16

موت اٹل حقیقت اس کی تیاری ایک ضرورت – شفقت الرحمن مغل

خطبہ مسجد نبوی، فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ
پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں جو ہمیشہ سے زندہ اور قائم رہنے والا ہے، وہی بادشاہی، عزت، ملکوت اور جبروت والا ہے، میں اپنے رب کی تعریف اور شکر گزاری کرتے ہوئے اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں اور گناہوں کی معافی چاہتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے، تمام انسان اسی کے قابو میں ہیں وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور جو چاہتا ہے فیصلے فرماتا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، یا اللہ! اپنے چنیدہ بندے، اور رسول محمد -ﷺ- ، ان کی آل اور یکسو صحابہ کرام پر درود و سلام اور برکتیں نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی اپنانے کیلیے رضائے الہی تلاش کرو اور اللہ کی نافرمانی سے دور رہو، تقوی تمہاری زندگی کے حالات درست کرنے کا ذریعہ ہے، مستقبل کے خدشات و توقعات کیلیے یہی زادِ راہ ہے، تباہ کن چیزوں سے تحفظ اسی سے ممکن ہے، اللہ تعالی نے تقوی کے بدلے میں جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔

اللہ کے بندو!

اس زندگی میں ہر شخص اپنے فائدے کیلیے تگ و دو کرتا ہے، اپنے معاملات سنوارنے اور ذرائع معاش کیلیے کوشش کرتا ہے، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دین اور دنیا دونوں کو سنوارتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے دنیا میں خیر سے نوازا اور آخرت میں بھی ان کیلیے خیر و بھلائی ہے، نیز انہیں آگ کے عذاب سے بھی تحفظ دیا ۔

جبکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو دنیا کیلیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں لیکن آخرت کو بھول جاتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو گل چھرّے اڑاتے ہیں اور ڈنگروں کی طرح کھاتے ہیں ، ان کا ٹھکانا آگ ہے۔

کسی بھی تمنا یا کام کی ایک انتہا ہے وہاں پہنچ کر وہ ختم ہو جائے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى} اور بیشک تیرے رب کی طرف ہی [ہر چیز کی]انتہا ہے۔ [النجم : 42] پاک ہے وہ ذات جس نے تمام دلوں کیلیے مصروفیات، ہر ایک کے دل میں تمنائیں اور سب کیلیے عزم و ارادہ پیدا کیا، وہ اپنی مرضی سے جو چاہے کرتا اور جو چاہے نہیں کرتا ، اللہ تعالی کی مرضی اور ارادہ سب پر بھاری ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} اور اللہ رب العالمین کی مرضی کے بغیر تمہاری کوئی مرضی نہیں ہے۔[التكوير : 29] لہذا جو اللہ تعالی چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔

موت اس دھرتی پر تمام مخلوقات کا آخری انجام ہے، اس دنیا میں ہر ذی روح چیز کی انتہا موت ہے، اللہ تعالی نے موت فرشتوں پر بھی لکھ دی ہے چاہے وہ جبریل، میکائیل، اور اسرافیل علیہم السلام ہی کیوں نہ ہوں، حتی کہ ملک الموت بھی موت کے منہ میں چلے جائیں گے، فرمانِ باری تعالی ہے: {كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (26) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ} اس دھرتی پر موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی [26] صرف تیرے پروردگار کی ذات ِ ذوالجلال و الاکرام باقی رہے گی۔[الرحمن: 26- 27]

موت دنیاوی زندگی کی انتہا اور اخروی زندگی کی ابتدا ہے؛ موت کے ساتھ ہی دنیاوی آسائشیں ختم ہو جاتی ہیں اور میت مرنے کے بعد یا تو عظیم نعمتیں دیکھتی ہے یا پھر درد ناک عذاب ۔

موت اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ، موت سے اللہ تعالی کی قدرت اور تمام مخلوقات پر اس کا مکمل تسلط عیاں ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ} اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تمھارے کسی ایک کو موت آتی ہے اسے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔ [الأنعام: 61]

موت اللہ تعالی کی طرف سے عدل پر مبنی ہے، چنانچہ تمام مخلوقات کو موت ضرور آئے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ} ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، پھر ہماری طرف ہی تمھیں لوٹایا جائے گا۔[العنكبوت: 57]

موت کی وجہ سے لذتیں ختم ، بدن کی حرکتیں بھسم ،جماعتیں تباہ، اور پیاروں سے دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں، یہ سب اللہ تعالی اکیلا ہی سر انجام دیتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَهُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ وَلَهُ اخْتِلَافُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ} وہی ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے، رات اور دن کا آنا جانا اسی کے اختیار میں ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے[المؤمنون: 80]

موت کو کوئی دربان روک نہیں سکتا، کوئی پردہ اس کے درمیان حائل نہیں ہو سکتا، موت کے سامنے مال، اولاد، دوست احباب سب بے بس ہوتے ہیں، موت سے کوئی چھوٹا، بڑا، امیر، غریب، با رعب یا بے رعب کوئی بھی نہیں بچ سکتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ} تم جہاں بھی ہو گے تمہیں موت پا لے گی چاہے تم پختہ قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو[النساء: 78] اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے: {قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} آپ کہہ دیں: جس موت سے تم بھاگتے ہوئے وہ تمھیں ضرور ملے گی، پھر تمھیں خفیہ اور اعلانیہ ہر چیز جاننے والے کی جانب لوٹا دیا جائے گا، پھر وہ تمھیں تمہاری کارستانیاں بتلائے گا۔[الجمعہ: 8]

موت اچانک آ کر دبوچ لیتی ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ} اور جب کسی نفس کی موت کا وقت آگیا تو اللہ تعالی کسی کو ہر گز مہلت نہیں دے گا ، اور اللہ تعالی تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔[المنافقون: 11]

موت انبیائے کرام کے علاوہ کسی سے اجازت نہیں لیتی؛ کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں انبیائے کرام کا مقام و مرتبہ بلند ہوتا ہے، اس لیے موت ہر نبی سے اجازت طلب کرتی ہے، ایک روایت میں ہے کہ ہر نبی کو اللہ تعالی دنیا میں ہمیشہ رہنے یا موت کا اختیار دیتا ہے تو انبیائے کرام موت پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کیلیے اللہ تعالی کے ہاں اجر عظیم ہے اور دنیا کو وہ معمولی چیز جانتے ہیں۔

یہ اللہ تعالی کی مرضی ہے کہ اولاد آدم دنیا سے موت کے بعد نکل جائے اور اس کا رابطہ دنیا سے ختم ہو جائے ، چنانچہ اگر انسان مؤمن ہو تو اس کا بال بھی دنیا کا مشتاق نہیں ہوتا، انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالی کے ہاں کسی کا اتنا مقام نہیں ہوتا کہ دنیا کی طرف پھر لوٹ جانا پسند کرے، چاہے اسے دھرتی کی اشیا دنیا میں مل جائیں، البتہ شہید یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا کی طرف لوٹا یا جائے اور اسے دسیوں بار قتل کیا جائے، کیونکہ وہ قتل فی سبیل اللہ کی فضیلت دیکھ چکا ہے) بخاری و مسلم

موت لازمی طور پر آ کر رہے گی اس سے خلاصی کا کوئی ذریعہ نہیں، موت کی شدید تکلیف کوئی بھی بیان کرنے کی سکت نہیں رکھتا؛ کیونکہ روح کو رگوں، پٹھوں اور گوشت کے ایک ایک انگ سے کھینچا جاتا ہے، درد کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو لیکن وہ موت کے درد سے کم ہی ہوتا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حالت نزع میں دیکھا، آپ کے پاس ایک پیالے میں پانی تھا، آپ اپنا ہاتھ اس پیالے میں ڈبو کر اپنا چہرہ صاف کرتے اور فرماتے: ( “اَللَّهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَسَكَرَاتِ الْمَوْتِ” (یا اللہ! موت کی سختی اور غشی پر میری مدد فرما) ترمذی نے اسے روایت کیا ہے، کچھ روایات کے الفاظ میں ہے کہ: (بیشک موت کی غشی بہت سخت ہوتی ہے)

یہ بھی پڑھیں: دلہن کا جنازہ – ام محمد سلمان
ایک شخص نے اپنے والد کو حالت نزع میں کہا: “ابا جان! مجھے موت کے درد کے بارے میں بتائیں تا کہ میں بھی عبرت پکڑوں” تو والد نے کہا: “بیٹا! ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ ایک مڑی ہی کنڈی میرے پیٹ میں گھمائی جا رہی ہے اور میں سوئی کے ناکے میں سے سانس لے رہا ہوں” ایک اور قریب المرگ شخص سے کہا گیا کہ کیسا محسوس کر رہے ہو؟ تو اس نے کہا: “مجھے لگ رہا ہے کہ میرے پیٹ میں خنجر چلائے جا رہے ہیں” ایک شخص سے موت کی المناکی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا: “ایسے لگتا ہے کہ میرے پیٹ میں آگ بھڑکائی جا رہی ہے”

جو شخص ہمیشہ موت کو یاد رکھے تو اس کا دل نرم رہتا ہے، اس کے اعمال اور احوال اچھے ہوتے ہیں ، وہ گناہ کرنے کی جرأت نہیں کرتا، فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں برتتا، اور نہ ہی دنیا کی رنگینیاں اسے دھوکے میں ڈالتی ہیں، وہ ہمیشہ اپنے پروردگار سے ملنے کا شوق رکھتا ہے، اور جنت میں جانے کا سوچتا ہے۔

لیکن جو شخص موت کو بھول جائے، دنیا میں مگن ہو، بد عملی میں مبتلا ہو، خواہشات کا انبار ذہن میں ہو ، تو ایسے شخص کیلیے موت سب سے بڑی نصیحت ہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (لذتوں کو پاش پاش کر دینے والی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو) ترمذی، نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ: موت لذتوں کو ختم اور زائل کر دینے والی ہے۔

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: جب رات کی ایک تہائی گزر گئی تو نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: (لوگو! اللہ کو یاد کرو، جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو ساتھ ہی دوسرا بھی پھونک دیا جائے گا، موت کے ساتھ ہی تمام سختیاں شروع ہو جاتی ہیں) ترمذی نے اسے روایت کیا اور حسن قرار دیا۔

ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: “نصیحت کیلیے موت اور توڑنے کیلیے زمانہ کافی ہے، آج گھروں میں تو کل قبروں میں رہو گے” ابن عساکر

ہر قسم کی سعادت مندی، ہر قسم کی کامیابی، ہر قسم کی کامرانی موت کیلیے تیاری میں پنہاں ہے، کیونکہ موت جنت یا جہنم کا دروازہ ہے ۔

اللہ رب العالمین کی وحدانیت کا اقرار، صرف ایک اللہ کی عبادت اور شرک سے بیزاری موت کی تیاری کیلیے از بس ضروری ہے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: (اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم! اگر توں مجھے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے لیکن تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو میں تمھیں اتنی ہی مقدار میں مغفرت دے دوں گا) ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور حسن قرار دیا۔

موت کی تیاری کیلیے حدودِ الہی اور فرائض کی حفاظت کریں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ} اور حدودِ الہی کی حفاظت کرنے والے اور مومنوں کو خوش خبری دو ۔ [التوبہ: 112]

موت کی تیاری کیلیے کبیرہ گناہوں سے باز رہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا} اگر تم منع کردہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو تو ہم تمہارے گناہ مٹا دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ داخل کریں گے۔[النساء: 31]

موت کی تیاری کیلیے مخلوق کے حقوق ادا کریں، انہیں پامال مت کریں، یا ان کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام مت لیں؛ کیونکہ شرک کے علاوہ کوئی بھی حقوق اللہ سے متعلق گناہ ہو تو اسے اللہ تعالی معاف فرما دے گا، لیکن مخلوق کے حقوق؛ اللہ تعالی معاف نہیں فرمائے گا بلکہ ظالم سے مظلوم کا حق لے کر دے گا۔

موت کی تیاری کیلیے وصیت لکھ کر رکھے اور اس میں کسی قسم کی غلطی مت کرے۔

موت کی تیاری کچھ اس انداز سے ہو کہ کسی بھی وقت موت کیلیے انسان تیار رہے، چنانچہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ} جس کے بارے میں اللہ تعالی ہدایت کا ارادہ فرما لے تو اسلام کے لیے اس کی شرح صدر فرما دیتا ہے۔ [الأنعام: 125] تو نبی ﷺ نے فرمایا: (یعنی: اس کے دل میں اللہ تعالی نور ڈال دیتا ہے) اس پر صحابہ کرام نے پوچھا: ” اللہ کے رسول! اس کی علامت کیا ہوگی؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: (آخرت کی تیاری، دنیا سے بیزاری اور موت آنے سے پہلے موت کی تیاری)

حقیقی سعادت مندی یہ ہے کہ انسان کا خاتمہ بالخیر ہو، حدیث میں ہے کہ: (اعمال کے نتائج ان کے خاتمے کے مطابق ہوتے ہیں)

معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (جس شخص کی آخری بات “لا الہ الا اللہ” ہوئی تو وہ جنت میں داخل ہوگا) ابو داود اور حاکم نے اسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

کلمہ پڑھنے کے لیے تاکید اس حکم سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ قریب المرگ شخص کو نرمی سے کلمہ شہادت کی تلقین کی جائے، تا کہ اسے یاد آ جائے نیز اس پر سختی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ پہلے ہی سخت تکلیف میں ہوتا ہے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اپنے مرنے والوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو) مسلم

یہ بد بختی کی بات ہے کہ انسان موت کو بھول جائے اور اس کیلیے تیاری کرنا چھوڑ دے، گناہوں میں مگن ہو جائے اور عقیدہ توحید پامال کر دے، ظلم و زیادتی کرتے ہوئے معصوم جانوں کا قتل کرے، حرام مال کمائے اور کھائے، مخلوقات کے حقوق غصب کرے، ہوس پرستی میں ڈوب جائے، اور آخری دم تک گناہوں کی دلدل میں پھنسا رہے، پھر موت کے وقت اسے کسی قسم کی پشیمانی کوئی فائدہ نہیں دے گی اور نہ ہی موت کا وقت ٹلے گا، فرمانِ باری تعالی ہے: {حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (99) لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ} جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے [99] جو میں چھوڑ آیا ہوں امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا [اللہ فرمائے گا]”ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا” یہ بس ایک بات ہوگی جسے اس سے کہہ دیا۔ اور ان [مرنے والوں] کے درمیان دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک ایک آڑ حائل ہوگی ۔[المؤمنون: 99- 100]

قیامت کے دن سستی اور موت کی تیاری نہ کرنے کی وجہ حسرت و ندامت مزید بڑھ جائے گی، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (55) أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَاحَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ (56) أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (57) أَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ (58) بَلَى قَدْ جَاءَتْكَ آيَاتِي فَكَذَّبْتَ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتَ وَكُنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ } اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آ جائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو [55] [پھر وہ کہے]افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں اللہ کے حق میں کرتا رہا اور میں تو مذاق اڑانے والوں میں سے تھا [56] یا یوں کہے کہ: ”اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں پرہیز گاروں سے ہوتا” [57] یا جب عذاب دیکھے تو کہنے لگے: “مجھے ایک اور موقعہ مل جائے تو میں نیک کام کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں”[58] [اللہ فرمائے گا] کیوں نہیں ! تیرے پاس میری آیات آئیں تو تو نے انہیں جھٹلا دیا اور اکڑ بیٹھا اور تو کافروں میں سے ہی تھا”[الزمر: 55، 59]

اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔

دوسرا خطبہ
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کیلیے ہیں وہی بادشاہ، حق اور ہر چیز واضح کرنے والا ہے، کامل حکمت اور مؤثر دلائل اسی کیلیے مختص ہیں، اگر وہ چاہے تو سب کو ہدایت سے نواز دے، میں اپنے رب کیلیے حمد و شکر بجا لاتا ہوں ، توبہ اور استغفار اسی سے مانگتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہی قوی اور مضبوط ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی اور سربراہ محمد ﷺ اس کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں آپ وعدے کے سچے اور امین ہیں، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل ، تابعین عظام اور صحابہ کرام پر رحمت ، سلامتی اور برکتیں روزِ قیامت تک نازل فرما۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

کما حقُّہ تقوی الہی اختیار کرو ، متقی کامیاب ہوں گے اور شکوک و شبہات میں مبتلا سمیت سستی و کاہلی کرنے والے لوگ نقصان اٹھائیں گے۔

مسلمانو!

خاتمہ بالخیر کے اسباب کی پابندی کرو، اس کیلیے اسلام کے ارکان خمسہ پر عمل پیرا رہو، گناہوں اور ظلم و زیادتی سے بچو۔

موت کے وقت خاتمہ بالخیر کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ ہمیشہ خاتمہ بالخیر کی دعا کریں؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے: {اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بیشک جو لوگ میری عبادت سے رو گردانی کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں رسوا ہو کر داخل ہوں گے۔[غافر: 60]

دعا ہمہ قسم کی خیر کا سر چشمہ ہے، چنانچہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دعا عبادت ہے) اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور اسے حسن صحیح قرار دیا۔

ایک حدیث میں ہے کہ: (جو شخص کثرت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ: “اَللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِيْ الْأُمُوْرِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ” [یا اللہ! تمام معاملات کا انجام ہمارے لیے بہتر فرما، اور ہمیں دنیاوی رسوائی اور اخروی عذاب سے پناہ عطا فرما]تو وہ آزمائش میں پڑنے سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے)

اور موت کے وقت خاتمہ بالسوء کے اسباب میں یہ شامل ہے کہ: حقوق اللہ اور حقوق العباد پامال کیے جائیں، کبیرہ گناہوں پر انسان مُصر رہے، اللہ تعالی کی تعظیم کی بجائے تحقیر کرے، انسان دنیا میں مگن ہو کر آخرت بالکل بھول جائے۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

اس لیے سید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو۔

اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما صلَّيتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، اللهم بارِك على محمدٍ وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد، وسلم تسليما كثيراً۔

یا اللہ ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے راضی ہو جا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین! یا اکرم الاکرمین!

یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما،یا رب العالمین! کفر اور کافروں کو ذلیل فرما، یا ذالجلال والا کرام!

یا اللہ! اپنے دین کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اپنے دین کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اپنے دین ، قرآن اور سنت نبوی کا بول بالا فرما، یا اللہ! اس دین کو تمام ادیان پر غلبہ عطا فرما چاہے کافروں کا کتنا ہی ناگوار گزرے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں مرتے دم تک تیرے نبی کی سنتوں پر کار بند فرما، یا اللہ! ہمیں تیرے پاس جانے تک تیرے نبی کی سنتوں اور تیری کتاب پر عمل کرنے والا بنا، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہماری تیرے ذکر ،شکر اور بہترین انداز میں تیری عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔

یا اللہ! ہم تجھ سے نیکیاں کرنے اور برائیاں ترک کرنے کی توفیق مانگتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

یا اللہ! یا ذالجلال والا کرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں ہمارے نفس کے شر سے محفوظ فرما، ہمارے کرتوتوں کے شر سے محفوظ فرما۔

یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، لشکروں اور چالوں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! تمام مسلمانوں اور ان کی اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، لشکروں اور شیطانی چالوں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، تجھ سے ہی پناہ مل سکتی ہے اور تو ہی تحفظ دینے والا ہے، تیری پناہ کو پامال نہیں کر سکتا، یا اکرم الاکرمین! یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! یا ارحم الراحمین! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہمہ قسم کے دکھ درد سے باہر نکال دے، یا اللہ! مسلمانوں کو ہمہ قسم کے دکھ درد سے باہر نکال دے، یا ارحم الراحمین! یا اللہ! یمن ، فلسطین، شام اور دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں پر جتنی بھی مشکلات ہیں یا اللہ! سب وا فرما دے، یا رب العالمین! یا اللہ! جہاں بھی اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے مسلمانوں پر ظلم کیا جا رہا ہے مسلمانوں کی مدد فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! بھوکے مسلمانوں کیلیے کھانے پینے کا بندوبست فرما، یا اللہ! انہیں پہننے کیلیے لباس فراہم فرما، یا اللہ! دہشت زدہ مسلمانوں کو امن نصیب فرما، یا اللہ! انہیں ایک لمحہ کیلیے بھی تنہا مت فرما۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! اسلامی ممالک میں امن و سلامتی نازل فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! یا ذوالجلال و الاکرام! تو ہمارے اگلے پچھلے، خفیہ اعلانیہ، اور جنہیں تو ہم سے بہتر جانتا ہے سب گناہ معاف فرما دے، تو ہی پست و بالا کرنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہم پر رحم فرما، یا اللہ! ہمارے گناہوں کی وجہ سے یا کسی اور کے کرتوتوں کی بنا پر اپنا فضل ہم سے مت روکنا، یا رب العالمین! تو ہی ارحم الراحمین اور اکرم الاکرمین ہے۔

یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو تیری مرضی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں تیری مرضی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی تمام تر کاوشیں تیری رضا کیلیے مختص فرما ، اور ان کی ہر اچھے کام پر مدد فرما، یا اللہ! ان کے ذریعے اپنا دین غالب فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں صحیح فیصلے الہام فرما، انہیں بھلائی والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما،

یا اللہ! ان کے ولی عہد کو تیرے محبوب اور رضا کا باعث بننے والے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور اسلام و مسلمانوں کیلیے بہتر فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان کی تمام تر کاوشیں تیری رضا کیلیے مختص فرما ، اور ان کی ہر اچھے کام پر مدد فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما۔

یا اللہ! ہمیں مہنگائی سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں مہنگائی سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں مہنگائی سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہمیں وبا، سود، زنا کاری، زلزلوں اور ہمہ قسم کی آزمائشوں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔

یا اللہ! تمام مسلمان اور مومن مرد و خواتین کے معاملات اپنے ہاتھ میں لیکر سنوار دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

{إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں