37

عصر حاضر:ملکی حالات میں پاکستانی میڈیاکاکردارکیاہونا چاہیے۔؟ظفر اقبال ظفر

پاکستان مملکت خداداد اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔جو ایک اسلامی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی پہلی ریاست ہے ۔جس کی آزادی کا مقصد نظریہ پاکستان (لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ)ودو قومی نظریہ ہے اور مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے لیے الگ مملکت کا حصول تھا۔اس مقصد کی تکمیل کے لیے مسلمانان پاکستان کو لاکھوں قربانیاں دینی پڑھیں۔بد قسمتی سے پاکستان کی آزادی سے لے کر آج تک وطن عزیز کے لیے قربانیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔دشمن شروع دن سے ہی اس مملکت حداداد کے وجود کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لیے سالانہ گھربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ مگر اللہ کی قدرت اور توفیق کاملہ سے 70 سال کا عرسہ گزرنے کو ہے اور دشمن ناکامیوں کا ماتم کرنے پہ مجبور ہے ۔پاکستان کی تاریخ ملکی غداروں سے بھری پڑھی ہے اور جتنا اس وطن عزیزکو نقصان اپنوں نے پہنچایا ہے کسی اور نے نہیں پہنچایا ۔دوست کے روپ میں دشمن کے ناپاک عزائم کسی سے ڈہکے چھپے نہیں ۔کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اللہ کی توفیق سے مطلوبہ نتائج سے کوسوں دور ہے ۔ سب سے زیادہ وار دشمن نے ہمیشہ نظریہ پاکستان کی بنیادو کو کھوکھلا کرنے میں کیا ہے ۔مشرقی پاکستان کی علہدگی سے لے کر ملکی خانہ جنگی تک اور بیرونی اور سرحدی خطرات سے لے کر نصاب تعلیم تک وہ اپنی سوچ و فکر کو فروغ دینے میں کچھ کامیاب ضرور ہوا ہے ۔اس ملک پاکستان کی قانون شاز اسمبلیوں سے لے کر لسانی تفریق ‘ قبائلی نظام‘ بغاوت ‘فتنہ خروج و تکفیر ‘فتنہ غامدیت سے لے کر فتنہ پرویزیت تک‘فرقہ ورایت سے لے کر سیاسی و مسلکی اختلافات تک ‘ پاکستانی سرحدی خلاف ورزی سے لے کر ڈرون حملوں تک اور علہدگی پسند تحریکوں نے جو ملک پاکستان کو نقصان پہنچایا کسی اور نے نہیں پہنچایا ۔یہ سب اپنوں کی کافرمائیوں کا نتیجہ ہے ۔​
ان حالا ت میں سے پہلے ملکی و قومی سلامتی اور دفاع کا مسئلہ ہے ۔اس میں ریاست کے تمام ادارو ں کا کردار واضع اور غیر مبہم ہونا چاہیے ۔جس میں سب سے قبل افواج پاکستان ‘اس ملک کے خفیہ ادارے ‘مذہبی جماعتیں ‘پاکستانی میڈیا ‘فلاحی تنظیمیں ‘سیاسی جماعتیں ‘پارلیمنٹ ‘عدلیہ ‘پولیس‘حقوق انسانی پر کام کرنے والی تنظیمیں و این جی اوز اور دیگر مذہبی و غیر مذہبی شخصیات کا کردار پاکستان کی دفاعی اور نظریاتی بنیادوں پر واضع اور غیر مبہم ہونا چاہیے ۔​
پارلیمنٹ:​
کا کام قانون وضع کرنا ہے تو اس میں پارلیمنٹ کے تمام ارکان کا کردار واضع ہو جو صرف اسلامی اور نظریاتی بنیادوں پر مبنی ہو کوئی ایسا قانون پاس نہیں ہونا چاہیے جو قرآن و سنت کےخلاف ہو جیسا کہ آئین پاکستان میں لکھا ہے ۔​
حکومت پاکستان:​
حکومت پاکستان کا کام عوام کی فلاح و بہبود کا کام کرنا اور ملکی و عوامی اصلاح و ترقی کے لیے نئی عوام دوست پالیسیاں وضع کرنا ہے۔ تاکہ اس ملک کی عوام ایک خوشحال کی زندگی گزار سکے ۔جو حکومت عوام کو رلیف دینے میں ناکام ہوجاتی ہے اور قومی و ملکی دفاع کو نظر انداز کر دیتی ہے تو آئین پاکستان کی سق نمبر 62۔63 اس کو نا ہلی کی سزا سناتی ہے ۔​
افواج پاکستان:​
افواج پاکستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام قوم اور ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے بیرونی و اندرونی خطرات سے نمٹنا ہے ۔​
عدلیہ: ​
عدلیہ کاکام قانون نافذ کروانا ہوتا ہے اور انصاف پر مبنی فیصلے کرنا ہوتا ہے۔ کوئی جج بھی اپنی مرضی سے فیصلہ نہیں کر سکتاسارے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے پابند ہوتے ہیں ۔​
فلاحی نتظیمیں:​
وطن عزیز میں بسنے والے مسلمان ہو یا غیر مسلم سب کی فلاح اور خدمت ان تنظیموں کا بنیادی مقصد ہوتا ہے ذاتی اور مسلکی و سیاسی اختلافات ان میں تفریق پیدا نہیں کر سکتے جو جماعت یا تنظیم عوامی فلاح کا نعرہ لگانے کے بعد کسی خاص مسلک یا جماعت کی طرف داری کرنے لگے وہ حقیقت میں فلاح انسانیت کا جھوٹا نعرہ لگا کر دھوکہ دیتی ہے ۔جب قانون نافذ کرنے والے ادارے دیکھیں کہ یہ فلا حی تنظیم کسی خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہے تو فوری اس کی منیٹرنگ کرکے حقائق کی طرف پیش قدمی کی جائے ۔اگر کوئی بھی تنظیم کسی تخریب کاری میں ملوث پائی جائے تو اس کا لیسنس منسوخ کر دیا جائے اور اس کے نمائندوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔تا حیات اس کے کام کرنے پر پابندی لگا دی جائے ۔​
میڈیا چینل: ​
میڈیا ریاست کا ہی ایک ادارہ ہے جس کا مقصد اس ملک کی سلامتی اور ملکی و قومی مفاد کےلیے حکومت اور دیگر اداروں کو غیر مناسب سرگرمیوں تخریب کاری و دہشت گردی ‘بغاوت جیسے فتنے جو ملکی و قومی سلامی کے لیے خطرے کی علامت ہیں۔ ایسے فتنوں وسرگرمیوں کو بے نقاب کرنا اور عوام کے سامنے لانا ہے ۔حکومت و عوام سمیت تمام حکومتی اداروں کو حالات و واقعات سے بر وقت باخبر رکھنا میڈیا کی ذمہ داری ہے ۔​
قارئین کرام:​
ملکی تاریخ میں جتنا وطن عزیز کو نقصان اپنوں نے پہنچایا ہے کسی دوسرے نے نہیں پہنچایا ۔شروع دن سے ملک پاکستان خطرات میں گرا ہوا ہے۔دشمن مختلف طریقوں سے مختلف لوگوں سے پاک سرزمین کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لیے دن رات استعمال کرتا آ رہا ہے ۔مگر ان تمام حالات و واقعات کے پیش نظر اپنوں کی غداری کسی سے مخفی نہیں ہے ۔بد قسمتی سے شروع دن سے اس ملک کی باغ ڈور جن لوگوں کے ہاتھوں میں رہی ہے کسی صورت بھی ملکی سلامتی کے حامی نہیں رہے۔ دشمن کہ آلہ کار اور سہولت کار بن کر کام کرنا ان کے فرائض منسبی میں سر فہرست شامل ہوتا ہے ۔جو بھی برسر اقتدار آیا اس نے ڈالرو کے لالچ میں قومی اور ملکی سلامتی کو حوس پرستی اور اغیار کی طرف سے نوازشات کے تیز دھار آلے سے کچل کر قومی دفاع اور مفاد کو پاؤں سے مسل ڈالا۔ملکی خزانہ لوٹنے ‘سودی نظام معیشت ملک میں رائج کرنے ‘نصاب تعلیم میں غیر اسلامی غیر اخلامی تبدیلیاں ‘غیر اسلامی قوانین کی منظوری ‘سیاسی و مذہبی اختلافات کی پشت پناہی ‘لا قانونیت ‘ملکی خارجہ و داخلہ پالیسی پر سودے بازی ‘مہنگائی‘ٹیکس کا ظالمانہ نظام‘خانہ جنگی کے خلاف غیر سنجیدہ رویہ ‘ڈرون حملوں کی اجازت ‘ملکی اور سیاسی معاملات میں امریکی مداخلت ‘اقتدار میں آنے والے ملکی غداروں کی دوگلی پالیسی ‘ نظریہ پاکستان پر سودے بازی ان کی دوگلی پالیسی کو واضع کرنے کےلیے کسی تاریخی ثبوت کی مختاج نہیں ۔​
اسی پر بس نہیں کرپشن ‘خیانت ‘صدارتی استثناء ‘جرائم پیشہ لوگوں کی پشت پناہی ‘غیر ملکی ایجنسیوں کی سرگرمیاں‘میڈیا کا غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کے بعد سہولت کاری کے طور پر کام کرنا اور غیر اسلامی پروگرام نشر کرنا ‘مذہبی و سیاسی جماعتوں کی تخریب کاری پر مبنی سر گرمیاں حکومت وقت کی عدم توجہ اور لا قانونیت ‘موجودہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔​
پاکستانی سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ ‘پولیس اور فوجی چوکیوں پر مزائل حملے ‘خانہ جنگی ‘اقلیتوں کے حقوق پر حملے ‘فوجی اور دفاعی تنصیبات پر عدم اعتماد جب حکمرانوں کا عام رویہ بن جاتا ہے تب ملکی و قومی مفاد کے لیے اٹھ کھڑے ہونا وقت کی نزاکت کے پیش نظر ہر پاکستانی کا حق بنتا ہے ۔خاص کر جب پاکستان چین کے ساتھ معیشت اور توانائی کے شعبوں میں گوادر اور سی پیک جیسے عظیم منصوبوں پر کام تیزی سے تکمیل کے مراحل کی طرف لیجا رہی تھی ۔اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو دو ر کرنے اس کے خلاف سرگرم ایجنسیوں اور گروہوں سے نمٹنے کےلیے افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادراوں نے تھان لی ۔ مرد مجاہد جنرل راحیل شریف نے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کو اپنے لیے چیلنج کے طور پر لیتے ہوئے کئی اپریشن ملک کے مختلف جگہوں پر لانچ کر دیے ۔جن میں (ضرب عضب ‘ردالفساد‘کومبنگ اپریشن)اور ان سے ہونے والی کامیابیاں اور شہادتیں کسی ثبوت کی مختاج نہیں ۔دشمن کے تمام نیٹ ورک کلبوشن کی گرفتاری اور اس سے ملنے والی حساس معلومات کے مطابق کئی قسم کی گرفتاریوں میں کامیابی پر عظیم ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ۔​
ایسے حالات میں ہماری کیا ذمہ داری تھی یہ ایک سوال اپنی وضاحت کا متقاضی ہے ۔ہرپاکستانی کا عظیم فرض تھا کہ وہ ان حالات میں اپنا کردار واضع کرے تاکہ اس ملک کی نظریاتی جڑوں کو کمزور کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے ۔دشمن کو ان کی من مانی کا موقع نہ دیا جائے ۔عین انہی حالات میں کچھ گروہ تشدد پسند اور دہشت گردی کی کارویوں میں مصروف تھے کہ مذہبی و سیاسی جماعتیں ملک کے کونے کونے میں اپنے احتجاجات و عوامی آگاہی پروگراموں کے ذریعے عوامی شعور بیدار کرنے میں فوج کی حمایت میں کھڑے ہوئے ۔کئی تحریکیں نظریہ پاکستان ‘دفاع پاکستان ‘استحکام پاکستان کھڑیں ہوئیں اور ان اپریشنز میں فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو سراہا ں اور فوج کے کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کے خلاف لڑنے کا عزم کیا ۔یہ وہ حالات تھے جب افواج پاکستان مختلف محاذوں پر دشمن کے خلاف سرگرم عمل تھی ۔ہزاروں قربانیوں کے باوجود سرحدوں کی ہی حفاظت نہیں کی بلکہ اندرونی اور بیرونی قوتوں کو ختم کر کے کامیابیوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔​
یہ افواج پاکستان تھی کہ جس کی دشمن کے خلاف پیش قدمی غیر ملکی فنڈنگ اور ڈالروں پر پلنے والے ملکی غذداروں کو ہضم نہ ہوئی ۔کوئی ملک میں بد امنی دھرنا سیاست کی صورت میں کر رہا ہے تو کوئی پانامہ لیکس کا رونا رو رہا ہے ۔کوئی صحافی حضرات پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کا ماتم کر رہا ہے تو کوئی آزادی اظہار رائے کا لبادہ اوڑ کر افواج پاکستان اور آئی ۔ایس ۔آئی کے خلاف زہر اگل رہا ہے ۔کوئی حقوق انسانی کی آڑ میں ملک دشمنی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کوانجام تک پہچانے میں مگر مچھ کے آنسوں بہا رہاں ہے ۔افسوس اس بات کاہے کہ بلا اشتعال فائرنگ سے شہید ہونے والے فوجی جوان اور دہشت گردوں سے لڑتے حساس اداروں کے جوان تو کسی کو نظر نہیں آتے۔ مگر ایک صحافی پر حملہ ہونے پر سب تجزیہ نگار وٹی وی اینکر اور کالم نگار غیروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے افواج پاکستان اور آئی۔ایس ۔آئی پر تبصرہ کرتے حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور الزامات کی گردان کرتے نہیں تھکتے ۔کسی کو بلدیہ ٹاؤن کراچی میں 250 سے زائد ہلاک ہونے والے بے گناہ مزدور تو نظر نہیں آئے ۔آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے معصوموں کا قتل یاد نہ رہا اس پر سب کی زبانیں بند ہو گئیں ۔کسی کو ضرب عضب ‘ردالفساد اور کومبنگ اپریشن میں ہونے والی ملکی دفاع کرتے شہید ہونے والے جوانوں کی تو کسی کو خبر نہ رہی ۔اندرون ملک دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے نمٹتے پولیس کۃ نوجون کی تو کسی کو خبر نہ رہی ۔مگر حامد میر پر حملہ کے وقت صحافت اور آزادی اظہار رائے پر حملہ کا سب ماتم کرتے نظر آئے ہیں ۔​

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں