51

آخرت کی فکر کیجئے

مسجد نبوی کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حسین بن عبد العزیز آل الشیخ ﷾
جمعۃ المبارک 30 جمادی الاول 1439ہ بمطابق 16 فروری 2018
عنوان: آخرت کی فکر کیجئے
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
پہلا خطبہ
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس کا فرمان ہے:
’’مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (الاعلی: 16۔ 17)
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ ہی بلند و بالا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں نازل فرما آپ ﷺپر، آپ ﷺ کی آل پر اور نیک وپرہیزگار صحابہ کرام پر۔
بعد ازاں! اے مسلمانو!
میں اپنے آپکو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ فرمان الٰہی ہے:
’’سفر حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے جاؤ، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے۔‘‘ (البقرہ: 197)
اے مسلمانو!
لوگوں کے حال پر غور کرنے والے کو یہ نظر آتا ہے کے لوگ دنیا کی طرف زیادہ مائل ہیں، اسے حاصل کرنے میں لگے ہیں، ان کی امیدیں اس ہی کے ساتھ وابستہ ہیں، دنیا کے سوا ان کی کوئی فکر نہیں، وہ اسی کے لیے دوستیاں اور دشمنیاں کرتے ہیں، اسی کیلئے راضی اور ناراض ہوتے ہیں۔
مصیبت میں گرفتار ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ انسان اپنی خواہشات سے نہ پھرے بلکہ وہ انہی پر قائم رہے۔
صاحب توفیق مومن آخرت کو ترجیح دیتا ہے اور اپنی زندگی اللہ تعالی کے وضع کردہ طریقہ کے مطابق جیتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔‘‘ (القصص: 77)
مومن اپنا رزق حلال طریقے سے کمانے کے لئے اسباب پر عمل کرتا ہے اور خوب محنت کرتا ہے۔ زمین کو اس طرح آباد کرتا ہے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے۔ اس کی زندگی میں کھیل کود کا اتنا حصہ ہوتا ہے جو اس کے دین کو یا آخرت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ اس آیت کا بھی یہی مفہوم ہے کہ:
’’اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔‘‘
اسی طرح فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرہ: 201)
ابن کثیر علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: اس دعا میں ساری خیر کا سوال موجود ہے اور اس میں ہر برائی سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ دنیا کی بھلائی میں دنیا کی ہر بھلی چیز آجاتی ہے، جیسے عافیت، کھلا گھر، اچھی بیوی، حلال رزق، نفع بخش علم، نیک عمل، اچھی سواری اور بھلی شہرت۔
اے مسلمان بھائیو!
جو آخرت کی فکر کرتا ہے اور اس کے لیے عمل کرتا رہتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اسے دنیا کی فکروں سے بے نیاز کر دیتا ہے، اسی طرح جس کی سوچ پر دنیا ہی چھا جائے، اسکے دل پر بیٹھ جائے اور اسکی سب سے بڑی ترجیح بن جائے تو وہ اپنی دنیا کا غلام بن کر رہ جاتا ہے، پریشانی میں ڈوبا رہتا ہے، کسی طرف اس کا دھیان نہیں لگتا، بہت زیادہ حاصل کرنے کے باوجود بھی قناعت نہیں کرتا اور تھوڑے پر بھی خوش نہیں ہوتا۔
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
جسکی فکر آخرت سے وابستہ ہو، اللہ تعالی اس کے دل کو بے نیاز کر دیتا ہے، اس کے معاملات سمیٹ دیتا ہے اور دنیا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف بڑھتی چلی آتی ہے، اور جسکی فکر دنیا سے وابستہ ہو، اللہ تبارک وتعالیٰ فقر و فاقہ کا ڈر اس کی آنکھوں کے سامنے رکھتا ہے، اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے اور اسے دنیا سے بھی وہی نصیب ہوتا ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے حق میں لکھ دیا ہوتا ہے۔
اسے امام احمد اور امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام عراقی نے فرمایا ہے کہ اس کی سند ٹھیک ہے، بہت سے اہل علم نے اسے صحیح کہا ہے۔
دنیا میں ہر مسلم کا شعار یہ ہوتا ہے کہ:
’’ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے۔‘‘ (النساء: 77)
اور جب انسان یہ اچھی طرح سمجھ لیتا ہے تو پھر وہ دنیا کو آخرت کی کھیتی بناتا ہے۔ اس کی دنیا اس پر غالب نہیں آتی اور وہ آخرت پر اپنی خواہشات کو ترجیح نہیں دیتا۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
’’یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے رب کے ہا ں صرف متقین کے لیے ہے۔‘‘ (الزخرف: 35)
اے مسلمان! دنیا کے دھوکے میں آنے سے بچ جا! غفلت، خواہشات نفس اور تمناؤں کا غلام نہ بن! فرمان الٰہی ہے:
’’رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔‘‘ (آل عمران: 185)
اللہ کے بندو!
جس کی دنیا اسے آخرت سے غافل کردے اور جو دینی احکام کے خلاف جاتے ہوئے خواہشات نفس کی پیروی کرنے لگے، وہ سب سے بڑے گھاٹے میں پڑ جاتا ہے اور سب سے بڑی بد بختی کا شکار ہو جاتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔‘‘ (المنافقون: 9)
اسی طرح فرمایا:
’’پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں۔ البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گی۔‘‘ (مریم: 59۔ 60)
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
’’درہم ودیناراور چادر وکمبل کا غلام(لباس کا پرستار) ہلاک ہوجائے، اگر اسے دیا جائے تو خوش ہے نہ دیاجائے تو ناراض ہے۔‘‘
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اللہ سے غافل کرنے والی ہر چیز سے دور ہوجائے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (الاعلی: 16۔ 17)
اللہ مجھے اور آپکو قرآن کریم میں برکت عطا فرمائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ تعالی سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ:
اللہ کے لیے بے انتہا، پاکیزہ اور بابرکت تعریف ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں نازل فرمائی آپ ﷺ پر پھر آپ ﷺ کی آل اور صحابہ کرام پر۔
اے مسلمانو!
آج کے دور میں دنیا کی گمراہ کرنے والی چیزوں نے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کر رکھا ہے، لوگ دنیا کی من پسند چیزوں کی طرف جھانک رہے ہیں۔ آج ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کے لیے تھوڑی دیر رک جانا چاہیے، حقائق پر غور کرنا چاہیے اور عاقبت کی فکر کرنی چاہیے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’یہ مال اور یہ اولاد محض دُنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی اُمّیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔‘‘ (الکہف: 46)
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
میرا دنیا کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ میری اور دنیا کی مثال تو بس ایسی ہے جیسے کوئی سوار مسافر گرمیوں کے کسی گرم دن میں تھوڑی دیر کے لئے کسی درخت کے نیچے آرام کے لئے رک گیا ہو اور پھر وہ اٹھ کر اپنی منزل کی طرف چل پڑا ہو۔
نبی کریم ﷺ کی اس نصیحت کو بھی سنیے، اسے قبول کیجئے اور اس پر عمل کیجئے۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:
’’دنیا میں یوں رہنا جیسے تم کسی پردیس میں ہو یا کوئی مسافر ہو۔ ‘‘
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمایا کرتے تھے:
صبح ہو جائے تو شام کی امید نہ لگایا کرو اور اگر شام ہوجائے تو صبح ہونے کی امید نہ لگایا کرو۔ یعنی کیونکہ موت کسی وقت بھی آ سکتی ہے، بیماری سے پہلے اپنی صحت کے دنوں کو غنیمت جانو اور موت سے پہلے اپنی زندگی کو غنیمت سمجھو! اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
اللہ تعالی نے ہمیں نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
اے اللہ رحمتیں برکتیں اور سلامتی نازل فرما ہمارے نبی اور رسول محمد ﷺ پر۔
راضی ہوجا چاروں خلفائے راشدین سے، تمام صحابہ کرام سے، اہل بیت سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے۔
اے اللہ تمہاری مغفرت ہمارے گناہوں سے بہت بڑی ہے ہم اپنے اعمال سے زیادہ تیری رحمت کی امید پر ہیں اے اللہ ہمیں معاف فرما اور ہم پر رحم فرما اے معاف کرنے والے اور رحم فرمانے والے!
اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی نصیب فرما اور آخرت میں بھی بھلائی اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما اے اللہ جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برا ارادہ رکھے تو اسے خود ہی میں مشغول فرما اور اسی کی چالوں میں اسے ہلاک فرما اے پروردگار عالم اے اللہ دشمناں نے اسلام کو ہلاک فرما اے اللہ ان پر اپنا حصہ اور عذاب نازل فرما اے الہ حق! جو مسلمانوں کے بارے میں برا ارادہ رکھے اے ذلجلال ولاکرام کہ میں اس میں اپنی قدرت کے عجائب دکھا۔
اے اللہ اے ذالجلال ولاکرام فلسطین میں ہمارے بھائیوں کی مدد فرما ان کا معاون اور مددگار اور نگہبان بن جا۔
اے اللہ مسلمانوں کو پرہیزگاری پر اکٹھا فرما اے اللہ مسلمانوں کے دلوں کو پرہیزگاری پر اکٹھا فرما اے پروردگار عالم اے اللہ مسلمانوں کو پرہیزگاری اور تقویٰ پراٹھا فرما اے اللہ اے زندہ جاوید ہمارے حکمران کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جیسے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔
اے اللہ زندہ اور مردہ مومن مردوں اور مومن عورتوں مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو معاف فرما۔
اے اللہ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفا عطا فرما ہماری اور تمام مسلمانوں کی پریشانیوں کو دور فرما اے اللہ ہمارے لیے ہر مشکل آسان فرما اے اللہ ہمارے لیے ہر مشکل آسان فرما اے اللہ ہمارے فقیروں کی مدد فرما گنہگاروں کو ہدایت نصیب فرما یاذا لجلالی والاکرام اے اللہ ہمارے نیک لوگوں کو نیکی پر ثابت قدمی نصیب فرما
اے اللہ تو ہی قابل تعریف اور بے نیاز ہے ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہمیں بارشیں نصیب فرما اے اللہ ہمیں بارشیں نصیب فرما اے اللہ ہمیں بارشیں نصیب فرما اے اللہ ہمیں بارشیں نصیب فرما اے اللہ ہمارے ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو رحمت کی بارشیں نصیب فرما اے اللہ ہمارے ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو رحمت کی بارشیں نصیب فرما!
اے اللہ ای زندہ و جاوید ہم پر رحم فرما اے اللہ ہم پر بہت تنگی آ گئی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ہے اللہ تم پر تنگی آ گئی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ اے کریم! ہمیں جلد بارشیں نصیب فرما اے اللہ اے زندہ جاوید تمام مسلمانوں کو جلد آنے والی بارشیں نصیب فرما۔
اللہ کے بندو اللہ کو کثرت سے یاد کرو کو صبح شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آخرت کی فکر کیجئے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں