7

دعا کے نتائج

دعا مومن کا انتہائی طاقتور ہتھیار ہے اور جب مصیبتوں اور مشکلات کے حل کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو دعا کے ذریعے انسان نجات اور کامیابی کو حاصل کر لیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے کئی مقامات پر دعا کی اہمیت کو اجاگر کیا، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
سورہ بقرہ کی آیت نمبر 186 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”اور جب آپ سے پوچھیں میرے بندے میرے بارے میں تو (بتا دیں) بے شک میں قریب ہوں، میں قبول کرتا ہوں دعا کرنے والوں کی پکار کو جب وہ مجھے پکارے پس چاہیے کہ (سب لوگ) حکم مانیں میرا اور چاہیے کہ وہ ایمان لائیں مجھ پر تاکہ وہ راہ راست پا لیں۔
سورہ نمل کی آیت نمبر 62 میں ارشاد ہوا ”(کیا یہ بت بہتر ہیں) یا جو (دعا) قبول کرتا ہے لاچار کی جب وہ پکارتا ہے اسے اور وہ دور کرتا ہے تکلیف کو اور وہ بناتا ہے تمہیں جانشین زمین میں کیا کوئی (اور) معبود ہے اللہ کے ساتھ؟ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔
سورہ مومن کی آیت نمبر 60 میں ارشاد ہوا ”اور فرمایا تمہارے رب نے تم مجھے پکارو میں قبول کروں گا تمہاری (دعا، پکار) کو۔ بے شک (وہ لوگ) جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے‘ عنقریب وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل ہو کر۔ سورہ مومن کی ہی آیت نمبر 65 میں ارشاد ہوا ”وہی زندہ ہے کوئی معبود نہیں مگر وہی۔ پس تم اسے پکارو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے دین (بندگی) کو۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے (جو) تمام جہانوں کا رب ہے‘‘۔
سورہ فرقان کی آیت نمبر 77 میں ارشاد ہوا ”آپ کہہ دیجئے نہیں پروا کرتا تمہاری میرا رب اگر نہ ہو تمہارا پکارنا (اس کو)، سو بے شک تم نے جھٹلایا ہے تو جلد ہی (اس کی سزا) لازمی ہو گی‘‘۔
قرآن مجید میں حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت زکریاؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی دعاؤں کا ذکر موجود ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جنت سے زمین پر منتقل ہونے کے بعد سیدنا آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام کی دعا کو قبول فرما کر انہیں اپنے مقربین میں شامل فرما لیا۔ سیدنا نوح علیہ السلام کی دعا کو قبول فرماتے ہوئے کافروں کو تباہ و برباد کر دیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبول فرماتے ہوئے آپؑ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام جیسا حلیم بیٹا عطا فرمایا اور آپؑ ہی کی دعا کو قبول فرماتے ہوئے مکہ مکرمہ کو بلد الامین اور نبی کریمﷺ کی ذات اقدس کو مبعوث فرما دیا۔ مدین کے گھاٹ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کو قبول فرماتے ہوئے آپؑ کے لیے وہاں پر بہترین رہائش اور سکونت کا بندوبست فرما دیا۔ حضرت زکریاؑ کی دعا کو قبول فرماتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو بڑھاپے کے عالم میں حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسا عظیم بیٹا عطا فرما دیا۔ نبی کریمﷺ بھی ساری زندگی اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو رہے۔ قرآن کریم اور آپﷺ کی مختلف احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپﷺ کی دعاؤں کے نتیجے میں اللہ تبارک وتعالیٰ یکایک حالات کو بدل دیا کرتے تھے۔ بدر کے مقام پر آپﷺ کی دعا کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہزاروں فرشتوں کا نزول فرما کر کافروں کو ناکامی اور نامرادی سے دوچار کر دیا۔ حدیث پاک میں بھی آپﷺ کی بہت سی دعاؤں کا ذکر موجود ہے۔ جن میں سے ایک اہم دعا کو امام بخاریؒ نے صحیح بخاری میں اس طرح نقل کیا ہے:
”ایک مرتبہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں قحط پڑا، آپﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! جانور مر گئے اور اہل و عیال دانوں کو ترس گئے۔ آپؐ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے، اس وقت بادل کا ایک ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے ابھی آپﷺ نے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا امڈ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ریش مبارک سے ٹپک رہا تھا۔ اس دن کے بعد اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ (دوسرے جمعہ کو) یہی دیہاتی پھر کھڑا ہوا یا کہا کہ کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! عمارتیں منہدم ہو گئیں اور جانور ڈوب گئے۔ آپؐ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ! اب دوسری طرف بارش برسا اور ہم سے روک دے۔ آپؐ ہاتھ سے بادل کے لیے جس طرف بھی اشارہ کرتے ادھر تک مطلع صاف ہو جاتا۔ سارا مدینہ تالاب کی طرح بن گیا تھا، قناۃ کا نالا مہینہ بھر بہتا رہا اور اردگرد سے آنے والے بھی اپنے یہاں بھرپور بارش کی خبر دیتے رہے‘‘۔
اسی طرح آپﷺ نے ماضی کے بعض لوگوں کی کی ہوئی دعاؤں کا ذکر کیا جن میں سے اہم دُعا غار میں پھنس جانے والے مسافروں کی ہے جو وزنی پتھر کی زد میں آ گئے تھے۔ امام بخاریؒ نے اس حدیث کو صحیح بخاری شریف میں یوں بیان فرمایا:
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی۔ انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی (اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی ”اے اللہ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے۔ میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چراتا تھا۔ پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا۔ جب میرے والدین پی چکتے تو پھر بچوں کو اور اپنی بیوی کو پلاتا۔ اتفاق سے ایک رات واپسی میں دیر ہو گئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے۔ اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے۔ میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ! اگر تیرے نزدیک‘ میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ تو بنا دے کہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چنانچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے دعا کی ”اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے۔ اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو۔ میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی، اور آخر اتنی اشرفیاں جمع کر لیں۔ پھر جب میں اس کے قریب پہنچا تو وہ بولی، اللہ سے ڈر اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ۔ اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اب اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ عمل تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (نکلنے کا) راستہ بنا دے‘‘ نبی کریم ﷺنے فرمایا: چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے دعا کی ”اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور سے ایک فرق جوار پر کام کرایا تھا۔ جب میں نے اس کی مزدوری اسے دے دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا (کھیتی جب کٹی تو اس میں اتنی جوار پیدا ہوئی کہ) اس سے میں نے ایک بیل اور ایک چرواہا خرید لیا۔ کچھ عرصہ بعد پھر اس نے آ کر مزدوری مانگی کہ اللہ کے بندے مجھے میرا حق دیدے۔ میں نے کہا کہ اس بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جاؤ کہ یہ تمہارے ہی ملک ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھ سے مذاق کرتے ہو۔ میں نے کہا ”میں مذاق نہیں کرتا‘‘ واقعی یہ تمہارے ہی ہیں۔ تو اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو یہاں ہمارے لیے (اس چٹان کو ہٹا کر) راستہ بنا دے۔ چنانچہ وہ غار پورا کھل گیا اور وہ تینوں شخص باہر آ گئے‘‘۔
بخاری شریف میں مذکور ہے کہ نبی کریم ﷺنے معاذؓ کو جب (عامل بنا کر) یمن بھیجا تو آپﷺ نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (بددعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
امام بخاریؒ نے رات کے پچھلے حصے میں کی جانے والی دعا کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں، کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں‘‘۔
ہم سب کو بھی اپنی زندگی کے اندھیرے و ظلمتوں کو دور کرنے کے لیے ہمہ وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو رہنا چاہیے۔ اگر ہم اللہ سے بکثرت دعائیں مانگتے رہیں گے تو یقینا اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری زندگی کے اندھیرے اور مشکلات بھی دور فرما دے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو دعا مانگنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
بشکریہ روزنامہ دنیا

Hits: 3

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں