21

استحکام پاکستان کانفرنس میں خطبہ جمعہ2018

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب
مترجم: محمد اجمل بھٹی
خطبہ مسنونہ
بعد ازاں: اولین اور آخرین تمام لوگوں کو اللہ کی نصیحت تقویٰ اختیار کرنے کی ہے۔
’’ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو ۔‘‘ (سورۃ النساء: 131)
جو شخص اللہ سے ڈر جائے، اللہ اسےبچا لیتا ہے اور اسے ہر طرح کی خیر وخوبی عطا کرتا ہے اور اسے ہر دکھ اور تکلیف میں کافی ہو جاتا ہے۔ جو اللہ سے ڈر جائے اللہ اس کی مدد کرتا ہے اور اسے عزت سے نوازتا ہے۔
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 102)
اللہ کے بندو! ہمارے نبی مکرم ﷺ فرماتے ہیں: میں تمہارے پاس وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اس پر کاربند رہے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ کتاب اللہ اور میری سنت، لہٰذا جو شخص عزت چاہتا ہے اور ہدایت پر گامزن ہونا چاہتا ہے وہ قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرے جس کے بارے میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
’’ یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں ۔‘‘ (سورۃ ص: 29)
نیز فرمایا:
’’ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔‘‘ (سورۃ الاسراء: 9)
قرآن اس راہ کی ہدایت کرتا ہے جو سب سے کامل، سب سے خوبصورت اور سب سے عمدہ ہے۔ عبادات، اخلاقیات، عقائد، اللہ کے ساتھ تعلق، لوگوں کےساتھ برتاؤ اور خود اپنے نفس کے حقوق میں سب سے عمدہ راہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے سب عمدہ گفتگو اللہ رب العزت کی کتاب کی آیات کی تلاوت ہے۔ قرآنی سورتوں میں سے ایک سورت، سورت حجرات ہے۔ یہ سورت علمائے کرام کی نزدیک اخلاق وآداب کا مجموعہ ہے۔ اس میں اللہ اور اس کے رسول کے آداب بیان ہوئے ہیں کہ لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا چاہیے۔ اور کچھ آداب لوگوں کے شخصی ہیں کہ وہ اپنے ساتھ کیسے پیش آئیں اور لوگوں کےساتھ کس طرح رویہ رکھیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 1)
اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع کیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے آگے مت بڑھو۔ یعنی ہمیں روک دیا گیا کہ ہم اپنے فعل، قول، رائے یا فہم میں اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھیں۔ یا بلاعلم اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں کوئی بات کریں۔ یا ہم اللہ اور اس کےر سول کا حکم جانے بغیر اللہ کی شریعت میں فتویٰ دیں۔
لہٰذا ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، جائز نہیں کہ وہ اللہ اور اس کےر سول کا حکم جانے بغیر کوئی فتویٰ دے یا اپنی رائے پیش کرے۔ پھر کسی مخصوص مسئلے میں اللہ اور کے رسول کا حکم معلوم ہونے کے بعد اس کے جائز نہیں کہ وہ اپنی رائے، اپنا فہم یا اپنا گمان پیش کرے۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت رے۔ بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننا واجب ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: 36)
بلکہ مؤمنوں کو اللہ اور اس کےرسول کا حکم سن کر فوراً سرتسلیم خم کر دینا چاہیے اور کہنا چاہیے : یہ حکم ہمارے سر آنکھوں پر!
فوراً اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی فرمانبرداری کرو اور اس پر عمل پیرا ہو جاؤ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے رسول کا دوسرا ادب سکھایا۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ کی مجلس میں آواز پست رکھنے کا حکم دیا۔ لہٰذا ہمیں منع کرتے ہوئے فرمایا:
’’ اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ۔‘‘ (سو رۃ الحجرات:2)
لہٰذا نبی کریم ﷺ سے بات کرتے ہوئے آپ کو آپ کے نام سے بلانا منع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی عزت وتکریم کرتے ہوئے پورے قرآن میں آپ کو آپ کے نام سے نہیں پکارا۔ اللہ نے یا موسیٰ، یا ابراہیم، کہہ کر اپنے نبیوں کو خطاب فرمایا ہے لیکن یا محمد کر آپ سے خطاب نہیں کیا۔ بلکہ آپ کو آپ کے صفاتی ناموں سے خطاب کیا۔ ارشاد ہوا:
’’ اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے ۔‘‘ (سورۃ المائدۃ: 67)
’’ اے نبیؐ، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو اُنہیں اُن کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے ۔‘‘ (سورۃ الطلاق: 65)
اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو آپ کے صفاتی ناموں رسول اور نبی کہہ کر پکارا، اس سے آپ کی عزت وتکریم مقصود ہے۔ اس لیے ہمارے لیے بھی جائز نہیں کہ ہم آپ کو آپ کا نام مبارک لے کر آواز دیں بلکہ آپ کے صفاتی ناموں سے آپ کو یاد کرنا چاہیے۔ نیز آپ کو بآواز بلند بلانا اور آپ کی مجلس میں اونچی آواز سے باتیں کرنا بھی خلاف ادب ہے۔ کیونکہ اونچی آواز سے کسی عام کو بلانا بھی خلاف ادب سمجھا جاتا ہے تو نبی کریم ﷺ کے ادب واحترام کا تقاضابھی یہ ہے کہ آپ سے آہستہ اور نرم لہجے میں بات کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے سردار کے ساتھ بات کرنے کا ادب صحابہ کرام کو سکھایا گیا کہ آپ سے بات چیت کرتے وقت آوازیں پست رکھو۔ یہ آپ کے ادب واحترام اور عزت وتکریم کا کمال ادب ہے۔ آپ پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔
آپ کی وفات کے بعد ہمیں آپ کی مسجد میں ان آداب کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم اپنی آوازیں پست رکھیں اور شور نہ کریں۔ آپ کی مجلس میں آواز بلند کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کے حکم کے سامنے اپنی عقل ودانش اور رائے کا اظہار کیا جائے۔ آپ کی وفات کے بعد ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم آپ کی سنت کے خلاف اپنی آوازیں بلند کریں۔ جب ہمیں آپ کی حدیث، سنت، کوئی حکم یا ممانعت کا علم ہو جائے تو فوراً اس کی تعمیل کرنی چاہیے۔ اس کے خلاف اپنی آراء، فکر ودانش اور گمان کو پیش نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کے فرمان کے خلاف تجاویز دینے سےبچنا چاہیے۔
اگر ہم نے ایسا کیا تو یہ آپ کے سامنے آوازیں بلند کرنے اور آپ کے فرمان سے آگے بڑھنے کے مترادف ہو گا۔ جو شخص یہ کام کرے گا اس کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ اس شدید وعید کا مستحق ہو جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ۔‘‘ (سورۃ الحجرا: 2)
لہٰذا جو شخص رسول اللہ کے فرمان کے سامنے اپنی فکر، سوچ، رائے اور حکم پیش کرتا ہے، اس کے بارے میں ڈر ہے کہ وہ اس وعید کا مستحق ہو جائے گا۔ اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اگرچہ وہ نمازیں پڑھتا رہے، روزے رکھتا رہے اور حج کرتا رہے ۔ اس کی تبلیغ، عبادات اور لوگوں کی خیر خواہی کرنا، سب برباد ہو جائے گا، کیونکہ اس نے اپنی رائے، فکر اور فتوے کو رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر مقدم کیا ہے اور یہ بڑا خطرناک مسئلہ ہے۔ ہم صحافی برادری، میڈیا ، دانش وروں، سیاستدانوں، علمائے کرام، داعیان اسلام اور دیگر لوگو کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ فرمان رسول کو خصوصی اہمیت دیں اور اس کے بارے حساسیت کا مظاہرہ کریں۔ جب اللہ اور اس کا فرمان آ جائے تو ہم کہہ دیں۔ یہ حکم ہمارے سر آنکھوں پر، ہم اس کی تعمیل کے لیے حاضر ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے سامنے ہمارے فیصلوں اور رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔ بلکہ ہمارے لیے واجب ہے کہ ہم اسے تسلیم کریں اور اس کی اتباع کریں۔
حاضرین کرام! اللہ تعالیٰ نے ان لگوں کی تعریف کی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آوازیں پست رکھتے ہیں اور آپ کا احترام کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ جو لوگ رسول خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ در حقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 3)
یعنی اللہ نے ان کے دلوں کو تقوے کے لیے خالص بنا دیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کا ادب واحترام خالص تقوے ہی کی بنا پر ہوتا ہے۔ اور یہ مسلمان کے لیے اللہ کی توفیق اور اکرام ہی سے ممکن ہوتا ہے۔
لہٰذا جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ سنت نبوی کا پیروکار ہے اور سنت نبوی پر گامزن ہے تو جان لو اسے اللہ کی توفیق حاصل ہے اور وہ اللہ کی طرف سے ہدایت اور نورانی رستے پر ہے۔
اور اس کی فرمانبرداری اللہ کی توفیق سے ہے۔ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ سے بکثرت سوال نہیں پوچھتے تھے۔ اگر قرآن مجید میں مذکور سوالات جمع کرو، جیسے (يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ) يا (وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ) (یہ آپ سے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں یا یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں) تو یہ سوالات چند ہی ہیں۔ حالانکہ ضروریات صحابہ بے شمار تھیں لیکن وہ آپ کے ادب واحترام کی وجہ سے بہت کم سوالات پوچھتے تھے، بلکہ وہ اس قوت خوش ہوتے تھے جب کوئی بدوی اور مسافر مدینہ منورہ آتا اور آپ سے سوالات پوچھتا، آپ اس کے سوالات کے جواب دیتے تو صحابہ کرام بغور سنتے اور علم حاصل کرتے۔ صحابہ کرام سب سے بڑھ کر آپ کی عزت وتکریم کرتے تھے اس کے باوجود وہ بہت کم سوالات پوچھتے تھے، وہ وحی کے نزول یا آپ کے حکم کے منتظر رہتے تھے تاکہ فوراً تعمیل کریں۔ وہ نہایت آہستہ آہستہ باتیں کرتے تھے حتی کہ بعض دفعہ بات سمجھنا مشکل ہو جاتا تھا اور جب سیدہ خولہ مسئلہ ظہار پوچھنے آئی تو بڑی آہستگی سے اپنا سوال پیش کیا اور اللہ نے سورہ مجادلہ کی یہ آیات نازل فرمائیں:
﴿قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ﴾ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں آپ کے پاس ہی بیٹھی تھی لیکن سیدہ خولہ کی باتیں سمجھ نہ سکی کہ و ہ کیا کہہ رہی ہیں۔ جبکہ اللہ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر یہ ساری باتیں سنی اور جواب بھی عنایت کیا۔
اس طرح صحابہ کرام آپ کا بے حد ادب واحترام کرتے اور آپ کی سنت کا انتہائی احترام کرتے، لہٰذاعلمائے کرام اور طلبہ کو سنت بنوی اور فقہ کا علم حاصل کرتے ہوئے سب سے پہلی کوشش یہ کرنی چاہیے کہ وہ اس سنت اور دلیل کا مقصود سمجھیں۔ علمائے کرام کا سنت کو سمجھنے میں اختلاف کرنا قابل احترام ہے۔ سنت نبوی کی تفہیم میں ان کے مختلف اقوال قابل احترام ہیں لیکن جو شخص نصوص کے بالکل برعکس بات کرے تو وہ قابل قبول نہیں ہے۔ یا وہ اللہ اور اس کےر سول کے حکم کو اپن فہم، رائے، آباء واجداد ، شیوخ یا پیرو کاروں کی رضا کے لیے رد کرے تو اس کا یہ رویہ ہرگز قابل قبول نہیں ہو گا۔
امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد سب نے یہی کہا ہے کہ جب حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو میرا مذہب اسی کے مطابق ہے۔ چاروں ائمہ کرام اتباع سنت کو واجب قرار دیتے ہیں لیکن کبھی ان کا سنت نبوی کے فہم میں اختلاف ہو جاتا ہے۔ علمائے کرام اور طلبہ کو ان کا بخوبی علم ہے اور یہی وۃجہ ہے ان اختلاف رائے کی ۔
لیکن اس کے باوجود سبھی ائمہ اتباع سنت کے وجوب پر متفق ہیں اور ہم اللہ کے نبی آپ کے صحابہ کرام اور ائمہ کرام کے پیروکار ہیں۔ وہ ائمہ جنہوں نے دین اسلام کا پرچم سربلند کیا ہے وہ ائمہ اربعہ اور ائمہ محدثین ہیں۔ مثلاً امام بخاری، امام مسلم، امام احمد، امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام ابن ماجہ اور دیگر ائمہ محدثین، ائمہ فقہ اور ائمہ علم۔ جنہوں نے اس سنت نبوی کو حاصل کیا، اس کی حفاظت کی اور صحیح کو ضعیف سے الگ کیا اور اپنی عمر میں سنت نبوی کو سیکھنے میں صرف کیں اور ایسی نصوص کو جمع اور تطبیق دیتے ہوئے عمریں گزاریں جن میں بعض اوقات ظاہری تعارض نظر آتا ہے، علمائے کرام یہ محنتیں بڑی بابرکت ہیں کہ انہوں نے شرعی نصوص سے مسائل کے استنباط میں عمر یں گزار دیں۔ اور یہ ساری کوششیں اتباع سنت کے دائرے میں آتی ہے اور شارع کے مقصد کو سمجھنے کے لیے ہیں۔ ان کا مقصد قرآن وسنت کی نصوص کا فہم حاصل کرنا تھا تاکہ ان کی اتباع کی جا سکے اور انہیں عملی زندگی کا حصہ بنایا جا سکے۔ یقیناً یہ سب بھی سنت نبوی کے سامنے آوازیں پست کرنے کا ایک انداز ہے۔
اخلاص ایمان اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سنت کی معرفت کا مقصد یہ بنا لیں کہ ہم نے اس پر عمل کرنا ہے، اپنی رائے، فکر یا مذہب کی تائید لینا مقصد نہ ہو۔ جب شرعی نصوص کی تحقیق وتخریج کریں تو ہمارا مقصد یہ نہ ہو کہ ہم اپنے مذہب یا شیوخ کی تائید وحمایت کریں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہمیں شارع حکیم کا مقصود ومعلوم ہو جائے تاکہ ہم اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔ جو اللہ ہم سے چاہتا ہے اور جس کا ارادہ رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے ہم وہ مقصد پورا کریں۔
جب کہ امام شاطبی﷫ فرماتے ہیں کہ شارع حکیم کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو خواہشات نفس کی اسیری سے آزاد کر کے شرعی مقاصد کا تابع بنایا جائے۔
اس اصول کے تحت ہمیں اپنی تربیت کرنی چاہیے۔ ہمیں اللہ کی رضا کو مقصد بنا کر اپنے شاگردوں اور عوام کی تربیت کرنی چاہیے اور نصوص کی قراءت سے ہمارا مقصد ان کی اتباع ہونا چاہیے۔ ہمارا مقصد کسی کی تقلید کرنا یا اپنے یا اپنے اساتذہ کی طرف داری کرنا نہ ہو۔ میری دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو ہدایت کی راہ دکھائے۔ ہمیں درست بات کو حق بنا کر دکھائے اور اس کی پیروی کی توفیق دے اور باطل کو باطل دکھائے اور اس سے اجتناب کی توفیق دے۔
برداران اسلام! اللہ تعالیٰ نے ان بدویوں کی مذمت کی ہے جور سول اللہ کے گھر کے باہر کھڑے ہو کر آپ کو اونچی آواز سے بلاتے تھے اور کہتے تھے: اے محمد باہر آؤ۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی اور فرمایا:
’’ اے نبیؐ، جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لیے بہتر تھا۔ ‘‘ (سورۃ الحجرات: 4۔5)
برادران اسلام! یہ بڑی عظیم سورت ہے۔ اس میں بڑے عظیم آداب مذکور ہیں۔ ابتدا میں اللہ اور اس کے حکم کے آداب ہیں۔ پھر رسول اللہ اور آپ کی سنت کے آداب بیان ہوئے ہیں۔
اسی طرح امت کے اتحاد اور اتفاق کے عظیم آداب بھی اس میں بیان ہوئے ہیں۔سورت نے ایسے آداب پر ابھارا ہے جس سے امت میں اتفاق واتحاد اور باہمی محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور ایسی تمام چیزوں سے ڈرایا ہے جو امت میں افتراق پیدا کرے اور اس کے اتحاد کو نقصان دے۔ پہلی چیز یہ بتائی کہ افواہوں اور بے بنیاد خبروں سے بچو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 5)
لہٰذا خوب تصدیق کر لو، تفتیش کر لو، تحقیق کر لو، جب کوئی تمہارے مسلمان بھائیوں کے بارے میں کوئی خبر آئے تو پوری تصدیق کر لو۔ خصوصاً جبکہ خبر فتنہ انگیز ہو یا بہت بری خبر ہو۔
اپنے مسلمان بھائیوں پر الزام تراشی میں عجلت سے کام مت لیں۔ ان کے عقائد، ان کے مناہج، ان کے اخلاق، ان کے گھروں اور ان کے حالات کے بارے میں آنے والی خبروں پر فوری یقین نہ کر لیں بلکہ ان کے بارے میں اچھا گمان رکھیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟ ‘‘ (سورۃ النور، 12)
مسلمان کےبارے میں اچھا گمان رکھنا واجب ہے، وہ کوئی بھی ہو اس کےبارے میں اچھے خیالات رکھنا چاہیے۔ اگرچہ وہ کسی معاملے میں کوتاہی بھی کرے رہے ہوں تو بھی مسلمانوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنے دل اور سینے کو مسلمانوں کے بارے میں پاکیزہ اور صاف رکھنا چاہیے۔ اگرچہ ان کے بارے میں ہمیں بری خبر یں ملیں پھر بھی ہمیں ان کےبارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیبے۔ ہمیں خبروں کی پوری تحقیق کر لینی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم غلط خبروں کی بنیاد پر کوئی قدم اٹھا لیں اور بعد میں پچھتانا پڑے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کے حق میں غلطی کر بیٹھتے۔ خصوصاً علمائے کرام، قائدین اور حکمرانوں کے بارے میں ملنے والی خبروں کی بخوبی تحقیق کر لینی چاہیے ان کا یہ حق بڑا عظیم ہے، ان کے بارے میں برا گمان رکھنے کے اثرات بڑے نقصان دہ ہیں۔ علمائے کرام ، طلاب علم، داعیان اسلام اور معزز شخصیات کے بارے میں برا گمان رکھنے سے ان کی ہیبت ختم ہو جاتی ہے بلکہ ان پر الزام آنے سے لوگ دین ہی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ تمام دینی علماء اور مشائخ کو برا خیال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اگر ان میں کسی کی کوئی کوتاہی نظر آئے تو خیر خواہی کرتے ہوئے اسے تلبیہ کریں۔ اسے رسوا کرنے یا اس کی تشہیر کرنے کی بجائے اسے نصیحت کی جائے۔ مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کی خامیاں مت بتائیں۔ اسی طرح حکمرانوں اور ذمہ دار لوگوں کی خامیاں عوام میں مشہور نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس سے ملکی امن وامان تباہ ہو جائے گا۔ جب ہم حکمران اور ذمہ داران پر الزام تراشی کریں گے تو عوام کا ان پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔ شریر اور مجرم لوگ فساد برپا کر دیں گے اور امن وامان غارت ہو جائے گا۔ قتل وغارت عام ہو جائے گی اور مشکلا میں اضافہ ہو جائے گا اور یہ ادب کے منافی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنی ادب سکھایا کہ ہمیں مسلمانوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے اور جب ہمیں کوئی بری خبر ملے تو اس کی تحقیق کر لینی چاہیے ۔ اگر تحقیق کے بعد بری خبر ثابت ہو جائے تو اسے مشہور نہ کریبں بلکہ ہمیں اپنی کوششیں اصلاح کرنے میں صرف کرنی چاہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔‘‘ (سورۃ النور: 19)
اس آیت میں مذکورہ ’’فاحشہ‘‘ سے مراد بری بات ہے۔ لہٰذا بری باتوں کی تشہیر سے رکہنا چاہیے۔
ایسی باتوں کو تشہیر سے امت کمزور ہوتی ہے۔ ہمیں خیر وبھلائی کی باتیں نشر کرنی چاہیے۔ خیر کی خبروں کو پھیلانا چاہیے تاکہ امت مضبوط ہو اور ان کے دل توانا ہوں۔ یہ بڑا عظیم ادب سے اس پرعمل پیرا ہو کر ہم امت کو جمع کر سکتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس امت پر اپنے احسان کا تذکرہ کیا ہے۔ ارشاد ہوا:
’’ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہو جاؤ ۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 7)
’’عنت‘‘ سے مراد مشقت ہے۔ نبی کریم ﷺ امت کے لیے ان کی اپنی جانوں سے بھی بڑھ کر مہربان ہیں۔ وہ انہیں ان کی جانوں سے بھی زیادہ جانتے ہیں کیونکہ اللہ نے انہیں سکھایا ہے۔ آپ اللہ کی وحی اور حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ آپ لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہیں کرتے۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ اگر رسول اللہ تمہاری خواہشات کی پیروی کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ گے۔ لیکن اللہ کو خوب ہے کہ تمہارے لیے کیا چیز بہتر ہے۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کو وحی کر کے بتاتے ہیں کہ کیا چیز تمہارے لیے دنیا اور آخرت میں بہتر ہے۔ لیکن یہ اللہ کا خاص کرم ہے اور مؤمنوں پر اس کا فضل ہے کہ اس نے ایمان کو مؤمنوں کا محبوب بنا دیا اور اسے دلوں کی زینت بنا دیا۔ اور تمہارے لیے کفر ونافرمانی اور گناہوں کو ناپسندیدہ بنا دیا۔ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
برادران اسلام! اللہ ہیے ہمارے لیے ایمان کو محبوب بنایا، اسے ہمارے دلوں میں مزین کیا اور ہمیں ہدایت نصیب فرمائی۔ یہ ہماری قوت اور احسان کی بنا پر نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ اگر آپ اہل زمین کی اکثریت کے پیچھے لگیں گے تو وہ آپ کو راہ راست سے ہٹا دیں گے۔‘‘
نیز فرمایا:
’’اگرچہ آپ بڑے حریص ہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
نیز فر مایا:
’’ میرے بہت تھوڑے بندے شکر گزار ہیں۔‘‘
یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان تھوڑے لوگوں میں شمار کیا ہے۔ اس نے یہ احسان جتایا ہے کہ اس نے ہمیں ایسی اکثریت میں شامل نہیں کیا جو جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
یہ اللہ کا خاص فضل وکرم ہے کہ اس نے ہمیں اس عظیم دین کی راہ دکھائی۔
ہم اپنی قوت، علم، فہم اور نسب کی بنا پر اس نعمت سے بہرہ مند نہیں ہوئے بلکہ خاص اللہ کے فضل وکرم سے یہ نعمت ہمیں ملی ہے۔ لہٰذا ہمیں اللہ اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت دی اور اسے ہمارے دلوں کی زینت بنایا۔ کفر، نافرمانی اور گناہوں کو ہمارے لیے ناپسندیدہ بنایا۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو گمراہی میں ہیں اور وہ جہنم رسید ہوں گے۔ کتنے لوگ ہیں جو اللہ سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اللہ نے ان پر اپنا فضل وکرم کر کے ایمان کی دولت سے نہیں نوازا۔ اللہ نے ہم پر فضل کیا اور ہمیں سجدہ کرنے کی توفیق دی۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ بہت سارے لوگ غیر اللہ کو سجدے کر رہے ہیں۔ اللہ نے آپ کو ایک اللہ پر ایمان لانے کی توفیق دی جبکہ بے شمار لوگ کئی کئی معبودان باطلہ کو ماننے والے ہیں اور کچھ تو وہ بھی جدو سکی بھی مبعود کو نہیں مانتے۔ لہٰذا ہم اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر اللہ کے بہت شکر گزار ہیں اور اس کے فضل وکرم کے معترف ہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ایک اور ادب ذکر یا ہے۔ امت کے اتحاد اور اتفاق کا مسئلہ اس کے لیے امت کو بھر پور کوششیں کرنی چاہیں۔ امت کے اجتماع اور اتحاد کے لیے علمائے کرام، داعیان اسلام، حکمرانوں، سیاستدانوں، میڈیا، اہل مدرسہ اور مربی حضرات کا کوششیں کرنا واجب ہے۔ اللہ نے وضاحت فرما دی کہ اگر امت میں اختلاف ہو جائے تو ہم کیسے معاملات کو سلجھائیں۔ ارشاد ہوا:
’’ اگر دو مؤمن جماعتیں لڑائی کرنے لگیں۔‘‘
یعنی ان کا اختلاف اتنا شدید ہوا کہ وہ جنگ کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اللہ نے اس حالت میں بھی انہیں مؤمن کہا ہے اور انہیں دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا۔ وہ ابھی تک مؤمن ہی ہیں لیکن باہمی اختلاف ہو گیا ہے۔ اب امت کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اصلاح کے لیے مداخلت کرے۔ ارشاد با ری تعالیٰ ہے:
’’ اگر دو مؤمن جماعتیں لڑ پڑیں تو ان کی صلح کرا دو۔‘‘
اور یہاں صیغہ امر وجوب کے لیے ہے کہ تم صلح کراؤ۔
دو اختلاف کرنے والوں میں صلح کراؤ، وہ اختلا کرنے والے خواہ دو لڑنے والے اشخاص ، جماعتیں، میاں بیوی یا دو ہمسائے ہوں، بھائی کا بھائی سے اختلاف ہو، یا ایک جماعت دوسری جمعات سے جھگڑے یا دو علماء کا اختلاف ہو یا دو ملکوں کی لڑائی ہو یا دو گروہوں کی۔ واجب یہ ہے کہ باقی مؤمن ان کی صلح کرانے کے لیے کوشش کریں لڑائی بھڑکانے اور اختلاف کو ہوا دینے کی کوشش نہ کریں۔ بعض دفعہ میاں بیوی کی صلح کرانے والے ان کی لڑائی کو بھڑکا دیتے ہیں۔ یہ اصلاح نہیں ہے بلکہ دخل اندازی ایسے انداز میں ہونی چاہیے کہ ان کا گھر بسار ہے اور جدائی کی نوبت نہ آئے۔ ایسا طریقہ اختیار کریں کہ ان کی محبت قائم ہو جائے اور نفرت ختم ہو جائے۔ لہٰذا صلح کے لیے اچھے انداز میں مداخلت کرنا واجب ہے۔
اور اگر ایک گروہ زیادتی پر قائم رہے اور سرکشی سے باز نہ آئے اور ظلم میں حد سے گزر جائے اور صلح کی طرف نہ آئے تو پھر انہیں بزور قوت صلح کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ کیونکہ ارشاد ربانی ہے:
’’ اگر جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو تم اس سے لڑو جو ظالم ہے حتی کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔‘‘
لہٰذا صلح کی کوششیں بالتدریج ہونی چاہیں اور احسن انداز میں ہونی چاہیں حتی کہ جب قوت استعمال کیے بغیر چاہ نہ رہے تو پھر قوت کا استعمال بھی کرنا ہو گا۔ کیونکہ صلح، اتحاد اور اتفاق اعلیٰ مقصد ہے جسے امت کے لیے حاصل کیا جائے گا۔
لیکن اگر وہ صلح پر آمادہ ہو جائے تو پورے عدل وانصاف کے ساتھ ان کی صلح کرا دی جائے۔ کسی ایک گروہ کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کیے بغیر صلح کرائی جائے اور صلح کے بعد دباؤ اور قوت کا استعمال بند کر دیا جائے۔ اگر صلح اور اتحاد کا مقصد حل ہو جائے تو اس جماعت پر پریشر ڈالنا اور اس کے خلاف قوت کا استعمال روکنا واجب ہے، کیوکہ جب وہ لڑائی سے باز آ جائے تو وہ گروہ ہمارا مسلمان بھائی ہے۔ اس کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں۔ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اگر دو جماعتیں لڑ پڑیں تو ان کی صلح کرا دو اور اگر ایک جماعت ظلم کرے تو اس سے لڑو حتی کہ وہ صلح کو تسلیم کر لے اور اگر وہ واپس آ جائے تو پورے عدل وانصاف سے صلح کرا دو بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ کیونکہ بھی اللہ بھی عدل کرنے والا ہے۔ اللہ ظلم کو ناپسند کرتا ہے۔ اس نے ظلم کو اپنے لیے حرام کیا ہے اور اپنی مخلوق کے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے اور ہمیں ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔ حتی کہ غیر مسلموں اور دشمنوں پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔ ہم اپنے وسائل اور دین کی حفاظت ے لیے قوت استعمال کریں گے لیکن ظلم کے لیے ہرگز قوت استعمال نہیں کریں گے۔ عدل بیش قیمت ہے جبکہ قوت کی اپنی اہمیت ہے۔ اسے موقع کی مناسبت سے استعمال کریں گے اور کبھی نرمی سے بھی پیش آئیں گے۔ جبکہ عدل وانصاف ہر کسی کے ساتھ ہو گا۔ دوستو، اہل وعیال ، دشمنوں، موافق اور مخالف سبھی کے ساتھ عدل وانصاف کرنا ہو گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم اصول بیان کیا ہے جسے پر مسلمان کو اپنا نصب العین بنانا چاہیے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ
﴿﴾
’’بلاشبہ مؤمن بھائی بھائی ہیں۔‘‘ تو اپنے بھائیوں میں صلح کرایا کرو۔‘‘
اور اللہ سے ڈرو۔
اللہ نے تقوے کی شرط بیان کی ہے کہ اللہ سے رحمت چاہتے ہو تو اس سے ڈرو۔ اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو۔ اور یہ اصول تاقیامت رہے گا۔
مؤمن بھائی بھائی ہیں۔ اگرچہ ان کی انواع اور رنگ مختلف ہوں، ان کی لغات اور طبقات خوشحالی اور فقروفاقے میں جدا جدا ہوں۔ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ مؤمن بھائی بھائی ہیں۔
یہ قاعدہ اور اصول ہر روز پانچ بار پوری آب وتاب سے سامنے آتا ہے۔ صفیں بنتی ہیں اور سب لوگ برابر کھڑے ہوتے ہیں۔ امیر وغر یب ، وزیر اور فقیر میں کچھ فرق نہیں ہوتا۔ اور موسم حج میں اس بھائی چارے کا بہت بڑا اظہار ہوتا ہے جب سبھی لوگ ایک ہی لباس میں ایک ہی جگہ ایک ہی عبادت ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا لوگ سب برابر ہیں اور مؤمن بھائی بھائی ہیں۔ ہمیں اس اخوت کے تقاضوں کو پورا کرنے چاہیے۔ باہمی محبت والفت اور ہمدردی کو فروغ دینا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ نےفرمایا کہ مؤمنوں کی باہمی محبت والفت اور پیار کی مثال ایک جسم کی ہے اگر ایک حصہ بیمار ہوتا ہے تو سارا جسم بخار اور بیداری کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیں ساری دنیا میں اپنےبھائیوں کے دکھ درد اور حالات کی خبر اور احساس ہونا چاہیے۔
وہ دنیا کے مشرق ومغرب یا شمال و جنوب میں جہاں کہیں ہوں ہمیں ان سے اخوت کے رشتے احساس ہونا چاہیے۔ ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے، ان کی مصیبتیں ہماری مصیبتیں ہیں ان کی امیدیں ہماری امیدیں ہیں۔ وہ خیر کی تمنا کریں تو ہم بھی ان کے لیے خیر کے متمنی ہوں اور ہم ان سے اللہ کی رضا کی خاطر محبت والفت کا تبادلہ کریں۔ دینی اور اخوت کےر اشتے کو مضبوط رکھیں۔ جہاں بھی ہوں، ہم اپنی استطاعت کے مطابق ان کی مدد کریں ہم ان کی تکالیف اور دکھوں کو اپنی ملکی مجالس میں موضوع بحث بنائیں اور ان میں سے کسی ایک کو نقصان دیے بغیر سب کی مدد کریں۔ ہمیں اس مضبوط رشتے کا احساس ضرور کرنا چاہیے۔ اور یہ رشتہ دینی اخوت کا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان آداب کے ساتھ وہ چیزیں بھی بیان کی ہیں جس سے یہ رشتہ کمزور ہوتا ہے، دشمنی اور مخالفت پیدا ہوتی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ﴾
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔‘‘ (سورة الحجرات: 11)
دین اسلام میں مذاق اڑانا منع ہے، کسی مسلمان مرد وعرت کا مذاق اڑانا جائز نہیں ، اس کے جسمانی، دینی، مالی یا معاملات کے کسی نقص کی بنا پر اس کا مذاق اڑانا درست نہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ گناہ گار بھی ہو تو اس کو عار دلانا درست نہیں۔ بلکہ تمام مسلمانوں کا ادب واحترام کرنا بے حد ضروری ہے اور یہ ممانعت تمام مسلمان مرد وخواتین کے لیے ہے کہ وہ ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع کیا کہ ہم ایک دوسرے کے عیوب نہ بیان کریں اور برےناموں سے نہ بلائیں۔ ارشاد ہوا:
’’ اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 11)
لوگوں کو ان کے بگڑے ہوئے ناموں سے نہ بلاؤ بلکہ ان کے اصلی ناموں سے بلاؤ۔ لہٰذا جو نام کسی کو ناپسند ہو اسے اس نام اور لقب سے پکارنا منع ہے یا اسے کسی جسمانی یا اخلاقی عیب کی بنا پر عار دلائیں۔ یہ مذاق، یہ عار دلانا اور برے ناموں سے کسی کو پکارنا کسی صورت درست نہیں۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں میں نفرت و دشمنی پیدا ہوتی ہے اور تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ ان میں انتشار وافتراق کو ہوا ملتی ہے۔ ان میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے اور اسلام کا عظیم مقصد اتحاد واتفاق حاصل نہیں ہوتا۔ ارشاد با ری تعالیٰ ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہی ظالم ہیں۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 11)
اللہ تعالیٰ نے مجھے اور آپ کو قرآن مجید سے نفع دے اور اس کی آیات اور ذکر حکیم سے برکت دے ، میں انہیں کلمات پر اکتفا کرتا ہوں۔
میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمہارے اور تمام مسلمانوں کے لیے بخشش کا سوال کرتا ہوں۔
تم بھی اس سے بخشش کا سوال کرو اور توبہ کرو بلاشبہ وہ نہایت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
دوسرا خطبہ
برادران اسلام! اس عظیم اصول کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور عظیم ادب سکھایا ہے تاکہ امت میں اتحاد واتفاق برقرار رہے اور ہر وہ چیز چھو ڑ دینے کا حکم دیا جو اس محبت والفت اور اتحاد واتفاق کو نقصان پہنچائے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے ۔‘‘ (سورۃ الحجرات: 12)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمانوں کےبارے میں برا گمان رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں کوئی خبر ملے یا نہ ملے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس برے اخلاق سے منع کیا ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں برا گمان نہ رکھا جائے۔ بہت سارے گمانوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ کچھ گمان بذات خود گناہ ہوتے ہیں اور کچھ گناہ تک پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ پھر ارشاد فرمایا:
’’ تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے ۔‘‘
یعنی مسلمانوں کے عیب مت ٹٹولو۔ اور ان کی گھریلو خبروں کی تلاش میں مت لگے رہو۔ جس کو وہ چھپانا چاہتے ہیں اس کی ٹوہ میں مت لگو۔ مسلمانوں کے خصوصی معاملات میں دخل اندازی درست نہیں اور نہ ان کی ٹوہ لگانا جائز ہے۔ جو چیز سامنے آ جائے اسی پر رک جاؤ اور جو خفیہ ہے اسے مت تلاش کرو۔
پھر فرمایا: ’’ ایک دوسرے کی غیبت مت کرو۔ غیبت یہ ہے کہ اپنے بھائی کا ایسا تذکرہ جو اسے ناپسند ہو اور وہ مجلس میں موجود نہ ہو۔ یہ کبیرہ گناہ اور حرام ہے جس سے قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا ہے اور اللہ نے غیبت کی بڑی بری مثال بیان کی ہے۔ فرمایا:
’’ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ ۔‘‘
یعنی تم اپنے بھائی کی غیبت کر کے گویا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھایا ہے، تو کیا مسلمان مرد ار گوشت کھانے یا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا۔ بلکہ غیبت اور چغلی عذاب قبر کے اسباب میں سے ہے۔ یہ کبیرہ گناہ ہے اور مسلمانوں کے افتراق کا ایک سبب ہے۔ مسلمانوں کے درمیان نفرت اور عداوت کے بیج بوتی ہے اس لیے اس سے اجتناب کرو۔ اللہ تم پر رحم فرمائے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں تقوے کا حکم دیا اور اس سورت میں تقوی کا حکم متعدد بار دیا ہے۔ ان مذموم اعمال سے روکنے والی چیز اللہ کا ڈر ہی ہے۔ تقویٰ وہ احساس ہے کہ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔ لہٰذا آپ گناہوں سے رک جاتے ہیں اور اس طرح آپ عذاب الٰہی سے بچ جاتے ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ایک شخص کانٹوں والی سرزمین سے گزر رہا ہے تو وہ کانٹوں سے بچ بچ کر گزرتا ہے۔ لہٰذا تقوی بہت ضروری ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اللہ کا ڈر پیدا کرنا چاہیے تاکہ وہ ان گناہوں سے بچیں۔ جو مسلمانوں کے اتحاد اتفاق کو پارہ پارہ کرتے ہیں۔
جو شخص ان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہو تو اسے توبہ کرنی چاہیے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا اختتام توبہ کے الفاظ کے ساتھ کیا ہے کہ اللہ بڑا مہربان اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ لہٰذا ہمیشہ یاد رکھو کہ اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور وہ اپنی مخلوق پر بڑا مہربان ہے۔ وہ ان کے ساتھ ان کی جانوں اور ان کے والدین سے بھی بڑھ کر رحیم وکریم ہے۔ اللہ نے گناہ گار مسلمان کے لیے توبہ کا دروازہ کھولا ہے تاکہ وہ توبہ کر لے اور کافر کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لے تو اللہ اس کے سابقہ سارے گناہ معاف فرما دے گا بلکہ اللہ کی رحمت کی انتہا تو یہ ہے کہ وہ ان گناہوں اور سیاہ کاریوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کو بتائیں کہ اللہ رحمت اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اور انہیں یہ بتائیں کہ اللہ رحیم وکریم ہے تو جبار اور قہار بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان بھی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ایک اور اصول بیان کیا ہے:
’’ لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ زبانیں اور قبیلے اور ملک اس لیے بنائے ہیں کہ تاکہ باہمی تعارف ہو سکے۔ ایک دوسرے پر فخر وغرور کے اظہار کےلیے نہیں بنائے۔ یہ ہے اس کی حکمت کہ تمہارے قبائل بنائے۔ جبکہ فخرو غرور اور عزت قبائل کی بنیاد پر نہیں، حسب ونسب کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسی آیت میں اس کا اصول بھی بتایا کہ
’’ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ۔‘‘
لہٰذا عزت وتکریم کی بنیاد حسب ونسب یا مال و دولت کی بنا پر نہیں بلکہ عزت وافتحار کی بنیاد وتقوے پر ہے۔ اس لیے سب سے بڑا معزز سب سے بڑا متقی ہے۔ یہ مقتی شخص مال ومتاع سے محروم اور حسب ونسب میں کم تر ہو سکتا ہے لیکن وہ اپنے ایمان وتقوے کی بنیاد رب کے نزدیک نہایت معزز ہے۔ اپنے اعمال کی بنا پر معزز ہے۔
’’ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے ۔‘‘
یعنی وہ تمہارے اعمال کا عالم اور تمہارے قلبی ایمان وتقوے سے باخبر ہے۔
تقویٰ ظاہر زیب وزینت اور ظاہری اظہار کا نام نہیں اور نہ یہ لباس و موقف ہے جس کا اظہار وہ لوگوں کے سامنے کرے اور کہے کہ میں متقی ہوں۔ بلکہ اللہ خوب جاننے ولا خبردار ہے اسے بخوبی معلوم ہے کہ متقی کون ہے اور ریا کار کون؟
اگرچہ تم بعض لوگوں کو تقوے کا اظہار کر کے دھوکہ دینے میں کامیاب ہو بھی جاؤ تو تم اپنے علیم وخبیر رب کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ کیونکہ وہ اعلانیہ اور خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ و ہ سینے کے راز بھی بخوبی جانتا ہے۔ لہٰذا ہمیں خوف الٰہی اللہ کی رضا اور اللہ کے مقصود اپنا نصب العین بنا لینا چاہیے۔
اگر ہم ایسا کر لیں تو ہمیں توفیق الٰہی ملے گی اور عنقریب اللہ تجھے روئے زمین پر مقبو ل ہستی بنا دے گا۔ جیسا کہ اللہ کےر سول کا فرمان ہے:
’’ جب اللہ کسی بندے کو اپنا محبوب بنالیتا ہے تو جبرائیل کہتا ہے: میں نے فلاں کو اپنا محبوب بنا لینا ہے تو تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر جبرائیل آسمان والوں میں اعلان کرتا ہے کہ فلاں بندہ اللہ کا محبوب بنالیا ہے تو تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر جبرائیل آسمان والوں میں اعلان کرتا ہے کہ فلاں بندہ اللہ کا محبوب ہے تم بھی اسے محبوب بنا لو۔ لہٰذا اہل آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اسے اہل زمین کا بھی محبوب بنا دیا جاتا ہے۔‘‘
لوگوں کے دلوں میں محبت ڈالنے اور روئے زمین پر اسے محبوب بنانے والا اللہ ہے۔ جو آنکھ کی خیانت اور سینے کے رازوں کو جانتا ہے جو خفیہ اور علانیہ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے اور اس سے خبردار ہے۔ لہٰذاتم اپنے اعمال لوگوں کودکھانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے کرو۔ اللہ کو راضی کرنے کی حرص کرو، الہ کے تقرب اور اس کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرو پھر اللہ تمہیں لوگوں کا محبوب بنا دے گا۔
برادران اسلام! جان لو ، دنوں میں سے جمعہ کا دن بڑا عظیم ہے۔ جمعہ کے روز اللہ کے رسول پر بکثرت درود پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے بکثرت درودوسلام پڑھو۔

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اے اللہ خلفائے راشدین ابو بکر ، عمر، عثمان اور علی اور دیگر تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔
اے اللہ ان سے راضی ہو جا اور انہیں بہترین جزاء عطا فرما۔
اے اللہ انہیں دین اسلام کی تبلیغ کا عمدہ بدلہ عطا فرما۔ دین اسلام کی حفاظت کی جزا عطا فرما۔
اے اللہ تابعین کرام اور تبع تابعین سے راضی ہو جا اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنی خوشنودی عطا فرما۔
اے ذوالجلال والاکرام
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔ اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما۔اور مسلمانوں کی مدد فرما۔
اے اللہ فسادیوں، ملحدین اور ظالموں کو تباہ کر دے۔
اے اللہ دین کی مدد کرنے والوں کی مدد فرما۔ دین کے دشمنوں کو رسوا کر دے۔ اے اللہ اسلامی جمہوریہ باکستان کو خوشحالی اور امن وامان عطا فرما۔اس کے دشمنوں کے منصوبے خاک میں ملا دے۔ حاسدین کے حسد سے محفوظ فرما اور تمام اسلامی ممالک کو خوشحال اور پر امن بنا دے اور تمام اسلامی ممالک کوبھی۔
یا حی یا قیوم و یاذوالجلال والاکرام
اے اللہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات سنوار دے۔
اے اللہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے حالات سنوار دے۔
اے اللہ شام، عراق، برما، فلسطین، لیبیا، یمن، کشمیر اور ساری دنیا میں مسلمانوں کا مدد گار ہو جا۔
اے اللہ کمزوروں کا والی بن جا۔ اے اللہ ان کا حمایتی اور مددگار بن جا۔
اے اللہ ان کا مددگار اور حمایتی بن جا۔
اے مسکینوں پر رحم کرنے والے ان پر رحم فرما۔ اے دکھیوں کے دکھ دور کرنے والے ان کی مدد فرما۔
اے اللہ ان کا صرف تو ہی ہے اللہ ان کا سہارا صرف تو ہے ان کا جرم صرف یہ ہے کہ اللہ عزت وغلبے والے پر ایمان لائے ہیں۔ اے اللہ ان کا بدلہ لے لے اور ظالموں کو پکڑ لے بلاشبہ وہ تجھ سے بھاری نہیں۔ اے اللہ سرکش ظالموں کو شکنجے میں کس لے بلاشبہ وہ تمہیں ہرا نہیں سکتے۔ اے اللہ ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ اے سچے معبود!
اے اللہ مسجد اقصیٰ کو تاقیامت سربلند کر دے۔ اے اللہ ہمارے فلسطینی بھائیوں کا مددگار ہو جا۔ اے اللہ ان کا حمایتی اور مددگار بن جا۔
اے اللہ انہیں یہودیوں کے قبضہ گروپ پر فتح یاب کر دے۔ اے اللہ ہمیں زندگی میں مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی سعادت نصیب فرما۔ جبکہ وہ ظالم یہودیوں کے پنجے سے آزاد اور پاک ہو چکی ہو۔
اے اللہ ہمارے گناہ معاف کر دے۔ ہمارے عیب چھپا لے، ہمارے معاملات آسان بنا دے، اپنی رضا والے کاموں کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ ہماری اور ہمارے سابقہ مؤمن بھائیوں کی مغفرت فرما دے اور ہمارے دلوں میں مؤمنوں کے لیے عداوت نہ رکھ بے شک تو بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے۔
اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ ےکیا اور رحم نہ فرمایا تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہ کرنا اور ہمیں اپنی رحمت سے نواز دے بلاشبہ تو ہی عطا کرنے والا ہے۔
اے اللہ ہمارے والدین، دادا پردادا، کی بخشش فرما دے۔
یا حی یا قیوم
اے اللہ ہمارے والدین، بہن بھائیوں، ہماری اولاد اور تمام مسلمانوں کو معاف فرما دے۔
اے اللہ تما م زندہ اور فوت شدہ مسلمان مرد و عورت اور مؤمن مردو خواتین کو معاف فرما دے۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں