10

اولاد کی تربیت میں پیار کا پہلو

مسجد نبوی کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض الثبیتی ﷾
جمعۃ المبارک 23 جمادی الاول 1439 ھ بمطابق 9فروری 2018
عنوان: اولاد کی تربیت میں پیار کا پہلو
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
پہلا خطبہ
الحمدللہ ہر طرح کی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اسی نے قرآن کریم کو تربیت کا بہترین ذریعہ بنایا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کی نشانیاں دیکھ کر دلوں کو پاکیزگی ملتی ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ ﷺ نے ایمان اور حکمت کے ذریعے دلوں کو پاکیزہ فرمایا۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر کہ جنہوں نے امت کو عزت اور ترقی اور پاکیزگی کی راہ پر چلایا۔
بعد ازاں!
میں اپنے آپکو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ پرہیزگاری دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
اسلام نے ہر مسلمان کے دل میں ذمہ داری کا احساس جگایا ہے۔ انسان کے کندھے پر پڑنے والی سب سے بڑی ذمہ داری دین کے مطابق اولاد کی تربیت اور نگہبانی کی ذمہ داری ہے۔ تربیت تمام فضائل کی ماں ہے۔ فرمان نبوی ہے:
’’تم میں سے ہر کوئی ذمہ دار ہے اور ہر کسی سے اسکی ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔‘‘
جب تربیت کمزور پڑجاتی ہے تو نسلیں اپنی بھوک مٹانے، خواہشات نفس پوری کرنے، اور من پسند چیزوں کو حاصل کرنے کو اپنا اہم ترین مقصد سمجھنے لگتی ہیں۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے۔‘‘ (محمد: 12)
تربیت میں سب سے ہدف دل کا ہوتا ہے۔ اگر دل نیک ہو جائے تو سارا جسم بھلا ہو جاتا ہے اور اگر دل میں برائی آ جائے تو سارا جسم برا ہو جاتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔‘‘ (الحج: 46)
اگر دل نیک ہو جائے اور اس کی نیکی اپنے پھل دکھانے لگے تو عقل پختہ ہو جاتی ہے، جسم میں روح آ جاتی ہے اور انسان کے تمام اعضا میں خشوع وخضوع آ جاتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں۔‘‘ (الحدید: 16)
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ محبت نبی کریم ﷺ کے طریقہ تربیت میں ایک بنیادی چیز ہے۔ اسی کے ذریعے روح، روح سے بات کر سکتی ہے اور دل دل سے مخاطب ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالی نے فطری طور پر والدین کے دلوں میں اپنی اولاد کی محبت رکھی ہوتی ہے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے ایک گھٹنے پر بٹھاتے اور حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اپنے دوسرے گھٹنے پر بٹھاتے۔ ان دونوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے اور فرماتے:
اے اللہ! ان پر رحم فرما! میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں۔
دوسری روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ اے اللہ ان پر رحم فرما کیونکہ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔
تربیت میں محبت کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو اٹھایا جائے، انہیں اپنے ساتھ لگایا جائے اور انہیں چوما جائے۔
اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی موجودگی میں رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو چوما تو کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! میرے دس بیٹے ہیں، لیکن میں نے کبھی کسی کو نہیں چوما! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:
جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
ایک روزہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حسن اور حسین رضی اللہ ہو تعالئ عنہما چلتے ہوئے آگے، وہ تھوڑا چلتے تھے اور تھوڑا گرتے تھے۔ آپ صلی للہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو منبر سے اترے، انھیں اپنی باہوں میں لے لیا اور پھر فرمایا:
اللہ تعالی نے سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے فتنہ ہے۔ میں نے جب ان دو بچوں کو کبھی چلتے کبھی گرتے دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا اور میں نے اپنی بات کاٹ کر انہیں اٹھا لیا۔
رسول اللہ ﷺ بچوں کے ساتھ بڑے تواضع سے پیش آتے اور ان کے ساتھ مذاق بھی فرماتے۔ رسول اللہ ﷺ ایک خاص مذاق فرماتے۔ ایک کو کہتے:
اے کانوں والے! اور دوسرے کو کہتے! اے ابو عمیر! نغیر کی کیا خبر ھے؟
والدین کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ محبت کے ذریعے تربیت کا عظیم ترین فائدہ مند ترین پہلو اللہ تعالیٰ سے اپنے بچوں کے لیے ہدایت، نیکی اور نگہبانی کی دعا ہے۔ اللہ اپنے نیک بندوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں:
’’اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے۔‘‘ (الفرقان: 74)
اللہ تعالی نے زکریا علیہ السلام کی یہ دعا نقل فرمائی:
’’مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے۔ جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوب کی میراث بھی پائے، اور اے پروردگار، اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔‘‘ (مریم: 5 6)
ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا تھی:
’’اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو۔‘‘ (صافات: 100)
اور یہ بھی انہی کی دعا تھی:
’’اے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں)۔‘‘ (ابراہیم: 40)
رسول اللہ ﷺ نے اولاد کو بددعا دینے سے منع فرمایا ہے، فرمایا:
’’اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اور اپنے مال کو بد دعا مت دو، ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی گھڑی میں آپ کے منہ سے بد دعا نکل جائے اور اللہ تعالی اسے قبول کر لے۔‘‘
نیک نمونہ تربیت کی اساس اور تعلیم کا نور ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
’’اے نبی(ﷺ)! لوگوں سے کہہ دو کہ، “اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میر ی پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔‘‘ (آل عمران: 31)
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کے بچے جسے اپنا آئیڈیل بناتے ہیں اس کی تقلید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کتابوں دوسروں کی باتوں کی نسبت ان کے کاموں سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اور چونکہ نمونے کی اہمیت بہت زیادہ ہے اللہ تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔‘‘ (‏صف: 2 3)
غلطی اور کوتاہی کے وقت بھی انسان کی محبت برقرار رہنی چاہیے۔ یہی نبی کریم ﷺ کی تعلیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور آکر کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا! تو آپ ﷺ سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ روزے کے دوران میں اپنی گھر والی کے ساتھ تعلق قائم کر بیٹھا ہوں۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیاتم کوئی غلام آزاد کرا سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا دو مہینے کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں؟ آپ نے پوچھا: کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ اس پر آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ ابھی ہم وہیں بیٹھے تھے کہ ایک شخص کچھ کھجوریں لے کر آیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: وہ سوال کرنے والا ہے؟ اس نے کہا: میں یہاں ہوں! آپ نے فرمایا: یہ کھجوریں لے لو اور انہیں صدقہ کردو۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے بڑھ کر فقیر کون ہوگا جس کو میں صدقہ دوں؟ خدا کی قسم اس سارے شہر میں مجھ سے زیادہ فقیر کوئی گھر نہیں ہے۔ اس پر آپ ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ کے دانت مبارک نظر آنے لگے۔ اور پھر فرمایا: چلو اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔
پیار کے ساتھ ساتھ حکمت، بھلی نصیحت، اچھے بول اور نرمی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ دوسروں کی بےعزتی کرنے، ان کے ساتھ سختی برتنے اور ان کے جذبات مجروح کرنے سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے نبیؐ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ۔‘‘ (نحل: 125)
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’اللہ تعالی نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ وہ نرمی برتنے پر ایسی جزا دیتا ہے جو سختی برتنے پر یا کسی دوسری چیز پر نہیں دیتا۔‘‘
اعرابی کے متعلق فرمایا:
’’اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی گرا دو! تمہیں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے لوگوں کو مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں! ‘‘
طالب علم کے ساتھ احترام سے پیش آنا، اسے خوش آمدید کہنا اور اس کی عزت کرنا نبی کریم صلی اللہ ھو علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ایک روز فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا بالکل نبی کریم ﷺ کی طرح چلتی ہوئی آئیں، جب آپ نے انہیں دیکھا تو آپ نے کہا: بیٹا خوش آمدید! پھر آپ نے انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا۔
تربیت میں جسم کے تمام اعضاء شامل ہوتے ہیں، منہ پر سچی مسکراہٹ ہوتی ہے، ہاتھ میں نرمی ہوتی ہے، الفاظ میں محبت ہوتی ہے اور احساس میں رحمت ہوتی ہے۔
مربی کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے طالب علم کو کم علم یا چھوٹا سمجھے بغیر اسے اخلاق سکھانے کی کوشش کرتا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک روز نبی کریم ﷺ کے ساتھ سواری پر بیٹھا تھا۔ آپ نے فرمایا:
بیٹا! میں تمہیں کچھ الفاظ سکھا رہا ہوں! اللہ کو یاد کرو گے تو وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اللہ کو یاد رکھو گے تو تم اسے اپنی طرف متوجہ پاؤ گے۔

محبت کے ساتھ تربیت کا تقاضا یہ ھے کہ بہترین ماحول ہو، مجلس میں خوشی کا عنصر موجود ہو اور جس میں شریعت کے حدود کے اندر رہتے ہوئے کھیل کود بھی ہو۔
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر پر گئی اور میں نے دوڑ میں آپ ﷺ کے ساتھ مقابلہ کیا۔ پہلے سفر میں تو میں جیت گئی اور دوسرے سفر میں جب میرے جسم پر ذرا گوشت آ گیا تب میں ہار گئی۔ اس پر آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میری جیت تمہاری اس جیت کے بدلے میں ہے۔
سیدہ فرماتی ہیں: ایک روز میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہیں، حبشہ کے بچے مسجد میں کھیل رہے ہیں اور آپ ﷺ اپنی چادر سے مجھے چھپا رہے ہیں۔ اس وقت میں ان کی کھیل کو دیکھ رہی تھی۔
پیار کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اولاد میں عدل کیا جائے تاکہ محبت میں سارے بچے یکساں طور پر آجائیں۔
رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے اولاد میں سے صرف ایک بچے کو تحفہ دینے پر گواہ بننے سے انکار کردیا۔ فرمایا:
میں ظلم کی گواہی نہیں دیتا
تربیت میں محبت، جذبات اور احساسات کا خاص خیال رکھنا نبی کریم ﷺ کی تعلیم ہے اور فطری ضرورت بھی ہے۔ یہ بیٹیوں کے حق میں زیادہ اہم ہے۔ فرمان نبوی ہے:
جو دو بیٹیوں کی نگہبانی کرے اور ان کے ساتھ اچھا تعامل کرے اس کی بیٹیاں اسے جنت میں لے جانے کا ذریعہ بن جائیں گی۔
بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک میں ان کی تعلیم و تربیت اور انہیں عفت اور پاکیزگی کی تلقین اور انہیں اظہار زینت سے روکنا شامل ہے۔
اسی طرح اولاد کو مثبت سرگرمیوں میں ڈالنا اور اچھے منصوبوں میں شامل کرنا، ان کی ہمت بلند کرنے اور برای اور چھوٹی چیزوں میں مصروف ہونے سے بچانے کا ذریعہ ہے۔
محبت کے ذریعے تربیت کا منفی پہلو یہ ہے کے بچوں کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے جائیں اور انہیں ہر مانگی جانے والی چیز دے دی جائے، ان کی تربیت میں کمی کی جائے اور ان کی غلطیوں کو درست نہ کیا جائے۔ کسی وقت محبت کا تقاضا سختی کرنا بھی ہوتا ہے۔ اگر بچوں کے سامنے ماں کی بےعزتی کی جائے تو ان کے دلوں میں محبت کے چشمے سوکھ جاتے ہیں۔
اسی طرح اگر والدین بچوں کے سامنے کھلے عام گناہ کرتے رہیں تو تربیت ممکن نہیں رہے گی۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
’’انسان کے گنہگار ہونے کے لیے اتنا ہی بہت ہے کہ وہ ان لوگوں کا خیال نہ کرے جن کی تربیت کا ذمہ اللہ تعالی نے اسے دے رکھا ہے۔‘‘
اللہ مجھے اور آپکو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اللہ سے اپنے لیے اور آپ کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں آپ بھی اسی سے معافی مانگیں یقینا وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
الحمداللہ اللہ تعالی کے لیے با برکت اور پاکیزہ اور بے انتہا تعریف ہے ویسی تعریف جو ہمارے رب کو پسند ہے اور جس سے وہ خوش ہوتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہی بلند و بالا ہے میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور پاکیزہ رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت اور صحابہ کرام پر اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعدازاں!
میں اپنے آپکو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں!
آج کے دور میں ٹیکنالوجی بہت ترقی کر گئی ہے اور ہرگھر میں نئی ڈیوائسز آگئی ہیں جن سے لوگوں کے افکار، رویوں اور سوچ میں بہت بڑا فرق آ گیا ہے۔ اب یہ ڈیوائسز گھروالوں کے ساتھ بچوں کی تربیت میں شریک ہوتی ہیں۔
یہاں معلوم ہوتا ہے کہ محبت سے تربیت، اعتماد کے تعلق، تربیت میں نئے سے نئے ذرائع اپنانے، اخلاق سکھانے اور فردی اور اجتماعی طور پر مستقبل کے ذخیرے کی حفاظت کرنے کی کتنی ضرورت ہے۔ انہیں اخلاق کا ہتھیا ر دینا چاہیے اور نوجوانوں کے مسائل اور مشکلات اور پریشانیوں کو خاص اہمیت دینی چاہیے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔‘‘ (تحریم: 6)
اے اللہ محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی تھی یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی تھی یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ خلافائے راشدین ابو بکر عمر عثمان اور علی اور تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہوجا اپنا فضل و کرم اور خاص احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما کفر اور کافرین کو رسوا فرما اے اللہ اپنے اور دین کے دشمنوں کو ہلاک فرما اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سکون نصیب فرما۔
اے اللہ جو ہمارے متعلق یا اسلام اورمسلمانوں کے متعلق کوئی برا ارادہ رکھے تو اسے خود ہی میں مصروف فرما اسی کی چالوں میں اس کی ہلاکت فرما اے دعا سننے والے اے اللہ جو ہمارے متعلق یا اسلام اورمسلمانوں کے متعلق کوئی برا ارادہ رکھے تو اسے خود ہی میں مصروف فرما اسی کی چالوں میں اس کی ہلاکت فرما اے دعا سننے والے ۔
اے اللہ ان لوگوں کی مدد فرما جو تیرا کلمہ بلند کرنے کیلئے جہاد کررہے ہیں اے اللہ ان کی تائید فرما ان کی نصرت فرما اور ان کی نگہبانی فرما ۔
اے اللہ ہر جگہ کمزور مسلمانوں کی مدد فرما اے اللہ وہ بھوکے ہیں تو انہیں کھانا نصیب فرما وہ پیدل ہی انہیں سواری نصیب فرما وہ بے لباس ہیں تو انہیں لباس نصیب فرما وہ مظلوم ہیں اے عزت و طاقت والے ان کی نصرت اور مدد فرما!
اے اللہ ہر جگہ ہمارے مجاہد بھائیوں کی مدد فرما ان بھائیوں کی مدد فرما جو سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں اے اللہ اے پروردگار عالم ان کے مال اور ان کے گھر والوں کی حفاظت فرما اے اللہ ہمارے سپاہیوں کی حفاظت فرما اور ان کی ہمت بلند فرما ۔
اے اللہ ہم تجھ سے جنت کا اور جنت کے قریب لے جانے والے ہر قول وعمل کا سوال کرتے ہیں جہنم اور جہنم کی طرف لے جانے والے ہر قول و عمل سے پناہ مانگتے ہیں۔
اے اللہ ہم تجھ سے ساری خیر کا سوال کرتے ہیں جلد آنے والی خیر کا دیر سے آنے والی خیر کا اس خیر کا کہ جس کا ہمیں علم ہے اور اس خیر کا کہ جس کا ہمیں علم ہی نہیں ہے تمام برائیوں سے تری پناہ میں آتے ہیں جلد آنے والی برائی سے اور دیر سے آنے والی برای سے اس برائی سے جسے ہم جانتے ہیں اور اس برائی سے جسے ہم نہیں جانتے۔
اے اللہ اے پروردگارعالم ہمارے دین کی اصلاح فرما جس پر ہمارے معاملے کا دارومدار ہے ہماری دنیا کی اصلاح فرما کہ جس میں ہمارا معاش ہے ہماری آخرت کی اصلاح فرما کہ جس کی طرف ہم نے لوٹنا ہے زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو مصیبت سے نجات کا ذریعہ بنا۔
اے اللہ ہم تجھ سے ہدایت تقوی عفت اور بے نیازی کا سوال کرتے ہیں۔
اے اللہ ہم تجھ سے خیر کی ابتدا خیر کی انتہا جامع خیر خیر کا پہلا حصہ اور خیر کا آخری حصہ بنتے ہیں اے پروردگار عالم ہم جنت کے اعلی درجات کا سوال کرتے ہیں۔
اے اللہ ہماری مدد فرما اور ہمارے خلاف دوسروں کی مدد فرما ہماری نصرت فرما اور ہمارے خلاف دوسروں کی نصرت نہ فرما ہمارے لئے چالبازی فرما اور ہمارے خلاف چال بازی نہ فرما ہمیں ہدایت عطا فرما اور ہدایت کی راہ ہمارے لئے آسان فرما ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔
اے اللہ ہمیں ذکر کرنے والا شکر کرنے والا اور اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا۔
اے اللہ! ہم تیری نعمت کے زوال سے اچانک آنے والی پکڑ سے اور تجھ سے ناراض کرنے والی ہر چیز سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔
اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور اے پروردگار عالم ہماری غلطیوں سے درگزر فرما۔
اے اللہ ہمیں برکتیں رحمتیں اپنا فضل کریم اور بھلا رزق عطا فرما۔
اے اللہ ہمارے فوت شدگان پر رحم فرما ہمارے والدین کی مغفرت فرما ہمارے بیماروں کو ایک قوت اور عزت والے شفا عطا فرما۔
اے اللہ ہماری عمروں میں ہمارے کاموں میں ہماری نسلوں میں ہمارے مال میں اور ہمارے گھر والوں میں برکت عطا فرما اے پروردگار عالم ہم سب کو بابرکت بنا۔
اے اللہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر او رمحتاج ہیں ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما رحمت کی بارش عذاب طوفان اور توڑ پھوڑ سے پاک بارش نصیب فرما۔
اے اللہ ہمارے امام خادم حرمین شریفین کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے اسے نیکی اور بھلائی کی طرف لے جا اسے اور اس کے ولی عہد کو بھلے کاموں کی توفیق عطا فرما اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے اے پروردگار عالم تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔ (الاعراف: 23)
اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ (الحشر: 10)
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ۔ (البقرہ: 201)
اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔ (النحل: 90)
اللہ کو یاد کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا اسکی نعمتوں کا شکر ادا کروں گا تو میں مزید عطا فرمائے گا اللہ کا ذکر تو بلندتر ہے اور وہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں