8

تشکیک سے مذہب کی تائید ہوتی ہے یا الحاد کی؟

تشکیک سے مذہب کی تائید ہوتی ہے یا الحاد کی؟
تحریر: فلسفی، نقاداور مفسر مولانا عبد الماجد دریابادی

منجملہ ان چند الفاظ کے، جنکو ارباب مذہب نے ہمیشہ نفرت، عداوت، وخوف کی نگاہ سے دیکھاہے، ایک لفظ تشکیک یا لا ادریت بھی ہے۔ تشکیک انکے نزدیک مذہب کی سب سے قوی حریف ہے! مشککین کو انہوں نے تحریکات دینی کا سب سے بڑا قاطع وبربادکن سمجھا ہے، اور لا ادریت ان کے لغت میں، ہمیشہ الحاد و دہریت کے مترادف رہی ہے( چنانچہ گزشتہ صدی کے آخر میں جبکہ ہکسلے، لادریت کی منادی کر رہا تھا، انگلستان کے ایک نہایت نامور آرج بشپ نے اپنے ایک مضمون میں صراحتا یہ تحریر کیا، کہ ملاحدہ کو خود الحاد ہ دہریت کے انتساب سے عار آتا ہے، پس اس شرم وذلت سے بچنے کے لے انہوں نے اپنے واسطے لادریت کا لقب اختراع کیا)مذہبی حلقوں میں یہ ایک قطعی و مسلم رائے ہے، لیکن واقعات بھی اس کی تائید کرتے ہیں؟ صفحات ذیل میں اسی سوال کا جواب ملے گا۔
یہ مسئلہ درحقیقت، تین مختلف مسائل سے مرکب ہے، یعنی مذہب کیا ہے؟ الحاد کیا ہے؟ اور پھر تشکیک کا ان دونوں سے کیا تعلق ہے؟ جب یہ مسائل بجاے خود منقح ہو جائیں گے، تو پھر سوال مندرجہ ذیل عنوان کا حل ازخود ہو جائیگا، اور کسی مزید بحث کی گنجائش نہ رہے گی۔

٭پہلا مسئلہ- مذہب کی ماہیت:
مذہب کی صحیح ماہیت کے دریافت کرنے میں جو شے سب سے بڑھ کر مانع ہوتی َہے، وہ مختلف مذاہب کا باہمی اختلاف، بلکہ تضاد ہے، اس دقت پر غالب آنے کا طریقہ یہ ہے کہ صرف ان خصوصیات کو پیش نظر رکھا جائے، جو تمام مذاہب میں مشترک ہیں. اور انہیں مہمات عقائد سے سروکار رکھا جاے، جنہیں ہر مذہب نے بہ این تخالف و تباین بطور بنیاد کار کے تسلیم کیا ہے، اس حیثیت سے مذہب پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسکے عناصر ترکیبی حسب ذیل ہیں:
(1)۔کسی ما فوق ادراک قوت یا ذات کا وجود، جو تمام عالم پر حاکم و متصرف ہے۔
(2)۔اس فوق الادراک ہستی کی طرف سے انسانی زندگی کے ہدایا و احکام کا نزول ، جسے وحی و الہام کہتے ہیں۔
(3)۔ ان احکام کی پابندی کی تاکید اور انکی خلاف ورزی پر تعزیرات شدید کی وعید، یہ مذہب کی تصریحات ہیں، ان سے دو نہایت اہم تفریعات نکلتی ہیں، جنکا مذہب نے خواہ کبھی صراحتَہ دعوِیٰ نہ کیا ہو لیکن انکا مفہوم، کلیات بالا کے پردہ میں لازمی طور پر شامل ہے، وہ تفریعات یہ ہیں:
اوّلا:یہ کہ انسان فاعل باارادہ ہے۔ افعال کی ذمہ داری کے معنی ہی یہ ہیں کہ انسان ایک صاحب شعورو عقل مخلوق ہے۔
ثانیا:یہ کہ انسانی عقل کا ایک محدود مخصوص دائرہ عمل ہے جس سے اُسے کسی حالت میں قدم نہ نکالنا چاہیے، یعنی تکوین عالم کی علت، وامورمعاد وغیرہ عقل کی دسترس سے باہر ہیں، ان معاملات میں انسان کی عملی ذندگی کی رہنما، عقل نہیں بلکہ اعتقاد ہے۔
ترتیب اہمیت کے لحاظ سے مذہب نے ہمیشہ ثانی الذکر تفریع کو اوّل الذکر پر مقدم رکھا ہے۔ادنےٰ درجہ کے مذاہب کا ذکر نہیں، بڑےسےبڑے متمدن مذہب نے بھی جب کبھی کہا ہے تو یہی کہا ہے کہ عقل اگرچہ انسان کے حق میں ایک بڑی نعمت ہے، با این ہمہ اس کا دائرہ عمل، عالم ظاہری کی چند اُوپری باتوں تک محدود ہےاور یہ کہ کائنات کے دقیق اسرار اور حقائق اصلی کا انکشاف اس کے بس کی بات نہیں۔ اسی طرح کفار کی اس خصوصیت کو نمایاں طور پر بتایا گیا ہےکہ وہ لوگ ہر اس بات کی تکذیب پر تیار ہو جاتے ہیں، جو انکی عقل میں نہیں آتی، حالانکہ یہ نہیں جانتے کہ انکی عقلیں تو بہت ہی نارساہیں۔ غرض مذہب کے اصل الاصول کو اگر دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں، تو کہہ سکتے ہیں، کہ وہ، وہ نظام ذندگی ہے، جس میں اعمال انسانی پراصلی حاکم و متصرف، عقل کو نہیں، بلکہ اعتقاد کو قرار دیا گیا ہے۔

٭دوسرا مسئلہ :الحاد:
مذہب کے بالکل برعکس الحاد نام ہے عقل پرستی کا۔ ملاحدہ کی طرف سے ہر ملک و ہر زمانہ میں مذہب پر جس قدر اعتراضات ہوتے رہے ہیں، ان سب کا ما حصل یہ ہے کہ مذہب کی تعلیمات چونکہ عقل کے مخالف ہیں اسلیے غلط نا قابل قبول ہیں۔ اٹھارویں صدی میں مذہب طبیعی، انیسوویں صدی میں مادیت اور آج عقلیت کے نام سے الحاد کے جو مختلف مظاہر دنیا میِں پیدا ہوتے رہے ہیں، انکی خصوصیت مشترک یہ ہے کہ انکے علمبردار صرف عقل کو اپنی زندگانی کا رہنما قرار دیتے ہیں اور بہ غایت بلند آہنگی دعویٰ کرتے ہیں، کہ چونکہ مذہب عقل کی مخالفت کرتا ہے، اسلیے قطعی ہے کہ یہ فنا ہو جائے گا، چنانچہ اٹھارویں صدی میں جن لوگوں نے الحاد کا اسکول قائم کیا تھا انہوں نے اس کا نام ” Religion of Reason” یعنی “مذہب عقلی” رکھا تھا، اور اس وقت کے مشہور ترین منکر مذہب ٹامس پین نے مذہب کے رد میں جو کتاب لکھی، اس کا نام بھی “Age of Reason” یعنی عہد عقلی یا دورِعقلی رکھا، پھر آجکل بھی جس قدر مشاہیر ملاحدہ منکرین مذہب ہیں، وہ سب اپنے تیئن ” Rationalists” یعنی عقلئین کہتے ہیں۔

٭تیسرامسئلہ:تشکیک:
اب دیکھنا یہ ہے، کہ تشکیک و لاادریت جس کے مشاہیر ارکان، قدماے یونان میں پرہو، کارینڈس، آسیسلادس، وسیکشس، اور یوروپ میں ہیوم، کینٹ، اسنپسر، ہکسلے، و، ڈارون ہوئے ہیں، اس سے مذہب کی تائید ہوتی ہے، یا الحاد کی؟ اس کا حل ایک دوسرے سوال پر موقوف ہے، یعنی تشکیک کی ماہیت کیا ہے؟
قدماء مشککین یونان کی تصانیف آج موجود نہیں لیکن متاخرین نے جو کچھ انکے بارہ میں لکھا ہے اس سے انکے متعلق حسب ذیل معلومات حاصل ہوتے ہیں:
“حقایق اشیاء مجہول ہیں، انسان کو اتنا تو بلاشبہ معلوم ہوتا ہے کہ مظاہر طبعی کیا ہیں، لیکن کسی شے کی اصل حقیقت یا ماہیت کا اسے مطلق علم حاصل نہیں ہو سکتا، انسانی معلومات جس قدر بھی ہوں یا تو محسوسات ہونگے یا محسوسات سے ماخوذ ہونگے، شق اوّل میں، چونکہ ہر انسان کے حواس دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اس لیے محسوسات کے علم کا اضافی ہونا اور ہر شخص کے لے انکا مختلف ہونا ظاہر ہے اور شق دوم میں بھی وہ اس لیے اضافی ہونگے کہ انسان متفادت العقول ہوتے ہیں اور ہر شخص کی عقل اس تربیت اور ماحول کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں وہ نشونما پاتا ہے پس اسکے پاس اصل حقیقت کی دریافت کا کوئی ذریعہ نہیں۔ خواص و کیفیات اشیاء کے متعلق ہم نے جو رائیں قائم کی ہیں ان میں سے ہر ایک کی مساوی قوت کے ساتھ تردید و تائید کیجاسکتی ہے۔جن چیزوں کو محاسن اخلاق سمجھا جاتاہے انکی حمایت و موافقت پر جس قدر دلائل قایم ہو سکتے ہیں اس قدر انکی مخالفت پر بھی قایم کے جا سکتے ہیں۔ایسی حالت میں فطری حیثیت سے انسان کے پاس امتیاز حق و باطل کا کوئی ذریعہ نہیں۔ البتہ یہ ضرورہے کہ عملی ضروریات کے لحاظ سے اسے بادی النظر میں اشیاء کے خواص و کیفیات کا ایک پہلو انکے دوسرے پہلو کے مقابلہ میں راجح ہوتا ہے، اور عمل کے لے اسی قدر راحجیت و مرحوجیت کافی ہے”۔
(قدماءمتشککین کے ان خیالات کا خاص ماخذ ہے، دیوجانس رومی کی کتاب “حکماء قدیم کے خیالات اور سوانح”۔ “Diogenes: Lives & Opinion of ancient Philosophers” اسکے علاوہ یہ حالات تاریخ و فلسفہ کی عام کتابوں، خصوصا، ویبر، لوٹیس، جائنٹ وغیرہ کی تصانیف میں تفصیل سے ملتے ہیں، ڈاکٹر فیلینٹ، مشہور مسیحی عالم جنکی تصانیف یونیورسٹیوں کے بی۔اے و، ایم۔اے کے نصاب میں داخل ہیں، اس نے “لاادریت” کے عنوان سے، جو 600 صفحہ کی مبسوط کتاب تیار کی ہے اس کے ابتدائی اجزا میں بھی تشکیک قدیم کی تاریخ کے متعلق مفصل معلومات مندرج ہیں)
ڈیوڈہیوم (david hume)نے جو تشکیک جدید کا ابوالآباء ہوا ہے، اپنی متعدد تصانیف میں جن خیالات کی اشاعت کی ہے انکا ماحاصل یہ ہے:
“فلاسفہ و الٰہئین اپنا سارا زور اس پر صرف کرتے ہیں کہ مختلف اشیاء عالم کے درمیان رشتہ علت و معلول دریافت کریں لیکن مزید غور سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسبتِ تعلیل جس پر سارے نظام فلسفہ کی بنیاد ہے ایک وہمی و بے حقیقت شے ہے۔ہم کسی شے کے معلول ہونے کے یہ معنی لیتے ہیں کہ جب ایک خاص واقعہ(نام ہم نے علت رکھا ہے) ظاہر ہوگا تو یہ دوسرا واقعہ بھی لازمی طور پر ظاہر ہوگا لیکن سوال یہ ہے کہ اس لزوم کی کیا دلیل ہے؟ یہ ہم کس بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ جب ایک شے واقع ہوگی تو دوسری بھی لازمی طور پر واقع ہوگی؟ ظاہر ہے کہ اس کے جواب میں کوئی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی بلکہ اسکی بنیاد صرف ہماری ایک ذہنی عادت پر ہے۔، جب ہم دس بیس بار یہ مشاہدہ کرچکے ہیں کہ آگ کے روشن ہونے کے ساتھ ہی ہمیں گرمی محسوس ہوِئی تو ہمارا ذہن اس توقع کا ایک طرح پر عادی و خوگر ہو جاتا ہے کہ آئندہ جب کبھی آگ روشن ہوگی تو ہمیشہ گرمی پیداہوگی۔ بس اس عادت کے سوا اور کوئی بنیاد تعلیل کی ہمارے پاس نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم عقل و دلیل کی بنا پر کسی شے پر پورا اعتماد نہیں کرسکتے اس کے علاوہ ہمارے تمام دلائل تحلیل ہو کر اوّلیات پر ٹھہرتے ہیں جنھیں ہم نے شروع ہی سے مُسلّم فرض کرلیا ہے لیکن خود انکی صحت کی کیا ذمہ داری ہے؟ اس بنا پر ہمیں نظری حیثیت سے یہ اعتراف کر لینا چاہیئے کہ ہمیں کسی حقیقت کا علم نہیں ہو سکتا بلکہ ہمارے معلومات تمام تر اضافیات پر مشتمل ہیں لیکن اسی کے ساتھ انسان فطرتا عمل پسند واقع ہوا ہے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ایک شے کو ترک اور دوسرے کو اختیار کرنا اسکی فطرت میں داخل ہے جس سے وہ بچ ہی نہیں سکتا۔ ان حالات کے ساتھ، انسان کی سی متناقض الفطرت ہستی کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ وہ باوجود اس یقین کے کہ حقائق اشیاء اس کے لئے ناقابل ادراک ہیں اپنے تیئں سوسائٹی کے احکام داد امر پر چھوڑدے، اور جو رسم و رواج اپنے گردوپیش دیکھے عمل کے لئے انھیں کو اختیار کرتا ہے۔”
کینٹ(Kant) کہ جسکا وہی مرتبہ فلاسفہ یورپ میں ہے، جو یونانیوں میں فلاطون کا تھا، دو تصانیف خصوصیت کے ساتھ مشہور ہیں۔ ایک “عقل مجردّ” “ Pure Reason” پر ہے، اس میں وہ نفس بشری کی محقّقانہ تحلیل اور انسانی معلومات پر شرح وبسط و بحث کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتاہے کہ انسان کے لے ماہیت اشیاء کا علم ناممکن ہے، اور اسرار کائنات کی عقدہ کشائی کے جب وہ درپے ہوا تو ہمیشہ ناکامی و گمراہی اسکے نصیب میں رہی، چنانچہ وجودباری، وجود روح، حیات بعدالموت، جو آلہیات کے مہمات مسائل ہیں، ان پر اگر خالص عقلی و استدلالی حیثیت سے نظر کیجائے تو انکی نفی و اثبات دونوں پر مساوی درجہ کے شواہد ملتے ہیں، اس طرح جتنے مباحث ماہیت اشیاء سے متعلق ہیں اس سب کی یہ کیفیت ہے، کہ انسان ان پر جس قدر زیادہ غور فکر کرتا ہے اسی قدر وہ اور زیادہ غامض، سر بستہ و لایخل ہوتے جاتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کو عقلی حیثیت سے کسی مسئلہ کی کُنہ پرلقیا یا ا ثباتا کوئی حکم لگانے کا حق نہیں۔ لیکن حیات نظری کے علاوہ انسان حیات عملی بھی رکھتا ہے، جس سے متعلق کینٹ اپنی دوسری کتاب “عقل عملی” “Practical Reason” میں بالتفصیل بحث کرکے یہ نتیجہ نکالتا ہے، کہ جن مسائل غامضہ کے حل کرنے میں ہمارے قواے مفکّرہ ناکام رہتے ہیں وہ بالآخر ہمارے قواے عملیہ کی مدد سے صاف ہو جاتے ہیں اور خدا، روح، و حیات بعدالموت کے وجود کو، جسکی طرف سے ہم عقلا و استدلالا مایوس ہو چکے تھے انھیں ہمیں اپنی عملی ضروریات کے لحاظ سے اعتقادا لا مُحالہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہیئت اجتماعیہ کی بہبود، نظام اخلاق کی بقاء، افراد کا سکونِ خاطر، شیرازہ عمرانی کی جمعیت، سب ان تین ہستیوں کے صحیح کرنے کے ساتھ وابستہ ہے(کینٹ کی تحقیقات کے صرف نتائج یہاں درج کیے گئے ہیں، ورنہ اسکے دلائل و شواہد کا اگرچہ اختصار کے ساتھ بھی خلاصہ کیا جاتا تو دو ایک جزو سے کم میں ان کی گنجایش نہ تھی۔(عبدالماجد)
اسکے بعد انیسویں صدی کے رہبران لاادریت میں سب سے زیادہ ممتاز اسپنسروہکسلے گزرے ہیں، جنکے عقب میں ڈارون، ٹنڈل، یل، مارلی وغیرہ متعدد مشاہیر عصرکے نام بھی نظر آنے ہیں، ان لوگوں کے عقاید اگرچہ تفصیلات میں باہم خود مختلف و متناقض ہیں، لیکن اصولا و اجمالا کینٹ و ہیوم کی صداےبارگشت ہیں، یعنی اسقدر اس سب کو مسلّم ہے کہ حقایق اشیاء کا علم حواس و عقل کے ذریعہ نہیں ہوتا البتہ یومیہ زندگی کی عملی ضروریات کے لحاظ سے ہمیں مظاہر طبعی پر پورا اعتماد رکھنا چاہیے اور جہاں عقل کی دسترس نہیں وہاں اعتقاد کا سہارا ڈھونڈھنا چاہیے، بیانات بالا سے تشکیک کے متعلق جو معلومات حاصل ہوئے، انکا ماحصل ہم دفعہ وار درج ذیل کرتے ہیں اور انکے مقابلہ میں مذہب کی تائید یا تردید بھی دکھاتے ہیں:
تشکیک: حقایق اشیاء انسان کی نظر سے مجہول ہیں۔ انسان کی معلومات کائنات کے اوپری و سطحی حصّہ تک محدود ہیں۔
مذہب: مذہب اسکو بہ لسان تمثیلی یوں کہتا ہے کہ آدم کو صرف “اسماء” بتائے گئے، ماہیت اشیاء کے علم کا مذہب نے کبھی دعویٰ نہیں کیا۔

تشکیک: اصل حقیقت کے لحاظ سے یہ کوِِِئی شخص نہیں فیصلہ کرسکتا کہ راہ حق پر کون ہے۔ مختلف اشخاص اپنے گردوپیش کے رسم و رواج میں گرفتار ہیں کہ یہی طریقہ انکے لے آسان و قابل عمل ہے۔
مذہب: مذہب کہتا ہے: کل یعمل علٰی شاکلتہ وربّک اعلم بمن ھو اھدی سبیلا۔ کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے پھر تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ ٹھیک راہ پر کون ہے۔(سورۃ الاسراء، آیت 84)

تشکیک: بیشمار چیزیں عقل کی دسترس سے باہر ہیں، اسلیے عقل کو ہر شے کی واقفیت وغیرواقفیت یا صدق و کذب کا معیار قرار دینا خود ہماری نادانی ہے۔
مذہب: بالکل یہی ہدایت مذہب نے بار ہا کی ہے۔

تشکیک: ہیئیت اجتماعیہ بلکہ خود انسانی زندگی کو قائم رکھنے کے لے اصل لازمی شے عقلی دلائل و براہیں نہیں، بلکہ مستحکم معتقدات ہیں۔
مذہب: مذہب کا دارومدار اسی اصول پر ہے۔

تشکیک: عقاید آرا میں بے حد اختلاف کا باعث یہ ہے کہ مختلف افراد خود اپنی فطرت کے لحاظ سےباہم متباین ہیں۔
مذہب : مذہب نے اس اختلاف خلقت پر بار بار زور دیا ہے، کہیں کہا ہے ‘اُنظر کیف فضلنا بعضھم علی بعض’ اور کہیں کہا ہے کہ اگر مشیت ایزدی ہوتی تو سب انسان یکساں پیدا کے جاتے مگر ایسا نہیں کیا گیا، اور اسلیے ان میں اختلاف با ہمی کا سلسلہ غیر منقطع قایم رہے گا۔

تشکیک کا قدم یہیں آکر رُک جاتا ہے کہ عقل انسانی حقائق کے علم سے قاصر ہے لیکن مذہب اس سے ایک قدم اور آگے بڑھاتاہے کہ ہم حقائق کے علم سے عاجز ہیں لیکن ایک اور مافوق ذات ہے جو ان حقائق کی خالق اور عالم ہے اور ہماری عقل و قوت کا قصور ہی اس کامل العقل والقویٰ ذات کے وجود کی دلیل ہے، متشککین کو اگر اس حقیقت میں بھی تزلزل ہے اور انکو انکے اصول کے مطابق ہونا چاہیے، تو ہم کہیں گے،
وہی پر گر پڑا کبوتر کا
جس میں نامہ بندھا تھا دلبر کا
لفظ “دلیل” کو سن کر ان کو مضطرب نہ ہونا چاہیے ورنہ اپنی تشکیک میں بھی انکو تشکیک چاہیے اس طائفہ عالیہ میں سنا ہے اس رتبہ کے لوگ بھی موجود ہیں۔
جس نے تجکو پایا۔ وہ آپ سے کھویا گیا
ماہنامہ معارف۔ دارالمصنفین، 1924

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں