32

میلی آنکھوں سے بچا کر

ایک طرف کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، دوسری طرف پاکستانی سیاست میں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے فوجی دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ 2003ء میں دونوں حکومتوں کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی دھجیاں بکھیری جا چکی ہیں۔ آئے روز گولیاں چلتی، بے گناہ افراد خون میں نہاتے اور زخموں سے تڑپتے نظر آتے ہیں۔ نومبر 2017ء میں پاکستان رینجرز اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کے درمیان ایک بار پھر یہ قول و قرار ہوئے تھے کہ 2003ء کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا‘ اور سرحدوں پر گولیاں نہیں تڑتڑائیں گی، لیکن اس معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہونے پائی تھی کہ پھر خون بہنے لگا۔ 2018ء کے اولین بیس دنوں ہی میں جنگ بندی کی 120 خلاف ورزیاں ہوئیں، 9 افراد مارے گئے اور 40 زخمی ہو گئے۔ 2017ء میں بھارتی فوج کی جانب سے 1900 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔ بھارت اس صورت حال کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتا رہتا ہے، جبکہ پاکستان کا احتجاج (بھارت سے) جاری رہتا ہے۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے تو بغلیں بجاتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کو یہ اطلاع فراہم کی ہے کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی ہلاکتیں تین سے چار گنا زیادہ ہیں، اسی لئے (ایک اور بھارتی فوج افسر کے بقول) پاکستانی فوج نشانہ بننے والے فوجیوں کے ناموں کا اعلان نہیں کرتی۔ دعویٰ کیا گیا کہ ایک سال کے دوران پاکستان کے 130 سے 140 تک (باقاعدہ فوجی) جوانوں کو زندگی سے محروم کیا جا چکا ہے۔ بھارت کا الزام یہ ہے کہ مداخلت کاروں کو کشمیر میں داخل کرنے کے لئے یہ حربہ آزمایا جاتا ہے۔
بھارت جو کچھ بھی کہے، یہ سامنے کی حقیقت ہے کہ پاکستانی فوج کے جوان موت سے ڈرتے نہیں، جان کی بازی لگانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ان کے لواحقین شہادت کی خبر پر سجدۂ شکر بجا لاتے اور سر فخر سے بلند کرتے ہیں، اس پر مٹی نہیں ڈالتے۔ پاکستانی قوم کے نزدیک بھی ”شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے‘‘۔ اس لئے پاکستان کو اپنے شہداء کی تعداد کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہاں تو ہر شہادت کے بعد جذبہ مزید توانا ہو جاتا ہے۔ بھارت کا معاملہ البتہ مختلف ہے کہ اس کے جوانوں کو جب ایک بے مقصد جنگ میں جھونکا جا رہا ہو، تو ان کے اور ان کے پسماندگان کے دلوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا سامنا کرنے کی کسی کو تاب نہیں رہتی۔ پھر یہ بھی سامنے کی حقیقت ہے کہ پاکستان کشمیر کو اپنے آپ سے الگ نہیں سمجھتا۔ (مقبوضہ) کشمیر کے شہری جذباتی، نفسیاتی اور اخلاقی طور پر پاکستان کے شہری ہیں۔ پاکستانی فوج اور رینجرز کا ہر جوان انہیں اپنے وجود کا حصہ سمجھتا ہے، اس لئے وہ ایسی کسی حرکت کا تصور بھی نہیں کر سکتا‘ جس کے نتیجے میں کسی کشمیری کی جان جائے، اس لئے پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی ایسی خلاف ورزی ممکن ہی نہیں جس سے بے گناہ شہری نشانہ بن سکتے ہوں۔
یہ صورتِ حال بد سے بد ترین بھی ہو سکتی ہے اور کسی بھی وقت، ذرا سی بے احتیاطی تصادم کو وسیع کر سکتی ہے، اس لئے حکومت پاکستان پر لازم ہے کہ پوری شدت سے سرگرم ہو اور عالمی طاقتوں کو نوٹس لینے پر مجبور کرے۔ ذمہ داری کے تعین کے لئے اقوام متحدہ کا کوئی تحقیقاتی کمیشن یہاں بھیجا جا سکتا ہے اور دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کے بڑھتے ہوئے خطرات کا تدارک کرنے کے لئے اقدامات تجویز کئے جا سکتے ہیں۔ امریکہ، چین، روس، برطانیہ، ایران اور دوسرے دوست ممالک کو بھی مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کی درخواست کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بات بھی مؤثر ممالک کے سامنے اٹھائی جانی چاہیے کہ پاک بھارت تنازع کی جڑ تک پہنچا جائے۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری کا وجود ہی اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ تنازع موجود ہے اور اسے حل کیا جانا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کو قالین کے نیچے دبایا جا سکتا ہے اور نہ دبایا جا سکے گا۔ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ آج تک وہ قالین ہی ”ایجاد‘‘ نہیں ہو سکا‘ جو دو کروڑ افراد کو اپنے نیچے چھپا سکے۔ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جب تک نہیں ہو گا، پاکستان اور بھارت کے درمیان آگ سلگتی رہے گی اور اس خطے کے ڈیڑھ ارب افراد کا مستقبل دائو پر لگا رہے گا۔
اس سے ایک جڑی ہوئی بات یہ ہے کہ پاکستانی سیاست کے لڑاکا طیارے بھی اپنے آپ کو سنبھالیں۔ یہ درست ہے کہ انتخابات قریب ہیں اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے جذبے سے سرشار ہیں، لیکن سیاست کے کھیل کو جنگ نہیں بنانا چاہیے۔ پاکستان کے مختلف ادارے بھی ایک دوسرے کی مرمت کرنے کے لئے لنگر لنگوٹ کسے رہتے ہیں۔ انہیں بھی اپنی اپنی حدود میں طاقت آزمانی چاہیے، سب اکٹھے ہو کر اگر سیاست اور سیاستدانوں کا تیاپانچہ کرنے پر تل جائیں گے تو بالآخر ان کے اپنے ہاتھ بھی خالی ہو جائیں گے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان میں کسی بھی ادارے کا کردار مثالی نہیں رہا۔ ہر ایک سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ان کے نتائج قوم کو بھگتنا پڑے۔ ہمارے سیاست دان ہوں یا فوجی اور عدالتی قیادت‘ سب ہی نے کسی نہ کسی مرحلے پر ضرور ٹھوکر کھائی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان کا نقشہ وہی ہوتا جو 14 اگست 1947ء کو ہمیں حاصل ہوا تھا‘ اور اس کی مجموعی حالت یا کیفیت بھی وہی ہوتی‘ جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔ علامہ اقبال اور قائد اعظم یقینا ایسا پاکستان نہیں بنانا چاہتے تھے‘ جس میں ہم آج بس رہے ہیں۔ یہ پاکستان ہماری پناہ گاہ ہے‘ ہمارا وطن ہے‘ ہمارے سروں کی چھت ہے۔ اسے کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہئے۔ اس کی طاقت ہی میں ہم سب کی طاقت ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمیں اس میں بہت کچھ تبدیل کرنا ہے۔ اس کی انتظامیہ‘ اس کی عدلیہ‘ اس کی مقننہ اور اس کے دفاعی ادارے‘ سب مل کر کام کریں گے اور ایک دوسرے کی طاقت بنیں گے اور ایک دوسرے کی کمزوری کو اپنی طاقت سمجھنے کے وہم میں مبتلا نہیں ہوں گے‘ تبھی ہم سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوں گے۔ جسدِ وطن بھی انسانی جسم کی طرح ہے۔ اس کے سارے اعضا کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا پڑتا ہے۔ ہاتھ لقمہ توڑے گا‘ دانت اسے چبائیں گے‘ معدہ اسے ہضم کرے گا تو ہی جگر اور دل کو توانائی ملے گی۔ اگر یہ ایک دوسرے کی ضد میں اپنا کام کرنے سے انکار کر دیں تو سب ہی خسارے میں رہیں گے۔ دل کی حرکت بند ہونے سے ہر شے اپنی اپنی جگہ منجمد ہو جائے گی۔ اس کیفیت کو زندگی نہیں موت کہتے ہیں۔ سیاست کاروبارِ مملکت چلانے کا نام ہے۔ سیاسی عمل رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کی طرح ہے۔ اگر اس میں فساد پیدا کیا جائے گا تو اس کے اثرات بحیثیتِ مجموعی سب کو بھگتنا پڑیں گے۔
آزادی جیسی نعمت کی بے قدری سے بڑا جرم اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ مقبوضہ کشمیر جس پاکستان سے جڑنے کے لئے تلا بیٹھا ہے، اسے بھی تو میلی آنکھوں سے بچا کر رکھنا ہے۔ اے محافظانِ ملّت!!
[یہ کالم روزنامہ ”دنیا‘‘ اور روزنامہ ”پاکستان‘‘ میں بیک وقت چھپتا ہے۔]

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں