31

#چاند اور #سورج کو گرہن لگنا-ہاشم یزمانی

، اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے، اس میں کسی بڑے یا چھوٹے کی موت، زندگی یا کسی حادثے کا عمل دخل نہیں ہوتا. اگر کسی گرہن کے وقت کوئی حادثہ رونما ہو جائےتو ٹائمنگ کی یہ یکسانیت محض اتفاق ہوگا ورنہ اس کا #گرہن سے کوئی تعلق نہیں.
چاند یا $سورج_گرہن کے وقت لوگوں نے طرح طرح کے تصورات اور اعمال گھڑ رکھے ہیں جبکہ شریعت اسلامیہ اس حالت میں ذکر اذکار، توبہ استغفار، تکبیر وتہلیل، صدقہ وخیرات اور نمازِ #خسوف و #کسوف کا درس دیتی ہے.
گرہن کے وقت حاملہ جانوروں یا خواتین کو بیٹھنے یا سونے نہ دینا کہ اس سے ان کا حمل ضائع ہو جائے گا یا بچہ لنگڑا یا نابینا ہوگا، یہ سب توہمات ہیں, ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
( سورج اورچاند اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، کسی کی موت یا پھر کسی کے پیدا ہونے کی بنا پر انہیں گرہن نہیں ہوتا ، لیکن اللہ تعالی اسے اپنے بندوں کو ڈرانے کے لیے لاتا ہے ، جب تم دیکھو کہ چاند یا سورج گرہن ہوا ہے تو گرہن ختم ہونے تک نماز ادا کرو ) ۔
اخباری یا میڈیائی اطلاعات کی بجائے عینی مشاہدہ کرنے پر ہی نماز خسوف یا کسوف ادا کی جائے گی.
یاد رہے کہ #چاند_گرہن کے وقت پڑھی جانے والی نماز کو نمازِ خسوف جبکہ سورج گرہن کے وقت ادا کی جانے والی کو نمازِ کسوف کہا جاتا ہے.
سنتِ نبوی پر عمل اور خرافات سے اجتناب کیجیے.
( #ھاشم_یزمانی )
………
ہمارے مکرم ومحترم اور مشفق ومہربان جناب پروفیسر ڈاکٹر منیر اظہر صاحب کی ایک تحریر ہے جسے من وعن یہاں ایڈ کر رہا ہوں:

السلام علیکم ، سورج اور چاند کے گرہن کے موقع پر سنت نبوی:” سورج اور چاند اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،یہ کسی کی موت یا زندگی کی بنا پر گرہن زدہ نہیں ہو تے بلکہ اللہ تعالی ان کے ساتھ اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں،، کچھ احکام اس طرح ہیں: 1۔ گرہن شروع ہوتے ہی اللہ تعالی سے ڈر جائیں۔2۔مساجد میں” الصلوۃ جامعۃ ،،کے ساتھ لوگوں کو جمع کرنے کے لیے اعلان ہو۔ 3۔لوگوں کو جمع کر کے نماز خسوف کا اہتمام کیا جائے۔4۔ دو رکعت نماز لمبے قیام ، ہر رکعت میں دو لمبے رکوع اور دو لمبے سجدہ کے ساتھ ادا کی جائے۔5. اللہ سے دعا کی جائے،اس کی تکبیر اور تحمید کی جائے۔6- دعا اور استغفار کی جائے۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں