7

پدماوت فلم کو پاکستان میں اجازت کیوں؟ حافظ یوسف سراج

متنازعہ فلم پدماوت ریلیز ہو چکی، انڈیا ہی میں نہیں، پاکستان میں بھی یہ دیکھی جا چکی۔ شدت پسند ہندوؤں کی طرف سے اس فلم کے خلاف ایک طوفان اٹھا کے پہلے ہی اسے شہرت کے ساتویں آسمان تک پہنچا دیا گیا تھا۔ سیاست ہی نہیں ، پبلسٹی کے نئے نئے اور غیر روایتی طریقے فلم انڈسٹری بھی بخوبی سیکھ چکی۔ فلم اور ڈرامہ تو ایکٹنگ کی ماں ہے۔ چنانچہ قوم کو فنکاری سکھانے کی اکیڈمی ہی کو یہ سب تیور اور طور طریقے نہ آئیں گے، تو کسے آئیں گے، خیر یہ تشہیری مہم کا حصہ تھا، یا کچھ اور۔ فلم ریلیز ہونے سے روکنے کے لیے ہی نہیں اس کی شوٹنگ کے دوران بھی پر تشدد مظاہرے اور احتجاج ہوتا رہا۔

فلم میں پیش کردہ کہانی مسلم حکمران علاؤالدین خلجی اور چتوڑ کی رانی پدماوتی کے کردار وں کے گرد گھومتی ہے۔ ناقدین کے مطابق فلم میں مسلمان فاتح کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا گیا ہے ، جو ایک عام فاتح مفتوح کے ساتھ روا رکھتا ہے۔ یہ سلسلہ اب عام ہو چکا ہے۔ جو جنگ زمین پر نہ جیتی جا سکے ، وہ پردۂ سکرین پر جیت کے اپنے عوام کو مطمئن اور خوش کر دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی آج کی جنگ روایتی اسلحے سے لڑی جانے والی جنگ تو رہی نہیں۔ میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے آج کی جنگ معیشت اور میڈیا کے میدان میں لڑ لی جاتی ہے۔ پاکستان میں آپ کو یاد ہوگا کہ سوات کی ایک لڑکی کو کوڑے مارے جانے کی ویڈیو نے ملک میں ایک خاص فضا پیدا کر کے اپنے مخصوص مقاصد حاصل کر لیے تھے۔ بعد میں پتا چلا یہ ویڈیو جعلی تھی۔ امریکہ نے میڈیائی پروپیگنڈے کے ذریعے عراق کو کیمیائی ہتھیار بنانے کا مرتکب قرار دے کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، پھر یہ اعتراف بھی کر لیا کہ یہ پروپیگنڈہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ یہ تو نیوز میڈیا کی بات ہے۔

فلم انڈسڑی بھی انٹرٹینمنٹ کے بجائے نظریات کی ترویج اور تبلیغ کا آسان اور موثر ترین ذریعہ بن گئی ہے۔ فلم بین کے سامنے بظاہر بے پروائی ظاہر کرتا ایک ایک سین اور ایک ایک مکالمہ بہت سوچ سمجھ کر لکھا، دکھایا اور بولا جاتا ہے۔ اور یہاں دکھائے جاتے ہر معاملے کا ایک سوچا سمجھا ہدف ہوتا ہے، جو شوگر کوٹڈ طریقے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ظلم یہ ہے کہ معاشرے کے زیرک لوگ اسے تفریح یا گناہ سمجھ کے نظرا نداز کر دیتے ہیں جبکہ بہت تدبر اورسلیقے سے پھینکے گئے یہ تیر عین نشانے پر بیٹھتے ہیں اور یوں تفریح ہی تفریح میں نسلوں کی نسلیں گھر بیٹھے کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں۔ فلم انڈسڑی کو اس حوالے سے میٹھا زہر قرار دیا جا سکتا ہے۔ حصولِ مقاصد کے لیے یہ کھیل بہت بڑی سطح پربھی کھیلا جاتا ہے۔ مثلاً چیزوں پر تحقیقی نگاہ رکھنے والے سینئر صحافی عبداللہ طارق سہیل صاحب کی تحقیق کے مطابق امریکہ کا چاند پر اترنے کا اعلان ہالی وڈ کے کسی مشہور ڈائریکٹر کی فنکاری کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ ان کے بقول دراصل اس وقت روس کی طرف سے پتا چلا تھا کہ وہ چاند پر جانے کی مکمل تیاری کر چکے ہیں، حالانکہ یہ بھی ایک بڑ کے سوا کچھ نہ تھا، امریکی سی آئی اے کو روس کی یہ بالاتری کیسے برداشت ہو سکتی تھی، چنانچہ انھوں نے ہالی وڈ کے سٹوڈیوز میں کیمروں سے تصاویر تیار کیں اور چاند پر جانے کا اعلان کر دیا۔ انٹرنیٹ پر اس حوالے سے خاصا تنقیدی مواد موجود ہے۔ کئی اعتراضات تو بڑے واضح ہیں، جن کا جواب نہیں دیا گیا، مثلاً جب چاند پر ہوا نہیں تو چاند پر دکھایا گیا امریکی جھنڈا لہرا کیوں رہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

خیر سرِ دست کالم کا موضوع امریکا کے چاند پر جانے کی تائید وتردید یا تحقیق نہیں ، بس یہ بتانا مقصود ہے کہ فلم انڈسڑی کے استعمالات کس قدر کثیر الجہات اور کثیرالمقاصد ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کی فلم انڈسڑی میں بہت سا بجٹ خفیہ ایجنسیاں اپنے مقاصد کے لیے بھی خرچ کرتی ہیں۔ یعنی کسی نہ کسی حد تک قوموں کا دفاع اور سیکیورٹی بھی فلم انڈسٹری سے منسلک ہے۔ دوسری قوموں کو جاننے کے لیے سفر کرنے یا کتابیں پڑھنے کا آج بھلا کس کے پاس وقت ہے۔ چنانچہ کسی قوم کو جاننے کا آسان طریقہ اس قوم پر بنی فلمیں دیکھ لینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا اور فلم انڈسڑی میں پیش کیا گیا مسلمانوں کا چہرہ ہی دنیا کے سامنے آیا ہے ، چنانچہ دنیا کسی صورت ہمارے بارے بہتر رائے نہیں رکھتی۔ آپ انداز کر سکتے ہیں کہ قندیل بلوچ کا سارا واقعہ ہمارے سامنے ہوا، مگر ڈرامے میں اسے سماج سے بغاوت کرنے والی ہیروئن کے طور پر پیش کر دیا گیا۔ اس واقعہ پر آج آپ مسکرا دیتے ہیں۔ آئندہ نسل عین وہی سمجھے گی، جو ڈرامے میں پیش کر دیا گیا۔

پدماوت فلم کی کہانی کا تعلق تاریخ سے زیادہ افسانے سے ہے۔ محمد جائسی وہ پہلے شخص ہیں، جن کے تخیل نے یہ داستان تراشی۔ ہدایت کار سنجے لیلیٰ بھنسالی کے تخیل اور فنکاری نے اب اسے فلم کی صورت کہیں زیادہ مسخ کر دیا ہے۔ فلم کا ون لائنر یہ ہے کہ علاؤلدین خلجی چونکہ مسلمان ہے ، اس لئے اس سے زیادہ جنگلی اور وحشی کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ وہ بد تہذیب و بد اخلاق ہے، کچا گوشت کھاتا ہے، اور وہ ایک رانی کے لیے چتوڑ کے قلعے پر حملے کرتا ہے اور مقابل راجپوت چونکہ مسلمان نہیں لہذا ان سے زیادہ بہادر ، با اخلاق اور غیرت مند کوئی اور بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔ ان کی تو خواتین کے کنگن بھی خلجیوں کی تلواروں سے زیادہ کاری ہیں۔ آپ اندازہ کیجئے دنیا کو یہی ایک بات بتانے کے فلم سازوں نے پہلے دو روز میں 56 کروڑ جبکہ ایک ہفتے میں 114 کروڑ کما لیے۔ دوسرے ذرائع سے آپ اتنے پیسے لگا کر بھی مسخ کی گئی تاریخ کا ازالہ نہیں کر سکتے۔ سوال یہ بھی ہے کہ من گھڑت کہانی پر مبنی اور تاریخ مسخ کرنے کی کوشش پر مشتمل فلم کو پاکستانی سنسر بورڈ نے آخر کس دلیل سے یہاں دکھائے جانے کی اجازت دی، جبکہ یہ تاریخ خود ہمارے خلاف مسخ کی گئی اور کئی مسلم ممالک نے اس پر پابندی لگائی؟

یہاں میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ آپ سب کچھ چھوڑ کر فلمیں دیکھنے یا بنانے لگ جائیں ، میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ آپ کو اپنے زمانے کے میڈیائی ہتھیاروں کے وار سے ضرور آگاہ ہونا چاہئے۔ اگر کوئی معالج مرض کی نوعیت اور میدان ہی سے واقف نہیں تو اس کے طبیب ہونے کا دعویٰ بے معنی اور بے فائدہ ہے۔ دراصل آپ کی سوچ کی ندی میں میں نے یہ ہلکا سا کنکر پھینکا ہے، وگرنہ یہ معاملہ کہیں زیادہ سنجیدہ اور توجہ طلب ہے۔ آپ کے بچے جو کارٹون دیکھتے ہیں ، اس کے مقاصد ، نتائج اور اثرات الگ سے سنجیدہ مطالعے کے متقاضی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں