16

ڈاکٹر صاحب بالآخر قیامت لے آئے!

ڈاکٹر صاحب کو اب ڈاکٹر قیامت لکھا جا رہاہے۔ ویسے ڈاکٹر صاحب نے اپنے اس قیامت خیز جھٹکے سے برازیلی مصنف کوئیلو پائیلو کا شہرۂ آفاق ناول الکیمسٹ یاد دلا دیا۔ دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہونے والا یہ ناول عجیب کرشماتی پیغام کا حامل ہے۔ یہ ناول بتاتا ہے کہ جب آپ صدقِ دل سے کچھ کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو دنیا کی تمام قوتیں پوری توانائی کے ساتھ آپ کا ساتھ دینے لگتی ہیں۔ واقعی ہم نے دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب نے جب ملک ہلا دینے کا فیصلہ کر لیا تو ان کے دعوے کی سنگینی کے پیشِ نظر (بشمول میڈیا اور سوشل میڈیا ) ساری طاقتیں پوری دل جمعی سے ان کا ساتھ دینے لگیں۔ اس پر قوم کا وہ دماغ نچڑا کہ الاماں! ویسے امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی یہ بے تیغ جیت بڑی دیر تک ’آپ یہ بھی کر سکتے ہیں‘ ٹائپ کی موٹی ویشنل کتابوں اور ورکشاپوں میں بطور حوالہ یاد رکھی جائے گی۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں۔ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ڈاکٹر کو میڈیا نے اس قدر ٹائم دیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ڈاکٹر صاحب تبصروں کی زد میں رہے۔ ایک ستم ظریف نے تبصرہ کیا ، ہمیں تو ڈاکٹر صاحب کے ٹریک ریکارڈ کی فکر پڑ گئی تھی ،شکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا ٹریک ریکارڈ خراب ہونے سے بچا لیا۔ ویسے آج کل لوگ ٹریک ریکارڈ کی نسبت ٹریک سوٹ بچانے کی زیادہ فکر کرتے ہیں۔ ٹریک ریکارڈ بچانے سے ایک لطیفہ یاد آگیا ،ہوا یہ کہ جنگل میں ڈاکوؤں نے ایک مسافر کو گھیر لیا ، ویسے وہ بھی کیا دور تھا کہ لوٹنے کے لیے ڈاکوؤں کو عوام کے جنگل میں جانے کا انتظار کرنا پڑتا تھا، آج کل تو لوٹنے وغیرہ کا کام مختلف ٹیکسوں کی صورت میں حکومت قانون کے اندر رہ کر ہی کر لیتی ہے۔ خیر ڈاکو صاحبان نے کہا کہ اے مسافر شخص! جو کچھ بھی تیرے پاس ہے، وہ سب ہمارے حوالے کر دے، وگرنہ جان دینے کے لیے تیار ہو جا۔ مسافر نے فورا جواب دیا، کہ تم میری جان ہی لے لو، کیونکہ جو کچھ میرے پاس ہے، وہ سب تو میں نے بڑھاپے کے لیے سنبھال رکھا ہے۔ ویسے ٹریک ریکارڈ برقرار رکھنا کوئی آسان کام بھی نہیں ہوتا، کبھی تو اسے بچاتے بچاتے عزت سمیت کئی چیزوں کی قربانی دینا پڑ جاتی ہے۔ آپ جانتے ہیں، ہمارے ہاں یہ بات بڑی مشہور ہے کہ مکان وغیرہ تعمیر کرنے والے راج مستری گھر میں داخل ہو جائیں تو یہ جلدی کام ختم کر کے آسانی سے باہر نہیں نکلتے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مستری معمار کو گھر کا غسل خانہ بنانے پر لگا دیا جائے تو یہ اسے ایسے لیول پر رکھ دے گا کہ پھر گھر کے فرش کو اونچا یا نیچا کرنے کے لیے اکھاڑ دینا پڑ ے گا۔ مستری کام سے مخلص ہو تو فرش سے شروع ہوتی غسل خانہ بنانے کی بات مکان کی دیواروں سے ہو کر چھت کی مرمت تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ خیر ہر شعبے اور پیشے کے اپنے اپنے داؤ پیچ ہوتے ہیں۔ بہرحال کسی گھر میں ایک مستری صاحب دیوار پر کام کر رہے تھے ، کام ختم ہونے والا تھا اور ادھر مغرب کی اذان بھی ہونے والی تھی۔ جس کے بعد معمار صاحب نے چھٹی کر جانا تھی۔ گھر والوں نے سوچا کہ دیہاڑی کھری کرنے کے چکر میں مستری صاحب نے اتنے سے کام پر کل پھر سارا دن لگا دیناہے ،کیوں نہ ان سے کوئی ڈیل کر لی جائے۔ انھوں نے ہاتھ باندھ کے گزارش کی کہ جناب مستری صاحب! اگر آپ کام کی رفتار ذرا سی اپنے معمول سے بڑھا کے اگلے دس پندرہ منٹ میں یہ کام مکمل کر دیں تو ہم تمھیں آج کی مکمل مزدوری کے ساتھ ساتھ مزید آدھے دن کی مزدوری بھی دیں گے۔ یوں آپ دس پندرہ منٹ میں ڈیڑھ دن کی مزدوری کما لیں گے۔ مستری صاحب نے ساری بات ہمدردی سے سنی مگر اپنی رفتار بڑھانے سے انکار کر دیا۔ اسسٹنٹ مستری یہ سب دیکھ اور سن رہا تھا ۔ اسے بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے مستری کے کان میں عرض کی، جناب آخر آپ اتنی سی بات مان کیوں نہیں لیتے؟ اس میں ہمارا کیا نقصان ہے۔ آج ہی کل کی آدھی دیہاڑی بھی مل جائے گی اور کل اگلی جگہ ہم پورے دن کی مزدوری بھی کر سکیں گے ، یہ بالکل فائدے کی بات ہے۔ مستری صاحب نے کہا ، وہ سب تو ٹھیک ہے ، اگر ٹھیک ہے تو یہ انکار کیوں ، اسسٹنٹ مستری نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا، بات یہ ہے میرے عزیز کہ گو تمھارے نزدیک یہ اتنی سی بات ہے ، مگر میرے نزدیک بات ٹریک ریکارڈ کی ہے۔ اس لیے ان کی آدھی دیہاڑی کے لالچ میں آ کر میں اپنی روٹین کا ٹریک ریکارڈ خراب نہیں کرنا چاہتا۔
یہ خاکسار تو خیر کیا چیز ہے ، ڈاکٹر صاحب نے تو بڑے بڑوں کو جمبو سائز کا انجکشن لگا دیا۔ افسوس ہمارے ہاں احکامات پر عمل نہیں ہوتا، ورنہ ابھی پچھلے دنوں عدالت نے ایسا کوئی دودھ بڑھانے والا انجکشن نہ لگانے سے صاف طور پر منع بھی کیا تھا۔ لطف کی بات البتہ یہ کہ ڈاکٹر مذکور نے قوم کو لگائے گئے اس انجکشن میں بھی کسی نہ کسی طرح خود عدالت ہی کو گھسیٹ لیا۔ سچی بات ہے ، ڈاکٹر صاحب نے پائلوکوئلو کا ناول ہی یاد نہیں دلایا ،منڈی واربرٹن کے نیوٹن کا وہ قانون بھی غلط ثابت کر دیا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ ویسے تو یہی بات اپنی اصلاح کے بجائے تاریخ کی اصلاح کا بیڑہ اٹھا چکے ، ہمارے ڈاکٹر مبارک علی نے بھی کہہ رکھی ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہراتی ، لیکن ڈاکٹر صاحب نے اس نظرئیے کا قومی اور عالمی سطح پر پریکٹیکل کر کے بھی دکھا دیا، جس دن آپ نے اپنے ہولناک انکشافات قوم کے سامنے رکھے ، اس دن تاریخ پندرہ جنوری تھی ، اس دن آپ نے فرمایا ، میں کوئی ہوا میں بات نہیں کر رہا ، میری بات غلط ہو اور زینب کے قتل کے پیچھے مافیا نہ نکلے تو مجھے سڑک پر پھانسی دے دی جائے ، اس دن ہر خبر کے پیچھے سے واقعی ڈاکٹر مذکور کا مافیا ہی نکلتا رہا، لیکن جونہی تاریخ سولہ جنوری ہوئی ، اور سٹیٹ بنک کی طرف سے بیان سامنے آ گیا تو ڈاکٹر صاحب نے فرما دیا، میرا کام خبر دینا ہے ، تحقیق کرنا نہیں، خبریں غلط بھی ہو جاتی ہیں۔ اس پر ہمارے نیوٹن واربرٹنی نے کہا ، کہ ڈاکٹر صاحب مانا صحافی کی کوئی خبر غلط بھی نکل آتی ہے، لیکن کیا ساری ہی خبریں؟ آخر صحافی کی زندگی میں کوئی ایک آدھ خبر سچ بھی نکل آئے تو کیا مضائقہ ہے؟ جس دن تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہر ا رہی تھی ، اس دن کے ڈاکٹر صاحب کے تیوروں سے لگتا یہ ہے کہ خبر کے پیچھے سے مافیا نکلے نہ نکلے ، معافی ضرور نکل آئے گی۔ فیس بک پر بعض منچلے یہ کہتے بھی پائے گئے کہ ڈاکٹر صاحب کی ساری ہی باتیں رد کر دینا بھی مناسب نہیں ۔کم از کم ڈاکٹر صاحب کی دو میں سے پہلی تاریخ (پھانسی) والی بات پر ضرور عمل کر لیا جانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں