23

اللہ کی طرف آئیے!مترجم: عاطف الیاس

خطبہ حرم مکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن بن عبد العزیز السدیس
جمۃ المبارک 27 رجب 1439 ھ بمطابق 13 اپریل 2018
عنوان: اللہ کی طرف آئیے!

پہلا خطبہ:
یقینا ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ اے ہمارے پروردگار! ہم تیری ثنا بیان کرتے ہیں، تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، تجھ ہی سے معافی مانگتے ہیں اور تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، کیونکہ ساری مخلوقات اسی کی ربوبیت کا اقرار کرتی ہیں اور ساری ایجادات اسی کی الوہیت کی قائل ہیں۔
ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے! وہی کرم نوازی کرنے والا اور احسان والا معاملہ کرنے والا ہے۔ وہ اپنی حکمت اور مرضی کے مطابق اپنے بندوں پر نعمتیں نازل کرتا رہتا ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کے حکم سے زمین و آسمان بنے ہیں اور اس کی توحید کے لئے ساری مخلوقات بنائی گئی ہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کی شریعت کو تمام شریعتوں پر غالب کیا ہے اور آپ کی سیرت اور طور طریقے سے اخلاق کو کامل کیا ہے۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے دلیر اور ثابت قدم جنگجو صحابہ کرام پر، تابعین عظام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعد ازاں !
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! فرمان الٰہی ہے:
’’جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔‘‘ (الطلاق: 5)
اللہ آپ پر رحم فرمائے! اللہ رب العالمین سے ڈرتے رہو، کیونکہ خوف خدا ہی میں دنیا وآخرت کی عزت ہے اور سرفرازی ہے۔ اسی پر قائم رہو اور اس سے ہٹنے سے بچو۔ ایسا کرو گے تو خواہشات حاصل کر لو گے اور خوابیں پوری ہو جائیں گی۔
اے مسلمانو!
جو دنیا کے احوال پر غور وفکر کرتا اور سوچ بچار کرتا ہے اور جو زندگی کے حالات اور واقعات پر نظر دوڑاتا ہے، اسے حیرت اور پریشانی آ لیتی ہے۔ اسے ایسی ایسی چیزیں نظر آتی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دنیا آج جنگوں، اضطراب اور بے چینی کی حالت میں ہے۔ روحانیت ختم ہو چکی ہے اور مال ودولت کی فکر لوگوں کی سوچ پر غالب آ گئی ہے۔ مادیت پرستی سے دین کے اصولوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، آئے روز مال ودولت کی محبت کی وجہ سے اسلام کے بنیادی افکار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، دلوں میں وسوسے آتے جا رہے ہیں اور دنیا پرست لوگوں کے ہر نعرے کے پیچھے کوئی نہ کوئی پوشیدہ مقصد ضرور ہوتا ہے۔
مادیت پرستی کے نام لیوا بہت سے جھنڈے اور شعار اٹھائے پھرتے ہیں۔ یہ شعار در حقیقت کفر کے جھنڈے ہیں۔ اس کے علمبرداروں نے رب ذوالجلال کے وجود کے بارے میں بھی لوگوں کو شک میں ڈال دیا ہے پھر اس کی عبادت اور توحید کے معاملے میں بھی شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔
کیا کوئی سوچ سکتا تھا کیا کہ یہ بلا اتنی عام ہو جائے گی کہ اسلامی ممالک میں سے بھی توحید اور وحدانیت کو چھوڑ کر بے دینی اور دہریت پسندی کی طرف بلانے والوں کی آوازیں آنے لگیں گی؟!
یہ سب اس دور میں ہو رہا ہے کہ جب حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور لڑائیاں جنم لے رہی ہیں، لوگ اپنے دین کو بیچنے کا کاروبار کر رہے ہیں اور اس کاروبار کو فروغ دینے کے لیے سیاسی اور جماعتی نعروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو اور اہل اسلام کی عقلوں کو مبالغہ آرائی اور آزادی کا شکار کر دیا جائے، اعتدال سے ہٹا دیا جائے اور انتہا پسندی اور بے دینی کی طرف دھکیل دیا جائے۔
اسی طرح عورتوں، بچوں اور بے سہارا کمزور شہریوں پر انسانیت کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے دل دہلا دینے والے مناظر میں کیمیائی اسلحے سے بمباری کی جارہی ہے، دوسری طرف یہودی غاصب مقدسات اسلامیہ پر حملے کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی امن وسلامتی کو فروغ دینا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ ایک سے ایک بڑھ کر سانحہ نظر آرہا ہے اور ظلم و زیادتی کی انتہا دکھائی دے رہی ہے۔
اس دور میں کہ جب علم نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کے مزید دلائل فراہم کرسکتا ہے، ہم ان چیخوں کو اور درد کی داستانوں کو سننے میں مصروف ہیں کہ جو مت اسلامیہ کے جسم کو چیزر پھاڑ رہی ہیں اور اس کی وحدت کو پاش پاش کر رہی ہیں۔
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! ان ساری چیزوں کو دیکھ کر ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اس وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لوٹنا بہت لازمی اور انتہائی ضروری ہے۔
اے ہمارے پروردگار! اے ہمارے پروردگار! اے اللہ! اے اللہ! فرمان الہی ہے:
’’تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں‘‘(الذاریات 50)
یقین جانیے کہ لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ سے لمحہ بھر کے لیے یا اس سے کم وقت کے لئے ہے بھی بے نیاز نہیں ہو سکتے۔
اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
یہ بات تو طے ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ تو کیا اللہ تبارک و تعالیٰ کو جانے بغیر اس کی عبادت کی جاسکتی ہے؟! یا عبادت سے پہلے یہ لازمی ہے کہ اللہ کو پہچانا جائے، تاکہ وہ عظیم حکمت پوری ہو سکے جس کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو وجود بخشا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتیں انسان پر بے شمار ہیں اور اس کی کرم نوازیاں اَن ِگنت ہیں، اگر پھر بھی انسان اپنے پروردگار سے نا آشنا رہے اور اس کے اسماء و صفات سے بے علم رہے تو اس سے بڑھ کر اس کی بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے؟ جتنا انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کو پہچانے گا، اتنا ہی اس کا ایمان پختہ اور یقین مضبوط ہو جائے گا-علامہ ابن قیم علیہ رحمۃ اللہ بیان کرتے ہیں: ہر علم کو جاننے کا دروازہ االلہ تبارک وتعالیٰ کو جاننا ہے۔ابو القاسم اصبہانی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ناموں اور اس کی صفات کو اچھی طرح جان لیں تاکہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تعظیم اس طرح کر سکیں جس طرح تعظیم کرنے کا حق ہے۔
اکیلے اللہ کے لیے ایک ہی راستے پر چلیے۔ میرا مطلب ہے حق اور ایمان کے راستے پر چلیے۔
اے مسلمانو!
اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کی مخلوقات میں نظر آتی ہے! ہر شاندار مخلوق اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت بیان کر رہی ہے۔ آسمان اور اسکی کنجیاں اللہ کے لیے تسبیح کرتی ہیں۔ ستارے اور ستاروں کے راستے، زمین اور زمین میں رہنے والے، سمندر اور سمندر میں رہنے والے جانور، پہاڑ، درخت، تمام جاندار، صحرا اور اس کی ریت، ہر گیلی اور سوکھی چیز اور ہر زندہ اور مردہ چیز اللہ تعالیٰ کے لیے تسبیح کر رہی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔‘‘(الاسراء: 44)
یہی ہے اللہ! جلالت اور عظمت والا۔ اسی کے نام پاکیزہ ہیں! اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ہے۔
وہی قابل تعریف ہے کہ جسکی تسبیح ہر وقت کی جاتی ہے اور اس طرح کسی اور کی تسبیح نہیں کی جاتی۔
وہی قابل تعریف ہے کہ جس کے علم کی کوئی حد نہیں ہے۔ ہر راز اس کے ہاں بالکل کھلا ہے۔
اے مومنو!
اللہ تعالیٰ کی مخلوقات پر غور کرو! ان میں اپنی نظر دوڑاؤ۔ ہم اللہ کے وجود کے دلائل کو شمار بھی نہیں کر سکتے۔ آسمانوں اور ان کی ہیبت کی طرف دیکھیے۔ ستاروں کے دل کش منظر کی طرف دیکھئے۔ سورج اور اس کی خوبصورتی کو دیکھیے، تاروں اور ان کے حسن وجمال کو دیکھیے ، بدر اور اس کے نور کو دیکھیے فضا اور اس کی وسعت کو دیکھیے۔
ادھر بادل، بارش کا پانی اٹھائے چلے آرہے ہیں، ادھر سمندر موجوں سے بھرے ہیں، بارشوں پر بارشیں آ رہی ہیں، بارشوں کا پاکیزہ پانی پانی نہرو کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں کو دیکھیے، یہ فلک شگاف چوٹیاں کتنی بلند ہیں، کتنی مضبوط ہیں جو نسل در نسل ویسے ہی قائم رہتی ہیں۔ وہی قابل تعریف ہے، ہمارا پروردگار جو انتہائی بلند ہے۔ ستارے اور سیارے اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہیں، فضا میں اپنے مدار میں گھوم ہیں، ہر سیارے کا ایک راستہ مقرر ہے جس میں وہ بڑے نظام کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہو گا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔‘‘(النمل: 88)
اسی طرح فرمایا:
’’کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟‘‘(النمل: 60)
اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے!
وہ بہترین خالق ہے جس نے ہر چیز کو بہترین شکل دی ہے اور ہر شے کو خوب بنایا ہے۔ سارا جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کے دلائل پیش کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت دکھا رہا ہے-
اللہ کی نعمتوں کے شکر سے مصروف رہنے والے سے ایک نہ ایک دن یہ نعمتیں چھن جائیں گی اور پھر وہ انہیں روئے گا۔ اور اللہ کی نعمتوں کا ہمیشہ شکر ادا کرنے والے کا شکر اللہ تعالیٰ بھی ادا کرے گا اور نعمتیں اس پر باقی رکھے گا۔
اے ایمانی بھائیو!
علم کے سب سے پاکیزہ حصے کے سامنے علم کے تمام حصلے چھوٹے اوربے قیمت لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق بتانے والا علم اشرف ترین علم ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا:
’’پس اے نبیؐ، خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔‘‘(محمد: 19)
امام طبری علیہ رحمۃ اللہ بیان کرتے ہیں: اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے محمد! جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی ایسا معبود نہیں ہے کہ جو الوہیت کا مستحق ہو، جس کی عبادت آپ کے لئے اور دیگر مخلوقات کے لیے جائز ہو، جو ہر چیز کا مالک ہو اور جس کے محت ہر چیز ہو۔
ایسا تو صرف اللہ ہی ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔
بہترین علم اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق بتانے والا علم ہے! جو اللہ کے اسماء و صفات او جلالت وکمال والی صفات پر مشتمل ہے۔ علم کی فضیلت اتنی ہی ہوتی ہے جتنی فضیلت اس چیز کی ہوتی ہے کہ جس کے متعلق وہ علم بتاتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے متعلق بتانے والا علم تمام علوم سے زیادہ افضل ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے (اس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پوری زمین اُس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔‘‘(الزمر: 67)
اے ہمارے پروردگار! تو انتہائی پاکیزہ ہے! ہم نے کما حقہ تیری عبادت نہیں کی اور کما حقہٗ قدر بھی نہیں کی۔
کائنات کی کہانی پر غور کیجئے، کیوںکہ یہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتی ہے۔ اگر آپ کائنات کہانی پر غور کریں تو آپ ان میں ضرور یہ لکھا پائیں کہ جس چیز میں اللہ کا ذکر شامل نہ ہو وہ چیز باطل ہے۔
سلف صالحین نے اللہ تعالی کی مختلف نشانیوں پر طویل غور اور تدبر کیا ہے۔ ان پر اس طرح تدبر کیا ہے جس طرح تدبر کرنے کا حق ہے۔ پھر انہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کے نتیجے میں انہیں وہ چیزیں میسر آگئیں جن سے دوسرے محروم رہ گئے۔ یعنی ان میں تقوی، خشوع، انکساری اور توبہ کی توفیق مل اور عاجزی آ گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حق پر یعنی توحید پر بہت زور دیتے تھے اور شرک کو انتہائی ناپسند کرتے تھے۔
یہ ہیں ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وہ شخصیت جو کہ انتہائی نرم اور بہت رونے والی تھی، انہوں نے اپنی نمازوں اور روزوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ایمان اور تصدیق کی وجہ سے ساری امت کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ایمان وہ چیز ہے جس کی جگہ انسان کا دل ہوتا ہے۔
اور یہ ہیں عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اتنا روتے تھے کہ ان کے چہرے پر آنسوؤں کی دو لائنیں مستقل طور پر پڑ گئیں۔
اور یہ ہیں محارب بن دِثار تابعی۔ جب رات اندھیری ہو جاتی اور لوگ سو جاتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو جاتے اور کہتے: اے اللہ! اے اللہ! میں وہ چھوٹا ہوں جسے تو نے پالا ہے! ساری تعریف کے لئے ہی ہے! میں وہ کمزور ہوں جیسے تو نے طاقت بخشی ہے! ساری تعریف تیرے لیے ہی ہے! میں وہ فقیر ہوں جسے تو نے بے نیاز کیا ہے! ساری تعریف تیرے لیے ہی ہے! میں وہ مانگنے والا ہوں جسے تو نے دیا ہے! تو ساری تعریف تیرے لیے ہی ہے۔ میں وہ بیمار ہوں کہ جسے تو نے شفا عطا فرمائی ہے! تو ساری تعریف تیرے لیے ہی ہے! میں وہ دعا کرنے والا ہوں جس کی دعا تو نے سنی ہے! تو ساری تعریف تیرے لیے ہی ہے۔
اے ہمارے پروردگار! تیرے لیے بے انتہا تعریف ہے کیونکہ تو نے ہمیں اپنی تعریف کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ میرا دل اور میری جان اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ زندگی میں اللہ ہی میرا مددگار ہے۔
تو ہی حمدوثناء کے لائق ہے! مجھے وہ بہترین الفاظ ثنا سجھا کہ جو تیرے لائق ہوں۔
مجھے ثنا کی توفیق مل جائے تو یہ توفیق بھی تری ہی ایک نعمت ہے۔ تیری نعمتیں بے شمار اور ان گنت ہیں۔ فرمان الہی ہے:
’’یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔‘‘(الانعام: 102)
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ اور اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرو۔ دین کو اس کے لئے خالص کر لو۔ اسی سے نصرت، عزت اور غلبے کا سوال کرو۔ ایسا کرو گے تو دنیا و آخرت میں کامیابی پاؤ گے۔
فرمان باری تعالی ہے:
’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔‘‘ (الانعام: 162۔ 163)
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت میں برکت عطا فرمائے! آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ عظیم وجلیل سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لئے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو! یقینا! میرا رب رحم کرنے والا اور انتہائی نرم ہے۔
دوسرا خطبہ!
الحمد للہ! وہی تمام صفاتِ کمال سے متصف ہے! وہی اپنے بندوں کو ربوبیت کے دلائل دکھانے والا ہے۔ میں درود و سلام بھیجتا ہوں اللہ کے بندے اور رسول، ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ﷺ پر، آپ کے اہل بیت اور صحابہ کرام پر اور قیامت تک اور کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعد ازاں! اے اللہ کے بندو!
اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ جان رکھو کہ سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں سب سے برے کام ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ مسلمانوں کی جماعت سے جڑے رہو کیونکہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور جو جماعت کو چھوڑتا ہے وہ آگ میں جا گرتا ہے۔
ایمانی بھائیو!
یہ بات طے شدہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے اور تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کی بہترین عبادت گزار اور تعظیم کرنے والے تھے۔ آپ کی زندگی بہترین اور پاکیزہ ترین زندگی تھی۔ وہ سچائی، پاکیزگی اور عزت سے بھری تھے۔ اس میں نفس کی عظمت، روح کی بلندی اور تمام فضائل نظر آتے ہیں۔
آپ ﷺ شکل وصورت اور اخلاق، دونوں لحاظ سے کامل تھے۔ آپ کے فضائل گننا ممکن نہیں ہے۔ خدا کی قسم! آج تک ان نہ آپ جیسی کسی شخصیت نے زمین پر قدم نہیں رکھا اور نہ قیامت تک ان جیسا کوئی آئے گا۔
محمد ﷺ پر میرے ماں اور باپ قربان ہوں۔
اے امت اسلام! اے دو جہانوں کے سردار کے پیروکارو!
ہمارے لئے نبی اکرم ﷺ کی راہ پر چلنا، ان کی اقتداء کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ ان کی پیروی کو اپنی شریعت اور منہج بنا لیجیے، اپنی بیماریوں کا علاج بنا لیجیے، اپنی زندگی کے لیے شمعۂ ہدایت بنا لیجیے، تاکہ ہم بلند ترین منزلوں تک پہنچ سکیں اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
اسلام کی کمزوری کے زمانے میں کہ جب بڑے بڑے فتنے برپا ہو رہے ہیں اور لوگ خرافات میں پڑ گئے ہیں اور ایجاد کرد عبادات کا دور دورہ ہے اور دین میں ایسی چیزیں شامل کردی گئی ہیں کہ جو سلف صالحین کے زمانے میں نہیں تھیں، بہت سے شعار اور علم بلند ہوگئے ہیں، مختلف فرقے اور جماعتیں وجود میں آ گئی ہیں اور ہم بد ترین الیکٹرانک حملوں کا شکار ہیں، اس دور میں ہمیں چاہیے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی ہدایات پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اے نبیؐ! لوگوں سے کہہ دو کہ، اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میر ی پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ اُن سے کہو کہ “اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو” پھر تم اگر وہ تمہاری دعوت قبول نہ کریں، تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے، جو اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں۔‘‘(آل عمران: 31۔ 32)
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
جو کوئی ایسا عمل کرتا ہے جو ہمارے اس طریقے کے مطابق نہیں ہوتا تو اس کا وہ عمل اس پر مردود کر دیا جاتا۔ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کی ہے۔
تو پیروی اختیار کرو! پیروی اختیار کرو! نافرمانی اور بدعت سے بچے رہو۔
اے نجات کے طالب! نصیحت کرنے والے کی بات سن لے! اپنے سارے معاملات میں ادھر ادھر کی باتیں چھوڑ کر وحی پر قائم ہو جا۔ کتاب اللہ پر اور ان سنتوں پر قائم رہ کہ جو نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہیں۔
رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام ہو اور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔
یہ بھی جان رکھو کہ اتباع نبی ﷺ کی ایک بہترین شکل یہ ہے کہ آپ پر کثرت سے درود و سلام بھیجا جائے۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے اس طرح نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجتے رہا کرو۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب: 56)
نبی اکرم ﷺ پر درود و سلام بھیجو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ اور کثرت سے درود و سلام بھیجو تاکہ جنت الفردوس میں جگہ بنا سکو۔
اے اللہ! نبی اکرم ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی تھی۔ یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے اللہ! نبی اکرم ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین سے راضی ہوجا! جو حق پر قائم تھے اور حق کے مطابق دل کرتے تھے، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی۔ تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام سے راضی ہوجا۔ اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والا شرابی ہو جائے۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اپنا خاص فضل و کرم فرما اور ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ شرک اور مشرکوں کو رسوا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما۔ دین کی سرحدوں کی حفاظت فرما۔ اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی والا بنا۔
اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما۔ ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما۔ حق کے ساتھ ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کی تائید فرما۔ اے اللہ! اسے اور اس کے نائب کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جس سے تو راضی ہوتا ہے۔ اسے تقویٰ اور پرہیزگاری کی طرف لے جا۔ اسے نیک اور سمجھدار کابینہ نصیب فرما جو اسے خیر کا راستہ دکھائے اور پھر خیر پر عمل کرنے میں اس کی مدد کریں۔ اے اللہ اسے، اس کے نائب کو، اس کے بھائیوں کو اور اس کے مددگاروں کو ان کاموں کی توفیق عطا فرمایا جن سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہے اور جس میں اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود ہے۔
اے اللہ! تمام مسلمان حکمرانوں کو شریعت نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ سنت نبی ﷺ پر پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ اے پروردگار عالم! انہیں اپنے بندوں پر رحم کرنے والا بنا۔
اے اللہ! ہمیں اور مسلمانوں کو اذیت دینے والوں کے خلاف تو ہی ہمارا مددگار ہے۔ اور تو ہی ہمارے لئے کافی ہے۔ تو ہی ہمارے لئے کافی ہے اور تو بہترین کفایت کرنے والا ہے۔ اے ہمارے الٰہ! فلسطین، شام اور غوطہ شرقیہ میں ہمارے بھائیوں پر بہت سخت وقت آگیا ہے۔
اے االلہ! تیرا لشکر کبھی نہیں ہارتا! تیرا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔ اے طاقت اور عزت والے! ہمارے بھائیوں کی مدد فرما اور انہیں دشمن پر غلبہ نصیب فرما۔
اے اللہ! تو جانتا ہے کہ دُوما اور غُوطہ شرقیہ میں ہمارے بھائیوں کا کیا حال ہے۔ اے اللہ! وہ کمزور ہیں، تو انہیں بلندی نصیب فرما، وہ بھوکے ہیں تو انہیں کھانا مہیا فرما، وہ بے لباس ہے تو انہیں لباس عطا فرما، وہ مظلوم ہیں تو ان کی نصرت فرما۔ وہ مظلوم ہے تو انکی نصرت فرما! اے کمزوروں کی مدد کرنے والے! وہ مظلوم ہے تو ان کی مدد فرما۔
اے االلہ! سرکشوں اور ظالموں کو ہلاک فرما! اے اللہ! تو انہیں ہلاک فرما! وہ تجھے عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔ اے اللہ! ان پر اپنا غصہ اور غضب اور عذاب نازل فرما! اے الٰہ حق! اے سچے وعدے والے! یا ذالجلال ولاکرام!
اے اللہ! ان کی کمزوری پر رحم فرما! ان کی مصیبت دور فرما! اے طاقت اور عزت والے! ان کا معاملہ سنبھا لے! یا ذالجلال والاکرام! حق کے مددگاروں کو ان پر رحم کرنے کی توفیق عطا فرما!
اے اللہ! مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں، مومن مردوں اور مومن عورتوں کو معاف فرما۔ ان کے جھگڑوں کا خاتمہ فرما۔ ان کے دلوں کو جوڑ دے! انہیں سلامتی کے راستے پر کاربند فرما۔ انہیں ظاہر اور باطن فتنوں سے محفوظ فرما۔
اے اللہ! عراق، لیبیا، یمن اور ہر جگہ ہمارے بھائیوں کی مدد فرما۔ یا ذا الجلال والاکرام! برما میں ہمارے بھائیوں کی مدد فرما! یا اللہ! اے عزت و طاقت والے! انہیں اپنے اور ان کے دشمنوں پر فتح نصیب فرما!
اے اللہ! ہم سے اور تمام مسلمان ممالک سے دشمن کی سازشیں دور فرما، جاتی کرنے والوں کی زیادتی دور فرما۔ ہمیں حسد کرنے والوں کے حسد سے اور جلنے والوں کے شر سے محفوظ فرما۔ اہل شر کے شر سے محفوظ فرما اور فاجروں کی برائی سے محفوظ فرما اور دن رات کے ہیر پھیر سے محفوظ فرما۔
اے اللہ! ہمارے فوجیوں کی مدد فرما! اے اللہ! ہمارے فوجیوں کی مدد فرما! اے اللہ! انکے نشانے اور ان کی آرا درست فرما۔ ان کے زخمیوں اور بیماروں کو شفا عطا فرما! انہیں اپنے گھروں تک سلامتی اور عافیت کے ساتھ لوٹا! یا ذا الجلال والاکرام! اپنے اور ان کے دشمنوں سے ان کی حفاظت فرما۔
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘ (البقرہ: 201)
اے پروردگار عالم! اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! ہمیں اور ہمارے والدین کو اور تمام زندہ اور مردہ مسلمانوں کو معاف فرما۔
اے اللہ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان نصیب فرما! اللہ اپنے فضل و کرم سے رمضان تک زندگی عطا فرما اور ہمیں اس سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آرائیں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہم سے قبول فرما۔
’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘(الصافات : 180 ۔183)

بشکریہ پیغام ٹی وی

Hits: 53

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “اللہ کی طرف آئیے!مترجم: عاطف الیاس

اپنا تبصرہ بھیجیں