35

عدل ، مگر یوں نہیں مائی لارڈ -یوسف سراج

زندگی کی بنا عدل پر ہے ، افراد اور خاندانوں کو ، معاشروں اور ملکوں کو زندہ رہنے کے لیے سانس لینے سے بھی زیادہ عدل کی ضرورت ہے ، عدل کی ضرورت آج بھی ہے ، کل بھی تھی ، اور جب تک انسان زندہ ہے یہ ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ عدل مگر ہم میں موجود نہیں۔ ہمارے رویے عدل سے خالی ہیں۔ ہماری محبت اور نفرت عدل سے خالی ہے ، اور شاید انھی دو رویوں میں عدل سب سے زیادہ مشکل بھی ہے۔ اسی لیے اس چیز کا تذکرہ بالخصوص اللہ کی آخری کتاب میں ہوا، فرمایا، کسی کی دشمنی تمھیں عدل سے دور نہ کر دے ۔ مخالف کیا خود اپنے خلاف بھی معاملہ ہو تو کبھی عدل کے سامنے سر نہ اٹھاؤ۔ اگلے دن ایک دوست نے امام ابنِ حجر کا قول لکھ بھیجا کہ مدحت اور مذمت دونوں میں ایک سا رہنا ، یہی آدمی کے توازن اور اخلاص کی علامت ہے۔ یعنی تعریف کرتے یا کسی کو برا کہتے بھی عدل ہی کا پاس ہو۔ عدل ملازمین میں نہ ہو تو ادارے اور اگر عدل اولاد میں نہ ہو تو گھر کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ صحابیٔ رسول سیدنا نعمان بن بشیر نے بیوی کے کہنے پر بیٹے کو باغ دیا اور رسول رحمت کو گواہ بنانے دربارِ رسالت میں حاضر ہو گئے ۔ پوچھا ساری اولاد کو دے چکے ، عرض کی نہیں ، فرمایا ، اللہ سے ڈرو! تب میں اس ظلم پر کیسے گواہ بن سکتا ہوں۔ روئے ارض پر بیوی کو سب سے بہترین متاع قرار دیا گیا، البتہ اس متاع میں اضافہ کرنے کی شرط بھی عدل ہی رکھی گئی۔ ہر چیز کی اپنی ایک حکمت ہوتی ہے۔ زیادہ شادیاں رسول ِ رحمت کی سیرتِ طیبہ کا ایک پر حکمت اسلوب تھا۔ دو مقاصد تو اس کے صاف عیاں تھے۔ باہر کی باتیں یاد رکھنے کو تو لاکھوں صحابہ تھے ، البتہ خانگی مسائلِ دینی امت تک زیادہ سے زیادہ منتقل ہو جائیں اور یہ کہ زیادہ قبائل سے رسول رحمت کی نسبت جڑ جائے اور یوں اسلام کو تقویت مل جائے۔ بیویوں میں بھی آپ نے کمال عدل ملحوظ رکھا، ایک مرتب نظام کے تحت۔ بیویوں کے گھروں میں تشریف لے جانے کی باری مقرر تھی ، سفر میں ساتھ لے جانے کے لئے قرعہ ڈال لیا جاتا۔ یہ سب ہوتا، البتہ پھر بھی آپ دعا فرماتے، الہٰی ظاہری معاملات میں عدل کی ہر ممکن تدبیر اپنا لی ، دل البتہ تیری دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ سو دل میں کسی بیوی کی محبت زیادہ ہو جائے توگرفت نہ فرمانا۔ یعنی عدل کی پوری سبیل کر لینے کے باوجود عدل کی فکر۔ برسبیلِ تذکرہ رسول ِ رحمت سے نسبت و تعلق بھی کیا نرالا اعزاز ہے۔ سرکارؐ نے فرمایا، سب کے نسب اور رشتے داریاں قیامت کو منقطع ہو جائیں گی ، البتہ میرے رشتے برقرار رہیں گے۔ امام احمد ابن حنبل کو کئی عباسی خلفا کا ستم سہنا پڑا۔ کوڑے کھا کھا کے کھال سن ہو گئی اور جسم کے بعض حصے بے جان بھی ہو گئے۔ کوڑے برس برس کر کھال ادھڑ گئی تھی ، کئی زخم رستے تھے۔ معالجہ بھی ہوا۔ طبیب اناڑی تھا یا شاید کچھ غلطیاں کھلاڑیوں سے بھی ہو جاتی ہیں۔ عرب کہتے ہیں تیز رو گھوڑا بھی کبھی ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے ، غلطی سے زخموں کے ساتھ سن جسم بھی سی دیا۔ بعد میں اس کی اذیت ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ نئے طبیب کو اس بے پناہ درد کی وجہ سمجھ نہ آئی تو وہ کیس ہسٹری لینے پرانے طبیب کے پا س پہنچا۔ بہت غور کے بعد اس نے یہی اعتراف کیا کہ شاید نا سمجھی میں بے جان جسم سی دیا گیا ،جس سے درد کا یہ فوارہ ابلا۔ جسم کھول کر دوبارہ سی دینا پڑا۔ تعجب کی بات لیکن یہ کہ اس دوران برپا ہونے والے قیامت خیز درد کے دوران امام احمد درد دینے والے حکمران کے لیے دعا کرتے رہے۔ کسی نے تعجب سے پوچھا کہ جس شخص نے بے پناہ اذیت دی ، اذیت کی معراج پر اسی درد دینے والے کے لیے دعا کیوں؟ فرمایا، وہ ستم گر ہی سہی ، بہرحال بنو عبا س میں سے ہے۔ یعنی ، رسول اللہ ؐ کا رشتے دار۔ سوچتا ہوں کہ کل روزِ حشر اگر وہ اس ظلم کی پاداش میں دھر لیا گیا تو اسے دیکھ کے کہیں رسول ِ رحمت کو دکھ نہ ہو ۔ سو جو مار کھائی وہ رسول اللہ ؐ کے موقف کے دفاع میں کھائی اور جو دعا کرتا ہوں ، وہ روزِ حشر رسول ِرحمت ؐکی خوشی کی خاطر کرتا ہوں۔ یہ ہوتی ہے نسبت اور یہ ہوتی ہے انسانی عظمت کی معراج، یعنی اگر عدل میں گنجائش دینی ہے تو وہ خود کو نہیں دشمن کو دی جائے گی۔ صوفیا کا قول بھی یہی سنا، دوسروں پر کبھی سختی نہ کرو ، اور خود کو کبھی معاف نہ کرو۔ عدل کا آغاز بھی گھر سے کیا جاتا ہے۔ رسولِ رحمت نے فرمایا، آج کے بعد جاہلیت سے چلی آتی خون ریزی حرام ہے اور سب سے پہلے میں اپنے چچا زاد بھائی ربیعہ بن حار ث بن عبدالمطلب کا خون معاف کرتا ہوں۔ فرمایا، آج کے بعد جاہلیت کے تمام سود میرے پاؤں تلے ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس کا سود معاف کرتا ہوں۔ سیدنا علی ؓ عدالت میں پیش ہوئے۔ قاضی نے کہا، ابوالحسن ! ادھر تشریف لائیے۔ شیرِ خدا نے فرمایا، مجھے کنیت سے مت پکارو ۔ کنیت سے تخاطب یک گونہ بے تکلفی کا مظہر ہوتا ہے۔ جو فریق مخالف کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ درست نہیں۔
ہمارے منصف پریشان ہیں کہ ان کی باتوں کے مطلب غلط لیے جاتے ہیں۔ کہا کچھ جاتا ہے، رپورٹ کچھ ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے ، یہ سوچنے کی بات ہے۔ اچھا ہے منصف سوچتے ہیں۔ دراصل انصاف اور عدل کی جتنی ضرورت ہے۔ اتنی ہی ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ عدل لگے بھی عدل ہی۔ عدل کا ایک اعتبار اور ایک وقار ہوتا ہے۔ بعض لفظ اور رویے جسے مجروح کر دیتے ہیں۔ ضرورت عدل کرنے کی بھی ہے اور عدل کا وقار بحال کرنے کی بھی ہے۔ جہاں جہاں وقارِ عدل کی کمی ہے وہ دور کر لی جائے ،اور جہاں جہاں شکوک کے رخنے ہیں، وہ پر کر لیے جائیں۔ عدل ہماری ضرورت ہے ، ہم عدل کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ یہ اچھی خبر ہے کہ چھیانوے گھنٹوں میں زینب کے قاتل کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ اس کے والد کی بات بھی البتہ سننی چاہئے کہ سزا مجمع عام میں دی جائے ، قرآن کی بھی یہی تعلیم ہے۔

Hits: 2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں