15

بچوں کی پرورش اور تربیت کے انداز [Parenting Styles]

سائیکالوجی میں بچوں کی تربیت کے چار طریقے معروف ہیں کہ جنہیں ایک امریکن سائیکالوجسٹ ڈاکٹر باؤم رینڈ (Baumrind) نے 1960ء میں ایک تھیوری کی صورت پیش کیا تھا۔ اگرچہ باؤم رینڈ نے اپنی تھیوری میں تین انداز پر گفتگو کی تھی کہ جس میں چوتھے کا اضافہ بعد میں ہوا ہے۔

پہلا انداز تادیبی یا سخت گیر یا استبدادی انداز (authoritarian style) کہلاتا ہے۔ ایسے والدین اپنے بچوں سے بہت زیادہ توقعات (high expectations) رکھتے ہیں، ڈیمانڈنگ ہوتے ہیں۔ بچوں پر سختی اور سزا زیادہ ہوتی ہے لیکن بچوں سے کمیونیکیشن اور انہیں سمجھنے سمجھانے کی تو بات ہی نہ کریں۔ گھر میں آرمی ڈسپلن نافذ ہے کہ جس میں ابا یا اماں کے حکم سے ناں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ابا جان کا رویہ یہی ہے کہ بچے! بس میں نے یہ کہہ دیا اور اب ایسا ہو جانا چاہیے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچے اگرچہ فرمانبردار ہوتے ہیں لیکن ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔ اور بعض تو رد عمل میں باغی اور سرکش بھی بن جاتے ہیں۔ والدین اور اولاد کے مابین کوئی جذباتی تعلق نہیں ہوتا لہذا بچے انسان سے ذیادہ روبوٹ ہوتے ہیں۔

دوسرا انداز ذمہ دارانہ انداز (authoritative style) کہلاتا ہے کہ جس میں والدین بچوں سے توقعات بھی رکھتے ہیں، ڈیمانڈنگ بھی ہوتے ہیں لیکن ان سے کمیونیکیٹ بھی کرتے ہیں۔ وہ اگر سزا دیتے ہیں یا سختی کرتے ہیں تو ساتھ میں وجہ اور مقصد بھی بتلاتے ہیں کہ بچے! یہ سختی اس لیے ہے اور تمہاری ہی خیر خواہی کے لیے ہے۔ والدین کی طرف سے سختی بھی مناسب ہوتی ہے اور بچوں پر توجہ بھی کافی ہوتی ہے۔ وہ بچوں سے جذباتی تعلق بھی رکھتے ہیں، اس کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اب ساتھ میں ان سے فرمانبرداری بھی چاہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچے فرمانبردار، خود اعتماد اور ذمہ دار ہوتے ہیں۔ والدین کا بچوں پر کنٹرول ہوتا ہے۔

تیسرا انداز سہولت پسندانہ انداز (permissive style) کہلاتا ہے۔ ایسے والدین کا اپنے بچوں سے تعلق ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ایک دوست کا دوسرے دوست سے۔ یہ اپنے بچوں پر سختی کے قائل نہیں ہوتے۔ یہ انہیں بہت حد تک آزادی دیتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ وہ خود ہی سیکھ لیں اور خود ہی اپنے مسائل حل کر لیں۔ بچوں سے توقعات بہت کم ہیں اور ڈیمانڈز واضح نہیں ہیں۔ والدین کا بچوں پر کنٹرول نہیں ہے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچے بہت ڈیمانڈنگ ہو جاتے ہیں۔ بچوں میں خود اعتمادی بہت زیادہ ہوتی ہے اور والدین سے جذباتی تعلق بھی کافی ہوتا ہے۔

چوتھا انداز غفلت بھرا انداز (neglectful style) کہلاتا ہے۔ والدین کو بچوں کی جیسے کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ بچے ہر طرح سے آزاد ہیں جو مرضی کریں۔ والدین اور اولاد میں بات چیت اور کمیونیکیشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی لائف ہے، بس جی رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچے عموما متلون مزاج ہوتے ہیں کہ کچھ معلوم نہیں کہ کب کیا گُل کھلا دیں گے۔

آپ اگر والدین ہیں تو میں آپ کو یہی تجویز کروں گا کہ دوسری قسم کے والدین بننا پسند کریں کہ یہی والدین اپنی اولاد کے حق میں بہترین ہیں۔ اور اگر آپ اولاد ہیں تو اپنے والدین کو یہ پوسٹ پڑھائیں اور ان سے درخواست کریں کہ ہمیں کچھ بنانا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے دوسری قسم کے والدین بن جائیں۔ میرا شمار بھی دوسری قسم کے والدین میں ہوتا ہے بلکہ میں اپنے اچھے اسٹوڈنٹس کی تربیت کے لیے بھی عموما دوسری قسم کے والدین کے انداز کو ہی اختیار کرتا ہے۔

Hits: 12

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں