69

اسلام میں علم اور استاد کی قدر

مسجد نبوی کے امام وخطیب فضیلۃ شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمن البعیجان
جمعۃ المبارک 9 جمادالاولیٰ 1439 ھ بمطابق 27 جنوری 2018
عنوان: اسلام میں علم اور استاد کی قدر
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
پہلا خطبہ
الحمدللہ، ساری حمد و ثناء اللہ رب العالمین کے لئے ہے جو قلم سے سکھانے والا ہے اورانسان کو وہ کچھ بتانے والا ہے جو اس کو نہ آتا تھا۔ میں نعمتوں اور کرم نوازیوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں اور اس کے فضل وکرم پر اس کی حمد و ثنا بجا لاتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اللہ نے آپ ﷺ کو تمام امتوں میں سے منتخب فرمایا اور انہیں رحمت للعالمین بنا کر بھیجا، آپ نے اللہ کا پیغام پہنچایا، ٹھیک طرح امانت ادا کی اور اللہ کی راہ میں کماحقہ جہاد کیا یہاں تک کہ ان کے گزر جانے کا وقت آ گیا۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ کی آل پر اور صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعد ازاں!
بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، اللہ کے ہاں قبول کیا جانے والا دین، دین اسلام ہے اور بہترین طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’لوگو، بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے۔‘‘ )لقمان: 33)
اللہ کے بندو!
اللہ تعالی نے انسان کو زمین میں خلیفہ بنانے کیلئے منتخب کیا اور اسے علم اور عقل سے نوازا۔ علم بڑی قابل فاخر چیز ہے اور اسی کی بنیاد پر عمل اور عبادت ممکن ہے، اسی طرح انسان کی عقل بات سننے اور سمجھنے کے لیے ضروری ہے اور اسی کی بنیاد پر شریعت کے احکام لاگو ہوتے ہیں۔ فرمان الٰہی ہے:
’’پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ “میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں” انہوں نے عرض کیا: “کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقر ر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں” فرمایا: “میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔‘‘ )البقرہ: 30(
پھر اللہ تعالی نے یہ بھی بیان فرمایا کہ علم ہی پر افضلیت اور شرف کا دارومدار ہے۔ فرمایا:
’’اس کے بعد اللہ نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا “اگر تمہارا خیال صحیح ہے )کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ” )31) انہوں نے عرض کیا: “نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں۔‘‘ )البقرہ: 31 33)
اللہ تعالی نے انسان کو علم اور عقل دے کر بہت سی مخلوقات پر فوقیت عطا فرمائی ہے اور انہی کی بنیاد پر انسان کو شریعت کے احکام کا پابند بنایا ہے۔
اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
ان دنوں طالب علم ایک نیا سمسٹر شروع کر رہے ہیں۔ محنت سے پڑھنے والے اور بھلائی کے کام میں آگے بڑھنے والے کے لیے تو بڑی خوشخبری اور سعادت ہے۔ علم ہی وہ بنیاد اور ذریعہ ہے کہ جس سے انسان اپنے دین کو پہچانتا ہے۔ اسی کی بدولت انسان اللہ کی فرمابرداری کے طریقے کو جان سکتا ہے۔ جبریل علیہ السلام پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم لے کر آئے تھے۔ اور پہلی آیت جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی وہ پڑھنے کے حکم پر مشتمل تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی۔ آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے وہ سپیدہ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا۔ پھر آپ کو تنہائی محبوب ہو گئی، چنانچہ آپ غار حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور کئی کئی رات گھر تشریف لائے بغیر مصروف عبادت رہتے۔آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے جا کر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس واپس آتے اور تقریبا اتنے ہی دنوں کے لیے پھر توشہ لے جاتے۔ یہاں تک کہ ایک روز جبکہ آپ غار حرا میں تھے، )یکایک) آپ کے پاس حق آ گیا اور ایک فرشتے نے آ کر آپ سے کہا: پڑھو! آپ نے فرمایا:’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ آپ کا فرمان ہے: اس پر فرشتے نے مجھے پکڑ کر خوب بھینچا، یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے لگی،پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھو! میں نے کہا: ’’میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے دوبارہ مجھے پکڑ کر دبوچا، یہاں تک کہ میری قوت برداشت جواب دینے لگی، پھر چھوڑ کر کہا: پڑھو! میں نے پھر کہا: ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ اس نے تیسری بار مجھے پکڑ کر بھینچا، پھر چھوڑ کر کہا: ’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو! اور تمہارا رب تو نہایت کریم ہے۔‘‘
اللہ کے بندو!
قرآن کریم نے علم سیکھنے کا حکم دیا ہے۔ نبی ﷺ کو علم کے سوا کسی چیز کے متعلق یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اسے اللہ تعالی سے مزید مانگیں۔ فرمایا:
’’اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر۔‘‘ )طہ : 114(
اللہ تعالی نے اہل علم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔‘‘ )فاطر: 28(
ایک جگہ اللہ تعالی نے اپنا، اپنے فرشتوں کا اور اہل علم کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے۔ اور بتایا کہ یہ سب اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرارکرتے ہیں۔
’’اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، او ر )یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے وہ انصاف پر قائم ہے اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے۔‘‘ )آل عمران: 18(
علماء کا مقام ومرتبہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟۔‘‘ )الزمر: 9(
علماء کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔‘‘ )النحل: 43(
نبی کریم ﷺ نے بھی علم حاصل کرنے کی تلقین فرمائی اور بتایا علم حاصل کرنا بھلائی کی نشانی ہے۔ فرمایا:
جس کے متعلق اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔
اسی طرح فرمان نبوی ہے:
جو علم حاصل کرنے کی غرض سے نکلتا ہے اور علم کے راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما لیتا ہے۔
تو اپنے اوقات میں سے علم سیکھنے کے لئے کچھ وقت مختص کر دیجئے، اپنے بچوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دیجئے کیونکہ علم سکھانا تربیت کا بہترین ذریعہ ہے، پاکیزگی کا سب سے اچھا طریقہ ہے، فتنے سے بچانے میں مددگار ہے، مشکلات میں ثابت قدمی کا سامان ہے اور مصیبت کے وقت صبر میں مدد دینے والی چیز ہے۔ یہ بہترین نیکی اور شاندار عبادت اور درجات بڑھانے والا عمل ہے۔
اللہ کے بندو!
اللہ تعالیٰ جس کے متعلق خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے وہ دین کی سمجھ فرما دیتا ہے۔ جاہلیت کے بھلے لوگوں کو اگر دین کی سمجھ نصیب ہو جائے تو وہ اسلامی دور میں بھی بہترین لوگ ثابت ہوتے ہیں۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ علم سیکھنا اور سکھانا ایسی نیکی ہے کہ جس کا ثواب انسان کی موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل رک جاتا ہے مگر تین چیزوں کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے۔ ایسے صدقے اور علم کا کہ جس کا فائدہ لوگوں کے لئے جاری رہتا ہے اور تیسرا نیک اولاد کی دعا کا۔‘‘
علم کی فضیلت بہت ہے مگر علم حاصل کرنے کے لیے صبر بھی ضروری ہے، وقت بھی، ہمت بھی، قربانی بھی اور استقامت بھی۔ انسان جتنی مشقت میں اپنے اپکو ڈالے گا اتنا ہی وہ اپنی امیدیں پانے میں کامیاب ہوسکے گا۔
طالب علم کو سب سے بڑھکر اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے، پھر سچے ارادے کی اور پھر تزکیہ نفس کی اور گناہوں سے بچاؤ کی اور ہمت توڑنے والی چیزوں کا مقابلہ کرنے کی۔ کیونکہ تکیہ پرسر رکھ کے دیر تک سونے والا کبھی امت کے بڑے لوگوں میں شامل نہیں ہو سکتا۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ )غیر مسلمانہ روش سے) پرہیز کرتے۔‘‘ )التوبہ: 122(
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
’’دین کا علم ہر نسل کے بہترین لوگ سیکھیں گے، یہ لوگ دین کو مبالغہ آرائی کرنے والوں کی تحریف سے، ناحق ردوبدل کرنے والوں کی تبدیلی سے اور جاہلوں کی تاویل سے پاک کریں گے۔‘‘
بعد ازاں! اللہ کے بندو!
ہر قسم کے علم سیکھنا دین اسلام میں اچھا سمجھا جاتا ہے، چاہے اس علم کا مصدر قرآن وسنت ہو، جیسا کہ دینی علوم، عقیدہ، تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ، یا ان کا مصدر اور بنیاد تجربہ اور دنیا کی مختلف موجودات میں غور و فکر ہو۔ جیسا کہ میڈیکل سائنس، فزکس، اور انجینئرنگ وغیرہ۔ ان میں سے کسی بھی علم کو اگر اخلاص کے ساتھ سیکھا جائے تو سے سیکھنے والا نبی کریم ﷺ کے اس فرمان میں شامل ہو جاتا ہے کہ:
جو علم حاصل کرنے کی غرض سے نکلتا ہے اور علم کے راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما لیتا ہے۔
فرمان الٰہی ہے:
’’وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا، جو اُنہیں اُس کی آیات سناتا ہے، اُن کی زندگی سنوارتا ہے، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اِس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ اور )اس رسول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے یہ اس کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔‘‘ )الجمعة: 2 4(
دوسرا خطبہ
اللہ کے لیے اس کی شان اور قدر کے شایان شان حمد و ثنا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کی عظمت اور کمال میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، اہل بیت اور صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعد ازاں!
علم کو سیکھنے والے لوگ علم کو یاد بھی کرتے ہیں اور اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں، اس کی حمایت بھی کرتی ہے اور اس کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے ذریعے علم ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے اور انہی کی ہمت سے ساری دنیا میں پھیلتا ہے۔
اے معاشرے کے لوگو!
اساتذہ تعلیم و تربیت میں انبیاء کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگلی نسل کی تربیت میں بہترین کردار ادا کرتے ہیں، ہماری نسل کے دل میں دنیا و آخرت کی سعادت کے بیج بوتے ہیں۔ یہ لوگ قابل قدر اور قابل احترام ہیں۔ ان کی عزت افزائی اور توقیر لازمی ہے۔ ان کی مدد کیجئے اور انکی غلطیوں سے درگذر کیجئے۔
اے اساتذہ خواتین و حضرات! اے تربیت کرنے والے خاتین و حضرات!
معاشرے کیلئے اچھی مثال بنیے، علم کو عمل میں لائے اور علم کے آداب کو اپنائے، کیونکہ طلباء کی نظر میں آپ ہی رول ماڈل ہو۔ وہ ہر طرح سے آپ کی تقلید کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ تو اگر آپ انہیں سچ بولنا سکھاتے ہیں تو خود بھی سچ بولئے، اور اگر صبر کا حکم دیتے ہیں تو خود صبر کیجئے۔
پہلے اپنے آپ پر نظر ڈالیے اور اپنے آپ کو برائی سے روکیئے۔ اگر آپ اپنے آپ کو برائی سے روکنے میں کامیاب ہوگئے تو آپ ہی حقیقی سمجھدار ہیں۔ پھر جب اپنے نفس کو برائی سے پاک کرلیں تو دوسروں کو بھی برائی سے روکیں، ایسا کریں گے تو آپکی بات میں اثر ہوگا اور لوگ آپ کی بات مانیں گے۔ کسی چیز سے دوسروں کو روک کر خود اسی کے مرتکب نہ بنیے۔ اگر ایسا کرو گے تو یہ آپ کے حق میں انتہائی برا ہوگا۔
اے اساتذہ خواتین و حضرات!
آپ کی ذمہ داری بہت بڑی ہے اور آپ کے کندھوں پر ڈالی جانے والی امانت بہت اہم ہے۔ اس نسل کی اولاد آپ کے ہاتھوں میں امانت ہے اور امت کا ذخیرہ آپ کے ہاتھوں میں ہے اور اس کی تربیت آپ کی ذمہ داری ہے۔ اپنی ذمہ داریاں خوب نبھائیے، کیونکہ ہر کوئی ذمہ دار ہے اور ہر کسی سے اسکی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اگر صحیح طرح ذمہ داری ادا کرو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، آپ کے متعلق ہمارا گمان بھی یہی ہے اور اس صورت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں بھی آپ کے لئے بہت بڑا اجر ہو گا، اور اگر آپ اپنی ذمہ داری صحیح طرح ادا نہیں کرو گے تو اپنا بھی نقصان کروگے اور امت کا نقصان بھی کرو گے۔
اے نیک طلباء۔
غور سے سنو اور توجہ میری طرف کرو کیوں کہ یہ گفتگو آپ کے لئے ہے اور میں آپ سے پیار بھی کرتا ہوں اور آپ کا بھلا بھی چاہتا ہوں!
استاد کا احترام کرنا، اس کے ساتھ ادب سے پیش آنا شرعی واجب ہے، اخلاقی تقاضا ہے اور علمی اور عملی کامیابی میں بنیادی اصول ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے واقعے پر غور کیجیے۔ اس میں بھی آپ کے لیے بہت سبق ہیں۔ موسی علیہ السلام نے کہا:
’’کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کوسکھائی گئی ہے؟‘‘ )الکہف: 66(
استاد نے جواب دیا:
’’آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں۔‘‘ )الکہف: 67۔ 68(
موسی علیہ السلام نے انہیں یقین دلایا کہ وہ استاد کا حق جانتے ہیں اور علم راستے میں آنے والی مشقت کا مقابلہ کرنا بھی خوب جانتے ہیں۔ فرمایا:
’’موسیٰؑ نے کہا “انشاءاللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔‘‘ )الکہف: 69(
استاد کی قدر بہت زیادہ ہے، اس کی محنت کا بدلہ صرف احسان کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے۔ تو استاد کی بے ادبی سے بچو، کیونکہ ایسا کرنے والے اپنی تربیت میں ناکام ہو جاتے ہیں، ان کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں اور وہ ایسے برے کاموں کا شکار ہوتے ہیں کہ جنہیں کسی بدبخت کے سوا کوئی پسند نہیں کر سکتا۔ بزرگوں کے واقعات میں بھی آپ کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔
امام شافعی کے شاگرد ربیع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں امام شافعی کی میری نظر میں اتنی ہیبت تھی کہ میں نے ان کے سامنے کبھی پانی پینے کی جرات بھی نہیں کی۔
تو استادوں کے قدر کرو، اور ہر حق دار کا حق جانو، ہر ایک کا حق ادا کرو۔ اللہ آپ کو توفیق عطا فرمائے، آپ کے ذریعے امت کا نفع پہنچائے، آپ کو نفع بخش علم نصیب فرمائے اور عمل صالح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کوعزت عطافرما اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما اے اللہ اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی نصیب فرما۔
اے اللہ ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما اے اللہ ہمیں ہمارے ملکوں میں امن فرما ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما خادم حرمین شریفین کو توفیق عطا فرما اور اس کے ولی عہد کو بھی ان اعمال کی توفیق عطا فرما جیسے توں خوش اور راضی ہوتا ہے اسے نیکی اور بھلائی کی طرف لے جا اے اللہ اے پروردگار عالم تم دونوں کو نیک مشیر اور معاون نصیب فرما۔
اے اللہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی حفاظت فرما اے اللہ انکی حفاظت فرما ہے اللہ ان کی نگہبانی فرما اے اللہ ان کے بیماروں کو شفا عطا فرما ان کے زخمیوں کو شفا عطا فرما ان کے فوت شدگان کی شہادت قبول فرما اے اللہ ان کے درجات کو بلند فرما ان کے اہل و عیال کی حفاظت فرما اے پروردگار عالم ہمیں انہیں بخش دے۔
اے اللہ تو ہی ہمارا الہ ہے، اے اللہ تو ہی ہمارا الہ ہے، تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر او رمحتاج ہیں تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر محتاج ہیں تو بے نیاز ہے اور ہم فقیروں محتاج ہیں ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما۔
اے اللہ ہم پھر سے معافی مانگتے ہیں تو معاف کرنے والا ہے اے اللہ ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں تو معاف کرنے والا ہے اے پروردگار ہمارے اوپر رحمت کی بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر رحمت کی بارش نازل فرما۔
اے اللہ اے ارحم الراحمین اپنے بندوں اور جانوروں کو پینے کا پانی نصیب فرما اے اللہ اپنے بندوں اور جانوروں کو پینے کا پانی نصیب فرما اپنی رحمت عام فرما مردہ زمین کو پھر سے زندگی نصیب فرما۔
الھم صلی علی محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں