15

کیا سودی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہے؟

سودی بینک میں آپ جو کرنٹ اکاؤنٹ کھلواتے ہیں، بینک آپ کے کرنٹ اکاؤنٹ کی 90 فی صد رقم سودی معاملات میں استعمال کرتا ہے اور اس کا پرافٹ آپ کو نہیں دیتا بلکہ مزید اس سودی نظام کی تقویت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ بینک آپ کے کرنٹ اکاؤنٹ کی رقم استعمال نہیں کرتا ہے۔ بالکل بھی ایسا نہیں ہے۔ مثال کے طور مجھے پنجاب بینک سے اگر دو لاکھ کیش کروانے ہوتے ہیں تو پہلے فون کر کے معلوم کرنا پڑتا ہے کہ آج کیش موجود ہے، چیک کیش ہو جائے گا حالانکہ میرا کرنٹ اکاؤنٹ ہے۔

تو کرنٹ اکاؤنٹ میں آپ کا 90 فی صد پیسہ نہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ میں استعمال ہوتا ہے بلکہ آپ کا وہ پیسہ مزید ایسا پیسہ جنریٹ کرتا ہے کہ جس کا مالک بینک بن جاتا ہے۔ اس پر میں نے فریکشنل ریزرو بینکنگ کے نام سے بھی ایک تحریر میں تفصیلی روشنی ڈالی تھی۔ تو کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا تو مجبوری کے تحت جائز تھا نہ کہ مطلق طور پر۔ اور آج بھی مجبوری کے تحت جائز ہے کہ اگر کسی کا سیلری اکاؤنٹ ہے اور اس کی تو سیلری آنی ہی اکاؤنٹ میں ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔

وہی کبار علماء جنہوں نے سودی بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کے جواز کا فتوی دیا تھا، اب یہ فتوی دے رہے ہیں کہ چونکہ اسلامی بینک وجود میں آ چکے ہیں لہذا عام حالات میں سودی بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانا اور ان کی سروسز لینا بھی جائز نہیں ہے۔ ایسے ہی فتاوی شیخ ابن باز، شیخ محمد صالح المنجد، ڈاکٹر عبد اللہ الفقیہ الشنقیطی وغیرہ سے منقول ہیں بلکہ المجمع الفقھی الاسلامی کی ایک قرارداد میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ جن علاقوں میں اسلامی بینکوں کی سہولت میسر ہو تو وہاں سودی بینکوں کے ذریعے معاملات حل کرنا حرام ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم اسلامی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلواتے ہیں تو وہاں بھی تو سودی نظام ہی ہے؟ تو اس بارے علماء کا اختلاف ہے؛ کچھ اسلامی بینکوں کو بھی سودی سمجھتے ہیں اور کچھ ان کے غیر سودی ہونے کا فتوی جاری کرتے ہیں۔ میں ان دو قسم کے علماء کو انتہاء پر سمجھتا ہوں؛ پہلے وہ جو اسلامی بینکوں کو سو فی صد حلال بینک سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جو انہیں سو فی صد سودی بینک قرار دیتے ہیں۔ وہ شخص کہ جس نے اللہ سے اپنا منہ موڑ رکھا ہو اور وہ کہ جس کا رخ اللہ کی طرف ہو، بھلے وہ اللہ کی طرف ایک قدم بڑھا کر رک گیا ہو، تو دونوں برابر نہیں ہیں۔

تو اسلامی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوائے یا سیونگ تو اس بارے میری رائے یہ ہے کہ اگر آپ کی رقم کم ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ کھلوا لیں اور اگر زیادہ ہے یعنی ملینز میں ہے تو سیونگ اکاؤنٹ کھلوائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی آپ کا پیسہ بینک استعمال کرتا ہے لہذا اگر آپ اسلامی بینکاری کو بھی سودی سمجھتے ہیں تو آپ سودی نظام کی معاونت کر رہے ہیں۔ سیونگ اکاؤنٹ کھلوا لیں کہ جس میں آپ بینک سے مضاربہ کا کانٹریکٹ کرتے ہیں اور بھلے بینک آپ کی نظر میں مضاربت نہ کر رہا ہو لیکن یہ کانٹریکٹ تو ناجائز نہیں ہے ناں۔

اب اس سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل شدہ رقم کو یا تو تلف کر دیں، آگ لگا دیں کہ کم از کم سودی نظام کی تقویت میں استعمال نہیں ہوئی اور یا پھر غرباء اور مساکین پر صدقہ کر دیں یا کسی تاوان کی ادائیگی کر دیں یعنی جو پہلے ہی حرام کھانے کو تیار بیٹھا ہے تو اسے حرام کھلا دیں مثلا کسی شخص پر سودی قرض ہے اور وہ توبہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے سودی قرض کی ادائیگی ایسی رقم سے کر دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں