7

آنجہانی عاصمہ جہانگیر صاحبہ اور مذہبی طبقہ – حسیب احمد حسیب

آنجہانی عاصمہ جہانگیر صاحبہ اس جہاں فانی سے کوچ فرما گئیں اور ان کے بعد پھر وہی قدیمی بحث کا اجرا ہوگیا کہ ان کا شمار مرحومہ و مغفورہ کے طور پر کیا جاوے یا پھر ان کے اپنے لبرل سیکولر اعتقاد کے مطابق ان کو کسی بھی مذہبی حوالے سے متہم نہ کیا جاوے اس سے پہلے کہ اس امر پر کچھ روشنی ڈالیں اس اختلاف کی بابت کچھ ذکر کر دیں مناسب ہوگا کہ جو ان سے مذہبی طبقے کو تھا یا پھر انہیں مذہبی طبقے سے تھا ۔

اس بات سے انکار نہیں کہ غاصب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عاصمہ جہانگیر بلند آہنگی کے ساتھ اپنا موقف بیان کرتی تھیں مگر مذہب کے خلاف بھی ان کا موقف ببانگ دہل ہی ہوتا تھا اگر ان کی دشمنی صرف ملّائیت کے خلاف ہوتی تو بھی غنیمت تھا مگر انہوں نے مذہب اور خاص کر اسلام پر تیشہ چلانا شروع کیا یہ ایک قابل اعتراض امر تھا ۔ ملاحظہ کیجیے:

۱۹۸۳ ء میں مشتاق راج نامی ایڈووکیٹ، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ قادیانی ہے، نے ‘آفاقی اشتمالیت’ کے نام سے کتاب تحریر کی۔ اس کتاب میں انبیاے کرام علیہم السلام کی ذواتِ مقدسہ کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی اور انتہا یہ کہ حضور رسالت مآب ﷺ کی شانِ اقدس میں بھی گستاخانہ جسارت کی گئی تھی۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قرار داد کے نتیجے میں حکومت نے اس کتاب کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کئے۔ مشتاق راج کے خلاف توہین مذہب کے جرم میں زیر دفعہ ۲۹۵۔ الف تعزیراتِ پاکستان مقدمہ درج کر لیا گیا، کیونکہ تعزیراتِ پاکستان میں ‘توہین ِرسالت’ جیسے سنگین اور انتہائی دل آزار جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی۔ اسی لیے مشتاق راج کی گرفتاری عمل میں نہ آئی جس سے مسلمانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ تمام اسلامی مکاتب ِ فکر کے علما اور ممتاز قانون دانوں نے کانفرنس منعقد کی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اسلام میں توہین رسالت کی سز ا، سزائے موت مقرر کی جائے۔ مشتاق راج کی گستاخانہ جسارت کے خلاف مسلمانوں کے جذبات ابھی گرم ہی تھے کہ عاصمہ جہانگیر کی طرف سے ۱۷ مئی کو پیغمبر اسلام کی شان میں سخت بے ادبی کا مذموم واقعہ پیش آیا۔اس حیا باختہ عورت نے معلم انسانیت ﷺ کو (اس کی منہ میں خاک)’اَن پڑھ’ کہہ دیا۔ یہ ہفواتی بکواس عاصمہ نے افرنگ زدہ،آوارگی ٔ نسواں کی علمبردار عورتوں کے اسلام آباد میں منعقد کردہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ روزنامہ جسارت کی رپورٹ کے مطابق ، ‘خواتین محاذِ عمل اسلا م آباد کے ایک جلسے میں صورتِ حال اس وقت سنگین ہو گئی، جب ایک خاتون مقرر عاصمہ جیلانی نے شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے سرورِ کائنات ﷺ کے بارے میں غیر محتاط زبان استعمال کی۔ اس پر ایک مقامی وکیل نے احتجاج کیا اورکہا کہ رسولِؐ خداکے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔جس پر دونوں کے درمیان تلخی ہو گئی اور جلسے کی فضا کشیدہ ہو گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنی تقریر میں ‘تعلیم سے نابلد’ اور ‘ان پڑھ’ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔” (جسارت،کراچی ۱۸ مئی ۱۹۸۴ء)

عاصمہ جہانگیر اس وقت عاصمہ جیلانی کہلاتی تھی۔اس سیاہ بخت نے محسن انسانیت ﷺ کے لیے جان بوجھ کر وہی لفظ استعمال کیا جو یورپی مستشرقین اسلام او ر پیغمبر اسلام ﷺ کی تحقیر اور اہانت کی غرض سے کرتے ہیں۔جس سیمینار میں عاصمہ نے یہ الفاظ ادا کیے، وہ شریعت بل کی مخالفت میں ہو رہا تھاا ور ظاہر ہے ایسی مخالفانہ فضا میں ان الفاظ کی کوئی دوسری تاویل یا تعبیر نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی سیمینار کے حاضرین کے مطابق عاصمہ کی تقریر کاسیاق وسباق ایسا تھا جس میں اس کا کوئی اور مفہوم لیا جاسکتا ہو۔ اس سیمینار میں سب ‘پڑھے لکھے’ لوگ تھے افسوس کوئی ترکھان کا بیٹا غازی علم الدین شہید نہ تھا جو اس گستاخِ رسول زبان کو بند کرانے کے لیے عملی اقدام کر گزرتا۔ بہر حال عاصمہ کے الفاظ مسلمانوں کی سخت دل آزاری کا باعث بنے، جس پر سیمینار میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جس طرح ۱۹۲۷ء میں راج پال کے خلاف مسلمانوں کے جذبات کا لاوا بھڑک اُٹھا تھا،بالکل اسی طرح اس بدبخت عورت کی دریدہ دہنی سے پاکستان کے مسلمانوں میں اضطراب اور غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ راج پال تو ایک متعصّب ہندو تھا،لیکن اب کی بار گستاخانہ جسارت کا ارتکاب ایک ایسی عورت کی طرف سے کیا گیا، تھا جو ایک قادیانی ہونے کے باوجود اپنے ‘مسلمان’کہلوانے پر مصر ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے خلاف احتجاج بالآخر تعزیراتِ پاکستان میں ۲۹۵۔ سی کے اضافے پر منتج ہوا۔ جناب محمد اسمٰعیل قریشی نے اپنی معرکہ آراء تصنیف ‘ناموسِ رسولؐ اور قانونِ توہین رسالت’ میں اس واقعے کا پس منظراس طرح بیان کیا ہے:

اس کے بعد ماہ مئی۱۹۸۶ء میں ایک خاتون ایڈووکیٹ عاصمہ جیلانی نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے معلم انسانیت حضور ختمی مرتبت ﷺ کے بارے میں ‘ناخواندہ'(Illiterate)اور ‘تعلیم سے نابلد’ جیسے نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے، جو سامعین اور تمام اُمت ِمسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھے۔ جس پر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے معزز اراکین میں عبد الرحمٰن لودھی اور ظہیر احمد قادری ایڈووکیٹ نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو واپس لے کر اس گستاخی پر معافی مانگے، لیکن اس کے انکار پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو راقم الحروف کی تجویز پر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا ایک غیر معمولی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس میں عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر پر انتہائی غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر توہین رسالت کی سزائے حد کو پاکستان میں نافذ کرے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دے، ورنہ اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ راقم الحروف کی درخواست پر لاہور میں وکلا اور علما کا ایک مشترکہ اجلاس ماہ جون ۱۹۸۶ء میں منعقد ہوا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے سر بر آور دہ علما اور ممتاز قانون دان حضرات نے شرکت کی اور متفقہ طور پر حسب ِذیل قرارداد منظور کی گئی:

”ہم دین اور قانون سے وابستہ لوگ برملا اس کا اعلان کرتے ہیں کہ سرزمین پاکستان کا کوئی مسلمان اس ملک میں اسلام اور پیغمبر ؐاسلام کے بارے میں کسی قسم کی اہانت آمیز بات کو کسی نوع برداشت نہیں کر سکتا اور نہ ہی سیکولر ذہن رکھنے والے عناصر کو یہ اجازت دینے کے لیے تیار ہے کہ وہ یہاں اپنی مذموم اور شرانگیز سرگرمیوں کو جاری رکھے اور فتنہ وفساد پھیلانے کی کوشش کرے۔ ہم واشگاف الفاظ میں ان عناصر کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے سے باز آجائیں ورنہ اس کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔”

اس قرار داد پر مولانا عبد الستار خان نیازی، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، علامہ علی غضنفر کراروی صدر اتحاد بین المسلمین، ڈاکٹر خالد محمود صدر جمعیت علماے برطانیہ، میاں محمد اجمل قادری امیر انجمن خدام الدین، مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ ناظم دار العلوم جامعہ نعیمیہ لاہور، مولانا عبد المالک شیخ الحدیث علومِ اسلامیہ منصورہ، مولانا عبد الرحمٰن مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا محمد اجمل خان نائب صدر جمعیت علماے اسلام، مولانا گلزار احمد مظاہری ؒصدر جمعیت اتحاد علماے پاکستان اور دیگر علماے کرام نے دستخط کیے۔ ان کے علاوہ ممتاز وکلا نے بھی اس قرار داد پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ جس کے بعد یہ قرارداد حکومت پاکستان، صوبائی حکومتوں اور اراکین قومی اسمبلی کو بھیجی گئی۔ (حوالہ : ” قانونِ توہین رسالت اور عاصمہ جہانگیر کا کردار “۔ مصنف : عطاء اللہ صدیقی ) محدث میگزین

یہ بھی پڑھیں: اب اس کے لیے اہلِ دین آپس میں الجھیں؟ – حامد کمال الدین
محترمہ کی مذہب دشمنی اتنی معروف اور واضح تھی کہ سنی اکثریتی پاکستان ہی نہیں شیعہ اکثریتی ایران نے بھی عاصمہ جہانگیر کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

معروف قادیانی اخبار ربوہ ٹائمز کیپشن لگاتا ہے ؛

Iran opposes appointment of ‘Qadiani’ Asma Jahangir as UN Rapporteur on Human Rights

اخبار آگے لکھتا ہے

Iran has slammed the decision by United Nations to appoint Asma Jahangir as special rapporteur on Human Rights in Iran and called her out as a ‘Qadiani’, a derogatory term used for members of the Ahmadiyya Muslim Sect.

Pakistani Lawyer and Human Rights activist Asma Jahangir was appointed as the United Nation’s Special Rapporteur for Human Rights to Iran on Thursday, September, 1 replacing Maldivian diplomat Ahmed Shaheed.

حوالے کے لیے ملاحظہ کیجیے

عاصمہ جہانگیر کہ جو UN Special Rapporteur on Religious Freedom or Belief کے عہدے پر فائز رہیں اسلامی قانون ناموس رسالت اور حدود کی سخت مخالف تھیں کہ جسکا کا اظہار انہوں نے اپنی کتاب “The Hudood Ordinances: A Divine Sanction” میں تفصیل سے کیا ہے

ایک موقع پر محترمہ فرماتی ہیں ” ” الیکشن کمیشن کے دفتر میں امیدواروں سے کلمہ اور قرآنی دعائیں سننا غلط ہے۔ الیکشن کمیشن ان کے کاغذات جمع کرتا ہے یا اسلامیات کی کلاس کھول کر سبق سنتا ہے ” ۔

عجیب و غریب بات ہے کہ وہ عاصمہ جہانگیر کہ جنہیں پاکستان میں اسلامائزیشن ایک عفریت نظر آتی ہے وہی جب ہندوستان تشریف لے جاتی ہیں تو کچھ یہ الفاظ استعمال کرتی ہیں ۔

Many of my interlocutors have pointed to the positive impact of Indian secularism as embodied in the Constitution. By and large, Indians do value secular principles and I was told time and again that the term “secularism” does not necessarily mean the same as in other countries. Historically, there have been believers of a whole range of religions and beliefs living in India. The central Government has developed a comprehensive policy pertaining to minorities, including religious ones. In this context, I would like to compliment various recent reports on religious minorities, for example drafted by the Committees headed by Justice Rajender Sachar in 2006 and by Justice Renganath Misra in 2007. Such Committees mandated by the Government are a good example of mechanisms put in place to analyse the situation and put forward recommendations for the Government to take action upon.

حوالہ

لکھنے کو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور کہنے کو بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مذہبی طبقے اور آنجہانی عاصمہ جہانگیر صاحبہ کی مخاصمت کوئی ذاتی یا شخصی اختلاف کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کی بہت گہری نظریاتی بنیادیں ہیں کہ جن سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں ہے اور ہمیں اس اختلاف کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں