4

کیا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کا ابھی وقت نہیں آیا ؟- ڈاکٹر عظیم ابراہیم

اسد رجیم بظاہر اس حقیقت کے ادراک میں کوشاں ہے کہ روس کی فضائی مدد اور ایرانی ملیشیاؤں کی مدد کے باوجود ایسی آبادی کے خلاف واضح فوجی فتح شاید ممکن نہ ہو جو مصائب اور مشکلات تو جھیلنے کو تیار ہے مگر وہ ایسے شام کی خواہاں ہے جو بعثی نظام کے بغیر ہو۔

مکمل فوجی فتح نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد بشارالاسد بظاہر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ صرف ایک ہی طریقے سے تمام شام پر مکمل کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں اور وہ یہ کہ آبادی کے تمام طبقات یہ یقین کرنا شروع ہوجائیں کہ جنگ کی لاگت بہت زیادہ ہوچکی ہے اوران کے لیے صرف ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

چنانچہ ہتھیار ڈالنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے لوگوں کو مکمل طور پر اور مسلسل دہشت زدہ کیا جارہا ہے ۔اس مقصد کے لیے سیرین گیس کے سوا دہشت زدہ کرنے والی کوئی اور بڑی چیز کیا ہوسکتی ہے؟اس لیے کیمیائی ہتھیاروں اور ممکنہ طور پر اعصابی ایجنٹوں کے استعمال کا فیصلہ صرف میدان جنگ کا ایک حربی فیصلہ نہیں جس سے مزید علاقے حاصل ہوئے ہیں بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا تزویراتی فیصلہ بھی ہے۔اس کا مقصد محض بڑی تعداد میں لوگوں کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ انتہا ئی سفاکانہ انداز میں قتل کرنا ہے تاکہ دوسرے شامی اس سے سبق سیکھیں کہ انھیں کیا توقع کرنی چاہیے ۔

اعصابی گیس سے متاثرہ افراد اپنے جسمانی اعضاء پر کنٹرول کھو بیٹھتے ہیں،ان کے مُنھ سے جھاگ بہنا شروع ہوجاتاہے۔وہ قے کرنے لگتے ہیں اور بو ل وبراز پر ان کا اختیار نہیں رہتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شامی اپنے پیاروں کو اپنے سامنے آہستہ آہستہ وقار سے محروم ہوتے دیکھتے ہیں اور پھر وہ اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ
شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کو یقین ہے کہ بشارالاسد نے ایسے کیمیائی ہتھیاروں کو کم سے کم چھے مرتبہ استعمال کیا ہے۔تاہم بعض غیر سرکاری تنظیمیں ان حملوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتاتی ہیں ۔

بشارالاسد نے اپنے کیماسئی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ نہیں کیا تھا جیسا کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے اپنا یہ مشہور عالم دعویٰ کیاتھا کہ واشنگٹن کی کھیل کتاب کی پیروی نہ کرنے کے باوجود نمایاں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔انھوں نے سرخ لکیر پاٹنے کے باوجود شام کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

اس لیے یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ بشار الاسد خود کو محفوظ اور مصئون سمجھتے ہیں۔روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کو کسی سزا سے بچانے کے لیے بارہ مرتبہ قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔اس نے چار مرتبہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کو روکنے کے لیے قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔ایک مرتبہ اس نے شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی سے متعلق قرارداد کو مسترد کردیا تھا۔

اب ہمیں ایک ایسی صورت حال کا سامنا ہے جہاں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو معمول قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس تمام عمل کا بنیادی سبق یہ ہے کہ اگر آپ کو ویٹو طاقت کے حامل کسی ملک کی سرپرستی حاصل ہے تو پھر آپ کے خلاف کوئی بین الاقوامی مضمرات نہیں ہوسکتے۔

یہ بہت آسان ہے کہ حقائق کے توڑ کے لیے دلائل دیے جائیں لیکن ایسی صورت حال سے مکمل طور پر بچا جاسکتا تھا۔میں نے 2013ء میں امریکی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ جنرل سے گفتگو کی تھی۔انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ امریکا بشارالاسد کی تمام فضائی قوت کو صرف ایک دن میں تباہ کرسکتا ہے۔وہ بیرل بموں کے حملوں کو رکوانے کے لیے فوری طور پر ایک نو فلائی زون قائم کرسکتا ہے۔تب شامی شہریوں کو بیرل بموں سے موت کی نیند سلایا جارہا تھا۔

محفوظ علاقہ
ترکی اور شام کے درمیان سرحد پر ایک محفوظ علاقہ قائم کیا جاسکتا تھا اور اس سے شامی مہاجرین کی ہزاروں کی تعداد میں یورپ کی جانب نقل مکانی کو روکا جاسکتا تھا۔

روس اور ایران کے شامی بحران میں داخلے سے قبل بشارالاسد کی سفاکیت کے جواب میں ایک مضبوط فوجی کارروائی کی جاتی تو انھیں مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جاسکتا تھا۔بالخصوص ا س وقت جب بہت سے اندرونی حلقوں کے نزدیک اسد رجیم چند ہفتے کا مہمان تھا اور اس کا دھڑن تختہ ہونے والا تھا۔

انھیں جنیوا امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور کیا جاسکتا تھا۔حتیٰ کہ ان پر اقتدار سے سبکدوش ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکتا تھا۔انھیں بوسنیا کے طرز پر ایک وفاقی نظام قبول کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا تھا جس کے بعد وہ باوقار انداز میں ریٹائرمنٹ قبول کرلیتے اور پھر اپنے آبائی صوبے للذاقیہ میں جا مقیم ہوتے۔

یہ کوئی آئیڈیل تو نہیں لیکن انصاف کے بغیر یقینی طور پر کوئی امن نہیں ہوسکتا مگر تنازع کے خاتمے کے لیے تمام فریقوں کو کچھ ناپسندیدہ سمجھوتے کرنا ہوں گے ۔ بدقسمتی سے اس وقت کوئی بھی اچھا آپشن موجود نہیں ہے۔اب کسی بھی فوجی کارروائی کا پوتین کی مساوات کے ساتھ اندازہ کرنا ہوگا۔

اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ ولادی میر پوتین بشارالاسد کے لیے امریکا کے ساتھ جنگ کا خطرہ مول لیں گے لیکن اس کے باوجو د ایک فیصلہ کن اور واضح اشارہ دینے کی ضرورت ہے کہ اب کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا اور اس کو چیلنج کیا جائے گا۔
بشكریہ العربیہ

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں