17

ارض حرمین نشانے پر اور ایران کا شرمناک کردار!

سعودی عرب کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مسلسل ایرانی ساختہ میزائلوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ سعودی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور فعال اینٹی میزائل سستم کے باعث ابھی تک کوئی بڑا نقصان تو نہیں ہوا لیکن مسلمانوں کے مقدس ترین شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ساتھ ساتھ سعودی دارالحکومت ریاض اور کئی دیگر شہروں پر میزائل حملے کئے گئے ہیں ۔عرب ممالک کی اتحادی افواج کی جانب سے میڈیا کو وہ میزائل دیکھائے گئے ہیں جو کہ ارض حرمین پر داغے گئے ۔ یہ میزائل ایرانی ساختہ ہیں جو کہ حوثی باغیوں کو فراہم کئے گئے ہیں ۔ سعودی عرب نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل میں بھی اٹھایا ہے لیکن ایران یورپ معاہدے اور مغربی ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے باعث اس پر کچھ زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ دوسری جانب روس، بھارت سمیت کئی ممالک مسلم دشمنی میں شام اور یمن کے مسئلے پر ایران کی حمایت کر رہے ہیں جس سے شہ پاکر خلیجی ممالک میں معصوم بچوں اور بوڑھوں تک پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ شام میں ایرانی حمایت یافتہ حکمران بشار الاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیار تک استعمال کرنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ایران میڈیا کے ذریعے عرب ممالک کے خلاف گھٹیاپروپیگنڈا بھی کر رہا ہے جس میں چند روز قبل کارڈز سے کھیلے جانیوالےایک کھیل کے ٹورنامنٹ کو جوئے کے سب سے اڈے کے طور پر مشہور کرنا اور سعودی ولی عہد کے دورہ امریکہ کو غلط رنگ میں پیش کرنا شامل ہے۔ ان سے چند ایسے جملے بھی منسوب کئے گئے جو کہ انہوں نے کہے ہی نہیں تھے اسی طرح ان کی باتوں کو توڑمروڑ کر پیش کیا گیا۔
ایسا لگتا ہے کہ تہران کا کنٹرول اہل بصیرت کے پاس نہیں رہا اور وہاں صرف اور صرف جذباتی ، پراگندہ خیالات کے حامل اور تعصب و عناد میں ڈوبے ہوئے افراد کا ڈیرہ ہے ۔عرب ممالک میں گزشتہ چند سالوں سے جاری بدامنی اور قتل و غارت میں ایران کا نام سب سے نمایاںرہا ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ کبھی بھی کوئی صلح جوئی اور اچھائی کا تاثر تک بھی دینے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ امریکہ و یورپی ممالک کے ساتھ کئی سال کے خفیہ تعاون اور اب واضح معاہدے کے بعد ایران اب پورے خطے میں چوہدراہٹ کے خواب دیکھ رہا ہے ۔ عالمی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا تو شروع سے یہ دعوی ہے کہ ایران کبھی بھی مغرب مخالف رہا ہی نہیں جبکہ اسرائیل کے ساتھ ” زبانی کلامی “ کشیدگی تو محض رسم دنیا نبھانے کے لئے ہوتی ہے ۔ ایران کی مذہبی قیادت اور حکومت اسرائیل و امریکہ دشمنی کا تاثر دیکر اپنی عوام کو رام کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ وہ کبھی بھی اہل اقتدار کے لئے خطرہ نہ بن سکیں ۔ اسی بہانے کے تحت ملک میں ہر قسم کی مخالفانہ سرگرمیوں کو بھی دبایا جاتا ہے ۔ ایران اب مغرب کی آشیر باد سے علاقائی بالادستی کا خواب دیکھ رہا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ اب مشرق وسطی میں جاری ہر کشمکش اور قتل و غارت ، بدامنی میں براہ راست یا خفیہ طور پر ایران اپنا کردار ضرور ادا کرتا ہے۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد امریکہ نے جس طرح ایران کے ہم مسلک طبقے کو پروموٹ کیا اور بعد ازاں ان کے ساتھ ملکر وہاں کی سنی عوام کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا اس کی مثال شائد ہی تاریخ میں مل سکے ۔ یہ سب ایران کی آشیر باد سے ہو رہا تھا کیونکہ کئی عشروں سے ” امریکہ مردہ باد“ کے نعرے لگانے والے جذباتی ایرانی اپنے ہمسائے میں اسی امریکہ کو دیکھ کر ” جہاد“ کو یکسر بھول ہی گئے اور چپ چاپ حمایتی بن گئے ۔ عراق میں امریکی حمایت سے اپنی ہم مسلک طبقے کو مضبوط بنانے کے بعد ایران کا حوصلہ بڑھا اور پھر باری آئی شام ، یمن ، بحرین اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں اپنے حمایتی گروہوں کو مسلح اور مضبوط کرنے کی ۔ بحرین میں ایک بھرپور شورش پیدا کی گئی ، یمن میں قانونی حکومت کا خاتمہ کچھ اس طرح کیا گیا کہ ایرانی جنریلوں نے اس مہم میں حصہ لیا ، شام میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور ظلم و ستم کی دردناک داستانیں رقم ہو رہی ہیں ۔ سعودی عرب اور کویت میں بھی بہت کچھ ہوا لیکن وہاں کی مضبوط حکومتوں نے ان مہمات کو کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہونے دیا۔ جی ہاں! ایک اور ہمسایہ افغانستان بھی تھا کہ جہاں ایران نے شمالی اتحاد کے ساتھ ملکر امریکی قیادت میں طالبان حکومت کو ختم کرنے کے لئے بھرپور وسائل فراہم کئے ۔ اور مزے کی بات یہ بھی ہے کہ اس سارے عرصے میں ” مردہ باد امریکہ “ کا نعرہ بھی خوب زور و شور سے لگایا جاتا رہا ۔ حقیقت یہی ہے کہ ایران کبھی بھی امریکہ ، اسرائیل اور مغرب کا مخالف نہیں رہا ۔ اس کے کئی دلائل ہیں۔ ایران کی جانب سے روایتی زبانی جمع خرچ تو بہت کیا جاتا ہے لیکن حقائق یہی ہیں کہ ایران نے کبھی بھی کوئی بھی امریکہ مخالف قدم نہیں اٹھایا۔ کسی بھی ملک میں کوئی ایرانی یا ان کے ہم مسلک کو ئی رہنما امریکہ کی مخالفت میں نہیں لڑا ۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا بھر میں اقدامات اٹھائے اور کئی ممالک سے اپنے مخالفین کو گرفتار یا جاں بحق بھی کیا لیکن ایرانی یا ان کے ہم مسلک افراد پوری دنیا میں اس سے محفوظ رہے ۔عراق میں ایران کے حمایتی عالم دین عالم آیت اللہ سیستانی نے کیوں یہ فتویٰ دیا کہ امریکہ کے خلاف جہاد حرام ہے اور جو لوگ امریکہ کےخلاف لڑ رہے ہے وہ دہشتگر د ہے۔ ایران نے امریکہ کے خلاف لڑنے والوں کی بجائے صدام کے حامیوں کی سرکوبی کے لئے اسلحہ فراہم کیا اور بہت سے ایرانی رضا کار بھی عراق گئے ۔ امریکہ نے اس کا صلہ یہ دیا کہ ایرانی حمایت یافتہ افراد کو عراق کی حکومت دی اور مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت میں ملوث ہونے کے باوجود کبھی کسی ایرانی حمایت یافتہ گروہ کو دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا۔ ایران کی جانب سے یمن ، بحرین ، شام اور کئی دیگر ممالک میں اپنی حمایتی گروہوں کی مدد کے لئے تربیت یافتہ رضا کار اور باقاعدہ فوجی عہدیدار بھیجے جاتے ہیں لیکن ایسا کبھی بھی اسرائیل کے خلاف نہیں کیا گیا۔ ایران میں شدت پسندی اور نفرت کا اس سے بڑھ کر اور کیا اظہار ہو گا کہ دارالحکومت تہران میں ایک مسجد بھی نہیں اور نہ ہی مسجد بنانے کی اجازت ہے مگر اسی تہران میں یہودیوں کے 70 عبادے خانے ہے اور عیسائیوں، ہندوؤں، پارسیوں اور بدھوں وغیرہ کے ہزاروں عبادے خانے ہے۔ بلکہ بعض حلقے تو یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ خمینی انقلاب کے بعد ایران کی 90 فیصد مساجد کو امام بارگاہوں میں تبدیل کر دیا گیا مگر کسی ایک بھی چرچ، مندر یا کسی اور مذہب کے عبادت خانوں کو نہ تبدیل کیا گیا اور نہ ہی گرایا گیا۔ ایسی بے شمار ویڈیوز موجود ہیں کہ ایران میں محض دوسرے فرقے سے تعلق کی بنا پر ہر سال بڑی تعداد میں علمائے کرام اور لوگوں کو پھانسی چڑھا دیا جاتا ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ ایران کو اب ہمسایہ مسلم ممالک کے ساتھ کسی بھی قسم تعلقات کی بحالی کی کوئی خواہش ہی نہیں رہی ۔ وہ صرف اور صرف امریکہ و یورپ کی بھرپور حمایت ، ایٹمی معاہدے کے بعد ہونیوالی کمائی اور کئی سال سے بنائے گئے جدید اسلحے کے بل بوتے پر پورے مشرق وسطی میں حاکمیت کے خواب دیکھ رہا ہے ۔اس کے لئے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جا رہا ہے ۔کتنی حیرانی کی بات ہے کہ لاکھوں لوگوں کی مشکلات ، قتل و غارت اور بدامنی کے باوجود شام اور یمن کے مسئلے پر ذرا سی بھی لچک نہیں دیکھائی جا رہی ۔ ایران کسی بھی ہمسائے کی کوئی بات سننا ہی نہیں چاہتا ۔ مانا کہ عربوں کی بھی بہت سے غلطیاں ہوں گی لیکن کیا ایران کی کوئی بھی ذمہ داری نہیں کہ وہ زندگی کی بازی ہارتے ان کلمہ گو مسلمانوں کے لئے تھوڑا سا بھی کردار ادا کرے ۔ دراصل ایران خطے میں بالادستی کے لئے حرمین الشریفین کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت و محبت کو ٹارگٹ کرنا چاہتا ہے۔ ایران دنیا بھر میں موجود اپنے ہم خیال مذہبی رہنماوں کے ذریعے ہم مسلک افراد کی ذہن سازی میں کسی حد تک کامیاب رہا ہے کہ زیارات و عبادت کے لئے حرمین الشریفین کی بجائے ایران و عراق میں موجود مقدسات و مزارات بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ایران و عراق کا مقدس سفر کرنیوالوں کی تعداد حج و عمرے پر جانے والوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہ تلخ حقیقت ہے لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ ایرانی زائرین کی جانب کئی مرتبہ حج و عمرے کے موقعے پر بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی جس میں سینکڑوں معصوم حجاج کرام کی شہادتیں بھی ہوئیں ۔ بیت اللہ شریف پر قبضے کی کوشش ہو، خمینی انقلاب کی نعرے بازی یا فرقہ ورانہ انفرادیت ایرانی زائرین کئی تلخ واقعات میں ملوث رہے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ تہران کی جانب سے مشرق وسطی میں بالادستی اور مغربی آشیر باد سے چوہدراہٹ کے خواب دیکھنے کی قیمت مظلوم مسلمانوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے ۔ شام کے لاکھوں پناہ گزین دنیا بھر میں بھٹک رہے ہیں ، یمن کا امن وامان تباہ ہو چکا ہے ، عراق اور افغانستان میں ہر روز ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے خون مسلم بہایا جاتا ہے ، بحرین، کویت اور سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی گئی ہیں ۔ آخر میں ایک ایسی تلخ حقیقت کہ جس کا تعلق ہماری اپنی ارض وطن پاکستان سے ہے ۔ گوادر کی بندرگاہ کا آباد ہونا ایران اپنے اقتصادی مفادات کے خلاف سمجھتا ہے اور اس کے توڑ کے لئے بھارت کے ساتھ ملکر بندرعباس کی تعمیر کا معاہدہ کیاگیا ہے ۔ شائد بہت کم پاکستانی اس سے آگاہ ہوں کہ صوبہ بلوچستان میں موجود معدنی تیل کے وسائل سے ہماری قوم صرف اس لئے فائدہ نہیں اٹھا سکتی کیونکہ ایران نے ایک سابقہ حکومت کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا ۔ہمارے ملک میں جاری فرقہ ورانہ کشمکش اور بدامنی کے پیچھے ایرانی حمایت کسی سے مخفی نہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں ابھی تک ایران مخالف جذبات کچھ زیادہ نہیں ابھارے گئے۔
عالمی برادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ارض حرمین الشریفین پر ہونیوالے ان میزاائل حملوں کا سختی سے نوٹس لے ۔ مقدس ترین مقامات پر کسی بھی قسم کا ناخشگوار واقعے عالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے ۔ حوثی باغیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے عرب اتحاد کے ساتھ تعاون کیا جائے جبکہ ایران کو شرپسندی سے روکا جائے ۔ حوثی باغیوں کو اسلحے اور میزائلوں کی سپلائی بند کرانے کی ضرورت ہے ۔ اگر کوئی بھی میزائل خدانخواستہ مقدس مقامات میں کسی نقصان کا باعث بنا تو اس سے دنیا بھر میں موجود مسلمانوں کی تشویش اور ردعمل کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے عالمی برادری کو بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں دینی جماعتوں کی جانب سے ان میزائل حملوں کی بھرپور مذمت کی جا رہی ہے ۔ وفاقی وزیر مواصلات ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے گزشتہ روز اپنے بیان میں ان حملوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کے میزائل حملوں سےارض حرمین کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں اور پاکستان قوم حرمین الشریفین کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ پاکستانی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یمن مسئلے پر اپنا بھرپور کردار ادا کرے اگر ایران کسی بھی قسم کی مصالحتی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیتا تو پھر ارض حرمین کی حفاظت کے لئے پاک فوج کو تعینات کیا جائے ۔
کاش تہران میں بیٹھے پالیسی ساز عالم اسلام کی حالت زار پر رحم کرنے کے بارے میں سوچیں ، انہیں احساس ہو کہ اہل مغرب کے ساتھ ملکر اپنے ہی ہمسایوں کو فتح کرنے کا خیال کچھ اتنا بھی قابل ستائش نہیں ہے ۔ کاش تہران میں کوئی اہل بصیرت ان لاکھوں مسلمانوں کے دکھ کا اندازہ کر سکے کہ جنہیں بے گھر ہونا پڑا ، جن کے اپنے زندگی کی بازی ہار گئے یا جن کے بچے جنگلوں ، ویرانوں میں بے یارومددگار پڑے ہیں ۔ علامہ اقبال نے تہران کو اہل مشرق کا جنیو ا بنانے کا خواب دیکھا تھا یعنی ایک ایسا مرکز جس پر سب اعتماد کریں ۔ لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ ایران جنیوا والوں سے ملکر اہل مشرق کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ ایران کو چاہیے کہ جنگی حکمت عملی ،جذباتی منصوبہ بندی اور عناد و تعصب سے بھری سوچ کی بجائے ایک منصفانہ اور صلح جو طرز عمل کا مظاہرہ کرے ۔
شائد اسی سے عالم اسلام کی مشکلات میں کمی آ سکے اور یقینا اس سے ایران کے مقام و مرتبے میں بھی اضافہ ہی ہو گا۔ کاش ایرانی پالیسی ساز مغربی آشیر باد سے علاقائی بالادستی کی بجائے اپنی عوام میں بے پناہ مقبول علامہ اقبال کے خواب کو ہی پورا کر نے کا سوچیں۔

Hits: 15

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں