42

مخلوط نماز جنازہ-انصار عباسی

پاکستان کے جید علماء کرام کی طرف سے مخلوط نماز جنازہ پڑھنے کے عمل پر ایک بیان جاری کیا گیا جسے عمومی طور پر میڈیا نے بلیک آوٹ کیا۔ شاید کسی ٹی وی چینل پر ایک آدھ مرتبہ اس بیان کے ٹکرز تو چلائے گئے ہوں لیکن اس خبر کو اُس اہمیت کے ساتھ نہ دیا گیا جو انتہائی ضروری تھا تاکہ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوںکو علم ہو سکے کہ ایسے عمل کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ ویسے بھی صحافتی اصولوں کو ہی مدنظر رکھا جاتا تو ٹی وی چینلز نے اگر بار بار مخلوط نمازجنازہ پڑھنے کے متنازعہ عمل کو دکھایا تو ایسے میں ضروری تھا کہ علماء کرام کے اس بیان کو بھی اُسی اہمیت کے ساتھ مختلف اوقات کے خبرناموں میں شامل کیا جاتا۔ لیکن افسوس ایسا نہیں کیا گیا اور اس کی وجہ وہ سیکولر سوچ ہے جو پاکستانی میڈیا میں اس قدر ہاوی ہو چکی ہے کہ ہر گزرتے دن کیساتھ اسلام کی بات کرنا مشکل سے مشکل بنایا جا رہا ہے۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ سیکولر اور لبرل سوچ کو ایک ایجنڈے کے ساتھ یہاں پروموٹ گیاجا رہا ہے جس کا نشانہ اسلامی نظریہ پاکستان ہے اور جس کے لیے میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ سیکولر سوچ کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہی سوچ پاکستان میں غالب ہو۔ اگر کوئی اس سوچ کے خلاف آواز اٹھائے تو سب اُس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور یوں اکثریت اختلاف کے باوجود خاموش رہنے میں ہی اپنی آفیت سمجھتے ہیں۔ میڈیا کا حصہ ہونے کی وجہ میں جانتا ہوں کہ میڈیا کے کارکنوں کی اکثریت اپنے معاشرتی اور دینی اقدار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس گراوٹ کو روکنے سے قاصر ہیں۔ سیاستدان اور حکمران تو میڈیا کی چال دیکھ کر ہی اپنی چال کا فیصلہ کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پنجاب کے ایک وزیر نے جب خواتین کو کالج یونیورسٹیوں میں پردہ اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے حاضریوں میں رعایت دینے کی بات کی تو ٹی چینلز نے ایسا شور شرابا کیا جیسے کوئی بڑا ظلم ہو گیا ہو۔ نتیجتاً وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے ترجمان کے ذریعے فیصلہ کو واپس لینے کا اعلان کیا۔ اب میڈیا میں موجود چند سیکولر حضرات مخلوط نمازہ جنازہ پڑھانے کے متنازعہ عمل کو سراہ رہے ہیں۔ اچھا ہوا کہ اس بار خاموش رہنے کی بجائے علماء کرام نے اس عمل کو افسوسناک قرار دیا۔قارئین کرام کی رہنمائی کے لیے علماء کرام کے اس بیان کو میں اپنے اس کالم میں شامل کر رہا ہوں تاکہ اُن کی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ مندرجہ ذیل میں بیان پیش کیا جا رہا ہے:
’’اطلاعات کے مطابق ایک معروف خاتون کی نماز جنازہ اس طرح پڑھی گئی ہے کہ صفیں مردوں اور عورتوں سے مخلوط تھیں۔اور ایک ہی صف میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ کھڑے تھے۔ شرعی اعتبار سے یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ نماز جنازہ جیسی عبادت کی ادائیگی میں شرعی احکام کا لیحاظ نہیں رکھا گیا۔ اول تو کسی کھلے میدان میںخواتین کا نماز جنازہ کے لیے بذات خود جانا درست نہیں ہے، اور صحیح بخاری کی صحیح حدیث میں خواتین کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ پھر اگر خواتین کسی وجہ سے شریک ہوںتو مردوں کی صف میںان کا کھڑا ہونا بلکل ناجائز ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نماز جنازہ میں خواتین کی شرکت نہیں ہوتی تھیـ‘ اور فرض نمازوں میں اگر فجر یا عشاء کے وقت خواتین جماعت میں شریک ہوتیں تواس بات کا اہتمام کیا جاتا تھا کہ ان کی صفیں مردوں کے پیچھے بالکل الگ ہوں ‘ اور کسی قسم کا اختلاط نہ ہو۔ لہٰذا مخلوط صفیں بنا کر نماز جنازہ پڑھنا کسی طرح جائز نہیں ہے۔‘‘
مندرجہ بالا بیان جاری کرنے والے محترم علماء کرام میں مفتی تقی عثمانی صاحب، مفتی منیب الرحمن صاحب، مفتی رفیع عثمانی صاحب، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر صاحب، مفتی محمد جان نعیمی صاحب، مفتی سلیم اختر مدنی صاحب، مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب اور مفتی سید عدنان کاکاخیل صاحب شامل تھے۔ ان علماء حضرات نے اس بیان کے ساتھ یہ وضاحت بھی کی: ’’خالص دینی مسئلہ کو سیاسی بیان بازی کے لیے استعمال کرناہمارا طریقہ نہیں ہے۔ ہم نے شرعی مسئلہ کی وضاحت کرنا اس لیے ضروری سمجھا کہ ایک واقعہ ہوا ہے تو کل کوئی اسے بطور نظیر پیش نہ کرے کہ علماء نے کوئی گرفت نہیں کی تھی۔‘‘

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں