31

عاصمہ جہانگیر کی موت اور تکلیف دہ روئیے -یوسف سراج

اے بھائی! سچ کہوں اب تو مرنے سے بھی بہت ڈر لگنے لگاہے۔ اپنی یا اپنوں ہی کی نہیں مخالفوں کی موت بھی اب تو ہمیں کچھ نہ کچھ مار ہی جاتی ہے۔جب کوئی ایک موت ہمیں مزید مشتعل ، مزید سنگدل اور زندوں بلکہ دوستوں سے بھی دور کردے تو ہمیں کیوں نہ موت سے کچھ زیادہ ہی ڈر لگنے لگے۔ نہیں معلوم ہم کس سفاکی کے گھیرے میں آ گئے ہیں کہ ایدھی مر جائے ، جنید جمشید چلا جائے ، مشال خان کا مسئلہ ہو یا جنرل حمید گل وفات پا جائے۔ ہم بہت بے ڈھنگے پن سے آپس میں الجھ پڑتے ہیں، ہم آپے سے یوں باہر ہو جاتے ہیں کہ اپنے پرائے تک کی تمیز بھلا دیتے ہیں۔ کسی موت سے اب ہمیں اپنی موت یاد نہیں آتی۔ یہ ہمیں تند خو اور سخت دل بنا دیتی ہے۔ کبھی حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے اپنے جینے کے لیے یہ کیسا مشکل عہد بنا لیا ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو بعید نہیں معمولی مخالفوں کی موت پر بھی ہم ڈھول پیٹنے اور پارٹیاں منعقد کرنے لگیں۔ یقین کیجئے ، ایسا غیرانسانی دنگل ہماری موتوں کو اور اذیتناک کردے گا۔ شاید ہم ہمیشہ سے ایسے نہ تھے۔ سنا ہے ایک دور میں ہندو ہمارے رمضان کا احترام کرتے تھے اور پردہ دار مسلمان خواتین کے باہر نکلنے پر وہ دیوار کی طرف منہ کرکے کھڑے ہو جاتے تھے۔ اسحق بھٹی صاحب ادارہ ثقافت اسلامیہ کے سکالر اور نامور مصنف تھے، ان کی سوانح عمری پڑھیں تو اس میں اتنا شاید مسلمانوں کا تذکرہ نہ ہو، جتنا سکھوں کا ذکر ملے۔ سچ کہتا ہوں ، یہ پڑھ کے مجھے لگا کہ سکھ بھی انسان ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں کی کچھ جماعتوں کا لٹریچر پڑھ کر مجھے ہندو ویسی ہی کوئی مخلوق لگتی تھی ، جیسی کسی دور میں یورپ کے ہاں عورت سمجھی جاتی تھی۔ تب پادری عورت کے بارے یہ علمی غور کیا کرتے کہ آیا عورت انسان بھی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ پھر میں نے سید سلیمان ندوی کی کتاب عرب و ہند کے تعلقات پڑھی تو پتہ چلا ہندو بھی سیدنا آدم ہی کی اولاد ہے۔ اسحاق بھٹی صاحب غضب کے خاکہ نویس تھے ، میرزا ادیب اور مشفق خواجہ مرحوم نے ان کے فنِ خاکہ نویسی کی تحسین فرمائی۔ بھٹی صاحب ایک مسلک کے عالم دین تھے، اس کے باوجود ان کی کتابوں میں ہر مسلک کے علما کے عقیدت مندانہ خاکے ملتے ہیں۔ شیعہ ، بریلوی ، اہلِ حدیث ، دیو بندی اور سکھ سبھی کا ذکرِ خیر ان کی کتابوں میں موجودہے۔ ہمارے قرآن میں بھی اہلِ کتاب کی خامیوں کے ساتھ ساتھ ان کی خوبیوں کا بھی اعتراف ملتاہے۔ مکرم ارشاد عارف صاحب کے مرحوم برادرسید خورشید گیلانی کی ’رشکِ زمانہ لوگ‘ کیا منفرد اسلوب کی کتاب ہے ، شاہ صاحب نے اس میں عبدالجبار شاکر اور اسحٰق بھٹی صاحب کا کمال محبت و عقیدت سے تذکرہ لکھا۔ یہ دونوں شاہ صاحب کے ہم مسلک نہ تھے۔ روزنامہ پاکستان کے مذہبی صفحے کے انچارج اور ممتاز کالم نگار رانا شفیق پسروری صاحب کی دلچسپی کا ایک موضوع ہندو شعرا کا نعتیہ کلام ہے۔ تو کہنا یہ ہے کہ کبھی ہم یوں بھی جیا کرتے تھے۔ یہی دراصل دعوت کے لیے سازگار ماحول ہے اور دعوت ہی ہمارا اصل فریضہ ہے۔ رسولِ گرامی کی سیرت دیکھئے تو دنگ رہ جائیے۔ آپ تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ گزرا ، احتراما آپ کھڑے ہو گئے۔ کسی نے بتایا ، یہ تو یہودی کا جنازہ ہے ، فرمایا توکیا یہودی انسان نہیں ہوتا؟ مجھے نہیں معلوم کہ عبداللہ بن ابی منافق سے زیادہ بھی کسی نے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کو دکھ پہنچایا ہو۔ قرآن کے الفاظ میں جہنم میں منافق کافروں سے بھی خطرناک گہرائی میں ہوگا۔ عبداللہ بن ابی منافق ہی نہ تھا، دورِ نبوت کا رئیس المنافقین بھی تھا۔ ساری زندگی اس نے اسلام کے خلاف ایسا ایسا زہر اگلا کہ کبھی خود اس کا بیٹا ہی زچ ہو کر تلوارنکال لیتا۔ کوئی لمحہ اس نے اسلام کے خلاف ریشہ دوانی کا ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ فوت ہو گیا تو رسولِ رحمت اس کا جنازہ پڑھانے تشریف لے گئے بلکہ اپنا کرتا بھی اسے پہنایا ۔ تب آسمانی حکم آ گیا کہ آپ ستر بار بھی اس کے لیے استغفار کریں تو خدا کے ہاں یہ بخشا نہ جائے گا۔ ستر بار کا مطلب تھا کہ اب اسے کوئی دعا فائدہ نہیں دے گی ، رسولِ رحمتؐ نے فرمایا، اگر ستر بار کا مطلب ستر بار ہی ہوتا، تو میں اس کی بخشش کی دعا ستر بار سے زیادہ کر دیتا۔ ایک ہمارے نبی تھے کہ جو نام نہاد کلمہ گو دشمنانِ اسلام کے لیے بھی ایسا نرم گوشہ رکھتے تھے اور دوسری طرف ہم ہیں کہ جوکلمہ گو لوگوں کے لیے بھی اپنے الفاظ مناسب کرنے کو تیار نہیں۔ یزید بن قیس قاتلین عثمان کا سرغنہ تھا۔ یہ بد زبان سیدہ عائشہؓ کی شان میں بھی گستاخی کیا کرتا۔ ایک دن سیدہ اس کی نا معقولیت کا تذکرہ کر رہی تھیں کہ کسی نے بتایا وہ تو دنیا سے رخصت ہو گیا، فورا سیدہ کی زبان پر استغفار جاری ہو گیا۔ پوچھنے والوں نے تعجب کیا،توسیدہ نے فرمایا، رسولِ رحمتؐ نے فوت شدگان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ کسی کواپنے نظریات کے خلاف بولنے والوں کا تعاقب نہیں کرنا چاہئے ، یا کسی قسم کی مداہنت کا شکار ہو جانا چاہئے۔ لیکن گزارش صرف اتنی ہے کہ مخالفت کو صرف نظریات تک رکھنا چاہئے اور انسانی کیفیات اور مواقع کی نزاکت کا بہرحال خیال رکھنا چاہئے ، ہم کسی کے ردِ عمل میں مسلمان نہیں بنے کہ ردِ عمل کو اپنا طریقہ بنا لیں۔ کسی کی موت کوئی فیصلہ کن مرحلہ بھی نہیں ہوتا۔ فکری اختلاف کسی ایک مخالف کی موت سے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہاں البتہ سیرت رسول یہ ہے کہ خواہ ہمارے نزدیک کوئی نام نہاد مسلمان ہی کیوں نہ ہو،بدزبانی سے احتراز کرتے ہوئے اس کی موت کا احترام ضرور کرنا چاہیے۔ کچھ اوقات تھم جانے کے بھی ہوتے ہیں۔ سیدنا موسیٰ طور پہاڑ پر گئے تو ان کی عدم موجودگی میں سامری جادوگر نے لوگوں کو سونے سے بنے بچھڑے کی عبادت پر لگا دیا۔ سیدنا موسیٰ واپس آئے تو بھائی کا گریبان پکڑ لیا اور کہا کہ تم نے قوم کو اس سے روکا کیوں نہیں؟ انھوں نے عرض کی ، میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ کی غیر موجودگی میں کوئی ایسا کام کروں جس سے قوم تقسیم کا شکار ہو جائے۔ ہمیں بھی دوسروں کو قریب کرنے کے بجائے اپنے ہی لوگوں کو خود سے متنفر کرنے والا کام نہیں کرنا چاہئے۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں