20

دین دار لوگ عاصمہ جہانگیرکےجنازےکوالرٹ سمجھیں- تحریر.میاں عتیق الرحمن.

جب علماء اور دین پسند طبقے میں سے بہت سے حضرات پرحکمت داعیانہ طرز عمل سے سمجھانے، موودت سے تبلیغ کرنے اورمذہب بیزار مسلمان طبقےکومحبت سے قریب کرنےکی بجائے جارحانہ اور منافرانہ فتوےلگاکر جنگجویانہ رویہ اپنائیں گے تو رد عمل میں وہ خود سے اپنی سمجھ کے مطابق غلط، صحیح دینی امور سرانجام دیکر ان علماء اور دینداروں سے دست کش ہونےاور جان چھڑانے کی کوششیں کرینگے جو کہ وہ کر رہے ہیں،نتیجے میں غلط اورغیرمسنون طریقے رائج ہونگے..
مزید یہ کہ دینی لبادے میں ملبوس لوگ اگر اپنےترش رویےاور جارحانہ کردار پر نظر ثانی کرکے حکمت ومحبت سےبھرپور نہیں کریں گےتو عین ممکن ہےکہ رد عمل میں ایسی سختی اور درشتی آتی جائےاور مذہب بیزار مسلمان درست ،غلط ایسے طریقوں سے نکاح.جنازہ.نماز .جمعہ وغیرہ خود ہی شروع کرلیں اور مولانا صاحبان کوصرف کفر کےفتووں اور جہنم کی ٹکٹوں کےبروکر ہی جاننے لگیں .یا ایسا بھی ممکن ہے کہ کچھ صدیاں بیشتر کی تاریخ دہرائیں کہ جب اہل کلیسا کی فتوےبازیوں سے تنگ عیسائی لوگ پادریوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھےاور عیسائی مذہب کوہمیشہ کیلئے چاردیواری کےاندر پردہ کروادیا تھا.تب سے بیچارے اندر ہی ہیں اور برکت کی چیزبنےہوئے ہیں.باہر بھی نکلیں توغلافوں کےاندر ہوتےاور ہوتی ہیں.
فی الوقت ایسی کوئی صورت حال تو نہیں مگر جب میڈیا مذہب بیزار لوگوں کو خود سے جنازہ ودیگرامور کرنے کی جانب لانے کی مہم شروع کرنے لگ پڑا تو رائے عامہ بدلنے میں دیر نہیں لگےگی.خدارا اپنی دعوتی ذمہ داری کو سمجھئے اور درد دل اور محبت سے تبلیغ دین کیجئے ورنہ قرآن مجید کی آیت فبمارحمة من اللہ .کی مصداق دیندار انکی مذہب بیزاری کے ذمہ دار ہونگے اور پھر کہیں ایسا نہ ہوجائے اللہ نہ کرے ایسا ہو کہ انہیں جہنم پہنچاتے پہنچاتے یہ خود وہاں پہنچ جائیں..وہ یہ عذر پیش کرکے بری ہوجائیں کہ یا ارحم الراحمین ہم تو دین سے زیادہ واقفیت حاصل نہ کرسکے تھے مگر جو واقف تھے انہوں نےہمارے ساتھ رویہ ہی ایسا اپنایا تھا کہ ہم انکے سائے سے بھی ڈرنےلگےتھے اور جیسا تیسا ہم عمل کرسکتے تھے وہ کرآئے ہیں..اور پھر وہ بچ جائیں اور فتوےباز علماء اور جارحانہ خطباء اور متنفر کرنےکاباعث بننےوالے اسلام کے خودساختہ ٹھیکدار پھنس جائیں…. اللھم انی اعوذبک من کل فتنة الدنیا والاخرة… میاں عتیق الرحمن

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں