11

چیف جسٹس کا قصور ؟

اسلام آباد میں سرد اور اداس دوپہروں کو اکثر ویک اینڈ پر ہم چند دوستوں کی گپ شپ ہوتی ہے۔ سینیٹر انور بیگ، ارشد شریف، وسیم حقی اور راقم‘ کھانے پر پورے ہفتے کی باتیں کرتے ہیں۔ اس دفعہ خاور گھمن بھی ساتھ تھے۔ وسیم حقی کے بارے میں میری ہمیشہ سے رائے رہی ہے کہ وہ اسلام آباد کے اُن ایک دو باخبر لوگوں کی طرح ہیں‘ جن کے پاس ہر قسم کی معلومات کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ میجر (ر) عامر کی طرح وہ بھی راز جانتے ہیں اور خود کو ملک کی سیاسی سرگرمیوں سے آگاہ رکھتے ہیں۔ وسیم حقی کا ہر طبقۂ فکر کے لوگوں سے ملنا جلنا ہے‘ چاہے وہ سیاستدان ہوں، سابق فوجی یا سویلین افسران‘ یا پھر ہمارے جیسے صحافی۔ میزبان وہ بہت اچھے ہیں۔ جنرل مشرف کو ایک دفعہ منہ پر کچھ ایسی باتیں کہہ دی تھیں کہ ان کی بہت جلد چھٹی ہو گئی لیکن مجال ہے کہ مزاج میں کوئی تبدیلی آئی ہو۔ آج بھی جس کو کھری کھری سنانی ہوں‘ سنا دیتے ہیں۔ ان کے متاثرین میں انور بیگ، ارشد شریف اور راقم‘ شامل ہیں۔ ان کے ہاں دوستوں کے ساتھ بھی رعایت کا خانہ نہیں ہے۔
خیر‘ کھانے پر چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کا ذکر ہوا۔ بات وہیں سے شروع ہوئی کہ اب ان پر بھی چند طبقات تنقید کرنے لگ گئے ہیں کہ وہ کیوں اتنا کچھ کر رہے ہیں، حکومت کو کیوں نہیں چلنے دے رہے‘ ہر جگہ چیف جسٹس نوٹس لے رہے ہیں۔
میں نے کہا: یہ بات عجیب سی ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ مجھے واقعی چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب پر ترس آتا ہے کہ وہ کس معاشرے اور کن لوگوں کے لیے چیزیں ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جواب میں تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ اوپر سے نیچے تک نااہلی کی داستانیں بکھری پڑی ہیں‘ نہ ہماری بیوروکریسی اور حکمران خود کچھ کرنے کو تیار ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو ٹھیک کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ پہلے حکمران اور ادارے کرپٹ تھے‘ اب عوام بھی اسی صف میں آ گئے ہیں۔ میرے جیسے ان پڑھوں کو چھوڑیں‘ اب تو بیرونی یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے بھی سخت ناراض ہیں کہ کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو ختم کرنے کی کوشش کیوں ہو رہی ہے۔ عوام بھی کرپشن کے عادی ہو گئے ہیں۔ کوئی ٹھیک کرنے کی بات کرتا ہے تو سب اس پر پل پڑتے ہیں۔ یہی دیکھ لیں کہ چاروں طرف سے چیف جسٹس پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس کو روزانہ کسی نہ کسی بات پر طعنہ دیا جاتا ہے۔ پھر ایک اور نیا کلچر آ گیا ہے‘ چیف جسٹس ایک بات پر نوٹس لیتے ہیں تو فوراً یہ سوال اٹھ جاتا ہے کہ انہوںنے یہ کام کیا ہے تو فلاں بات پر نوٹس کیوں نہیں لیا؟ اِس کے خلاف کارروائی کی ہے تو فلاں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی؟ اب تک لوگوں کی بہتری کے لیے درجنوں سووموٹو لیے گئے ہیں۔ میں نے ان سب سووموٹوز کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ ان میں چیف جسٹس یا ججوں کا اپنا کتنا ذاتی مفاد ہے؟ مجھے لگا کہ ان میں کوئی ایک بھی ایسا ایکشن نہیں جس سے عدالت یا ججوں کا کوئی ذاتی مفاد جڑا ہوا ہو۔ جو بھی نوٹسز لیے جا رہے ہیں‘ وہ سب عوام کے مفاد میں لیے جا رہے ہیں۔ پھر بھی ان پر تنقید کیوں؟
تو کیا چیف جسٹس کو وہی کام کرنا چاہیے جو ان سے پہلے کئے جاتے رہے۔ آرام و سکون سے رہیں؟ حکمرانوں اور بیوروکریسی کی کرپشن کو نظر انداز کر دیں؟ کوئی ایکشن یا کوئی حرکت کرنے کی ضرورت نہیں؟ حکومتوں سے دشمنیاں کیوں مول لیں۔ ملک کے ادارے ڈوب رہے ہیں، معاشرہ تنزلی کا شکار ہو رہا ہے، حکمران کسی کو جوابدہ نہیں ہیں، تو بھی جج آرام سے بیٹھے رہیں کیونکہ یہ ان کا کام نہیں ہے۔ وہ اپنی مدت پوری کریں اور ماضی کے چیف جسٹس اور ججوں کی طرح خاموشی سے گھر چلے جائیں؟
کیا جسٹس ثاقب نثار صاحب کو بھی یہ سوچتے ہوئے گھر چلے جانا چاہیے تھا کہ کوئی آسمانی مخلوق آسمان سے اترے گی اور یہ چیزیں ٹھیک ہوں گی؟ چیف جسٹس ثاقب نثار بھی یہی کرتے تو کوئی تنقید، گلہ، طنز نہ کیا جاتا یا کوئی ان کا مذاق نہ اڑاتا اور نہ ہی انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔
مان لیتے ہیں کہ چیف جسٹس زیادہ ایکشن لے رہے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا جن کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے‘ وہ درست کام کر رہے ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں اور ہمیں اچھی زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں؟ کرپشن اور نااہل بیوروکریسی سے سمجھوتہ کر لیں؟ حکومت اور سرکاری اداروں کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ عوام کو لوٹتے رہیں؟ تنخواہیں لیتے رہیں اور عوام کی جانوں سے بھی کھیلتے رہیں؟ عوام جعلی دوائیوں، جعلی ڈاکٹروں، زہریلے پانی، خراب دودھ، گھٹیا کوالٹی کی اشیا کے ہاتھوں مرتے رہیں؟ ہمارے شہروں کے درخت کٹتے رہیں اور ماحول تباہ ہوتا رہے لیکن چیف جسٹس چپ رہیں کہ ‘میرا کیا جاتا ہے‘؟ کیا بیوروکریسی کو اس لیے تنخواہیں ملتی ہیں کہ وہ ہماری زندگیاں اجاڑ دے؟ ہمارے شہر تباہ کر دے؟ چند لوگ مل کر اربوں روپے کھا جائیں تو بھی عدالت خاموش رہے؟ سب کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، لیکن اسی پارلیمنٹ نے اپنے اوپر سپریم کورٹ کو سپریم مانا ہوا ہے‘ اسی لیے قانون کی کتاب میں لکھا ہے کہ قانون تو پارلیمنٹ بنائے گی لیکن اس کی تشریح عدالت کرے گی۔
اس پارلیمنٹ نے کیا کردار ادا کیا تھا جب اس کے سامنے پاناما سکینڈل لایا گیا؟ سب نے ہاتھ کھڑے کر لیے تھے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں نیب، ایف بی آر، ایف آئی اے، ایس ای سی پی، سٹیٹ بینک تک کے سربراہان نے ہاتھ کھڑے کر لیے تھے کہ ہمارا وزیراعظم یا ان کے خاندان کی مبینہ کرپشن سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ جب اداروں کو آپ نے اپنے غلاموں اور وفاداروں سے بھر دیا ہو تو پھر آپ بتائیں کہ معاشرہ یا ملک کیسے چلے گا؟
ہم چند لوگوں کو اپنے اوپر حکمرانی کرنے کا اختیار کیوں دیتے ہیں؟ اس لیے کہ وہ ہماری زندگیاں بہتر کرنے کے لیے کام کریں‘ نہ کہ ہمیں تباہ کرنے اور لوٹنے کے لیے۔ ان حکمرانوں کی ان عوامی سروسز کے عوض ہم انہیں محلوں میں ٹھہراتے ہیں، گاڑیوں کے قافلے فراہم کرتے ہیں، دنیا بھر کے سفری اخراجات اٹھاتے ہیں، انہیں ہر ماہ لاکھوں کی تنخواہیں دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے اخراجات پورے کریں اور انہیں کوئی نوکری یا کاروبار نہ کرنا پڑے اور وہ آرام سے اس ملک اور معاشرے کی بہتری کے لیے کام کریں۔ تو جب حکمران اور بیوروکریٹس پھر بھی یہ سب کام نہیں کرتے‘ الٹا وہ اپنے بچوں کے ساتھ مل کر لوٹ مار مچاتے ہیں تو بھی ان سے کوئی پوچھنے والا نہ ہو؟ انہیں اس لیے کچھ نہ کہا جائے کہ انہوں نے چند لاکھ لوگوں سے ووٹ لیے ہیں؟ تو کیا ووٹر یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ میرا ووٹ لے کر آپ جو جی چاہے‘ لوٹ لو؟
سوال یہ ہے کب یہ بڑے لوگ‘ جنہیں ہم اپنے سروں پر بٹھاتے ہیں‘ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب انہوں نے اس ملک اور قوم کے بچوں اور معاشرے کی فلاح کے لیے کام نہیں کرنا بلکہ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک جائیدادیں خرید کر دینی ہیں؟ اب بتائیں کہ ہمارے جو بچے یورپ میں داخل ہونے کے لیے سمندروں میں ڈوب جاتے ہیں‘ ان کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہمارے سول ملٹری حکمران اس کے ذمہ دار نہیں‘ جنہوں نے اس معاشرے کو اس قابل بھی نہیں بنایا کہ یہاں سب کو باعزت روزگار ملتا رہے؟ آپ نے تو ان غریبوں کا پیسہ لوٹ کر دنیا کے پانچ براعظموں میں رکھ لیا ہے یا دبئی میں جائیدادیں خرید لی ہیں۔ اب بتائیں کہ یہ سب لوگ یورپ کے سمندروں میں ڈوب کر نہ مریں تو کہاں جائیں؟ اگر انہیں بھی بہتر زندگی ملتی، سہولتیں ملتیں اور وہ بھی پڑھ لکھ جاتے تو قانونی طریقوں سے امیگریشن اپلائی کرتے نہ کہ ساحلوں پر مارے جاتے۔ جتنی تنقید چیف جسٹس ثاقب نثار پر ہو رہی ہے‘ اس سے لگتا ہے کہ وہ پورے پاکستان میں اکیلے ہیں‘ جنہیں سرکاری خزانے سے تنخواہ ملتی ہے‘ لہٰذا سب کام انہیں ہی کرنے ہیں جبکہ ہم نہ خود کچھ کریں گے اور نہ ہی کسی کو کرنے دیں گے۔ حیران ہوتا ہوں کہ چیف جسٹس کا واقعی بہت بڑا قصور ہے کہ وہ نااہل اور نکموں سے پوچھ بیٹھے ہیں کہ جس کام کی تم سب تنخواہ لیتے ہو وہ کام پورا کیوں نہیں کر رہے۔ کیا واقعی چیف جسٹس یہ سب کچھ پوچھ کر کوئی بہت بڑا گناہ کر بیٹھے ہیں؟
جج کچھ نہیں کرتے تھے تو ہم ناراض تھے کہ طاقتوروں کے نیچے لگ گئے ہیں۔ انہوں نے پوچھ گچھ شروع کی ہے تو بھی ہم ناراض ہیں۔ انسان واقعی کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔ انگریزی کا محاورہ یاد آگیا: Damned if you do, damned if you don’t۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں