 1938ء میں شائع ہوئی۔ ساتویں جلد بھی سید صاحب کے زیر تصنیف تھی لیکن وہ اس کے صرف دو ہی باب لکھ سکے اور اس آخری جلد کو معین الدین ندوی نے شائع کروایا۔
ساتویں جلد طویل وقفہ کے بعد 1980ء میں شائع ہوئی۔ چھٹی اور ساتویں جلد کی طباعت کے درمیان بیالیس سال کا طویل وقفہ حائل ہوا۔ اور اس طرح یہ جلد مصنف یعنی سید سلیمان ندوی کی وفات کے ستائیس برس بعد طبع ہوئی۔
اردو کتب سیرت میں سیرۃ النبیﷺ ایک ممتاز مقام کی حامل ہے۔ اس کے بارے میں منشی محمد امین زبیری کے نام ایک خط میں خود شبلی نعمانی نے یہ لکھا ہے:
’’اگر میں مر نہ گیا، اور میری ایک آنکھ بھی سلامت رہی تو ان شاء اللہ دنیا کو ایک ایسی کتاب دے جاؤں گا جس کی توقع کئی سو برس تک بھی نہیں کی جا سکے گی۔‘‘ ([19])
بد قسمتی سے انہیں مہلت نہ دی کہ وہ خود اس کتاب کو مکمل کر سکتے مگر شبلی کے ہونہار شاگرد سید سلیمان ندوی نے ان کے اس خواب کو بہ حسن و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ شیخ محمد اکرام سیرۃ النبی ﷺ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’حیات نبویﷺ کے متعلق شبلی نعمانی نے جس محنت، دقت نظر، وسیع علمیت، غوروفکر، حسن استدلال اور ادبی شان کے ساتھ پہلی دو جلدیں لکھی ہیں اس کی مثال عالم اسلامی کے ادب میں مشکل ہی سے ملی گی۔‘‘ ([20])
مولانا نے اپنے سیرت کے مسودے کو ایک کپڑے کی بوری میں ڈالا اور مولانا شبلی نے اپنی وفات سے چند روز قبل اپنے عزیزوں کو جو کہ تیمارداری میں تھے یہ وصیت فرمائی :
’’یہ مسودے حمید الدین اور سید سلیمان ندوی کے سپرد کر دیے جائیں ان کے علاوہ کسی اور کو ہرگز نہ دیے جائیں۔‘‘ ([21])
وفات سے تین دن پہلے 15 نومبر 1914ء کو مولانا حمید الدین فراہی، مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا سید سلیمان ندوی کو تار دے کے بلایا تاکہ انہیں سیرۃ النبی ﷺ کا پورا منصوبہ سمجھا سکیں۔ علامہ سید سلیمان ندوی تار پہنچنے سے پہلے ہی استاد کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ اور سید سلیمان ندوی نے بستر مرگ پر آخری سانس لیتے ہوئے اپنے استاد سے جو وعدہ کیا تھا اسے انتہا درجے کے احساس ذمہ داری کے ساتھ پورا کیا اور اس کا ثبوت ’سیرۃ النبی ﷺ‘ کا کامل سات جلدوں میں ہمارے درمیان موجود ہونا ہے۔
سیرۃ النبیﷺ جلد اول:
علامہ شبلی نعمانی کی تالیف کردہ سیرۃ النبیﷺ کی پہلی جلد 622 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور اس میں دو مقدمات ہیں۔ پہلا مقدمہ 103 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور فن سیرت نگاری کی ضرورت واہمیت، ابتداء و ارتقاء، مشہور تصانیف ومصنفین اور روایت و درایت کے اصولوں پر اس مقدمہ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ فن سیرت کی ابتداء کا ذکر کرنے کے بعد اس فن کا حدیث،مغازی،تاریخ سے تعلق واضح کیا گیا ہے۔ شبلی نعمانی نے سیرۃ النبیﷺ کے دوسرے مقدمہ میں عرب کی قدیم سیاسی ، معاشرتی، تہذیبی، تمدنی اور مذہبی تاریخ بیان کی ہے۔ اس مقدمہ میں خانہ کعبہ کی تعمیر اور حضرت اسماعیل﷤ کے ذبیح ہونے کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔
سیرۃ النبیﷺ میں ان دو مقدمات کے بعد اصل کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔ سب سے پہلے آنحضرتﷺ کے سلسلہ نسب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد قریش میں آپ کے آباء واجداد ، یعنی قصیٰ، ہاشم، عبد المطلب اور عبد اللہ کا احوال مختصراً بیان کیا گیا ہے۔
پھر آپ کی تاریخ ولادت تا تزویج خدیجہ ؓ اور احباب خاص کا احوال درج ہے۔ اس کے بعد ’ آفتاب رسالت کا طلوع‘ کے عنوان کے تحت آپﷺ کی بعثت ونبوت کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ غزوات ومعاہدات کا تذکرہ بھی موجود ہے اور اسلام کے اصول جنگ پر بحث کی گئی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی پہلی جلد میں علامہ شبلی نعمانی نے صحیح واقعات کے اندراج کے علاوہ مغربی اور مشرقی مصنفین کی غلط بیانیوں کی تردید بھی کی ہے۔
سیرۃ النبیﷺ جلد دوم:
علامہ سید سلیمان ندوی نے اپنے استاد مرحوم کی دوسری جلد 1920ء میں شائع کی۔ یہ 440 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں نبوت کی تین سالہ پر امن زندگی کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اس میں ابتداء میں قیام امن اور اشاعت اسلام کی کوششوں کا تذکرہ ہے۔ اس میں بعد وفود عرب کی آمد اور قبول اسلام سے لے کر ازواج مطہرات اور آپﷺ کی وفات اور اولاد کے احوال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
سیرت النبی ﷺ کی جلد دوم میں سید سلیمان ندوی نے خاصا اضافہ کیا ہے۔ اور اصل متن میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ کتاب میں ’ قیام امن‘، ’تبلیغ و اشاعت اسلام‘، ’تاسیس حکومت الٰہی‘ کے عنوانات کے تحت شامل ہیں۔ خطابت نبویﷺ اور عبادات نبویﷺ کے ابواب مکمل طور پر اور معمولات نبویﷺ اور مجالس کے ابواب کافی حد تک سید سلیمان ندوی کے تحریر کر دہ ہیں۔ اخلاقِ نبویﷺ کے طویل باب میں استاد شاگرد دونوں کا اشتراک ہے۔ البتہ آخر ی تین ابواب آنحضرتﷺ کے ازواج و اولاد میں سید سلیمان ندوی نے کوئی ردو وبدل نہیں کیا۔
سیرت النبیﷺ جلد سوم:
سید سلیمان ندوی کی ’ سیرت النبیﷺ‘ کی تیسری جلد بہ اعتبار ضخامت 888 صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں آنحضرتﷺ کے منصب نبوت، حقیقت نبوت اور فضائل ودلائل نبوت اور قرآن مجید کے نقطہ ہائے نظر پر مبسوط تبصرہ کیا گیا ہے۔کتاب کی ابتداء میں نفس معجزہ کی حقیقت، قرآن مجید، فلسفہ قدیم وجدید اور علم الکلام کی روشنی میں معجزے کے امکان وقوع پر بڑی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ آخر میں خصائص محمدیﷺ کے عنوان سے آنحضرتﷺ کی تمام خصوصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
سیر ت النبیﷺجلد چہارم:
یہ 830 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس جلد میں اسلام کے بنیادی عقائد، نبوت، وحی، ملائکہ، قیامت، سزا و جزا اور جنت و دوزخ پر بحث کی گئی ہے۔ کتاب کی ابتداء میں مقدمہ ہے جس میں نبوت کی حقیقت اور اس کے لوازمات و خصوصیات کی تشریح ہے۔ اس کے بعد ایک دیپاچہ ہے جس میں آنحضرتﷺ کی ولادت سے قبل عرب کے حالات اور انقلاب اسلام کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔
سیرت النبیﷺ جلد پنجم:
پانچویں جلد 456 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور خاص عبادات کے موضوع پر ہے۔ مصنف نے اس جلد میں آنحضرتﷺ کی ان تعلیمات کا تفصیلاً ذکر کیا ہے جو عبادات کے باب میں ہیں۔
سیرت النبیﷺ جلد ششم:
سید سلیمان ندوی کی سیرت النبیﷺ کی چھٹی جلد 824 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس جلد کا موضوع ’اخلاق ‘ ہے۔ یعنی ان اخلاقی تعلیمات کی تفصیل وتشریح ہے جو آنحضرتﷺ کے ذریعے مسلمانوں کو سکھائی گئیں۔ فضائل و رزائل کے آداب کے بعض موضوعات مولانا عبد السلام ندوی کے تحریر کردہ ہیں۔ جنہیں سید سلیمان ندوی نے کم وزیادہ کر کے کتاب میں شامل کر لیا ہے۔
سیرت النبیﷺ جلد ہفتم:
سیرت النبیﷺ کی یہ جلد 214 صفحات پر مشتمل ہے اس میں وہ تمام احکام شرعیہ شامل ہیں جن کا تعلق ان تمام حقوق العباد سے ہے جن کی حیثیت قانون کی ہے۔ جن میں معاملات اور فرائض دونوں داخل ہیں۔ اگرچہ یہ جلد ایک مختصر کتاب ہے لیکن اس میں تمام اصولی مسائل کو سمیٹ لیا گیا ہے۔
سیرت النبیﷺ کی تحریر شبلی کے اسلوب میں سادگی، بے تکلفی، بے ساختہ پن، استدلال اور منطقیت جھلکتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس سنجیدگی، بردباری، اعتدال اور علمیت کی صفات سید سلیمان ندوی کے اسلوب کا خاصہ ہیں۔
سید صاحب اور شبلی کی تحریروں پر ڈاکٹر انور محمود خالد نے بڑا اچھا تجزیہ کیا ہے۔ کہتے ہیں:
’’شبلی کے مقابلے میں سید سلیمان ندوی کا اسلوب اتنا ہی مختلف ہے جتنی ان کی شخصیت ۔ شبلی خود بھی رنگین مزاج، تیز طبع، گرم جوش اور نفاست پسند تھے، اور ان کی تحریر بھی رنگین ، چست، تحرک آمیز اور حرارت خیز تھی، اس کے برعکس سید سلیمان ندوی خود بھی سنجیدہ بردبار، منکسر المزاج انسان تھے اور یہی صفات ان کے اسلوب کا خاصہ ہیں۔‘‘ ([22])
اس کتاب میں اسلامی تعلیمات کو محققانہ اور دل نشین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ سیرت النبویﷺ کے موضوع پر یہ کتاب نہ صرف اردو بلکہ بیسویں صدی عیسوی میں لکھی گئی تمام زبانوں کی کتب سیرت میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔
خطبات مدراس:
علامہ سید سلیمان ندوی کےسیرت النبیﷺ کے موضوع پر دیے گئے یہ خطبات مربوط کتابی شکل میں 1926ء میں شائع کیے گئے۔ جب کہ اس کتاب کا تعارف اس کے مطبوعہ تیسرے ایڈیشن سے پیش کیا جا رہا ہے۔ جسے رضا پریس لاہور سے 1936ء میں شائع کیا گیا۔ خطبات مدراس کے اس ایڈیشن میں صفحات کی تعداد 151 ہے۔
سید سلیمان ندوی صاحب نے جنوبی ہند کی ’ اسلامی تعلیمی انجمن‘ کی فرمائش پر اکتوبر اور نومبر 1925ء میں مدراس کے ’ لال ہال‘ میں یہ خطبات دیے۔
سیرۃ النبیﷺ کے مختلف پہلوؤں پر دیے جانے والے آٹھ خطبوں میں سے بعض خطبوں میں سیرت محمدیﷺ کا دوسرے انبیاء ﷩ کی سیرتوں سے مقابلہ و موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ ان آٹھ خطبات کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے:
1۔ انسانیت کی تکمیل صرف انبیاء کرام﷩ کی سیرتوں سے ہو سکتی ہے۔
2۔ عالمگیر اور دائمی نمونہ عمل صرف محمدﷺ کی سیرت ہے۔
3۔ سیرت نبویﷺ کا تاریخی پہلو
4۔سیرت نبویﷺ کی کاملیت
5۔ سیرت نبویﷺ کی جامعیت
6۔ سیرت نبویﷺ کی عملیت
7۔ اسلام کے پیغمبر کا پیغام
8۔ ایمان اور عمل
یہ خطبات پہلے دو مرتبہ غیر مرتب مسودے کے ساتھ شائع ہوئے۔ لیکن اس کا یہ تیسرا ایڈیشن مرتب صورت میں نظر ثانی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ خطبات مدراس سیرت نبویﷺ کے موضوع پر تاریخی مقام واہمیت کے حامل ہیں۔
اس کتاب کا ایک وصف یہ بھی ہے:
’’اس کتاب کے بعض خطبوں میں سیرت محمدیﷺ کا دوسرے انبیاء﷩ کی سیرتوں سے مقابلہ و موازنہ ہے۔‘‘ ([23])
سید صباح الدین عبد الرحمن اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’یہ کہنے میں تامل نہیں کہ انداز بیان کے معیار کے لحاظ سے دنیا کی بہترین کتابوں کی کوئی فہرست تیار کی جائے تو اس میں یہ کتاب ضرور شامل کی جائے گی۔ یہ سیرت النبیﷺ کے سلسلہ ہی کی ایک تصنیف ہے۔ لیکن جس ادیبانہ اور انشاء پردازانہ خوبیوں کے ساتھ ہی لکھی گئی ہے، وہ اس کا امتیازی وصف ہے، اس کو پڑھتے وقت بڑے سے بڑا انشاء پرداز ہی محسوس کرے گا کہ اس میں کہیں انشاء پردازی کی قوس و قزاح نظر آ رہی ہے۔ کہیں اس کی مہ تابی چھٹکی ہوئی ہے۔ کہیں اس کوثر ونسیم بہہ رہی ہے، کہیں زبان قلم چوم رہی ہے، کہیں خود قلم طرز ادا پر نچھاور ہو رہا ہے، کہیں زور بیان صاحبقرانی دکھا رہا ہے۔ ان خوبیوں کی بدولت پوری کتاب میں نبوت کا چمستان آباد ہو گیا ہے۔ جس میں رسالت کے پھولوں کی روش لگی ہوئی ہے اور روح محمدی معطر ہو کر حسان جان ہو رہی ہے۔‘‘([24])
٭ اصح السیر:
اردو زبان میں سیرت رسولﷺ کے موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں مولانا عبد الرؤف قادری دانا پوری (1840ء۔ 1948ء) کی کتاب ’ اصح السیر‘ کا نام بہت نمایاں ہے۔ 1932ء میں اس کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا۔ اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا اولین اور مرکزی ماخذ احادیث مبارکہ ہیں۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس کی ترتیب عام کتب سیرت سے بالکل مختلف ہے۔ کتاب کے مختصر تعارف کے بعد جو چار صفحات پر مشتمل ہے ، چوالیس صفحے کا طویل مقدمہ ہے۔ مقدمہ محققانہ اور عالمانہ ہے۔ مقدمہ کی ابتداء بعثت انبیاء کے مقاصد سے کی ہے، قرآن حکیم اور سنت رسولﷺ کے اجمالی تعارف کے بعد سیرت ، اصحاب سیرت اور ضرورت سیرت پر بحث ہے۔ سیرت کا تحریری مواد کیسے جمع ہوا، اور اس کی ترتیب وتدوین کس طرح ہوئی، اس پر مختصر مگر جامع گفتگو کی گئی ہے، مولانا نے اپنے مقدمہ میں روایت اور درایت پر کلام کیا ہے۔
ان کے علاوہ مقدمہ حسب ذیل اہم موضوعات پر مشتمل ہے۔
1۔ قرآن حکیم 2۔ سنن رسول اللہﷺ
3۔ سیرت 4۔ سیرت کا تحریری مواد
5۔ سیرت کی تدوین 6۔ زیر نظر ( اصح السیر) سیرت کی تدوین
7۔ درایت اور عقل 8۔ عقل کی گمراہی
9۔ نصاریٰ کا اعتراض 10۔ عقل سلیم
11۔ قدیم عرب 12۔ سلاطین سبا، حمیر وتبع
13۔ تبصرہ 14۔ نحم کی حکومت
15۔ خلاصہ
سر سید احمد خان اور علامہ شبلی نے غزوات کے واقعات کے بارے میں جو معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار کیا تھا عبد الرؤف دانا پوری صاحب نے اس کا عالمانہ رد کیا۔ مولانا نے ابتدائی کلمات میں اس بات کی وضاحت کی ہے :
’’ مولانا شبلی نے مغازی پر جو کچھ لکھا ہے، خصوصاً غزوہ بدر کے حالات میں، تو انہوں نے عجیب وغریب جدت کی ہے، تمام واقعات کو پلٹ کر رکھ دیا ہے، اورروایات صحیحہ کو ترک کر دیا ہے۔‘‘ ([25])
مولانا عبد الرؤف دانا پوری صاحب نے عام کتب سیرت کی ترتیب یا زمانی ترتیب سے ہٹ کر بالکل مختلف ترتیب کو اپنایا ہے۔ ولادت با سعادت کے ذکر کے بعد ہجرت کا بیان شروع کیا اور اس کے بعد غزوات کی ابتداء کی اور کتاب کے ابتدائی اور تعارفی کلمات میں اس طرف اشارہ کیا ہے:
’’ میرا خیال ہے کہ اہل علم ‏‏اس کتاب میں کتاب المغازی کو جامع، مکمل اور بہترین ترتیب پر پائیں گے۔‘‘ ([26])
مولانا نے غزوات کے بعد وفود کا بیان بھی پوری وضاحت اور تفصیل کےساتھ دیا ہے۔ چنانچہ ’ اصح السیر‘ میں سب سے زیادہ تفصیل اور جامعیت کے ساتھ غزوات کو بیان کیا گیا ہے۔ غزوات کا بیان 268 صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ غزوہ بدر کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ غزوات کے علاوہ سرایا پر بھی کھل کر بحث کی ہے۔ ہجرت مدینہ، اس کے اسباب اور نتائج کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
مولانا دانا پوری کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کریں پہلے حصے میں ان حالات کا ذکر کیا جائے، جن کا تعلق اسلام کی تبلیغ واشاعت، اور قوت وشوکت سے ہے، دوسرے حصے میں حضور﷤ کی پیغمبرانہ زندگی ہو، یعنی معجزات، دلائل نبوت، معراج، شمائل اور فضائل ومناقب، مصنف کے نزدیک پہلا حصہ حضور﷤ کی مجاہدانہ زندگی پر مشتمل تھا اور یہ وہ حصہ ہے جو آج ’ اصح السیر‘ کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اور دوسرا حصہ وہ ہے جو لکھا نہ جا سکا۔
اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں احادیث اور فقہ کی مدد سے کتاب الاموال کے نام سے ایک مستقل باب رکھا گیا ہے اور اس میں غنائم، زکوٰۃ، عشر، فئے، جزیہ، ہدایا اور اموال مہجورہ کے مسائل بیان کیے ہیں۔جن ضروری فقہی مسائل سیرت کے کسی خاص پہلو یا واقعہ سے تعلق تھا، ان سے اسی مقام پر بحث کی ہے، مثلاً فتح مکہ کے ذکرمیں اراضی حرم کا حکم، عمرۃ القضاء میں نکاح محرم کا مسئلہ، غزوہ خیبر کے موقعہ پر متعہ کی بحث ، ازواج مطہرات کے حالات میں شرعی پردے کا حکم ، حجۃ الوداع کے آخر میں خلافت وامامت کی بحث۔ اپنی کتاب کے تعارفی کلمات میں مولانا خود لکھتے ہیں:
’’ بعض معرکۃ الاراء فقہی مسائل پر ایسی جامع، مکمل اور مبسوط بحث لکھ دی ہے کہ اہل انصاف کو ان شاء اللہ اس مسئلے میں کسی اشتباہ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔‘‘ ([27])
مولانا نے اپنی اس کتاب میں باون (52) صحابہ کرام﷢ کا اجمال و اختصار کےساتھ تذکرہ کیا ہے۔ جبکہ عموماً سیرت کی کتب میں ان کا باقاعدہ تذکرہ نہیں ہوتا۔
جہاں فقہی نقطہ نظر سے بات کرتے ہیں وہاں عموماً امام طحاوی﷫ کی آراء نقل کرتے ہیں۔ جس سے اس امر کا برملا اظہار ہو جاتا ہے کہ مؤلف فقہ حنفی کے پیروکار ہیں اور دوسرے فقہی مسلک کے مقابلے میں اسے ترجیح دیتے ہیں۔
النبی الخاتمﷺ:
’ النبی الخاتمﷺ‘ سید مناظر احسن گیلانی کی تصنیف ہے، کتاب کی اول طباعت کے باب میں کچھ پتہ نہیں چلتا البتہ کتاب کے آغاز میں محمد منظور نعمانی نے جو تعارف دیا ہے اس پر 1938ء کا سن درج ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کی تالیف کا کام 1938ء تک مکمل ہو چکا تھا۔ کتاب کا زیر نظر ایڈیشن 1995ء میں زاہد بشیر پرنٹنگ پریس لاہور سے شائع ہوا۔ اس کے کل صفحات کی تعداد 144 ہے۔
’ النبی الخاتمﷺ‘ حضرت علامہ مناظر احسن گیلانی کا بہترین علمی شاہکار ہے۔ اس کتاب میں سیرت نبویﷺ کو جامعیت و اکملیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اور اختصار کے باوجود سیرۃ نبویہﷺ کے تمام قابل غور پہلوؤں پر حاوی ہے۔ کتاب تزئین و آرائش ، تہذیب وتنقیح اور تصحیح ومراجعت کے سلسلہ میں ہر ممکن احتیاط سے کام لیا گیا ہے۔
کتاب کے ابتدائی ایڈیشن میں عنوانات نہیں تھے۔ تب تو غالباً قارئین پورے طور پر مافیہ کو سمجھ نہیں سکتےہوں گے، لیکن اب تقریباً ہر پیرے پر عنوان قائم کر کے ’ رموز وکنایات‘ کی بڑی حد تک تشریح بھی کر دی گئی ہے۔مصنف نے کتاب کو ایک نئی تقسیم دی ہے، جناب محمد منظور نعمانی کتاب کے تعارف میں لکھتے ہیں :
’’اس کتاب میں مصنف نے آنحضرتﷺ کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ مکی زندگی کو انہوں نے دل کی زندگی اور مدنی کو زندگی کو دماغ کی زندگی قرار دیا ہے۔‘‘ ([28])
اس کو بالکل نئی بلکہ نہایت مناسب تقسیم کہا جا سکتا ہے کیوں کہ فی الحقیقت نبوت کے بعد مکی زندگی میں جن کمالات کا ظہور ہوا ان کا زیادہ تر تعلق قلبی معاملات سے ہوا اور مدنی زندگی میں جو امور سر انجام پائے، ان کے لئے دماغی صلاحیت و قابلیت اور فکر و تدبیر ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کتاب میں سید مناظر احسن گیلانی کا انداز بیان منبر پر بیٹھے ہوئے ایک جوشیلے خطیب کا سا ہے۔ ’ النبی الخاتمﷺ‘ میں مربوط واقعات سیرت کی بجائے سرسری اشارے پائے جاتے ہیں یا پھر ان پر طویل حاشیہ آرائی ہے۔ ’ النبی الخاتمﷺ‘ کی اصل خوبی اس کا والہانہ ، پرجوش، ولولہ انگیز خطیبانہ اسلوب ہی ہے۔
پیغمبر انسانیتﷺ:
نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ پر یہ کتاب ’ پیغمبر انسانیتﷺ‘ مولانا شاہ محمد جعفر پھلواری کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کی اول اشاعت کے بارے میں کچھ معلومات نہیں ملتیں۔ ’پیغمبر انسانیتﷺ‘ کا یہ مطبوعہ ایڈیشن ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور 1953ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب 260 صفحات پر مشتمل ہے۔
مولانا شاہ محمد جعفر پھلواری کی سیرت النبیﷺ پر تحریر شدہ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عقلی رنگ زیادہ ہے۔ آنجنابﷺ کی سیرت کا بیان دلنشین ہے۔ مؤلف نے بعض ایسی روایات پر تنقید کی ہے جو ایک امت میں صدیوں سے نقل ہوتی چلی آ رہی تھیں کتاب کے آغاز میں مولانا حسن مثنی ندوی کا 40 صفحات پر مشتمل ایک عالمانہ مقدمہ ہے۔ جس میں پاکستان اور ہندوستان کے خارمان سیرت کے حالات واقعات کا تذکرہ ہوا ہے۔
مولانا حسن مثنی کی رائے میں ’پیغمبر انسانیتﷺ‘ کی امتیازی حیثیت اس کا مخصوص نقطہ نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے زندگی کے ہر مرحلہ پر انسانی اقدار کی حفاظت کی ہے۔ ([29])
مولانا حسن مثنی کتاب کے مقدمہ میں اس کے اسلوب اور انداز بیاں کے متعلق لکھتے ہیں:
’’اس کی زبان رواں اور عاشقانہ ہے ، انداز نگارش اچھوتا اور جذبہ عقیدت ومحبت ہر جگہ نمایاں ہے اور یہی سیرت مصطفیٰﷺ کی جان ہے۔‘‘ ([30])
سیرۃ المصطفیٰﷺ:
مولانا احمد ادریس کاندھلوی ( م1974ء؍ 1394ھ) کی تصنیف کردہ کتاب ’سیرۃ المصطفیٰﷺ‘ کاسب سے پہلا ایڈیشن 1375ھ؍ 1956ء میں انشاء اللہ پریس لاہور سے شائع ہوا۔ یہ ایڈیشن تین مجلدات اور ایک ضمیمہ پر مشتمل تھا، صفحات کی تعداد 1271 تھی۔ اس کے حوالوں کا انداز قدیم کتابوں کی طرح تھا، جہاں عبارت ختم ہوتی وہیں ماخذ کا حوالے دے دیا۔ قرآنی آیات کے حوالے نامکمل تھے اور بعض مقامات پر آیات اور عربی عبارات کا اردو ترجمہ نہیں تھا۔ زیر نظر ایڈیشن 1979ء میں مطبع اسلامیہ سعودیہ لاہور اور مکتبہ عثمانیہ لاہور کے اشتراک سے شائع ہوا۔ یہ ایڈیشن بھی تین مجلدات پر مشتمل ہے اور صفحات کی کل تعداد 1523 ہے۔ اس ایڈیشن میں حوالہ جات صفحات کے نیچے دیے گئے ہیں۔ تمام قرآنی آیات کو بھی مکمل حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے، اور جن جن آیات اور عربی عبارتوں کے اردو ترجمے پہلے موجود نہیں تھے وہاں اردو ترجمے بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔
جلد وار اہم مباحث و مضامین کی ترتیب اس طرح ہے:
جلد اول:
حسب ذیل اہم مباحث پر مشتمل ہے:
1۔ سلسلہ نسب اطہر، حضور﷤ کے آباء و اجداد کا مختصر حال
2۔ واقعہ اصحاب فیل 3۔ ولادت با سعادت
4۔ وقعہ شق صدر، حقیقت، اسرار وحکم 5۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ سے نکاح
6۔ تعمیر کعبہ اور آپﷺ کی تحکیم 7۔ بدء الوحی اور تباشیر نبوت
8۔ نبوت کی حقیقت 9۔ السابقون الاولون
10۔ اعلان دعوت اسلام 11۔ معجزہ شق القمر
12۔ ہجرت اولیٰ 13۔ عام الحزن
14۔ طائف کا سفر 15۔ واقعہ معراج
16۔ مدینہ منورہ میں اسلام کی ابتداء 17۔ ہجرت مدینہ منورہ
18۔ تحویل قبلہ کا حکم 19۔ نماز عید الفطر اور نماز عید الاضحیٰ کی ابتداء
جلد دوم:
جلد دوم کے اہم مباحث مندرجد ذیل ہیں:
1۔ جہاد فی سبیل اللہ 2۔ غزوات
3۔ سرایا 4۔ نزول برأت ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ
5۔ حجاب کا حکم 6۔ بادشاہان عالم کے نام دعوت اسلام کے خطوط
7۔ اسلام اور مسئلہ غلامی 8۔ صلح حدیبیہ
جلدسوم:
سیرۃ المصطفیٰﷺ کی سوئم اور آخری جلد حسب ذیل اہم مباحث کا احاطہ کیے ہوئے ہے:
1۔ فتح مکہ 2۔ تحریم متعہ
3۔ حضرت ابو بکر صدیق﷜ کا امیر حج مقرر ہونا۔ 4۔ حجۃ الوداع
5۔ رسول اللہﷺ کی علالت 6۔ حضرت ابو بکر صدیق﷜ کی امامت صلوٰۃ
7۔ وصال۔ نبی کریمﷺ 8۔ بیعت ابو بکر صدیق﷜
9۔ ازواج مطہرات 10۔ تشبہ بالکفار کی حقیقت
11۔ معجزات۔ دلائل نبوت 12۔ بشارت انبیاء سابقین دربارہ نبی اکرمﷺ
اس سے پہلے سیرت پر اردو زبان میں بہت سی ضخیم اور مختصر کتابیں شائع ہو چکی تھیں۔ جس پر پہلے سے تحقیق اور بلند پایہ کتب موجود ہوں اس پر مزید لکھنے کی ضرورت کیو ں محسوس کی گئی۔ اس کے بارے میں مصنف خود لکھتے ہیں:
’’اس دور میں اگرچہ سیرت نبوی پر چھوٹی اور بڑی بہت سی کتابیں لکھی گئیں اور لکھی جا رہی ہیں لیکن ان کے مؤلفین اور مصنفین زیادہ تر فلسفہ جدیدہ اور یورپ کے فلاسفروں سے اس قدر مرعوب اور خوفزدہ ہیں کہ یہ چاہتے ہیں کہ آیات اور احادیث کو توڑ موڑ کر کسی طرح فلسفہ اور سائنس کے مطابق کر دیں اور انگریزی تعلیم یافتہ نوجوانوں کو یہ باور کرا دیں کہ عباد با اللہ آنحضرت ﷺ کا کوئی فعل اور کوئی فعل مغربی تہذیب وتمدن اور موجودہ فلسفہ اور سائنس کے خلاف نہ تھا۔ (…)اس لیے اس ناچیز نے یہ ارادہ کیا کہ سیرت میں ایک ایسی کتاب لکھی جائے کہ جس میں اگر ایک طرف غیر مستند اور غیر معتبر روایات سے پرہیز کیا جائے تو دوسری طرف کسی ڈاکٹر یا فلاسفر سے گھبرا کر نہ کسی روایت کو چھپایا جائے اور نہ کسی حدیث میں ان کی خاطر سے کوئی تاویل کی جائے اور نہ راویوں پر جرح کر کے اس حدیث کو غیر معتبر بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس ناچیز کا مسلک یہ ہے جو آپ کے سامنے پیش کر دیا۔‘‘([31])
مصنف نے اپنی کتاب کا بنیادی ماخذ حدیث کو قرار دیا ہے اور کوشش کی ہے کہ سیرت کا تمام تر ذخیرہ حدیث نبویﷺ سے حاصل کیا جائے۔ مصنف نے خود یہ دعویٰ کیا ہے:
’’ اس مختصر سیرت میں صحت ماخذ اور روایت کے معتبر و مستند ہونے کا التزام کیا ہے۔‘‘([32])
سیرۃ المصطفیٰﷺ اگرچہ اردو زبان میں ہے اور اردو میں سیرت کی جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان کا اسلوب اور انداز بیان عربی میں لکھی جانے والی کتب سیرت سے بہت مختلف ہے لیکن زیر نظر کتاب کا انداز بیان اور بطور خاص طرز استدلال تقریباً وہی ہے جو عربی میں لکھی جانے والی امہات کتب سیرت کا ہے۔ خود مصنف کتاب کے مقدمہ میں کہتے ہیں:
’’ میں نے اپنی کتاب میں محدثین حضرات کے اصول اور طرز استدلال سے سرتابی نہیں کی۔‘‘([33])
مولانا نےبعض مقامات کی توضیح وتشریح بہت واضح انداز میں کی ہے۔جن کے بارے میں بعض سیرت نگار خاموش نظر آتے ہیں مثلاً شق صدر کا واقعہ جس پر کئی سیرت نگاروں کے وضاحت طلب گفتگو نہیں کی۔ مولانا ادریس کاندھلوی صاحب نے اس واقعہ کو کھول کر روایات صحیحہ کی روشنی میں بیان کیا ہے۔
نیز مولانا نے اپنی اس کتاب میں علامہ شبلی نعمانی کے بعض تسامحات کی نشاندہی بھی کی ہے اور ان تسامحات کو دور کرنے کے لئے متعدد حوالے نقل کیے ہیں۔
سیرۃ المصطفیٰﷺ کو مولانا محمد ادریس کاندھلوی صاحب نے ایک واضح نقطہ نظر سے پیش کیا اور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کے تمام حقائق و واقعات کو معتبر احادیث کی روشنی میں مرتب کیا ہے اور غیر مستند اور غیر معتبر روایات سے پرہیز کیا ہے۔
محسن انسانیتﷺ:
اس کتاب کے مصنف جناب نعیم صدیقی صاحب ہیں۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1960ء میں شائع ہوا۔ جبکہ میرے زیر نظر کتاب کا اکتیسواں ایڈیشن ہے۔ جو ستمبر 2000ء میں الفیصل ناشران وتاجران ، لاہور کے توسط سے شائع ہوا۔ اس مطبوعہ ایڈیشن میں کتاب کے صفحات کی تعداد 612 ہے۔ کتاب کا آغاز محترم مؤلف کی چند گزارشات سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ابتداء میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی﷫ کے قلم سے رقم ایک دیپاچہ اور مولانا ماہر القادری کے تحریر کردہ تقریظ بھی ہے۔
اردو زبان و ادب کے مشہور اہل قلم جناب نعیم صدیقی نے سیرت کے موضوع پر قلم اٹھایا اور ان کی اس کتاب ’ محسن انسانیت‘ کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ اس کتاب میں مصنف نے نئی اصطلاحات بھی ایجاد کیں ہیں۔ مثلاً ’معلمانہ انقلاب‘ اور ’ نظام فلاح انسانیت‘ کی اصطلاحات وغیرہ۔ اور کتاب میں خاص طرز کے عنوانات تجویز کیے جو پہلے وجود نہ رکھتے تھے۔ کتاب کی تقسیم درج ذیل پر عنوانات کی گئی ہے:
1۔ مقدمہ، پیغام، نصب العین اور تاریخی مقام
2۔ محسن انسانیتﷺ، مکی دور۔۔۔ ( مدو جزر)
3۔ محسن انسانیتﷺ مدنی دور ۔۔۔ ( تاریخ موڑ مڑتی ہے)
4۔ تلواروں کی چھاؤں میں
5۔ اور اجالا پھیلتا ہی گیا۔
صاحب کتاب اپنی گذارشات میں کہتے ہیں :
’’ میں نے اپنے بیان کردہ مقصد کے تحت واقعات کے تفصیلی تجزیوں، مقامات اور اشخاص میں اور تاریخوں کے متعلق سلف سے اب تک جاری رہنے والے اختلافات پر تحقیقی بحثیں کرنے اور ان کے متعلق حوالے جمع کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ اس بارے میں، میں نے بہ تقاضائے احتیاط کسی بھی معاملے میں ایک ترجیحی رائے کو اختیار کر لیا ہے۔‘‘([34])
کتاب میں مستشرقین و معترضین کے نبی کریمﷺ کی ذات پر کئے گئے اعتراضات کا بھی دندان شکن جواب دیا گیا ہے اور مدلل انداز میں باطل نظریات کی تردید کی گئی ہے۔
علامہ ماہر القادری اس کتاب کی تقریظ میں لکھتے ہیں:
’’نعیم صدیقی عقیدت کے اس غلو کی خرابیوں پر نگاہ رکھتے ہیں اس لیے انہوں نے سیرت مقدسہ کے واقعات کے انتخاب میں بڑی دیدہ ریزی اور احتیاط سے کام لیا ہے، انہوں نے اپنے امکان بھر پوری کوشش کی ہے کہ سچے موتیوں کے ساتھ خرف ریزے نہ آنے پائیں۔ جو واقعہ بھی ان کی کتاب میں درج ہو وہ روایت و درایت کی کسوٹی پر پورا اترتاہو۔‘‘([35])
محسن انسانیت کا اسلوب سادہ، دلکش اور طرز بیان میں سوز کا رنگ بھرا ہے اور یہ عصر حاضر کی معروف ومقبول کتب سیرت میں شمار کی جاتی ہے۔
مولانا ماہر القادری اس کتاب کی تفریظ میں لکھتے ہیں:
’’نعیم صدیقی نے کاغذ پر جو نقوش بنائے ہیں وہ ان شاء اللہ دلوں پر منتقل ہوتے چلے جائیں گے۔ اس طرح ان کا نام اور کام زندہ رہے گا۔‘‘ ([36])
رسول رحمت ﷺ ( مقالات مولانا ابو الکلام آزاد)
سیرت کی یہ کتاب مولانا ابو الکلام آزاد کے مقالات پر مبنی ہے۔ ان مقالات میں ترتیب واضافہ کا کارنامہ غلام رسول مہر صاحب نے سر انجام دیا ہے۔ مقالات سیرت پر مبنی یہ کتاب ترتیب واضافہ کے ساتھ کس سن میں شائع کی گئی اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا البتہ ان مقالات کو سب سے پہلے کتابی صورت میں مطبع شیخ غلام علی اینڈ سنز، انار کلی لاہور، نے شائع کیا۔ کتاب کے زیر نظر ایڈیشن میں صفحات کی تعداد 799 ہے۔
مولانا ابو الکلام آزاد کے یہ مقالات سب سے پہلے مولانا کے کلکتہ سے جاری ہونے والے اخبار ’ الہلال‘ ( 1912) اور ہفت روزہ ’ البلاغ‘ میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ غلام رسول مہر صاحب نے مولانا کے ان مقالات کو جمع کیا اور ان کو کتابی صورت میں ترتیب کے ساتھ رکھا اور ان کی مربوط فہرست بھی مرتب کی۔ غلام رسول مہر صاحب مولانا ابو الکلام آزاد کے ان مجموعہ مقالات کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’’ان مقالوں پر ضروری حواشی اور تمہیدی عبارتیں تحریر کر دی گئی ہیں اور مولانا کے بعض مقالات جو ضروری اضافہ کے متقاضی تھے وہاں مفصل بیان بھی جاری کیے ہیں۔‘‘ ([37])
گویا مولانا کے سیرت النبیﷺ کے موضوع پر پیش کیے گئے ان مقالات کو مرتب و منظم اور جامع و مربوط صورت میں پیش کیا گیا۔
سلطان ما محمدﷺ:
’ سلطان ما محمدﷺ‘ کا پہلا ایڈیشن 1982ء میں ادارہ مکہ بکس لاہور، سےشائع ہوا۔ کتاب یہ زیر نظر ایڈیشن مقبول اکیڈمی سرکلر روڈ، لاہور سے 1996ء میں طبع ہوا۔ سیرت طیبہ ﷺ پر لکھے کئے ان مقالات کی مرتب کتابی صورت 231 صفحات پر مشتمل ہے۔
’ سلطان ما محمدﷺ‘ عبد الماجد دریابادی کی سیرتی مقالات پر مشتمل کتاب ہے۔ یہ مقالات ’ مردوں کی مسیحائی‘ کے نام سے ادارہ اشاعت اردو، حیدر آباد دکن جناب غلام دستگیر رشید صاحب نے جنوری 1943ء میں شائع کرائے تھے۔ جنہیں حذف و اضافہ کے ساتھ سلطان ما محمدﷺ میں شائع کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا مقدمہ جناب تحسین فراقی صاحب نے نہایت لطیف انداز میں تحریر کیا ہے۔
اس کتاب کا ایک اہم ترین باب ’ سیرت نبوی اور علمائے فرنگ‘ ہے۔ اس میں ماجد صاحب نے بعض معروف مغربی سیرت نگاروں مثلاً جارج ملے، ولیم میور اور کارلائل کی تلبیات کا پردہ چاک کیا ہے۔
کتاب کے اس ایڈیشن میں مولانا ماجد دریابادی کا مضمون ’ سیرۃ النبیﷺ یا صحیفہ سلیمان‘ بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ پہلے یہ مضمون انہی کی ادارت میں نکلنے والے ہفت روزہ ’ سچ‘ میں 14 اور 21 اپریل 1933ء کےشماروں میں دو قسطوں میں شائع ہوا تھا۔
جناب تحسین فراقی صاحب اس کتاب کے اسلوب کے بارے میں لکھتے ہیں:
‏’’سلطان ما محمدﷺ‘ میں شامل سیرتی مقالات کا بڑا امتیاز اس کا منفرد اسلوب ہے جیسے اسلوب ماجدی کہا جا سکتا ہے، ان کے اسلوب تحریر میں خطیبانہ جوش موجود ہے اور جسے منطق و استدلال نے متوازن بنایا ہے۔‘‘ ([38])
بہت کم کتب سیرت میں والہیت، جذبے کا وفور، حکمت، دلیل، تجزیہ نگاری اور جلال وجمال کا رنگ نظر آتا ہے، جو اس سیرت کی مختصر کتاب میں ملتا ہے۔
مولانا عبد الماجد دریابادی کے ان مقالات سیرت کو مولانا محمد ہاشم فرنگی محلی نے نثر نعت کا نام دیا ہے۔ ([39])
٭ نقوش رسول نمبرﷺ:
’نقوش رسول نمبرﷺ‘ سیرت النبیﷺ کے موضوع پر خصوصی نمبر کی حیثیت سے 13 جلدوں میں شائع ہوا۔ ان تمام جلدوں کی اشاعت کا فریضہ ادارہ فروغ اردو لاہور نے سر انجام دیا ہے۔ نقوش رسول نمبرﷺ کی پہلی اور دوسری جلد جنوری 1982ء میں شائع ہوئی۔ تیسری اور چوتھی جلد جنوری 1983ء ، پانچویں اور چھٹی جلد دسمبر 1983ء، ساتویں اور آٹھویں، نویں اور دسویں جلد جنوری 1984ء اور اسی طرح گیارہویں ، بارہویں اور تیرہویں جلد جنوری 1985ء میں منظر عام پر آئیں۔ ’ نقوش رسول نمبرﷺ‘ کے مدیر نے سیرت کے موضوع پر وسیع مواد ان 13 جلدوں میں مرتب کر دیا ہے۔ اس میں مسلم وغیر مسلم مفکرین و علما کے سیرت کے موضوع پر لکھے گئے مقالات، ان کے تراجم پیش کیے گئے ہیں۔ نیز سیرت طیبہ کے ہر پہلو پر لکھے گئے مواد کو اس نمبر میں یکجا کر دیا گیا ہے۔
نقوش رسول ﷺنمبر، جلد1:
پہلی جلد تکنیک اور مصادر پر ہے۔
اس جلد میں سیرت نبویﷺ کا بنیادی مواد، سیرت کا دور اول اور سیرت نبویﷺ کی اولین کتابیں اور ان کے مؤلفین۔ ان موضوعات پر مقالات جمع کیے گئے ہیں۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد 2:
اس جلد میں مکہ اور مدینہ کی قدیم تاریخ پر تفصیلی مضامین ہیں۔ جو بڑی عرق ریزی سےلکھے گئے ہیں۔ اسی طرح سیرۃ النبیﷺ (سیدسلیمان ندوی) کی ساتویں جلد کے بھی تین اہم مضامین پیش کیے گئے ہیں۔
اس نمبر میں ایک اور اہم مضمون سیرۃ النبیﷺ میں توفیقی تضادات اور ان کے حل پر ہے۔ ا س نمبر میں ڈاکٹر حمید اللہ کی انگریزی کتاب ’ محمد رسول اللہﷺ‘ کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ ’ الرسالات‘ پر جو مضمون ڈاکٹر نثار احمد فاروقی نے لکھا۔
’ توحید‘ پر مولانا امین احسن اصلاحی کا مضمون اور ’ وحی‘ پر مضمون مولانا محمود حسن نے تحریر کیا۔
وہ سب مضامین اس نمبر میں شامل ہیں۔ یہ سب مضامین ایسے ہیں جو ہمیشہ مشعل راہ کا نام دیتے رہیں گے۔ یہ جلد اپنے موضوعات کے اعتبار سے بے حد اہم ہے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد 3:
اس شمارے میں قبل از بعثت سے لے کر آخری دنوں تک کے حالات، محققانہ انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ اس نمبر میں لکھنے والوں کی اہمیت سے زیادہ موضوع کو اہمیت دے کر مضامین کو ترتیب دیا گیا ہے۔ اس نمبر میں مندرجہ ذیل عنوانات قائم کر کے، ان کے تحت متعدد مضامین پیش کیے گئے ہیں۔ بڑے عنوانات درج ذیل ہیں:
1۔ عالم بشیرت۔ اسلام سے پہلے
2۔ رحمۃ للعالمینﷺ، بہ حیثیت انسان کامل
3۔ اصلاح معاشرہ
4۔ عظمت انسانی کا نقیب اول، ہمارے رسولﷺ
5۔ سیاسی نظام پر اثرات
6۔ فلاحی معاشرہ اور اقتصادی نظام
ان چھ موضوعات کے تحت 64 مضامین شائع کیے گئے ہیں۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد 4:
اس جلد میں مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت مضامین چھاپے گئے ہیں۔ مثلاً
1۔ ایک عظیم انقلاب کا بانی ورہبر
2۔ علوم انسانی کے فروغ پر ہمارے رسولﷺ کا اثر
3۔ اخلاقی اصلاح
4۔ رسول اکرمﷺ بہ حیثیت سپہ سالار
5۔ ہمارے نبیﷺ غیر کی نظر میں
6۔ متعلقات سیرت
یہ جلد بھی 750 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت اہم ہے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد 5:
اس جلد میں دو بڑے قیمتی مقالے پیش کیے جا رہے ہیں۔ موضوع ’ عہد نبویﷺ کا نظام حکومت ‘ کے تحت عہد نبویﷺ میں تنظیم ریاست ’ حکومت‘ فوجی تنظیم عہد رسالت میں، اسلامی ریاست کا شہری نظم ونسق، اسلامی ریاست کا مالی انتظام اور عہد نبویﷺ کا مذہبی نظام‘ کے ذیلی مضامین کا تفصیلاً احاطہ کیا گیا ہے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد 6:
اس شمارے میں اقوال رسولﷺ متفرق موضوعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔
ان اقوال کو درج کرنے سے پہلے علم حدیث اور تدوین حدیث پر قیمتی نوعیت کے مضامین پیش کیے گئے ہیں تاکہ یہ احتیاط کی تمام نزاکتوں کو پیش نظر رکھا جا سکے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد7:
اس جلد میں مضامین کم مگر بے حد اہم ہیں۔ پہلا مضمون ’ مکالمات رسولﷺ‘ ہے۔ ( یہ مضمون اس جذبہ کی ترجمانی کرتا ہے کہ حضورﷺ کی زبان مبارک سے جو کچھ نکلا ہو اسے نمبروں میں بھی محفوظ کیا جائے)
’دربار رسالت کے فیصلے‘ یہ مضمون بھی اسی نوعیت کا ہے۔
’کاتبان وحی‘ پر ایک تفصیلی مضمون لکھا گیا ہے، اتنی تفصیل سے ان موضوع پر مضمون اردو کی کسی سیرت کی کتاب میں نظر نہیں آتا۔ اسی طرح ’ سید الطیبات‘ پر مضمون جو حضورﷺ کی بیٹوں سے متعلق ہے، خاص تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
’عہد نبویﷺ کے سپہ سالار‘ اسی مضمون میں بحث یہ ہے کہ کن کس محاذ پر لڑا۔ اور کیا کارنامے سر انجام دیے۔
آخر میں ’ النبی الامیﷺ‘ مضمون ہے۔ اس مضمون کی اشاعت اسی نکتہ کی وضاحت کے لئے ہے کہ کون جان سکتا تھا کہ جو ایسے حکمت آمیز کلمات کہہ رہا ہے، وہ امی ہے۔ جو ایسے فیصلے دے رہا ہے وہ امی ہے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد8:
شمارے کا آغاز خطبات رسولﷺ سے ہوتا ہے۔ اس کے دو اصحاب بدر پر مضامین درج ہیں۔ اصحاب صفہ پر بھی باقاعدہ تفصیلا مضمون درج ہے۔ واقعہ ہجرت پر سیرت کی کتابوں میں بہت کم مواد ہے۔ اس موضوع کو تفصیلاً درج کیا گیا ہے۔ غرض یہ موضوع عالمگیر حیثیت کا حامل تھا جس کا حق ادا کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ کی فصاحت وبلاغت اور حضورﷺ کے جوامع الکلم پر بھی کئی قیمتی مضامین کا اضافہ کیا گیا ہے۔’ سرور کائناتﷺ‘ نازک ترین لمحات کی میزان پر‘ یہ نیا موضوع ۔ اس موضوع پر حضورﷺ کے حوصلے اور تدبر کی تفصیل دی گئی ے۔’پھر نبوت محمدیﷺ کا عقلی ثبوت ‘ پر چند مضامین اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔آخر میں ’رسول اللہﷺ مظہر ختم نبوت‘ کے عنوان سے بھی چند مضامین پیش کیے گئے ہیں۔ وہ بھی منطقی دلائل کے ساتھ، یہ موضوع سرسری نوعیت کا نہیں ہے اس لیے اس پر سیر حاصل مواد فراہم کیا گیا ہے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد9:
اس جلد میں وہ مضامین شامل ہیں جو پچھلی جلدوں سے بچھڑ گئے تھے۔ یعنی سب سے پہلے سیرت اور مطالعہ سیرت پر مضامین ہیں۔ پھر متعلقات سیرت کے تحت مضامین درج ہیں۔اس جلد کے آخر میں خلفاء راشدین پر مضامین ملیں گے۔ ان مضامین سے خلفاء کے کارناموں کی جھلک سامنے آتی ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، کہتے سنتے، رسولﷺ کی پیروی کرتے تھے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد10:
یہ پورا شمارہ نعتیہ شاعری پر ہے۔ اس میں درود وسلام، قصائد، مسدس، مخمس، مثنوی، تضمین، رباعیات و قطعات، نعتیہ نظم، آزاد نعتیہ نظم اور نعتیہ غزل کو عنوانات بنا کر تخلیقات پیش کی ہیں۔اس جلد میں مرحوم شعراء ہی کا کلام پیش کیا گیا ہے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد11:
اس شمارے میں غالب کی لکھی ہوئی بیاض جو 1857ء کی جنگ آزادی میں گم ہوئی تھی ۔ یہ بیاض دریافت ہونے پر سب سے پہلے اسی شمارے میں شائع ہوئی۔اس کے علاوہ ابن اسحاق کا اردو ترجمہ شائع کیا گیا۔ ’عہد نبویﷺ کی جنگوں اور سرایا کے اقتصادی پہلو ‘ کے عنوان پر مضامین شائع کیے گئے اس سے پہلے سیرت کے اس عنوان پر نہیں لکھا گیا اور مستشرقین نے حضور اکرمﷺ کی ذات اقدس پر کیے گئے اعتراضات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
حضور اکرمﷺ کے وقت عدلیہ اور انتظامیہ کا نظام کیا تھا۔ یہ مضمون ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کی انگریزی کتاب کا ترجمہ ہے تو ضروری اضافے کے ساتھ اس شمارے میں شامل کیا گیا ہے۔ غرض یہ جلد زیادہ تر موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد12:
یہ سیرت پر آخری جلد ہے۔ اس جلد میں شمارہ نمبر 5کے مضمون ( عہد نبویﷺ میں تنظیم ریاست وحکومت) کے حواشی پیش کیے گئے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مضمون ’سرور کائناتﷺ‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔ اس میں آپﷺ حیات مبارکہ قبل از بعثت تا آنحضورﷺ کی وفات تک کے تمام واقعات کا تذکرہ موجود ہے۔ اور اس شمارہ کےآخر میں گزشتہ تمام جلدوں کا اشاریہ بھی ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
نقوش رسولﷺ نمبر ،جلد13:
نقوش رسول ﷺ نمبر کی یہ آخری جلد خلفائے راشدین سے متعلقہ ہے۔ اس جلد میں ابو النصر کی عربی میں لکھی جانے والی خلفائے راشدین پر چار کتابوں کے ترجمے کو پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ عمر ابو النصر کی کتاب ’ خلفائے محمدﷺ‘ کا ترجمہ جناب محمد احمد نے پیش کیا ہے اور اس پر نظر ثانی حبیب اشعر دہلوی نے کی ہے اور دوسرا مضمون ’ خلفائے محمدﷺ‘ (ابو بکر﷜ اور عمر﷜) کے عہد میں عدلیہ اور انتظامیہ‘ یہ ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کا انگریزی سے ترجمہ ہے یہ دونوں مضامین آج کے ماحول میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
نقوش رسول ﷺنمبر سیرت النبیﷺ کے موضوع پر حقیقتاً بڑا اعلیٰ ذخیرہ ہے۔ گویا نقوش رسولﷺ نمبر مسلم، غیر مسلم مصنفین اور متقدمین ومتاخرین سیرت نگاروں کے مضامین ( سیرت النبیﷺ پر تحریر شدہ مضامین) کا مجموعہ بن گیا۔ جو عہد حاضر اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے سیرت النبیﷺ پر بڑا علمی سرمایہ ثابت ہو گا۔
مولانا سعید اکبر آبادی نے اس کے بارے میں لکھا:
’’اسے نمبر کیوں کہیے، یہ تو اردو زبان کی سیرت طیبہ پر انسائیکلوپیڈیا ہے۔‘‘ ([40])
٭ ضیاء النبیﷺ:
پیر محمد کرم شاہ الازہری کی تصنیف ’ ضیاء النبیﷺ‘ کا پہلا ایڈیشن ( 1948ء؍ 1420ھ) میں مطبع ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ ’ضیاء النبیﷺ‘ کل سات جلدوں پر مشتمل ہے۔
پیر محمد کرم شاہ الازہری کی ’ ضیاء النبیﷺ‘ عصر حاضر کی کتب سیرت میں نمایاں مقام ومرتبہ رکھتی ہے۔ سات جلدوں پر مشتمل اس سیرت کی کتاب میں قدیم و جدید سیرت کے تمام ماخذوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ صاحب کتاب کا انداز بیاں سادہ، منطقی اور مدلل ہے کتاب میں مغربی مفکرین کی کتب سے بھی اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے حوالے درج کیے گئے ہیں۔ گویا یہ کتاب عری، انگریزی اور اردو تینوں زبانوں میں گہری تحقیق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ضیاء النبی جلد ﷺاول:
جلد اول 525 صفحات پر مشتمل ہے۔ جلد اول میں عرب اقوام کے مذہبی، سیاسی، اخلاقی و معاشی احوال کا تجزیہ، امانت اسلام کے لئے اہل عرب کے انتخاب کی حکمت، حضورﷺ کے اسلاف کرام کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔
جلد اول کا آغاز ابتدائیہ سے ہوتا ہے، اس میں بعثت نبویﷺ کے وقت نوع انسانی کی گمراہی کی حالت زار بیان کی گئی ہے۔اس کے بعد سلطنت ایران ، سلطنت یونان، سلطنت رومہ، سلطنت مصر، سلطنت ہندوستان، کا تفصیلاً ذکر ہے۔ ان تمام سلطنتوں کے نقشے دیے گئے ہیں۔ حدود اربعہ ان کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، سماجی حالات پر تبصرہ ہے۔
اس کے بعد جزیرۃ العرب پر بحث ہے۔ جزیرۃ العرب کا نقشہ، عرب کے مشہور قبائل اورخاندان بنو ہاشم کا تذکرہ موجود ہے۔اس جلد کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے اختتام پر نبی کریمﷺ ظہور کی بشارتیں بزبان انجیل ثابت کی گئی ہیں۔
ضیاء النیﷺ جلد دوم:
دوسری جلد 610 صفحات پر محیط ہے۔
اس جلد میں ولادت باسعادت، عالم طفولیت، کسب معاش کا دور، حضرت خدیجہؓ سے عقد ازدواج، وحی، نبوت ورسالت، دعوت اسلام کا آغاز، حضور ﷺ پر ظلم وتشدد کا آغاز، ہجرت حبشہ، شعب ابی طالب میں محصوری اور واقعات معراج پر بیان ہے۔
ضیاء النبی ﷺ جلد سوم:
تیسری جلد 657 صفحات پر مشتمل ہے۔ ضیاء النبیﷺ کی جلد سوم کا آغاز یثرب کی طرف ہجرت سے ہوتا ہے۔ اولین مہاجرین، نبی ﷺ کی یثرب کی جانب ہجرت، ابتدائے سفر کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نقشہ راستہ ہجرت بھی دیا گیا ہے اور مقامات ہجرت کی تشریحات بھی کر دی گئی ہیں۔ ہجرت مدینہ کے بعد مواخات مدینہ، مدینہ کے انتظامی امور پر بحث کی گئی ہے۔ اور پھر غزوات و سرایہ کا تفصیلا بیان موجود ہے اور پانچ ہجری تک تمام واقعات اس جلد میں موجود ہیں۔
ضیاء النبیﷺ جلد چہارم:
چوتھی جلد 854 صفحات کی ہے۔جلد چہارم کا آغاز غزوہ خندق سے ہوتا ہے اور 10 ہجری تک کے تمام غزوات و سرایہ اس جلد میں تفصیلاً بیان کیے گئے ہیں۔ قبائل عرب کے وفود کی آمد پر بھی باقاعدہ باب باندھا گیا ہے اور آخر میں حجۃ الوداع کی تمام جزئیات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر نبیﷺ کے وصال، غسل مبارک، قبر مبارک، نماز جنازہ کی کیفیت اور تدفین کا بیان کیا گیا ہے۔
ضیاء النبی ﷺجلد پنجم:
یہ جلد 996 صفحات پر مشتمل ہے۔ ضیاء النبیﷺ کی پانچویں جلد آیات طیبات درثنائےمصطفیٰﷺ، سرور عالمﷺ کے فضائل وکمالات، آداب معاشرت، معجزات نبویﷺ اور فضائل درود شریف پر مبنی ہے۔
ضیاء النبی ﷺجلد ششم:
یہ جلد 648 صفحات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ جلد کا آغاز پیش لفظ سے ہوتا ہے اس کے بعد یہود ونصاریٰ کی سیاسی وسماجی حیثیت قبل از اسلام پر باب باندھا گیا ہے اور پھر عیسائی مسلم تعلقات پر صلیبی جنگوں کے اثرات کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے بعد اہل مغرب کے مشرقی علوم کی طرف رغبت کے اسباب بیان کیے گئے ہیں اور پھر تحریک استشراق ( تعریف، آغاز اور تاریخی جائزہ) پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ تحریک استشراق کی تاریخ کو چھ ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر دور کے مستشرقین اسلام کے مقاصد اور طریق کار کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ اس جلد میں مستشرقین کے قرآن حکیم پر اعتراضات، مثلاً آیات کے ناسخ ومنسوخ ہونے پر اعتراضات، قرآن حکیم کی مختلف قراءتوں پر اعتراضات، جمع تدوین قرآن اور قصہ غرانیق پر اعتراضات کا جائزہ لے کران کے قرآن وحدیث اور بائبل کی رو سے مدلل جوابات تحریر کیے گئے ہیں اور بزبان مستشرقین ہی ان کے اعتراضات کا رد پیش کیا گیا ہے۔
ضیاء النبیﷺ جلد ہفتم:
ضیاء النبیﷺ کی یہ آخری جلد 617 صفحات پر مشتمل ہے۔
جلد ہفتم میں حدیث رسولﷺ اور سیرت طیبہ پر مستشرقین کے اعتراضات و الزامات کا تذکرہ ہے اور ان کے مدلل جواب دیے گئے ہیں۔سب سے پہلے مستشرقین نے حفاظت حدیث پر جو اعتراضات کیے اور ان کے اس اعتراض کے رد میں تدوین حدیث کے تمام عہد اور کتاب حدیث کے مروجہ تمام طریقوں پر بحث کی گئی ہے اور احادیث طیبہ کے متعلق مستشرقین ہی کی مثبت آراء پیش کی گئی ہیں۔اس کے بعد نبیﷺ کے نسب پر کئے گئے اعتراضات کا رد کرنے کے لئے نبیﷺ نسل اسماعیل﷤ سے ہونا تفصیلاً بیان کر دیا گیا ہے۔نبی کریمﷺ کے سماجی مقام کو کم کرنے کے لئے آپ ﷺ پر مرگی کے مریض ہونے کا الزام، آپﷺ کے اخلاق و کردار پر حملے، تعدد ازواج پر مستشرقین کے اعتراضات اور حضورﷺ کی تمام فوجی مہموں، غزوات وسرایا پر کو نبیﷺ کی تشدد پسند کا روائیاں قرار دینے کا الزام، ان سب کی تردید کی گئی ہے اور قرآن، حدیث اور بائبل سے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ مستشرقین جن کی نبی ﷺ کے بارے میں منصفانہ رائے ہے ان کی نبیﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں آراء بھی پیش کر دی گئی ہیں اور ان معاندین اسلام کا منہ توڑ جواب پیش کیا گیا ہے۔
ضیاء النبیﷺ 1994ء میں مقابلہ کتب سیرت میں اول مقام کی حقدار قرار پائی۔ عصر حاضر کی سیرت کتب میں یہ کتاب بلند درجہ رکھتی ہے۔ صاحب کتاب نے عربی، اردو اور انگریزی زبانوں سے اچھی واقفیت کی بناء پر کتاب میں ان تمام مآخذ سے استفادہ کیا ہے۔ نیز اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی چھٹی اور ساتویں جلد باقاعدہ مستشرقین پر قرآن وسیرت پر کیے گئے اعتراضات اور اسلام، قرآن وسیرت کے دفاع میں مدلل مدافعتی طرز پر تحریر کی گئی ہے۔ یہ پیر کرم شاہ الازہری کی ایک بہترین کاوش ہے۔
عہد نبوی ﷺمیں نظام حکمرانی:
ڈاکٹر حمید اللہ کی مذکورہ معرکۃ الآراء کتاب متفرق سیرتی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1987ء میں اکیڈمک آفٹ پریس کراچی سے شائع ہوا۔ اس موجو دہ کتاب میں کل صفحات کی تعداد 298 ہے۔ یہ کتاب کل بارہ مضامین پر مشتمل ہے:
1۔ رسول اکرمﷺ کی سیرت کا مطالعہ کس لئے کیا جائے۔
2۔ شہری مملکت 3۔ دنیا کا سب سے پہلا تحریر دستور
4۔ قرآنی تصور مملکت 5۔ اسلام کا نظام عدل گیری
6۔ عہد نبوی کا نظام تعلیم 7۔ جاہلیت عرب کے معاشی نظام کا اثر
8۔ عہد نبوی کی سیاست کاری کے اصول 9۔ سیاست خارجہ کے اصول
10۔ ہجرت 11۔ نوآبادکاری
12۔ آنحضرت اور نوجوانوں سے آپﷺ کا سلوک
کتاب میں بہت مفید معلومات دنیا کے جدید معاشرتی مسائل کے حوالے سے دی گئی ہیں اور مؤلف نے ثابت کیا ہے کہ سیرت طیبہ کے پس منظر میں آج دنیا کے بڑے بڑے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔
رسول عربیﷺ اور عصر جدید:
یہ کتاب سید محمد اسماعیل نے تالیف کی۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1969ء میں شائع ہوا۔ زیر نظر کتاب کا یہ تیسرا ایڈیشن 2003ء میں احمد پبلی کیشنز کا رواہ پریس، لاہور سے شائع ہوا۔ کتاب 320 صفحات پر مشتمل ہے۔
سیرت النبیﷺ کی اس کتاب مبارکہ میں مصنف نے مغربی تہذیب، اس کے اثرات اور مغربی تہذیب کے نظریات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور تعلیم اسلام کے ساتھ اس کا موازنہ پیش کیا ہے۔
کتاب کی تقسیم ابواب کی صورت میں کی گئی ہے یہ پانچ حصوں میں منقسم ہے۔
پہلے حصہ میں علم وعمل کے بنیادی مسائل کا جائز لیا گیا ہے۔کتاب کے دوسرے حصہ میں آغاز نبوت سے ماقبل کا پس منظر اور تیسرے اور چوتھے حصہ میں اسلامی تعلیم کے نزول و نفاذ کا پس منظر پیش کیا گیا ہے۔کتاب کے پانچویں حصہ میں دانش حاضر کے تمام اہم نظریات حیات کا جائزہ لے کر اسلامی تعلیم سے ان کا موازنہ کیا گیا ہے۔نیز اسلام نے تمدنی، سیاسی اور معاشی مسائل کے کیا کیا حال پیش کیے ہیں اور وہ عصر جدید کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کر سکتے ہیں ان تمام امور پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
انسانیت کی رہبری اور جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے سیرت رسول عربیﷺ سے جو استفادہ کیا جا سکتا ہے اس حقیقت کو سمجھانے کی مخلص کوشش کی گئی ہے۔
نبی کریمﷺ کی معاشی زندگی:
یہ کتاب پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری کی تصنیف کردہ ہے۔ زیر نظر کتاب کا چوتھا ایڈیشن عتیق پبلشنگ ہاؤس ، اردو نگر ملتان روڈ، لاہور سے 2007ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب کی اول طباعت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا البتہ اس کا دوسرا ایڈیشن فروری 1990ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب 408 صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کے پہلے مطبوعہ ایڈیشنز میں مصادر و مراجع کی فہرست نہ تھی جو اس سے چوتھے ایڈیشن میں دے دی گئی ہے اس کے علاوہ ہر باب میں ضروری اضافے بھی کیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے نبی کریمﷺ کی سیرت طیبہ کے معاشی پہلو پر قلم اٹھایا ہے اور سیرت طیبہ کی نئی حیثیت پر کام کیا گیا ہے۔ یہ کتاب چھوٹے بڑے نو ابواب اور ضمیموں پر مشتمل ہے:
باب اول:’جاہلی عرب کے معاشی نظام‘ پر ہے۔ اس باب میں کوشش کی گئی ہے کہ جاہل عرب کے نظام معاشی، نظام زراعت، تجارت، صنعت وحرفت، معاشی پیشوں اور رواجوں وغیرہ کو زیر بحث لایا جائے۔ اور یہ بتانے کی بھی سعی کی گئی ہے کہ جاہلی عرب کے معاشی نظام میں کیا کیا خرابیاں تھیں۔ جن کی آپﷺ نے اصلاح فرمائی۔
باب دوم: اس میں ’ آپﷺ کی ودلات با سعادت کا آغاز نبوت‘ زندگی کے معاشی حالات و واقعات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس باب میں آپﷺ کی ولادت با سعادت کے وقت والدین کی معاشی حالت، آپﷺ کی رضاعت، کفالت، گلہ بانی، تجارتی مشاغل اور حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی دولت وغیرہا موضوعات پر لکھا گیا ہے۔
باب سوم:یہ باب ’ آپﷺ کی بعثت مبارک تا ہجرت مدینہ منورہ‘ کے معاشی حالات پر مشتمل ہے۔ اس باب میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سرداران قریش اور رؤسا طائف کے آپﷺ کی نبوت سے انکار کی معاشی وجوہ کیا تھیں؟ مکہ مکرمہ میں آپﷺ کا معاشی ذریعہ کیا تھا؟ علاوہ ازیں معراج اورسفر ہجرت کے معاشی مضامین بھی بتائے گئے ہیں۔
باب چہارم: چوتھے باب میں ’ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کی معاشی حالت‘ بیان کی گئی ہے۔
باب پنجم:اس باب میں ’ قیام مدینہ منورہ کے ابتدائی حالات‘ پر بحث ہے۔ باب میں مدینہ منورہ میں ابتدائی ایام میں آپﷺ کی معاشی زندگی، اپنے مکانات میں منتقلی کے بعد آپﷺ کا ذریعہ معاش، مواخاۃ مدینہ، مہاجرین و انصار کے معاشی فوائد، اصحاب صفہ کی کفالت وتربیت کے معاشی مضمرات، میثاق مدینہ منورہ کے معاشی پہلو وغیرہا پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔
باب ششم:اس باب میں ’ غزوات وسرایا کے معاشی پہلوؤں‘ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ باب میں غزوات و سرایا کے معاشی ثمرات مثلاً غارت گری کا خاتمہ، دشمن کی معاشی قوت کو کمزور کرنا، مال غنیمت کا حصول، غنائم کی تفصیل وغیرہا پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
باب ہفتم:کتاب کے اس باب میں ’نبی کریمﷺ کے مالیاتی نظام‘ پر تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ باب میں آپﷺ کے ذرائع آمدن، آپﷺ کی مالیاتی پالیسی، بیت المال کے اخراجات، آپﷺ کے حکومتی اخراجات اور آپﷺ کے جنگی اخراجات کے بیانات شامل ہیں۔
باب ہشتم:اس آٹھویں باب میں وقت رحلت آپﷺ کے معاشی حالات، آپﷺ کے متروکات اور ان سے متعلق چند معاشی تعلیمات بیان یک گئی ہیں۔
باب نہم:اس باب میں نبی کریمﷺ کا معاشی مسئلہ اور نورانی اخلاق کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جن کا تعلق معاشیات سے ہے۔ مثلاً آپﷺ کا زہد وقناعت، سخاوت وفیاضی، فقراء سے محبت، مہمان نوازی، حلال و حرام کی تمیز اور ادائیگی قرض کا احساس وغیرہا۔
اس کتاب میں دو ضمیمے بھی شامل ہیں۔
ضمیمہ اول:
اس ضمیمہ میں ’ زکوٰۃ کے چند اہم مسائل‘ کو شامل کیا گیا ہے۔
ضمیمہ دوم:
اس میں ’ شرکاء بدر‘ کے مبارک اسماء گرامی ذکر کیے گئے ہیں۔
اس کتاب کی تیاری میں مصنف نے جن کتب سے استفادہ کیا ان کے بارے میں مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’’اس کتاب کی تیاری میں عربی اور اردو کتب پر انحصار کیا گیا ہے۔ عربی کتب میں طبقات ابن سعد، سیرۃ ابن ہشام، امام سہیلی کی روضۃ الانف، تاریخ طبری، جلال الدین سیوطی کی الخصائص الکبریٰ، زرقانی کی مواب اللدنیہ، علامہ ابن حجر عسقلانی﷫ کی اصابہ فی معرفۃ الصحابہ اور ابن کثیر کی البدایۃ والنہایۃ اور مولانا ابو الحسن علی الندوی کی السیرۃ النبویۃ سے استفادہ کیا گیا ہے اور اردو زبان کی قاضی سلیمان کی رحمۃ للعالمین، شبلی نعمانی وسلیمان ندوی کی سیرۃ النبی، مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی سیرۃ المصطفیٰ اور مولانا سید ابو الحسن علی الندوی کی نبی رحمت بطور خاص زیر مطالعہ رہیں۔‘‘ ([41])
یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے سیرت کی کتب میں منفرد و امتیازی مقام رکھتی ہے کیونکہ اس میں نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کے معاشی معاملات کو باقی معاملات زندگی سے علیحدہ کر کے الگ ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر دیا گیا ہے۔
رسول اکرمﷺ کی حکمت انقلاب:
مؤلف سید اسعد گیلانی نے سیرۃ النبیﷺ کے موضوع پر اپنی کتاب ’ رسول اکرمﷺ کی حکمت انقلاب‘کے نام سے تصنیف کی۔ اس کتاب یہ چوتھا ایڈیشن 1995ء میں ادارہ ترجمان القرآن، لاہور نےشائع کیا۔ اس کے ابتدائی ایڈیشن کی اشاعت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کب شائع کیا گیا۔ کتاب کے صفحات کی تعداد 678 ہے۔
یہ کتاب خاص طور پر نبی کریمﷺ کے برپا کردہ نظام اسلامی کے قدم بہ قدم مراحل کو سامنے لاتی ہے اور اس کتاب میں نبی کریمﷺ کی انقلابی جدوجہد کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے۔
کتاب کی تقسیم منزلوں کی صورت میں کی گئی ہے اور کل گیارہ منزلوں میں کتاب کو منقسم کیا گیا ہے اور منزلوں کی ذیلی ابواب بندی بھی کی گئی ہے۔ منزلوں کے بعد کتاب کے آخر میں ضمیمہ جات اور تاریخی اہمیت کے حامل نقشے بھی دئیے گئے ہیں۔ تاکہ قا ری کو نبی کریمﷺ کی انقلابی حکمت عملی سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس کے بعد کتاب کے آخر میں مصادر و مراجع کی فہرست بھی مرتب کر دی گئی ہے۔ مصنف اس کتاب کی ترتیب کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’اس کتاب میں ’ واقعات سیرت‘ کو تاریخی ترتیب سے بیان کر کے سیرت نگاری نہیں کی گئی ہے بلکہ انقلاب اسلامی برپا کرنے کے لئے رسول اکرمﷺ کے طریق کار کو حکمت وتدریج وترتیب کے لحاظ سے حکمت نبویﷺ کی روشنی میں بیان کر کے سیرت نگاری کی گئی ہے۔ اس کتاب سے استفادہ کا درست منہج یہ ہے کہ حیات نبویﷺ کے واقعات کو تاریخی ترتیب سے تلاش کرنے کی بجائے سیرت کے تاریخی واقعات کو حکمت انقلاب کی ترتیب سے بطور دلیل تلاش کیا جائے۔‘‘ ([42])
حضور نبی کریمﷺ کے بعثت ونبوت کے سورج کے طلوع ہونے کے عرب جاہلی واقعات کو حکمت انقلاب برپا ہوا اسے مصنف نے نہایت خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے۔
داعی اعظمﷺ:
مؤلف محمد یوسف اصلاحی صاحب کی یہ تالیف ’ داعی اعظمﷺ‘ پہلی بار اپریل 1975ء میں ماہنامہ ’ذکریٰ ‘رام پور کے ایک خصوصی نمبر کی حیثیت سے شائع ہوئی اور جلد ہی اپنی مقبولیت کی بنا پر کتابی صورت میں شائع کی گئی۔ زیر نظر کتاب کا یہ آٹھواں ایڈیشن 1991ء میں اسلامک پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ جس میں صفحات کی تعداد 216 ہے۔
یوسف اصلاحی صاحب اپنی اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
’’داعی اعظمﷺ زمانی ترتیب کے ساتھ نبیﷺ کی زندگی پر کوئی مربوط اور مفصل تصنیف نہیں ہے بلکہ دعوت و ترتیب کے پیش نظر ایک مختصر سا مجموعہ ہے۔ نبی کریمﷺ کی جامع زندگی اور سیرت کے عظیم ذخیرے سے کچھ مؤثر، مستند اور ایمان افروز واقعات جمع کر کے سیرت رسولﷺ کے چار پہلوؤں کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔‘‘ ([43])
یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے:
پہلے باب میں ’ شان بندگی، میں نبیﷺ کے عبادت وریاضت کے ولولہ انگیز واقعات اور صبح وشام کی مختلف دعائیں جمع کی گئی ہیں۔‘
دوسرے باب ’داعیانہ تڑپ‘ میں نبی ﷺ کی پاک زندگی کے سب سے نمایاں پہلو پر گفتگو کی گئی ہے۔
تیسرےباب ’ مثالی کردار‘ میں آپﷺ کے دلآویز کردار کی کچھ ایمان افروز جھلکیاں دکھائی گئی ہیں جن سے بے پناہ جوش عمل پیدا ہوتا ہے۔
چوتھے باب ’ تعلیم وتربیت‘ میں ایسے واقعات جمع کیے گئے ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کا پیغمبرانہ انداز ترتیب کس قدر فطری مؤثر اور دلنشین تھا۔
سیرت و تفسیر کے مستند ذخیروں سے ان ابواب میں قابل اعتماد معلومات فراہم کی گئی ہیں اور نہایت سادہ زبان اور عام فہم انداز میں اس جذبے کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔
انسان کاملﷺ:
’ انسان کاملﷺ‘ ڈاکٹر خالد علوی کی تصنیف ہے۔ انسان کامل کا پہلا ایڈیشن 1974ء میں شائع ہوا۔ اس کا یہ پانچواں ایڈیشن مطبع الفیصل ناشران وتاجران اردو بازار لاہور سے 2005ء میں منظر عام پر آیا۔ کتاب کے مجموعی صفحات کی تعداد 750 ہے۔
اور اس کا یہ پانچواں ایڈیشن اس اعتبار سے بہتر ہے کہ اس میں حوالوں کو از سر نو دیکھا گیا ہے اور دو ابواب کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس ایڈیشن میں حضور اکرمﷺ کے طریق تربیت پر ایک مختصر باب ہے جبکہ آپﷺ کے اخلاق پر مفصل باب کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح پہلے ایڈیشن میں جو کمی محسوس کی گئی تھی اسے پورا کیا گیا ہے۔
مصنف اس کتاب کے اسلوب کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ موجود ایڈیشن میں حوالوں کو ہر صفحہ کے حاشیہ میں درج کیا گیا ہے۔ یہ کتاب محض رواں انداز میں نہیں لکھی گئی بلکہ جدید اسلوب تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے قدیم و جدید مآخذ سے استفادہ کو مستند طریق پر پیش کیا گیا ہے۔‘‘([44])
کتاب کی ابتداء میں دو مقدمات ہیں اور کتاب کے اختتام میں مصادر ومراجع کی طویل فہرست درج کی گئی ہے۔
جدید دور میں کتب سیرت میں یہ کتاب ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔
٭ سیرت سرور عالمﷺ:
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی﷫ کے مقالات، تحریروں اور تقریروں سے منتخب کر کے مرتب کردہ ’ سیرت سرور عالمﷺ‘ کا پہلا ایڈیشن ادارہ ترجمان القرآن، لاہور سے 1978 میں شائع ہوا۔
محترم نعیم صدیقی صاحب نے مولانا عبد الوکیل علوی صاحب کی معاونت میں اس کتاب کو مرتب کیا۔
’سیرت سرور عالمﷺ‘ کے ترتیب وتنظیم کے بارے میں نعیم صدیقی صاحب لکھتے ہیں:
’’اس کتاب کو اس طرح پر مرتب کیا گیا ہے کہ جناب موصوف کے مقالات اور مختلف عبارات کو مختلف عنوانات کے تحت ایسی شکل سے ترتیب دیا جائے کہ مضمون پوری طرح مربوط ہو اور ضروری معلومات مناسب ترتیب کے ساتھ سامنے آتی جائیں۔ تھوڑے سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاں مرتبین کو اپنی طرف سے یا کسی کتاب سے اخذ کر کے کوئی زائد عبارت شامل کرنی پڑی( اس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے)۔ حواشی دو قسم ہیں:ایک وہ جو محترم مؤلف کی اپنی ہی تحریروں پر مشتمل ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو مرتبین کی طرف سے لکھے گئے ہیں۔ ان دونوں صورتوں کو الگ الگ واضح کر دیا گیا ہے۔ ابواب اور فصول میں جو مختلف اقتباسات مؤلف کی تحریروں سے لے کر استعمال کیے گئے ہیں ان کے حوالے کتاب کے آخر میں یکجا کر دیے گئے ہیں۔‘‘ ([45])
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی﷫ خود اس کتاب کے مقدمہ میں اظہار خیال کرتے ہیں:
’’اس میں شک نہیں کہ جو کچھ اس کتاب میں درج کیا گیا ہے، میری کتابوں اور تحریروں کے ناظرین کی نگاہ سے وہ یا اس کا کم وبیش اچھا خاصا حصہ پہلے ہی گزر چکا ہے، اور پڑھی ہوئی چیزوں کو دوبارہ پڑھنا ایک حد تک آدمی کو ناگوار گزرتا ہے۔ مگر پڑھنے والے جب اس کتاب کو پڑھیں گے تو خود محسوس کریں گے کہ سیرت پاک کے متعلق جو مضامین مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے تھے، اور تیس چالیس سال کے دوران میں مختلف مواقع پر لکھے گئے تھے، وہ جہاں ان کے سامنے یکجا ایک مرتب صورت میں آ گئے ہیں، اور اس مجموعی صورت میں ان کا مطالعہ اس مطالہ کی بہ نسبت اپنا ایک جداگانہ فائدہ رکھتا ہے۔ جو متفرق صورت میں حاصل نہ ہو سکتا تھا۔‘‘ ([46])
جلد اول:
جلد اول 763 صفحات پر مشتمل ہے۔کتاب کو ابواب اور فصول میں منقسم کیا گیا ہے۔ جلد اول کے کل انیس ابواب باندھے گئے ہیں جو ذیلی فصول پر مشتمل ہیں: پہلی جلد کا تعلق بنیادی مباحث، منصب نبوت اور نظام وحی، بعثت آنحضورﷺ اور ماقبل بعثت کے ماحول اور دعوت کی مخاطب قوم اور عرب کے مختلف گروہوں کے احوال سے ہے۔
جلد دوم:
جلد دوم 763 صفحات کااحاطہ کیے ہوئے ہے۔ جلد دوم کو مولانا نے چودہ (14)ابواب میں منقسم کیا ہے۔ یعنی قرآن اپنے لانے والےکو کس حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ رسول ﷺ کا خاندان، پیدائش، سے آغاز نبوت تک، آغاز رسالت اور خفیہ دعوت کے ابتدائی تین سال، دعوت کے حق کے لئے ہدایات جو نبی کریمﷺ کو دی گئیں۔ دعوت اسلام کی حقیقی نوعیت، دعوت عام کی ابتداء، دعوت اسلامی کو روکنے کے لئے قریش کی تدبیریں، ہجرت حبشہ، اسرار معراج، مکی دور کے آخری تین سال، ہجرت مدینہ اور مکی دور پر ایک مخصوص نظر، جلد اسی پر ختم ہوتی ہے۔
اس طرح مولانا نے جلد دوم میں کچھ ایسی معلومات کو پہلی مرتبہ یکجا کیا ہے جن کو اب تک کسی سیرت نگار نے جمع نہ کیا تھا۔ مثلاً آنحضرتﷺ کی بعثت کے بعد تین سالہ خفیہ دعوت کے دور میں جن لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا تھا۔ مولانا نے ان کے نام جمع کیے ہیں اسی طرح قریش مکہ اور مشرکین جو الزامات اور اعتراضات آپﷺ کی ذات گرامی سے متعلق کرتے ہیں۔ مولانا نے ان کا مفصل طور تذکرہ کر کے ان کا جواب دیا ہے۔
مولانا نے کسی بھی واقعہ کی تحقیق اسطرح سے کی ہے کہ تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے اپنے مدلل اور پرزور دلائل سے اپنے مؤقف کو ثابت کیا ہے۔ آپ کی سیرت میں داعیانہ پہلوؤں کو مولانا نے خصوصی طور پر اجاگر کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ آنجناب ﷺ کی سب سے بڑی حیثیت ایک داعی کی ہی تھی جس نے ایک بڑے مختصر عرصے میں دنیا کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی ’سیرت سرور عالمﷺ‘ آنحضرت کی سیرت و کردار اور آپ کے ابدی پیغام کو جس خوبصورت اور عالمانہ انداز میں پیش کرتی ہے اس کی مثال دور حاضر کی کتب میں بہت کم ملتی ہے۔
سیرت رسول عربیﷺ:
’سیرت رسول عربیﷺ‘ نوربخش توکلی کی تصنیف ہے۔ کتاب کی اول طباعت اور سن اشاعت کے بارے میں کتاب کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کتاب کا یہ زیر نظر ایڈیشن 1977ء میں جنرل پرنٹر، لاہور سےشائع کیا گیا۔
کتاب کے کل صفحات کی تعداد 759 ہے۔
سیرت رسول عربیﷺ، سیرت النبیﷺ کے موضوع پر ایک نہایت مقبول ترین کتاب ہے۔ یہ مستند معلومات پر مشتمل کتاب ہے۔ اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ مسلک اہلسنت کی ترجمانی کرتی ہے۔ اور اس کا انداز بیان سادہ اور فہم ہے۔
علامہ توکلی اپنی اس سیرت کی کتاب کے حرف آغاز میں لکھتے ہیں:
’’ اس پر آشوب زمانہ میں ملک ہند میں کئی فتنے برپا ہیں، جو سب کے سب صراط مستقیم یعنی مسلک اہلسنت و جماعت سے منحرف ہیں، اردو میں سیرت پر چند کتابیں شائع ہوئی ہیں، ان میں شاید ہی کوئی بہمہ وجوہ اہل السنۃ والجماعۃ کے معیار پر پوری اترے۔ حقیر نے بتوفیق الٰہی اس کتاب میں مسلک اہلسنت کی پابندی کا پورا التزام رکھا ہے اور مستند اور معتبر روایات مع حوالہ درج کی ہیں۔‘‘ ([47])
سیرت رسول عربیﷺ ایک مقدمہ، دس ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔
مقدمہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔
پہلے حصے میں ملک عرب کا جغرافیہ بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں عرب کی قدیم تاریخ کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
پہلا باب: برکات نور محمدیﷺ
دوسرا باب: حضور سید عالمﷺ کا نسب شریف اور ولادت با سعادت سے بعثت تک کے حالات
تیسرا باب: بعثت شریفہ سے ہجرت تک
چوتھا باب: ہجرت سے وصال تک
پانچواں باب: وصال مبارک اور حلیہ مبارک
چھٹا باب: اخلاق عظیمہ
ساتواں باب : معجزات نبیﷺ پر مشتمل ہے۔
آٹھواں باب: نبی اکرمﷺ کے فضائل وخصائص، اس باب میں حضور سرور عالمﷺ کی ایک سو پچیس خصوصیات بیان کی گئی ہیں اور قرآن پاک سے پندرہ ایسی مثالیں پیش کی گئی ہیں کہ کفار نے نبی اکرمﷺ پر اعتراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا۔
نواں باب: ازواج مطہرات اور اولاد کرام
دسواں باب: امت پر آنحضرتﷺ کے حقوق سے بحث کرتا ہے۔
خاتمہ: نبیﷺ سے حیات طیبہ میں ولادت سے پہلے اور وصال شریف کے بعد دنیا و آخرت میں توسل اور استقامت کے مستحسن ہونے کا اثبات ، اس کتاب میں حواشی کا بھی التزام کیا گیا ہے اور یہ کتاب مسلک اہل سنت کی صحیح ترجمانی کرتی ہے۔
امام المجاہدینﷺ:
یہ کتاب جناب نذر الحسن نذر کی تصنیف ہے۔ جس میں نبی اکرمﷺ کی سیرت کے مجاہدانہ پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے اور بطور سپہ سالار آپﷺ کی حکمت عملی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کتاب کا یہ پہلا ایڈیشن نذر فاؤنڈیشن پنجاب سے 2008ء سےشائع ہو۔ یہ کتاب 288 صفحات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
امام المجاہدینﷺ سیرت النبیﷺ پر لکھی گئی بے شمار کتابوں میں ایک منفرد اضافہ ہے۔
’امام المجاہدین ﷺ‘ میں مدلل حوالہ جات کے ساتھ نبی پاکﷺ کی جنگی حکمت عملی ، غزوات کے دوران آپﷺ پر مصائب و آلام اور نصرت حق کے نزول کو بیان کیا گیا ہے۔
اس کتاب کی تحریر میں نذر الحسن صاحب کا انداز بیان سادہ، سلیس اور دلنشیں ہے۔ انہوں نے عرب کا محل وقوع حدود اربعہ اور خاندان قریش کا شجرہ نسب عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔
سید خورشید حسین بخاری مرحوم اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’موضوع جس قدر عظیم اور وسیع ہے، نذر الحسن نذر نے اسی قدر تحقیق کا حق ادا کیا ہے۔زبان وبیان کی سادگی اور واقعات کی درایت کو بالخصوص پیش نظر رکھا ہے کہ یہ کسی معمولی شخصیت کا تذکرہ نہیں ہے(….) اس کتاب میں کوئی واقعہ ایسا نہیں ہے، جو سند کے بغیر دیا گیا ہو۔ یا جس کی صحت مشکوک ہو (اور سیرت نگار کی یہی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے) اس طرح مصنف کے وسیع مطالعہ کا پتہ بھی چلتا ہے۔
رسول ﷺ کے مجاہدانہ کا رناموں پر اس اچھوتے اور مستند انداز میں قلم اٹھانا بھی نذر الحسن نذر کے سپاہیانہ کمال کی جدت ہی کہی جا سکتی ہے۔‘‘ ([48])
گویا نبی ﷺ کی جنگی اور مجاہدانہ زندگی جو کمالات صفحہ قرطاس پر بکھرے ہوئے ہیں نذر الحسن نذر صاحب نے ان کے ایک ایک گوشہ کو جامع انداز میں نمایاں کیا ہے۔
اردو کتب سیرت کے وسیع سمندر میں سے یہ صرف ان چند کتب کا تعارف ہے جنہوں نے سیرت نگاری کے میدان میں بے پناہ شہرت ومقبولیت حاصل کی اور اپنے دلکش انداز بیان، منفرد اسلوب اور اپنی اہمیت وافادیت کے پیش نظر تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔

([1]) Margoliouth, Muhammad and the rise of Islam, Newyark, 1929, p iii
([2]) صدیقی، محمد میاں، ڈاکٹر، اردو زبان میں چند اہم کتب سیرت، سہ ماہی فکر ونظر، جولائی،دسمبر، 1992ء، ج 30، ش 1۔2، ص 225
([3]) کاکوروی، عنایت احمد، مفتی، تواریح حبیب الٰہ ، کتب خانہ رحیمیہ دلانیہ، 1950ء: ص2
([4]) تواریخ حبیب الٰہﷺ: ص 170۔176
([5]) ایضا: ص 1۔2
([6]) تواریخ حبیب الٰہﷺ: ص 120
([7]) احمد خان، سر سید، الخطبات الاحمدیہﷺ،شفیع سجاد آرٹ پریس ، لاہور، 1988ء: ص 120
([8]) پانی پتی، محمد اسماعیل، مقالات سر سید ، مجلس ترقی ادب، لاہور، 1976ء: 11؍ 27
([9]) الخطبات الاحمدیہ: ص 382
([10]) صدیقی، محمد میاں، ڈاکٹر، اردو زبان میں چند اہم کتب سیرت، سہ ماہی فکر ونظر، جولائی ۔ دسمبر، 1992ء،ج 30، شمارہ 1۔2: ص 81
([11]) تھانوی، اشرف علی، مولانا، نشر الطیب، مکتبہ حمیدیہ صدر بازار، راولپنڈی، س ن : ص 2
([12]) نشر الطیب: ص 4
([13]) صدیقی، محمد میاں، ڈاکٹر، اردو زبان میں چند اہم کتب سیرت، ’سہ ماہی‘’فکر ونظر‘، جولائی۔ دسمبر، 1992ء، ج 30، ش 1۔2: ص 309
([14]) منصور پوری، قاضی سلیمان، رحمۃ للعالمینﷺ، اسلامی کتب خانہ، اردو بازار، لاہور، س ن: 3؍ 8
([15]) رحمۃ للعالمین: 1؍ 6، (مقدمہ)
([16]) صدیقی، محمد میاں، ڈاکٹر، اردو زبان میں چند معروف کتب سیرت، سہ ماہی ’ فکر ونظر‘جولائی ۔ دسمبر، 1992ء ،ج 30، شمارہ 1۔2:ص 287
([17]) رحمۃ للعالمین: 3؍ 8۔9 ، (مقدمہ)
([18]) ایضا: 1؍ 39
([19]) شیخ محمد اکرام، یادگار شبلی، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء: ص 436
([20]) ایضاً
([21]) ندوی، سید، سلیمان، حیات شبلی، دار المصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، 2008ء: ص 554
([22]) اردو نثر میں سیرت رسولﷺ: ص 597
([23]) ندوی، سید سلیمان، خطبات مدراس ( دیپاچہ)، رضا پریس، لاہور، 1936 : ص6
([24]) صباح الدین عبد الرحمٰن، سید، مولانا سید سلیمان ندوی کی تصانیف ( ایک مطالعہ) ، دار المصنفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، 1988ء: 1؍ 246
([25]) دانا پوری، عبد الرؤف، مولانا، اصح السیر، مجلس نشریات اسلام، کراچی، 1982ء: ص 4، ( تعارفی کلمات)
([26]) ایضاً: ص 4
([27]) اصح السیر: ص 5
([28]) گیلانی، مناظر احسن، سید، النبی الخاتمﷺ، زاہد بشیر پرنٹنگ پریس ، لاہور، 1995ء: ص 10 ( تعارف)
([29]) پھلواری، شاہ محمد جعفر، مولانا، پیغمبر انسانیتﷺ: ص 15 ( مقدمہ)، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1953ء
([30]) پیغمبر انسانیتﷺ: ص 115
([31]) کاندھلوی، محمد ادریس، مولانا، سیرۃ المصطفیٰﷺ، مکتبہ عثمانیہ، لاہور، 1979ء: 1؍ 9۔11
([32]) ایضا: 1؍ 8
([33]) ایضاً: 1؍9
([34]) صدیقی، نعیم، محسن انسانیتﷺ، الفیصل ناشران وتاجران کتب اردو بازار، لاہور، 2000ء: ص 23
([35]) محسن انسانیتﷺ: ص 29
([36]) محسن انسانیتﷺ: ص 29
([37]) مہر غلام رسول (مرتبہ) رسول رحمتﷺ ( مقالات مولانا ابو الکلام آزاد)، شیخ غلام علی اینڈ سنز، انار کلی، لاہور، س ن: ص 6 (مقدمہ)
([38]) دریابادی، عبد الماجد، سلطان ما محمدﷺ، مقبول اکیڈمی، سرکلر روڈ، لاہور، 1996ء: ص 8 ( مقدمہ)
([39]) ایضاً: ص 9 ( مقدمہ)
([40]) مدیر محمد طفیل، نقوش رسول ﷺنمبر، ادارہ فروغ اردو، لاہور، دسمبر 1983ء، 5؍ 6
([41]) غفاری، نور محمد، ڈاکٹر، نبی کریمﷺ کی معاشی زندگی، عتیق پبلیشنگ ہاؤس، اردو نگر ملتان روڈ لاہور، 2007ء: ص 4 ( مقدمہ)
([42]) گیلانی، سید اسعد، رسول اکرمﷺ کی حکمت انقلاب، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، 1995ء: ص 3 ( مقدمہ)
([43]) اصلاحی، محمد یوسف، داعی اعظمﷺ، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، 1991ء: ص 4
([44]) علوی، خالد، ڈاکٹر، انسان کاملﷺ، الفیصل ناشران وتاجران ، اردو بازار، لاہور، 2005ء: ص 6
([45]) مودودی، ابو الاعلیٰ، سید، سیرت سرور عالمﷺ، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، 1980ء: 1؍ 11، ( دیباچہ)
([46]) ایضاً: 1؍ 36۔37 ( مقدمہ)
([47]) نوربخش توکلی، علامہ پروفیسر، سیرت رسول عربیﷺ، جنرل پرنٹرز بیکن روڈ، لاہور، 1997ء: ص 3 ( حروف آغاز)
([48]) نذر الحسن نذر، امام المجاہدین، نذر فاؤنڈیشن، پنجاب، 2008ء: ص 17 ( تقریظ)

Hits: 13

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں