31

اولاد کی تربیت کے حوالے سے چند گزارشات

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب
جمعۃ المبارک 23 جمادی الاول 1439 ھ بمطابق 9 فروری 2018
عنوان: اولاد کی تربیت کے حوالے سے چند گزارشات
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
پہلا خطبہ
الحمدللہ! بلند و بالا اللہ کے لئے ہیں ساری تعریف ہے، اس کے لیے بہترین حمدوثناءہے اور کامل شکر ہے۔ اللہ کی نعمتوں کا کماحقہ شکر ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، اسی نے اولاد کو ہمیں امانت کے طور پر دیا ہے اور ان کی تربیت کرنا ہمارا فرض اور ہمارا دینی واجب قرار دیا ہے، تاکہ وہ جان لے کہ کون اس سے ڈرتا ہے۔ اس کی اطاعت ہم پر لازمی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی نے مال اور اولاد کو دنیا کی زینت بنایا ہے اور اسی نے نیک اعمال کو موت کے بعد فائدہ دینے والا بنایا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور منتخب رسول ہیں۔ آپ ﷺ بہترین باپ تھے جن کا دل اولاد کی محبت سے بھرپور تھا۔ اللہ کی رحمتیں برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر آپ ﷺ کی اولاد پر آپ کی بیویوں پر صحابہ کرام پر تابعین عظام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعد ازاں اے لوگو!
تقویٰ کی نصیحت ہی سب سے بہتر نصیحت ہے کیونکہ یھی انبیاء کرام اور امت کے نیک لوگوں کی نصیحت ہے۔ اور تقوی سے بڑھ کر قیامت کے دن کام آنے والا کوئی عمل نہیں ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو۔‘‘ (النساء: 131)
اسی طرح فرمایا:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناً تمہارے اُن سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ (الحشر: 18)
حقیقی متقی اور پرہیزگار وہی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اپنی زندگی کو اللہ تبارک وتعالیٰ حکام کے مطابق ڈھال لیتا ہے، جس کا ایمان اس چیز پر پختہ ہوتا ہے کہ اللہ ہی نے ہمیں پیدا کیا ہے اور ہم نے اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، جو ابتدا اور انتہا کے درمیان کی ساری مدت اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکام کے مطابق گزارتا ہے۔
اے مسلمانو!
زندگی میں ہمارا نام زندہ رکھنے والے، زندگی کے آخر میں ہمارے کام آنے والے، بڑھاپے میں اللہ کے بعد ہمارا سہارا، دنیا میں ہماری عزت اور ہمارا نام زندہ رکھنے والے ہماری اولاد ہی ہیں اور ان کے بعد ہماری اولاد کی اولاد ہیں۔
اللہ کے بندو!
آپ کی اولاد آپ کے ہاتھوں میں ایک امانت ہے۔ اللہ تعالی نے انہیں امانت کے طور پر آپ کو دیا ہے۔ ان کی تربیت کرنا، ان کا خیال رکھنا اور ان کی رہنمائی کرنا دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ان کی تربیت کو دنیا کی تمام چیزوں پر فوقیت دینی چاہیے بلکہ یہ تو آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔
تربیت کا معنیٰ یہ ہے کہ انسان کو انسان بنایا جائے۔ علم سکھانا، اخلاق سکھانا، فکر کو صحیح رخ دینا، رویے کو درست کرنا اور تربیت میں ہر وہ عمل شامل ہے کہ جو انسان کی انسانیت کو بہتر بناتا ہے۔
تربیت یہ ہے کہ اولاد کو ایسے اخلاق سکھائے جائیں جو بہترین معاشرے کے لیے زیبا ہوں اور جو انسان کو تمام طرح کی برائیوں سے پاک کر دیں۔
تربیت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ آج کے دور میں بہت سے ملک اس کے لئیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہیں، اس کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کیے جاتے ہیں اور پالیسی بنائی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو ایک خاص مرحلے سے گزارتے ہوئے معاشرے کے لئے کارآمد بنایا جا سکے۔ ہر قوم تربیت کو بڑی اہمیت دیتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ تربیت کا شعبہ اس کا ایسا اہم اور خاص شعبہ ہے کہ جس پر وہ کبھی سودا بازی نہیں کر سکتی یا اس کے معاملے میں کبھی کوتاہی نہیں کر سکتی کیونکہ واقعی یہ انسان کو انسان بنانے کا نام ہے۔
اللہ کے بندو!
تربیت انسانی شخصیت کو تشکیل دینے والی ایک اہم چیز ہے جس کا مقصد ایسے لوگ پیدا کرنا ہے کہ جو میانہ روی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں، زمین کو آباد کریں اور آخرت کے لئے تیاری کریں۔ نیک اولاد ہر عقلمند کی خواہش ہے کیوکہ نیک اولاد والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے نیک لوگوں کی دعا کو نقل کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے۔‘‘ (الفرقان: 74)
نیک بیٹا آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتا ہے۔ قریب ہو تو خوشی نصیب ہوتی ہے اور اگر دور ہو تو والدین اس کے حوالے سے مطمئن ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی زندگی میں اور آپکی موت کے بعد آپ کے لیے دعا کرتا رہتا ہے۔ اولاد آپ کے اعمال کا حصہ ہے اگر نیک ہو تو نیک اعمال کا اور اگر بری ہو تو برا اعمال کا۔
نیک اولاد کے ذریعے انسان کی نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں، اس کا ذکر بلند ہوجاتا ہے اور اسکا اجر جاری رہتا ہے۔ فرمان نبوی ہے:
جب ابن آدم مر جاتا ہے تو اس کا عمل رک جاتا ہے، مگر تین چیزوں کا اجر جاری رہتا ہے۔ ان تین چیزوں میں سے ایک چیز ایسا نیک بیٹا ہے کہ جو اپنے والد کے لیے دعا کرتا رہے۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
مسلمان اپنی اولاد کی تربیت اس لیے کرتا ہے کہ یہ اس کا دینی فریضہ ہے اور اس فرض کی ادائیگی ہے کہ جس کی ادائیگی اللہ تعالی نے اس کے لیے لازم ٹھہرائی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے۔‘‘ (التحریم: 6)
رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور ہر ذمہ دار سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حکمران بھی ذمہ دار ہے اور اس کو اسکی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا، ہر شخص اپنے گھر میں ذمہ دار ہے اور اسے بھی اپنی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا، ہر عورت اپنے شوہر کے گھر میں ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
آپ سے بھی آپ کی اولاد کے متعلق پوچھا جائے گا۔ تو ذرا سوچئے کہ آپ کا کیا جواب ہوگا؟ کیا آپ نے امانت ادا کی ہے یا اس میں کوئی کوتاہی کی ہے؟ جب ہمیں راہ راست سے بھٹکے، ادب اور اخلاق سے عاری اور بھلائی سے دور رہنے والے لوگ نظر آتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی تربیت کس نے کی ہے؟ اس نسل کو تیار کرنے میں کس کا ہاتھ ہے۔ یقینا ایسی نسل صرف کم تربیت یا بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔
ایسی گری ہوئی اور اخلاق سے عاری جنریشن جو انسانیت کے مبادیات سے بھی واقف نہ ہو اور جس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو وہ کبھی کسی امت کو بلندی نہیں دے سکتی اور نہ اس کا دفاع کر سکتی ہے بلکہ یہ تو امت کے لیے وبال ہے اور امت کے سر پر ایک بھار ہے۔
اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت کے حوالے سے ہمیں غور و خوض کی ضرورت ہے اور سنجیدہ طریقے سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان برائیوں کے علاج کی ضرورت ہے کہ جو ہمارے معاشرے میں اور ہماری اولاد میں پھیل رہی ہیں اور جن کی وجہ سے ہماری اولاد کے اخلاق تباہ ہورہے ہیں۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
’’جس شخص کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی ذمہ داری دی ہو اور اپنی رعایا کے ساتھ ناانصافی کرتا ہوا اس دنیا سے گزر جائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ جنت کو اس پر حرام کردے گا۔ ‘‘
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی اولاد اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو خود بدبختی کی طرف لے جاتے ہیں، ان کی تربیت کرنے اور انہیں ادب سے کھانے میں کوتاہی برتتے ہیں، پھر وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کا اکرام کر رہے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں حالاں کہ وہ اپنی اولاد پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں اور ان کا اکرام نہیں بلکہ انہیں رسوا کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کے لئے خواہشات نفس کی پیروی آسان بنا دیتے ہیں اور اس طرح وہ اپنی اولاد کے فائدے سے بھی محروم رہ جاتے ہیں اور انہیں بھی دنیا وآخرت میں بھلائیوں سے محروم کر لیتے ہیں۔ اگر اولاد کی خرابی کے اسباب کو تلاش کیا جائے پر زیادہ تر خرابیاث والدین کی کوتاہی کی وجہ سے ہوں گی۔
تربیت محض کھانے پینے اور پہننے کی چیزیں مہیا کرنے کا نام نہیں ہے۔ اس کے متعلق تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ا ن کو بھی دیں گے۔‘‘ (الانعام: 151)
بلکہ تربیت اولاد کو ایمان اور نیک اعمال سکھانے کا نام ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے۔‘‘ (طٰہٰ: 132)
اے مسلمانو!
اولاد کی تربیت کے معاملے میں اللہ سے ڈرو! اپنا محاسبہ کرو اور اپنی زندگی میں اہم ترین چیزیں متعین کرو۔ دیکھو آپ نے اپنی اولاد کے لئے کیا کیا ہے! ان کی تربیت کیسی کی ہے؟ کیا آپ نے ان کے لئے ہدایت کا راستہ واضح کیا ہے؟ کیا آپ نے ان کے لیے کوئی ہدف متعین کیا ہے اور کیا آپ اس ہدف پر کام کر رہے ہیں؟
نیک تربیت وہ ہے جو اولاد کے دل میں اسلامی شناخت واضح کردے، اسے دین اسلام سے جوڑ دے، اور اسے تمام فکری دینی اور اخلاقی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا دے۔ جو اسے اس قابل بنا دے کہ وہ مسلمان معاشرے کو درپیش مسائل کو حل کرسکے۔ تاکہ وہ چیلنجز کے سامنے پگھل کر بے قیمت انسان نہ بن جائے کہ جو محض مخلوقات کا نمبر پورا کرنے کے لئے انسان کے طور پر شمار کیا جائے۔
افکاراوراخلاق انسانی نفس کے دو پہلو ہیں جنہیں قواعد و ضوابط کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہ کام بچپن میں آسان ہوتا ہے کیونکہ اس وقت انسان کانفس آسانی سے بدلنے والا اور تبدیلی قبول کرنے والا ہوتا ہے۔ اگر اس وقت ذرا ہمت اور حوصلے سے کام لیا جائے تو بچہ نیک اور سیدھی راہ پر چلنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے، اس کے اندر توازن آجاتا ہے اور چیزوں کے ساتھ تعامل کرتے وقت میانہ روی اور اعتدال آجاتا ہے جن سے انسان زندگی کے بدلتے مراحل اور اونچ نیچ سے نبٹنے کے قابل ہوجاتا ہے۔
وہ خطرناک ترین مرحلہ کہ جس میں بچہ ہر طرح کی چیز کا اثر قبول کرسکتا ہے وہ سکول جانے کی عمر کا مرحلہ ہے۔ کیونکہ اس وقت انسان کے جذبات بہت تیز ہوتے ہیں اور علم اور تجربہ کم ہوتا ہے۔ سکول کے پہلے چند سال انسان کی زندگی میں آنے والی ترقی سے بھر پور ہوتے ہیں اور یہی سال اس کی کمزوری کے سال ہوتے ہیں۔ اگر ان سالوں میں بچے کی صحیح طرح نگہبانی کی جائے اور اسے مثبت طریقے سے آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے تووہ کامیاب اور معاشرے کے لئے فائدے مند انسان ثابت ہوسکتا ہے۔
اللہ کے بندو!
اولاد کو نیک بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ تعالی سے بار بار دعا کرنا ہے۔ قرآن کریم کی کئی آیات اور نبی کریم ﷺ کی احادیث اولاد کے لئے دعا پر مشتمل ہیں۔ نیک اولاد اللہ کے نیک بندوں کی تمنا بھی ہوتی ہے۔
تربیت کا بنیادی ستون ایک نمونے کی فراہمی ہے کہ جو والدین کی صورت میں بچے کے سامنے موجود ہوتا ہے، والدین کے اچھے کردار کے ساتھ ساتھ بچے کو صحابہ کرام اور سلف صالحین کے ساتھ وابستہ کرنا چاہیے، تاکہ وہ انہیں اپنا آئیڈیل بنائے۔ اس کے بعد بچوں کی دوستی کا خاص خیال رکھنا چاہیے، نیک دوست منتخب کرنے میں ان کی مدد کرنی چاہیے، اچھی کتابیں منتخب کرنا سکھانا چاہئیے، ہراس چیز پر توجہ دینی چاہیے کہ جس کے ذریعے بچہ کچھ سیکھ سکتا ہے خاص طور پر آج کے دور میں ہمیں انٹرنیٹ پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو بچے کی فکر پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
آج کے دور میں نئی ڈیوائسز ہر گھر میں آچکی ہیں۔ ان سے بچنا صرف اسی کے لیے آسان ہے کہ جس کے لئے اللہ تعالی یہ کام آسان بنا دے ورنہ ان سے بچنا بہت مشکل ہے۔ ان کی مثال بھی دوست کی ہے جو یا تو بھلا ہوگا اور یا برا۔ اس لیے ان پر بھی خاص توجہ دینی چاہیے اور ان کے حوالے سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔
اسی طرح اولاد کو برے نمونوں سے بھی دور رکھنا چاہیے۔ اسکول میں اکثر اوقات استاد شکایت کرتے ہیں کہ بچوں کے والدین کو ان کے متعلق کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا، وہ تربیت کا سارا بار سکول اور استاد کے سر پر ڈال دیتے ہیں، جبکہ گھر کا کردار تو زیادہ اہم ہوتا ہے اور والدین کا کردار سب سے بڑھ کر ہے۔ گمراہ کن افکار اور غیر مناسب رویوں کا ذمہ دار سب سے بڑھ کر بچے کا اپنا گھر ہے۔
تربیت دینے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت تفہیم اور تذکیر کے ذریعہ کریں، تاکہ ان کے اندر برائی سے روکنے والی آواز مستحکم ہو جائے جوان کو ہر برائی اور ہر شر سے محفوظ رکھ سکتی ہے اور انہیں بھلائی کا حکم دیتی ہے۔
ابو بکر بن عیاش رحمہ اللہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا : بیٹے اس کمرے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرنا کیونکہ میں نے اس کے اندر ایک ہزار مرتبہ قرآن کریم کی مکمل تلاوت کی ہے۔
باپ اپنی اولاد کو نیک اخلاق اسی وقت سکھا سکتا ہے جب وہ خود نیک اخلاق مالک ہو، وہ ان کی تربیت نیکی پر اسی وقت کر سکتا ہے جب وہ خود نیک ہو، کیونکہ وہ اس کے قول کی نسبت اس کے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں، چھوٹے بچوں کا احساس بہت تیز ہوتا ہے، وہ بری اور اچھی چیز کو بہت جلدی سمجھتے ہیں، اگر آپ ان کے سامنے سچائی کی تعریف کرتے ہیں تو خود سچے بنیے اور اگر ان کے سامنے صبرکی تعریف کرتے ہیں تو خود صبر کیجئے۔
اس گھر کے لیے تو ہلاکت ہے کہ جس کے اندر باپ ضرورت سے زیادہ سخت اور فرعون ہو یا جس میں باپ اتنا مصروف ہو کہ اسے اپنے گھر کے متعلق کچھ پتہ ہی نہ ہو۔ ان دونوں صورتوں میں وہ اپنی اولاد پر اثر ڈالنے میں ناکام رہے گا اور عین ممکن ہے کہ وہ اس کے ہاتھ سے نکل کے دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگیں۔
اللہ کے بندو!
دنیا کی بہترین جگہیں اللہ کی مسجدیں ہیں، اور بہترین مجلسیں قرآن کریم کی تعلیم کی مجلسیں ہیں۔ اپنی اولاد کو نماز کا پابند بنائیے۔ اپنے گھروں کو برائی سے خالی کیجئے اور اپنی اولاد کو برائی سے پاک گھر دکھائیے کیونکہ تربیت تعلیم اور تلقین کا نام ہے اور جو کسی برائی کا عادی بن جاتا ہے اس کے لیے حق کو اپنانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں: اپنی اولاد کو نماز کا پابند بناؤ اور انہیں بھلائی ان کرنا سکھاؤ کیونکہ بھلائی کرنا بھی عادت بن جاتا ہے۔
اپنی اولاد کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی سنت کی محبت بڑھائیے، اہل علم اور نیک لوگوں کی راہ پر چلنا سیکھائیے، ان کے دلوں میں برائی کی نفرت پیدا کیجئیے، گنہگار کے لیے ہدایت کی دعا کرنا سکھائیے اور مصیبت زدہ کے لیے عافیت کی دعا سکھائے۔
اپنی اولاد کے دلوں میں کتابیں پڑھنے کی محبت ڈالی ہے، پڑنے پر ان کی حوصلہ افزائی کیجئے، نفع بخش چیزوں کی طرف رہنمائی کیجئے اور نقصان دہ چیزوں سے روکیے۔ قرآن کریم کے بعد پڑھی جانے والی بہترین چیز نبی کریم ﷺ کی سیرت ہے اور پھر صحابہ کرام کے سوانح اور تاریخ اسلام ہے۔
اپنی اولاد کو بتائیے کہ امت کو ان کی کتنی ضرورت ہے۔ اس علم اور نور کی کتنی ضرورت ہے جو ان کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں بتائے کہ انہیں امت کے علماء، رہنما اور رحمت و ہدایت کے رہبر بننے کے لئے محنت کی ضرورت ہے۔
اسلام کے عقائد کو ان کے دل میں ڈالنا ضروری ہے۔ علم کا تکرار کرتے رہنا بھی لازمی ہے، تاکہ وہ ان کے دلوں میں اچھی طرح بیٹھ جائیں۔ جیسا کہ ایمان، آخرت، ہر کام مکمل اطمینان سے کرنا جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے، سنت پر عمل کرنا اور اسکی محبت کرنا، مختلف اعمال کا ثواب، موت کا ذکر اور آخرت کی تیاری، مسلمانوں کے احوال کو جاننا اور کثرت سے ان کے لیے دعا کرنا، مسلمان حکمرانوں کے لئے دعا کرنا اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہنا۔
اسی طرح اپنے بچوں کو بڑوں کا احترام سکھائیے، رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا سکھائیے، مسلمانوں پر رحم کرنا اور ان کے ساتھ نرمی برتنا سکھائے۔ پڑھائی میں آگے نکلنا اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھا تعامل کرنا سکھائیے۔ ان کی غلطیوں کو نرمی کے ساتھ درست کیجئے۔
والد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کے سامنے ماں کی تعریف کرے، اسی طرح ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کے سامنے اپنے والد کی تعریف کرے، اور دونوں اولاد کے سامنے ایک دوسرے کی کوشش اور محنت کا ذکر کریں، تاکہ اولاد وفاداری، عزت، محبت اور اچھے تعلق پر پل سکیں۔
اپنی اولاد کو اپنا دوست بنائیے، ان کیساتھ مذاق کیجئے اور ان کی حوصلہ افزائی کیجئے، کیونکہ تعریف کے الفاظ دل مول لیتے ہیں اور عقلوں کو تابع بنا لیتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’جب اللہ تعالی کسی گھرانے کے متعلق بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو ان کے اندر نرمی ڈال دیتا ہے۔ ‘‘
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح آپ نے فرمایا:
’’نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے بہتر کر دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی ہٹا لی جاتی ہے وہ چیز بگڑ جاتی ہے۔ ‘‘
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
فرمان الٰہی ہے:
’’جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔‘‘ (الطور: 21)
آپ کی اولاد ہی آپ کسب ہے۔
اللہ مجھے اور آپ کو قرآن وسنت میں برکت عطا فرمائے آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اپنے لئے اور آپ کے لیے اللہ سے معافی مانگتا ہوں
دوسرا خطبہ
تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ وہی رحمان و رحیم ہے اور یوم جزا کا مالک ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور سچے رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی ہو آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، اور صحابہ کرام پر۔
بعد ازاں! اے مسلمانو!
بیٹیاں بڑی نرم و نازک ہوتی ہیں، اور وہی عزت کرنے والی اور وفادار ہوتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’بیٹیاں دل لگانے والی اور بیش قیمت ہوتی ہیں۔‘‘ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
جب معاویہ رضی اللہ تعالئ عنہ کا بیٹا، صعصعہ، عامر رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی بیٹی کا رشتہ لینے کے لیے گیا تو انہوں نے کہا: اے صعصعہ! تو میرے جگر کو اور میری سب سے پیاری اولاد کو لینے آئے ہو۔ تجھ پر مجھے فخر ہے اور بیٹی کا باپ کے بعد خاوند ہی اس کا نگہبان ہوتا ہے۔
بیٹیوں کی تربیت مسلمان کے لیئے باعث عزت ہے، نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے، آپ چار بیٹیوں کے باپ تھے اور آپ نے چاروں کی بہترین تربیت فرمائی۔
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ جس نے دو بیٹیوں کی تربیت کی یہاں تک کہ وہ جوان ہو گئیں وہ قیامت کے دن میرے ساتھ یوں آئے گا۔ یہ کہتے ہوئے آپﷺ نے اپنی انگلیوں کو چھوڑ لیا۔ ‘‘
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح فرمان نبوی ہے:
’’جس شخص کو اللہ تبارک وتعالیٰ دو بیٹیاں دے اور جب تک وہ اس کے پاس رہیں، وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہے تو وہ دونوں اس کے جنت میں داخلے کا ذریعہ بن جائیں گی۔ ‘‘
اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہے اور ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا رہے تو اس کے لیے جنت ہے۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ‘‘
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کریں ان پر خرچ کرے اور ان پر رحم کرے تو اس پر جنت واجب ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ جس کی دو ہوں؟ آپ نے فرمایا! جس کی دو بیٹیاں ہوں اس کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ‘‘
بعض صحابہ سوچتے رہے کہ شاید اگر وہ شخص ایک بیٹی کا سوال بھی کردیتا تو آپ ﷺ اس کے متعلق بھی یہی فرماتے۔
اسے امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالئ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’میری امت کا جو شخص بھی تین بیٹیوں کی تربیت کرے گا یا تین بہنوں کو پا لے گا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا رہے گا تو وہ بیٹیاں یا بہنیں اسے جہنم سے بچانے کا ذریعہ بن جائیں گی۔‘‘ اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور امام البانی نے صحیح کہا ہے۔
امام بخاری کی روایت میں آپ ﷺ کی تعداد کا ذکر نہیں فرمایا۔ فرمان ہے:
’’جسے اللہ تعالی بیٹیوں سے نواز کر امتحان میں ڈالے گا اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا تو وہ قیامت کے دن جہنم سے بچانے کا ذریعہ بن جائیں گی۔ ‘‘
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان احادیث سے بیٹیوں کے ساتھ اچھے تعامل اور اللہ تعالی کی خوشنودی کی غرص سے ان کی نگہبانی کی فضیلت کا علم ہوتا ہے۔ یہ کام جنت میں داخلے کا اور جہنم سے بچاؤ کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ امید ہے کہ جو شخص بیٹیوں کے علاوہ بہنوں، پھوپھیوں، یا خالاؤں میں سے حاجت مندوں کی حاجتیں پوری کرتا ہے اور ان کے ساتھ اچھا رویہ رکھتا ہے تو اسے بھی اللہ تبارک وتعالیٰ ایسا ہی اجر عطا فرمائے گا جیسا کہ تین بیٹیوں کے متعلق روایت کیاگیاہے۔ اللہ تعالی کا فضل تو بہت بڑا ہے اور اس کی رحمت تو بہت کشادہ ہے۔
اسی طرح جو شخص ایک بیٹی یا دو بیٹیوں کی تربیت کرتا ہے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو اس کے لئے بھی یہی امید ہے۔
ان احادیث میں معلوم ہوتا ہے کہ بیٹیوں کا اپنے باپ پر یا تربیت کرنے والے پر بہت بڑا حق ہے۔ کیونکہ عموما بیٹیاں اپنے کام خود نہیں کر سکتیں اور ان کے لئے زیادہ تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ ان کی تربیت میں صرف کھانا کھلانا اور پہنانا ہی شامل نہیں ہے بلکہ انہیں ادب سکھانا اور نرمی سے ان کے ساتھ پیش آنا اور ان کی بھلی تربیت کرنا بھی شامل ہے۔
فتنوں کے دور میں جبکہ اخلاق سے منحرف ہونے اور دین سے دوری کی طرف بلانے والے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں تربیت اور زیادہ ضروری ہوجاتی ہے۔
اے معزز والد!
بیٹیوں کو اللہ تعالی نے بڑا نرم ونازک بنایا ہے۔ ان کے ساتھ وہ سختی اور شدت درست نہیں ہے جس سے بعض لوگ اپنے بیٹوں کی تربیت کرتے ہیں۔ بیٹیاں تو زیب و زینت میں رہنے والی ہوتی ہیں۔ وہ لڑائی جھگڑے یا بحث مباحثے کے قابل نہیں ہوتیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’وہ اولاد جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟‘‘ (الزخرف: 18)
بٹیاں جذبات سے بھری ہوتی ہیں اور وہ امن کی متلاشی ہوتی ہیں اور سب سے پہلے وہ امن اپنے والدین کے پاس ڈھونڈتی ہیں۔ انہیں والدین کے پاس وہ امن ملنا ضروری ہے ورنہ وہ گھر کے باہر دوسروں کے پاس امن تلاش کرنے نکلی گی اور پھر بھیڑیے انہیں دھوکہ دیں گے اور جھوٹی زبانیں ان کے استقبال کریں گی اور وہ مجرم ہاتھوں میں گر جایئں گی۔
رسول اللہ ﷺ اپنی بیٹیوں کی بڑی عزت کرتے تھے اور انہیں یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ ان سے بہت محبت کرتے ہیں اور ان پر رحم کرتے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کہ اخلاق اور طریقہ کار سے مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ آٹھ کر ان کا استقبال کرتے، ان کے ہاتھ کو چومتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اسی طرح جب رسول اللہ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس جاتے تو وہ بھی اٹھ کر آپ کا استقبال کرتیں، ان کا ہاتھ پکڑ کر چومتیں اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ اسے امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک روز فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بالکل ویسے جلتی ہوئی آئی جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے۔ آپ ﷺ اٹھے اور کہنے لگے: بیٹا خوش آمدید! پھر آپ ﷺ نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
اے معزز والد: بیٹیوں کے حوالے سے آپ کے کندھے پر آنے والی ذمے داری بہت بڑی ہے، وہ آپ کے ہاتھ میں امانت ہیں، غور کیجئے! نیک تربیت حاصل کرنے والی نیک عورتیں ایک عظیم نسل کو پیدا کرتی ہیں اور بری تربیت والی عورتیں ہیں جنہوں نے قوموں کی قومیں ہلاک کی ہیں۔
اپنے بچوں میں اچھے جذبات کا بیج بو، اور انکی دیکھ بھال بھی کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا پھل نکالنے لگیں، اپنی بیٹیوں کو بچپن ہی سے پردے اور حیا اور عفت کی عادت ڈالو۔ بیٹی کی تربیت اگر حیا پر کی جائے تو اس کی حیا اسے بھلائیوں کی طرف دیکھتی رہتی ہے، اور حیا سے کوئی بری چیز نہیں آتی بلکہ حیا ہمیشہ بھلائی ہیں لاتی ہے۔
دین کا قانون تو اس چیز کا متقاضی ہے کہ عورت پر حجاب اور دیگر شرعی احکام اس وقت لازمی ہوتے ہیں جب وہ جوانی کی عمر کو پہنچتی ہے لیکن اگر پہلے سے اسے اس کی عادت ڈال دی جائے تو اس سے اس کے لیے آسانی پیدا ہو جائے گی، ان سے اللہ تعالی کی اطاعت میں مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اور جو جوانی کی عمر کو پہنچ کر احکام الٰہی پر عمل کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ سے توفیق کا سوال کرے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اسے توفیق عطا فرما دیتا ہے اور اسے نیک اولاد سے نوازتا ہے۔
اللہ تعالی امت کی بیٹیوں کی اصلاح فرمائے اور ہم سب کو ہدایت اور رحمت اور عافیت عطا فرمائے۔
درود و سلام بھیجو اس ہستی پر کیسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رحمت اللعالمین اور لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر بھیجا ہے۔
اے اللہ رحمتیں برکتیں اور سلامتی نازل فرما اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر آپ ﷺ کی پاکیزہ اہل بیت پر صحابہ کرام پر تابعین عظام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما اے اللہ سرکشوں بے دینوں اور فسادیوں کو تباہ و برباد فرما اے اللہ اپنے دین اپنی کتاب سنت نبی ﷺ اور اپنے نیک بندوں کی مدد فرما۔
اے اللہ اے پروردگار عالم اس امت کو ایسا دور حکومت نصیب فرما کہ جس میں اہل ایمان کو عزت ملے گنہگاروں کو ہدایت ملے اور جس میں بھلائی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے۔
اے اللہ اے پروردگار عالم جو اسلام مسلمانوں ان کے دین ان کے ملکوں اور گھروں کے بارے میں برا ارادہ رکھے یا تو اسے خود ہی میں مصروف کر دے اس کی چال اسی پر لوٹا دے اور اسے برائی کے چکر میں گھیردے۔
اے اللہ اے پروردگار عالم فلسطین میں اور ہر جگہ میں اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کی مدد اور نصرت فرما اے اللہ ان کا محاصرہ ختم فرما ان کے احوال درست فرما اور ان کے دشمن کو ہلاک فرما۔
اے اللہ مسجد اقصیٰ کو ظالموں کے ظلم سے اور زیادتی کرنے والوں کی زیادتی سے محفوظ فرما۔
اے اللہ ہم تجھ سے تیرے عظیم ترین نام کے واسطے سے پکارتے ہیں کہ تم ہر جگہ ہمارے مسلمان بھائیوں کے حال پر رحم فرما اللہ فلسطین میں انکی مدد فرما اے اللہ شام عراق یمن برما اور ہر جگہ مسلمانوں کی مدد فرما اللہ ان پر رحم فرما ان کی سختی ختم فرما انہیں جلد آسانی نصیب فرما اے اللہ ان کی احوال درست فرما اور انہیں ہر آیت پر اکھٹا فرما انہیں برے لوگوں کے شر سے محفوظ فرما ان کے دشمن کو ہلاک فرما۔
اے اللہ سرکشوں اور ظالموں اور ان کے مددگاروں کو ہلاک فرما۔
لاالہ الا اللہ! وہی عظیم حلیم ہے، لاالہ الا اللہ! وہی عرش عظیم کا رب ہے! لاالہ الا اللہ! وہ آسمانوں کا رب زمینوں کا رب اور عرش عظیم کا رب ہے! لاالہ الاللہ! تو پاکیزہ ہے یقینا ہم ظلم کرنے والے ہیں! اللہ ہی ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین مددگار ہے! اے اللہ غوطہ میں ہمارے بھائی قتل محاصرے اور بڑی شدت اور مصیبت میں ہیں اس شدت اور مصیبت کو ترسے بڑھ کر اور کون جانتا ہے! اور اسے ختم کرنے پر تجھ سے بڑھ کر کون قادر ہے اللہ ان پر مصیبت آئی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے اے اللہ انکی مدد فرما اور ساری شام میں ہمارے بھائیوں کی مدد فرما اے اللہ انکی مدد فرما اے اللہ ان کی مدد فرما اللہ انہیں آسانی نصیب فرما ان مسکینوں پر رحم کرنے والے اور کمزوروں کو سہارا دینے والے ان پر رحم فرما اللہ انکی تائید فرما ان کی مدد فرما اے زندہ جاوید اے ذالجلال والاکرام!
اے اللہ خادم حرمین شریفین کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جس سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے اسے نیکی اور بھلائی کی طرف لے جا اسے اور اسکے نایب کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہے۔
اے اللہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والے مجاہدوں کی مدد فرما اے اللہ تو ان کی مدد فرما وہ لوگ ہمارے گھروں اور ہمارے مقدس گھروں کی حفاظت کر رہے ہیں اے اللہ تو ان کا معاون مددگار اور محافظ بن جا۔
اے اللہ تمام مسلمان حکمرانوں کو شریعت پر عمل کرنے اور نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما انہیں اپنے بندوں پر رحم کرنے والا بنا۔
اے اللہ مسلمانوں کے ممالک میں امن و سلامتی عام فرما ہمیں لوگوں کی برائی سے محفوظ فرما اور چالبازوں کی چالوں سے محفوظ فرما
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرہ: 201)
’’اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کر دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔‘‘ (آل عمران: 147)
اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما ہمارے گناہوں کی پردہ پوشی فرما ہمارے معاملات آسان فرما ہماری نیک خواہشیں پوری فرما۔ اے اللہ ہمیں معاف فرما ہمارے والدین کو اور آباؤ اجداد کو اور نسلوں کو اور ہماری بیویوں اور اولاد کو معاف فرما اے دعا سننے والے۔
اے اللہ زندہ اور مردہ مومن مردوں اور مومن عورتوں مسلم مردوں اور مسلم عورتوں کو معاف فرما۔
اے اللہ تو ہی ہمارا الٰہ ہے! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں! تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر او رمحتاج ہیں ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما۔
ہم اللہ سے معافی مانگتے ہیں ہم اللہ سے معافی مانگتے ہیں ہم زندہ و جاوید اللہ سے معافی مانگتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
اے اللہ تو ہی ہمارا الٰہ ہے! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں! تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر او رمحتاج ہیں ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما! اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر موٹے قطروں والی سب کے لیے عام ہوجانے والے فائدے سے بھرپور نقصان سے پاک سارا ملک میں بسنے والی اور بابرکت بارش نازل فرما ایسی بارش کہ جس سے تو اپنے بندوں کو پانی مہیا فرمائے اور جسے تمام لوگوں کی حاجت پوری کرنے والا بنائے۔
اے اللہ رحمت کی بارش نقصان عذاب اور طوفان سے پاک بارش نازل فرما۔
اے اللہ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں تو معاف کرنے والا ہے اللہ آسمان سے ہم پر بابرکت بارش نازل فرما۔
اے اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں عذاب نہ دے ہمارے بے وقوفوں کے کاموں کی وجہ سے بھی ہمیں عذاب میں مبتلا نہ فرما۔ اے اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں عذاب میں مبتلا نہ فرما اور نہ میں بے وقوفوں کے کاموں کی وجہ سے مشکل میں ڈال
ہم اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم سے قبول فرما توسننے اور جاننے والا ہے ہماری توبہ قبول فرماتا توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ (الصافات)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “اولاد کی تربیت کے حوالے سے چند گزارشات

اپنا تبصرہ بھیجیں