22

مزید صوبے کیوں ناگزیر ہیں؟؟ / وفاق کیسے مضبوط ہوگا؟؟

مزید صوبے کیوں ناگزیر ہیں؟؟ / وفاق کیسے مضبوط ہوگا؟؟
(کارزار/ انور غازی)
ہر کچھ عرصے کے بعد جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاست دان، دانشور اور اہلِ قلم اس بات کو اٹھادیتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ ابھی حال ہی میں سرائیکی علاقے سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین اسمبلی نے مسلم لیگ ن کو خیرآباد کہہ کر یہ اعلان کیا ہے کہ آیندہ ان کی سیاست کا سارا محور جنوبی پنجاب صوبے کی بحالی ہوگی۔ اسی کے لیے ساری جدوجہد کریں گے اور اسی پلیٹ فارم سے آیندہ انتخابات لڑیں گے۔ جس دن ان اراکین اسمبلی نے پریس کانفرنس کرکے یہ اعلان کیا اسی دن ملتان میں بلاول بھٹو نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ حکومت میں آکر ”جنوبی پنجاب صوبہ “بنائیں گے۔ انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے بنانے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ چار کے بجائے 8 صوبے بھی بتائے جاسکتے ہیں۔ نئے صوبے بنانے سے وفاق کمزور نہیں، بلکہ مضبوط ہوگا۔ 1947ءمیں برصغیر کی تقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان دو آزاد الگ الگ ملک بن گئے۔ بھارت کے حکمرانوں نے عوامی مطالبات کی بنیاد پر آزادی کے بعد سے نئے صوبے بنانے کا سلسلہ شروع کیا جو تاہنوز جاری ساری ہے۔ پاکستان میں بھی مزید صوبے بنانے کی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں۔ علیحدہ سرائیکی صوبہ سمیت نئے صوبوں کا قیام گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان کی سیاست کا ایک اہم ترین ودلچسپ موضوع بنا ہوا ہے۔ ون یونٹ کے قیام کے بعد جب صوبوں کی حیثیت ختم کردی گئی تو ریاست بہاولپور ایک صوبے کی حیثیت سے وفاق میں شامل ہوگیا۔ ون یونٹ کے قیام کے بعد کئی قومیں شدید احساس کمتری کا شکار ہوگئیں، چنانچہ ون یونٹ کے خاتمے اور صوبائی خودمختاری کے لیے آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔ 1970ءتک جب بنگالیوں کا صوبائی خودمختاری کا مطالبہ علیحدگی کے نعرے میں تبدیل ہوا تو اسٹیبلشمنٹ نے ملک میں قوم پرستوں کی قوت کو تقسیم کرنے کے لیے ون یونٹ کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ صوبوں کو صوبائی خودمختاری دینے کے بجائے مرکز کو مزید مضبوط کرنے کی پالیسی جاری رکھی۔ مرکز کو مزید توانا کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں ملک کا مشرقی بازو ”بنگلہ دیش “بن گیا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد کچھ عرصے کے لیے مرکز کمزور ہوگیا۔ جب بیوروکریسی وقتی طو رپر قدرے کمزور ہوئی تو سیاست دانوں نے باقی ماندہ صوبوں کو خودمختاری دینے کو آئینی تحفظ دینے کا فیصلہ کیا۔ 35 سالوں تک آئینی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہوا۔ 2008ءکے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی نے اتفاق رائے سے ایک ترمیم منظور کرلی۔ اس کو اٹھارویں ترمیم کا نام دیا گیا۔ اس ترمیم میں صوبوں کو بہت آزادی دیدی گئی۔ وسائل پر ان کا حق تسلیم کرلیا گیا، کئی وزارتیں بھی وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگئیں۔ نظامِ تعلیم بھی صوبوں کو مل گیا۔ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو بہت زیادہ آزادی دی گئی جس پر ملٹری بیوروکریسی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ گزشتہ ماہ 10 مارچ کو آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ نے سینئر کالم نگاروں اور اینکر پرسن کے ساتھ ملاقات میں بھی اس کا اظہار کیا تھا۔ ہماری ذاتی رائے یہی ہے کہ صوبوں کو آزادی ملنی چاہیے، مگر نظامِ تعلیم مرکز کے پاس ہونا چاہیے۔ صوبوں کو آزادی ملنے کے بعد نئے صوبے بنانے کی تحریک میں شدت آئی۔ ہزارہ صوبہ ہو یا کراچی حیدرآباد کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ، فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ہو یا جنوبی پنجاب کو جدا صوبہ بنانے کا مطالبہ، ان سب میں شدت اور زور اٹھارویں ترمیم کے بعد ہی آیا ہے۔ نئے صوبوں کے مطالبات آنے کی دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب بھی کوئی نیا صوبہ بنے گا تو اٹھارویں ترمیم کے تحت اس صوبے کے نئے حکمرانوں اور وزیروں کو اختیار اور خودمختاری زیادہ ملے گی۔ شاید یہی وجہ ہے اسٹیبلشمنٹ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے یا کم از کم اس میں ترمیم کرکے صوبائی خودمختاری کم کرنے کی خواہاں ہے، لیکن شاید اب ایسا ممکن ہوسکے۔ صوبوں کے اختیارات کو کم کرنا یا زیادہ کرنا یہ ایک الگ بحث کا موضوع ہے اور ملک میں انتظامی لحاظ سے نئے صوبوں کا قیام یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ انتظامی لحاظ سے ریاست کو کئی یونٹوں اور صوبوں میں تقسیم کرنے کی مثالی اسلامی تاریخ سے بھی ملتی ہے۔ حضرت عمر ؓنے انتظامی اعتبار سے کئی حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ آج بھی ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اب آتے ہیں جنوبی پنجاب کی طرف! جب جنوبی پنجاب کو نیا اور الگ صوبہ بنانے کی تحریک نے شدت پکڑی تو ہم نے بھی جنوبی پنجاب کے چار دورے کیے۔ اس دوران ملتان سے بہاول نگر تک ہر جگہ جانا ہوا۔ ہر طبقے سے ملاقاتیں ہوئیں۔ بیسیوں لوگوں سے انٹرویو کیے۔ کئی اہلِ علم اور دانشورں سے ملے۔ صحافیوں سے بیٹھکیں ہوئی۔ اس کے نتیجے اندازہ ہوا جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ بننے کی سیاسی حمایت کے ساتھ ساتھ اس کی بھرپور مخالفت بھی موجود ہے۔ کئی حضرات کا کہنا تھاکہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے بجائے ”بہاولپور کی صوبائی حیثیت کو بحال کیا جائے۔“ اس لیے کہ ون یونٹ کے قیام کے وقت ریاست بہاولپور کو صوبائی حیثیت سے شامل کیا گیاتھا، اور پھر جب ون یونٹ ختم ہوا، صوبوں کی صوبائی حیثیت بحال ہوگئی تو ریاست بہاولپور کی صوبائی حیثیت کو بھی بحال کیا جائے، اس لیے کہ اس علاقے کی اپنی شناخت، روایات، ثقافت، اقدار، رسم و رواج اور ریاستی زبان ہے۔ ریاست بہاولپور 3 ڈویژنوںپر مشتمل تھی، چنانچہ ان تینوں ڈویژنوں کو ملاکر بہاولپور کی صوبائی حیثیت کو بحال کیا جائے۔ اس کے بعد اگر ضرورت پڑے تو پنجاب میں ایک نہیں 3 نئے صوبے بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ فاٹا کو الگ صوبہ بنانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اب چاروں صوبے اتنے منہ زور ہوتے جارہے ہیں کہ وفاق کی مضبوطی اسی میں ہے کہ آٹھ دس نئے صوبے بنادیے جائیں۔ آج نہیں تو کل یہ کام کرنا ہی پڑے گا۔ حضرت عمرؓفرماتے تھے کہ جب کسی شہر کی آبادی دس ہزار سے زیادہ ہوجائے تو نیا شہر آباد کریں اور عملی طور پر وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ نیا شہر، نیا ضلع اور نیا صوبہ انتظامی لحاظ سے آبادی کو سنبھالنے کے لیے بنایا جاتا۔ پاکستان کے چاروں صوبے اتنے بڑے ہیں کہ 5 سالہ دورِ اقتدار میں صوبے کا وزیر اعلیٰ ایک مرتبہ بھی دور ہ کرکے عوام کی اصل صورت حال سے واقفیت حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ لسانی وعصبی بنیادوں پر نہیں انتظامی لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہیں۔ اسی میں ملک و قوم کی بہتری معلوم ہوتی ہے۔

Hits: 4

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں