9

بسنت اور ویلنٹائن ڈے … شرعی نقطہ نظر-حافظ مبشر حسین لاہوری

بسنت اور ویلنٹائن ڈے؛ حامی اور مخالف نقطہ ہائے نظر
موسم بہار کی آمد پر پاکستان میں بسنت میلہ، جشن ِبہاراں، پتنگ بازی، ویلنٹائن ڈے وغیرہ کے نام سے تہوار منائے جاتے ہیں۔ یہ تہوار کب، کیسے اور کیوں شروع ہوئے اور اسلامی نقطہ نظر سے ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس سلسلہ میں بنیادی طور پر دو نقطہ ہائے نظر ہیں: ایک مذہبی اور دوسرا سیکولر … سیکولر طبقہ کی حقیقت ہلڑبازوں اور لفنگوں کے کردار سے سامنے آجاتی ہے۔لہٰذا ہم پہلے دونوں نقطہ نظر بیان کریں گے ، پھر سیکولر طبقہ کا عملی مظہر دکھائیں گے اور اس کے بعد شریعت کی روشنی میں اپناتجزیہ پیش کریں گے۔ ان شاء اللہ
مذہبی نقطہ نظر
مذہبی گروہ کا کہنا ہے کہ تہوار اور میلے ہر قوم کی اپنی مذہبی و ثقافتی اقدارو نظریات کے ترجمان ہوتے ہیں اور اسلام چونکہ ایک الگ مستقل الہامی دین ہے اس لیے اس کی اپنی روایات واقدار ہیں جن کی نمائندگی کے لئے خود اسلام کے پیغامبر حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنی اُمت کے لئے دو تہوار (یعنی عیدالاضحی و عیدالفطر) مقرر کردیے ہیں اور ان تہواروں پر خوشی، تفریح اور اظہارِ جذبات کی حدود بھی عملی طور پر طے کردی ہیں جب کہ اس سے پہلے دورِ جاہلیت میں مروّج دیگر تہواروں اور میلوں پر یکسر خط ِتنسیخ پھیر دیا۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں مدینہ کے لوگ سال میں دو تہوار منایا کرتے تھے۔
جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے تو (صحابہ کرام سے) فرمایا: (وقد أبدلکم الله بهما خيرا منهما: يوم الفطر و يوم الأضحی) (صحیح سنن نسائی؛ ۱۴۶۵)
”اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دونوں تہواروں کے بدلہ میں دو اور تہوار عطاکردیئے ہیں جو ان سے بہتر ہیں اور وہ ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔“
لہٰذا اب کسی نئے یاپہلے سے مروّج غیرمسلموں کے تہوار کو اسلام میں داخل کرنا یا از خود کوئی تہوار مقرر کرلینا نہ صرف جائز نہیں بلکہ دین میں اضافہ(یعنی بدعت جاری)کرلینے کے مترادف ہے جبکہدوسری طرف عیدین کی شکل میں جو دو تہوار ہمارے لئے آنحضرت ﷺ نے مقرر فرما دیے ہیں ان میں بھی خوشی کے جذبات سے مغلوب ہوکر کسی ایسے اقدام کی اجازت نہیں جو اسلامی اقدار کے منافی یااسلامی روح کے خلاف ہو خواہ وہ اسراف و تبذیر کی صورت میں ہو یابے ہودگی اور جنسی بے راہ روی کی شکل میں!
اس پس منظر میں مذہبی گروہ کا کہنا ہے کہ ’بسنت‘ ہندوٴانہ تہوار ہے جبکہ ’ویلنٹائن ڈے‘ جنسی بے راہ روی میں ڈوبے عیسائی معاشرے کا من گھڑت تہوار ہے لہٰذا انہیں مناناغیر مسلم اقوام کی مشابہت کرنا ہے خواہ اسے منانے کی شکل من و عن وہی ہو جو اُن اقوام کے ہاں پائی جاتی ہے یا اس سے قدرے مختلف؛ بہرصورت یہ غیر مسلم اقوام کی مشابہت میں داخل ہے، جس کی وعید خود نبی اکرم ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے :
(من تشبه بقوم فهو منهم) (ابوداود:۴۰۳۱)
”جس نے کسی (غیر) قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے۔“
سیکولرنقطہ نظر
بسنت اور ویلنٹائن ڈے کے بارے میں سیکولر اور آزاد خیال دانشور طبقہ کی رائے یہ ہے کہ بسنت مذہبی نہیں بلکہ علاقائی تہوار ہے اور ویلنٹائن ڈے خوشیاں اور محبتیں بانٹنے کا دن۔ اسلام علاقائی تہواروں کی مذمت نہیں کرتا بلکہ
”ہر خطے کے کلچر کو اپنے دامن میں سمو لینے کی صلاحیت رکھتا ہے، سوائے ان باتوں کے جن سے انسان کے اخلاقی وجود کو کوئی عارضہ ہوسکتا ہے۔“ (بسنت کا مسئلہ، از خورشید ندیم، روزنامہ جنگ،۱۶/ فروری ۲۰۰۴ء)
یہی بات ایک اور ’دانشور‘ نے اس انداز میں کہی ہے :
”موسم بہار کا تہوار منانے میں کیا خرابی ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ اسلام نے مقامی رسوم و رواج کو کبھی پامال کیا اور نہ معصوم مسرتوں کو روندا۔ صرف یہ کہ قرینہ باوقار اور شائستہ ہونا چاہئے۔ ہم مدینہ کے ایک خاندان کو دیکھتے ہیں جہاں دو سو سال تک ایک دل آویز رسم جاری رہی۔ ہر صبح اور ہر شام ایک پکارنے والا پکار کر کہتا: جسے گوشت، روغن اور لذیذ کھانا درکار ہو ہمارے ہاں چلا آئے۔ سرکار ﷺ کی تشریف آوری کے بعد یہ گھرانا مسلمان ہوا اور رسم جاری رہی۔ ایک روایت کے مطابق دس روز تک خود آنجناب ﷺ کے لئے اس گھر سے کھانا بھیجا گیا۔ بسنت کی حمایت کرنے والوں نے جب یہ کہا کہ تہوار اس قوم کی ضرورت ہیں تو انہوں نے سچ کہا۔ قدم قدم پر اس سماج میں رکاوٹیں ہیں۔ صحت مند تفریحات کا اہتمام نہیں۔لوگوں کی روزمرہ زندگیاں پھیکی اور بدمزہ ہی نہیں بلکہ بوجھل اور مجروح ہوچکیں … “ (بسنت، کالم نگار ہارون الرشید، روزنامہجنگ، ۲۱/ فروری ۲۰۰۴ء)
علاقائی تہواروں کو اسلام کے دامن میں سمونے کی ایک اور دلیل موصوف نے یہ بھی دی ہے
”ایران میں اشاعت ِاسلام کے بعد بھی نو روز کا تہوار منایا جاتا۔ علما اس کی حوصلہ افزائی تو نہ کرتے تھے لیکن کچھ زیادہ حوصلہ شکنی بھی نہیں۔ ہم صوفیوں کے ایک گروہ کو ان تقریبات میں شریک دیکھتے ہیں۔ بارہ سو برس ہوتے ہیں، دشت سوس کے ایک گاوٴں میں احمد اپنے مرشد حسین بن منصور حلاج کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آمد ِبہار کی مبارکباد پیش کرے۔ حسین نے جنہیں شہادت کے رتبے پر فائز ہونا اور آنے والی تمام صدیوں میں ایک مہکتا ہوا استعارہ بننا تھا، سراُٹھاکر اسے دیکھا اور یہ کہا: ”میرا نوروز ابھی نہیں آیا…“ (ایضاً)
سیکولر طبقہ کی نمائندگی کرنے والوں کا کہنا ہے :
”یہ صحیح ہے کہ بسنت کے تہوار کے ساتھ بھی بہت سی خرابیاں وابستہ ہوگئی ہیں، ضرورت ہے کہ ان خرابیوں کی اصلاح ہو، لیکن اس کا یہ طریقہ نہیں کہ ہم بسنت ہی کو غیر اسلامی ثابت کرنے کے لئے دلائل تراشنے لگیں یا اسے غیر مسلم قوم سے متعلق قرار دیں۔ اس کا صحیح طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ ہم لوگوں کو مسلسل متوجہ کرتے رہیں کہ کیسے وہ اس تفریح سے زیادہ سے زیادہ حظ اٹھا سکتے ہیں اور کیسے خرابیوں سے بچ سکتے ہیں جن کے نتیجے میں انسانی جان بھی جاسکتی ہے۔“ (’بسنت کامسئلہ‘ ازخورشید ندیم، روزنامہ جنگ، ۱۶/فروری ۲۰۰۴ء)
ویلنٹائن ڈے کے حوالہ سے اس طبقہ فکر کی رائے یہ ہے :
”اس روز اگر خاوند اپنی بیوی کو از راہِ محبت پھول پیش کرے یا بیوی اپنے سرتاج کے سامنے چند محبت آمیز کلمات کہہ لے تو اس میں آخر حرج کیا ہے؟“
لفنگوں اور اوباشوں کا رویہ
بسنت اور ویلنٹائن ڈے کے حوالہ سے اوباش طبقہ کا کردار سیکولر سوچ کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ یہ تہوار دراصل اسی طبقہ کے لوگ مناتے ہیں جب کہ ان من چلوں کی تائید کے لئے سیکولر طبقہ نام نہاد دانشوری پر اتر آتا ہے۔ مزید برآں مغربی تہذیب کی دلدادہ این جی اوز اسلام کے خلاف سازش کے طور پر ان کے ساتھ نہ صرف شریک ہوتی ہیں بلکہ ان کی تفریح میں لہوولعب اور شور وغل کو مہمیز دیتی ہیں تاکہ ایسی تفریح کے پردہ میں غیر اسلامی کلچر کو پروان چڑھانے کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔
یہ طبقہ کن لوگوں پر مشتمل ہے؟ اور یہ تہوار کس ’شان و شوکت‘ سے منایا جاتا ہے؟ اس کا مشاہدہ تو بسنت کے شب و روز میں لاہور اور دیگر بڑے شہروں کی پررونق عمارتوں اور وڈیروں کی کوٹھیوں بلکہ ’کوٹھوں‘ پرکیا جاسکتا ہے جبکہ اس کا دھندلا سا عکس متعلقہ دنوں کے اخبارات اور میگزینوں کے صفحات پر بھی دکھائی دیتا ہے۔
مذکورہ تہوار منانے والا اصلی طبقہ تو یہی ہے اور یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ان کی عیاشی ودلربائی میں رکاوٹ بنے۔ انہیں اپنے تہوار کے لئے چند دن ہی درکار ہیں، اس کے علاوہ باقی سارا سال پتنگ بازی پر پابندی رہے، اس سے انہیں کوئی غرض نہیں لیکن ان کی تفریح کے خاص ایام کوپھیکا کرنے کی کوئی کوشش ہو تو یہ فورا ً حق ِآزادی، تفریح ِطبع وغیرہ کا وِرد کرنے لگتے ہیں اور میڈیا بھی ان کی ہم نوائی میں خم ٹھونک کر کھڑا ہوجاتا ہے جبکہ ’سرکار‘ کے لئے پہلے ہی خوشی کے چند لمحات محفوظ کردیئے جاتے ہیں، اس لئے ان کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور ان کی طرف بڑھنے والا ہر قدم روک دیا جاتاہے لہٰذاانہی کا پلڑا بالآخر بھاری ثابت ہوتا ہے۔
تجزیہ وتاریخی پس منظر
بسنت، پتنگ بازی اور ویلنٹائن ڈے کے حامیوں اور مخالفوں کے دلائل و آرا کے تجزیہ کے علاوہ صحیح نقطہ نظر کی توضیح کے لئے ضروری ہے کہ مذکورہ تہواروں کا تاریخی پس منظر بھی بیان کردیا جائے۔
پتنگ سازی اور پتنگ بازی
پتنگ سازی اور پتنگ بازی کا آغاز کب اور کس مقصد کے لئے ہوا؟ اس کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم معروف یہی ہے کہ پتنگ سازی کا آغاز ہزاروں سال قبل مسیح چین سے ہوا پھر چینی تاجروں نے اسے کوریا، ایشیا اور برصغیر میں متعارف کروایا اور آج بھی پتنگ سازی کی صنعت میں چین ہی سب سے آگے ہے۔ باقی رہا پتنگ بازی کا مسئلہ تو یہ مختلف مقاصد کے لئے کی جاتی رہی ہے، مثلاً:
1۔تفریح طبع، کھیل تماشہ اورمقابلہ بازی کے لئے اور آج بھی دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی پتنگ بازی ہوتی ہے، عام طور پر اس میں کھیل ہی کی نیت کارفرما ہوتی ہے۔
2۔ پیغام رسانی کے لئے:
کہا جاتاہے کہ جنگ ِعظیم اوّل میں برطانوی، فرانسیسی، اٹالین اور روسی افواج نے دشمن کی نقل و حرکت کا اندازہ لگانے اور اپنی افواج کو سگنلز دینے کے لئے پتنگ بازی سے کام لیا تاہم ہوائی جہاز کی ایجاد اور افواج میں فضائیہ کا شعبہ قائم ہوجانے کے بعد پتنگ باز فوجی یونٹس کوختم کردیا گیا۔ اسی طرح محبوب اپنی محبوبہ کو پیغام پہنچانے کے لئے پتنگ بازی سے فائدہ اُٹھاتا۔
3۔دیگر فوجی مقاصد کے لئے:
کہا جاتا ہے کہ چین کے ایک جنرل ہان ہنسن نے پتنگ اُڑا کر جائزہ لیا کہ اس کے فوجیوں کو شہر کے اندر پہنچنے کے لئے کتنی لمبی سرنگ کھودنا پڑے گی۔ یہ فاصلہ معلوم کرنے کے بعد وہ سرنگ کھود کر شہر کے اندر داخل ہوگیا اور دشمن کے چھکے چھڑا دیئے۔
4۔سائنسی مقاصد کے لئے:
پتنگ بازی کو سائنس دانوں نے بھی اپنی ایجادات کے تجربات میں استعمال کیا۔ ہوائی جہاز کی ایجاد کو بھی پتنگ بازی کی مرہونِ منت قرار دیا جاتا ہے۔بنجمن فرینکلن، جس نے ۱۷۵۲ء میں بجلی ایجاد کی، نے آسمانی بجلی اور لیبارٹری میں پیدا ہونے والی بجلی کا موازنہ کرنے کے لئے پتنگ بازی کا استعمال کیا۔ الیگزینڈر گراہم بیل نے ہوا کی رفتار، بیرومیٹر کا پریشر اور ہوا میں نمی جاننے کے لئے مسلسل ۴۰ سال تک پتنگوں کے تجربات کئے۔ ۱۷۴۹ء کو سکاٹ لینڈ میں الیگزینڈر ولسن نے موسمی درجہ حرارت ریکارڈ کرنے کے لئے پتنگ کے ساتھ تھرما میٹر باندھ کر اُڑایا۔ اسی طرح ہرگریو نے ۱۸۹۳ء میں چوکور ساخت کی پتنگیں اس مقصد کے لئے ایجاد کیں جو فوراً ہی دنیا بھر میں ہوا کا دباوٴ معلوم کرنے کے لئے مقبول ہوگئیں۔
5۔مذہبی مقاصد کے لئے:
جس طرح پتنگ بازی کو دیگر مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا اسی طرح اسے مذہبی مقاصد کے لئے بھی اختیار کیا گیا۔ مثلاً چین ہی کے لوگ توہم پرستی کے پیش نظر مختلف ساخت اور مختلف رنگوں کے پتنگ اپنے مذہبی دیوتاوٴں کو مختلف پیغام پہنچانے کے لئے اُڑانے لگے۔ اسی طرح جاپان اور کوریا کے لوگوں نے اس توہم پرستی میں پتنگ بازی کو اختیار کیا کہ اس سے بدروحیں بھاگتی اور فصلیں زیادہ پیداوار دیتی ہیں۔ نیپال کے لوگوں کا اعتقاد ہے کہ پتنگوں سے دیوتاوٴں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اب زمین پر بارش کی ضرورت نہیں۔ ہندو اور بدھ مت کے پیرو کار پتنگ بازی کے تہوار کو ’درگادیوی‘ سے منسوب کرتے ہیں۔ درگا دیوی کو ان کے ہاں ایسی دیوی مامتا خیال کیا جاتا ہے جو دُکھی انسانیت کو برائیوں کے چنگل سے چھڑاتی ہے۔ اسی طرح لاہورمیں، ’بابا گڈی سائیں‘ کے نام سے ایک دربار ہے جو شاہی قلعہ کے عقبی گیٹ کے بالکل سامنے واقع ہے۔ اس کا نام ’گڈی سائیں‘ اس لئے معروف ہوا کہ لوگوں کے بقول باباجی پتنگ اُڑا کر ان کی مشکلات دور کردیا کرتے تھے اور لوگ بھی پتنگیں اور ڈوریں انہیں بطورِ نذرانہ پیش کرتے۔
یہ تو تھی پتنگ سازی اور پتنگ بازی کی مختصر تاریخ، اب آئیے ’بسنت‘ کا جائزہ لیتے ہیں :
’بسنت‘ ہندوانہ مذہبی تہوار
جن خطوں میں موسمی تغیرات ’بہار‘ کی فضا مہیا کرتے ہیں، وہاں عام طور پر خوشی اور تفریح کے لئے لوگ اپنے اپنے انداز میں جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ مثلاً ایران میں موسم بہار کی آمد پر نو دن طویل جشن منایا جاتاہے جسے ’نوروز‘ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں ’درگادیوی‘ کو خوش کرنے کے لئے بسنت کا تہوار منایا جاتا جیسا کہ البیرونی ہندوستان کی علاقائی تاریخ پراپنی مستند تصنیف’کتاب الہند‘ باب ۷۶ میں’عیدین اور خوشی کے دن‘ کے عنوان کے تحت ہندوستان میں منائے جانے والے مختلف مذہبی تہواروں کا ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”اسی مہینہ میں استوائے ربیعی ہوتا ہے جس کا نام ’بسنت‘ ہے۔ اسکے حساب سے اس وقت کا پتہ لگا کر اس دن عید کرتے ہیں اور برہمنوں کو کھلاتے ہیں، دیوتاوٴں کی نذر چڑھاتے ہیں“
گویا بسنت ہندووٴں کا مذہبی تہوار تھا بلکہ اس کی اہمیت ان کے ہاں ’عید‘ سے کم نہ تھی۔
بسنت اور پتنگ بازی کا اکٹھ
بسنت اور پتنگ بازی کے پس منظرسے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ بسنت ہندووٴں کا ایک مذہبی تہوار تھا جب کہ پتنگ کو کھیل و تفریحکے علاوہ اگرچہ سائنسی تجربات، عسکری مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے اور مذہبی توہمات کے تحت بھی اسے اُڑایا جاتا تھا۔ یعنی یہ دو الگ الگ چیزیں تھیں،پھر ان کا ا ختلاط کیسے ہوا؟ اس کا پس منظر بڑا دل خراش ہے جواُمت ِمسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اٹھارویں صدی عیسوی کے نصف اوّل میں متحدہ پنجاب مسلمانوں کے زیرنگیں تھا کہ سیالکوٹ کے ایک کھتری (ہندو) کا سترہ سالہ لڑکا ’حقیقت رائے باغ مل پوری‘ مسلمانوں کے ایک سکول میں زیر تعلیم تھا۔ وہاں کسی موقع پر اس نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ اور سیدہ فاطمہ الزہرا کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ اس توہین پرحقیقت رائے کو گرفتار کرکے عدالتی کارروائی کے لئے لاہور بھیجا گیا۔ وہاں اس نے اقرارِ جرم کرلیا۔ لہٰذا لاہور کے مسلمان گورنر زکریا خان کے حکم پر اسے پھانسی دے دی گئی۔ یہ ۱۷۳۴ء یا ۱۷۳۷ء کا واقعہ ہے۔ اس پر نہ صرف ہندو آبادی کو شدید دھچکا لگا بلکہ سکھوں نے بھی اس غم میں برابر کی شرکت کی کیونکہ اس کی شادی ایک سکھ لڑکی سے ہوئی تھی۔ حقیقت رائے نے چونکہ اسلام دشمنی میں رسالت مآب ﷺ اور ان کے اہل بیت کے بارے میں گستاخی کا ارتکاب کیا تھا اور اس کی جان بخشی کی صورت اگرچہ یہ تھی کہ وہ تائب ہوکر اسلام قبول کرلیتا مگر اس نے اپنے دھرم کے مقابلہ میں اسلام کو ٹھکرا دیا اور جان کی بازی لگا دی۔ لہٰذا ہندووٴں اور سکھوں نے اسے ’ہیرو‘ کا درجہ دے دیا۔
حقیقت رائے کے اس واقعہ سے قریب قریب سبھی اتفاق کرتے ہیں۔ تاہم اس کی تفصیلات میں اختلافِ رائے ہے۔ بعض موٴرخین کے بقول پنجاب میں بسنت کا میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ (جیسا کہ ہندو موٴرخ ڈاکٹر بی ایس نجار نے اپنی کتاب”Punjab Under the Later Mughals”کے ص ۲۷۹ پر لکھا ہے) جبکہ بعض کے نزدیک ’بسنت‘ میلہ اس سے بھی پہلے سے چلا آتا تھا جیسا کہ البیرونی کی کتاب الہند میں ہے لیکن جس روز حقیقت رائے کو پھانسی دی گئی، اتفاق سے وہ ’بسنت‘ ہی کا دن تھا۔ چنانچہ متحدہ پنجاب کے غیر مسلموں نے اس اتفاقی دن سے فائدہ اٹھایااورجہاں حقیقت رائے کو پھانسی دی گئی تھی وہاں اس کا مزار بنا کر یہی تہواروہ نئی آن شان سے منانے لگے بلکہ انہوں نے جشن کے طور پر پتنگ اڑانے شروع کردیئے۔ اس طرح بسنت اور پتنگ لازم و ملزوم ہوتے چلے گئے…!
واضح رہے کہ متذکرہ جرم کے بعد حقیقت رائے کو پھانسی لاہورمیں علاقہ گھوڑے شاہ میں ’سکھ نیشنل کالج‘ کی گراوٴنڈ میں دی گئی۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ہندووٴں نے اس جگہ یادگار کے طور پر ایک مندر تعمیر کیا لیکن یہ مندر آبادنہ ہوسکا اور قیام پاکستان کے چند برس بعد سکھ نیشنل کالج کے آثار بھی مٹ گئے اور اب یہ جگہ انجینئرنگ یونیورسٹی کا حصہ بن چکی ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت، ۴ فروری ۱۹۹۴ء)
بسنت کو ہندوو ٴں کے ہاں پہلے بھی مذہبی تہوار کی حیثیت حاصل تھی جبکہ حقیقت رائے کی پھانسی کے بعد اس میں مزید مذہبی رنگ شامل ہوگیا اور آج بھی اسے مذہبی حیثیت ہی سے منایا جاتا ہے۔ ایک صاحب کا آنکھوں دیکھا حال ملاحظہ فرمائیے:
”بسنت تو ہندو کا ایک مذہبی تہوار ہے اور اس کے لئے خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے، گذشتہ سال جنوری میں الٰہ باد (بھارت) کے مقام پر جو ’مہاکنبھ میلہ‘ ہوا تھا اس میں بڑے بڑے اچاریوں اور مہنتوں نے شبھ گھڑیوں کی تقسیم کی تھی۔ اس کے مطابق ۲۹ جنوری کے روز ’بسنت پنجمی‘ کا تہوار منوایا گیا تھا۔ میں نے خود اس روز اپنی آنکھوں سے دہلی کی پرانی سبزی منڈی کے پاس بسنت کا مذہبی جلوس دیکھا تھا جوکالی کے مندر کی طرف جارہا تھا۔ اسی طرح میں نے آگرہ کے ایک کالج کے پرنسپل سے بسنت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: ’بسنت پنجمی ماگھ یا بھاگون کے مہینہ میں منائی جاتی ہے۔ اس دن گاوٴں گاوٴں، شہر شہر میں جگہ جگہ میلے لگتے ہیں۔کبڈی، ہاکی، فٹ بال اور کشتی وغیرہ کے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ اس میں سرسوتی اور کالکا دیوی کی پوجا کی جاتی ہے۔ بچے، بزرگ اور عورتیں وغیرہ پیلے کپڑے پہنتے ہیں۔ گھروں میں پیلا حلوہ اور پیلے چاول پکائے جاتے ہیں،بچے اور نوجوان پتنگیں اڑاتے ہیں، چاروں طرف خوشحالی اور خوشی کا ماحول رہتا ہے۔“ ( رانا شفیق خاں پسروری ، ہفت روزہ اہلحدیث بابت ۲۱/ فروری ۲۰۰۳ء، ص۱۹)
خلاصہٴ کلام
پتنگ اور بسنت کے نام نہاد جشن بہاراں کے بارے میں گذشتہ تفصیلات سے معلوم ہواکہ
(1) پتنگ سازی کا آغاز ہزاروں سال قبل مسیح ہوا جبکہ دنیا بھر میں اسے اصلاً تو تفریح کی غرض سے لیکن اس کے علاوہ اسے سائنسی تجربات، عسکری مقاصد، پیغام رسانی جیسے مفید کاموں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔اسی طرح مذہبی توہمات وغیرہ کے تحت بھی اسے منایا جاتارہا ہے۔
(2) ’بسنت‘ ہندووٴں کا قدیم مذہبی تہوار تھا اور بالفرض اگر یہ علاقائی تہوار تھا تو تب بھی اسے غیر مسلم ہی مناتے تھے مزید برآں اس پر ہندوانہ عقیدہ کے مطابق موسموں کا مذہبی تصورغالب تھا۔
(3) حقیقت رائے کے واقعہ نے اسے مزید مذہبی رنگ دے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں