29

چیزوں کو ان کی قیمت کے مطابق اہمیت دیجئے

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود بن إبراہیم الشریم ﷾
جمعۃ المبارک 9 جمادی الاولی 1939ھ بمطابق 26 جنوری 2018 ء
عنوان : چیزوں کو ان کی قیمت کے مطابق اہمیت دیجئے
ترجمہ : محمد عاطف إلياس
پہلا خطبہ
لطیف وخبیر اللہ کے لیے ساری تعریف ہے، وہ فضل کبیر اور خیر کثیر کا مالک ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ میں اللہ پاک کی ثنا بیان کرتا ہوں، اسی سے مدد مانگتا ہوں، اسی سے معافی کا سوال کرتا ہوں اور اسی کی طرف پلٹتا ہوں۔ اسکی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں اور جس چیز کو وہ روک دے اسے آگے بڑھانے والا کوئی نہیں۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ بشارت دینے والے، ڈرانے والے اور روشن چراغ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کے اہل بیت پر، پاکیزگی والی ازواج مطہرات پر، آپ کے صحابہ اور تابعین پر۔
بعد ازاں!
اے مسلمان معاشرے کو لوگو! اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے، بہترین طریقہ نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے، ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں، ہر نئی عبادت بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
سمجھدار وہ ہے کہ جو خود کا محاسبہ کر لے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیئے تیاری کرے۔ اور بےوقوف وہ ہے جو خواہشات کی پیروی بھی کرتا رہے اور اللہ پر امید بھی باندھے رکھے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور اطاعت کرو۔‘‘ (التغابن: 16)
اللہ کے بندو!
اخلاق انسانی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان ہی کے گرد انسان کے تمام اقوال اور اعمال گہومتے ہیں اور انہی کے ذریعے مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ تعامل کیا جاتا ہے۔
انسان کی زندگی سے اخلاق کو نکال دیا جائے تو لوگوں کا باہمی تعامل بے مقصد اور بے ضابطہ بن کر رہ جاتا ہے، جس میں ایک دوسرے پر اعتماد اور ایک دوسرے کے متعلق اچھا گمان نہیں ہوتا۔ دل محبت، الفت اور پاکیزگی سے ہاتھ دھو کر بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر ان تک رسائی ممکن نہیں رہتی اور نہ ان کے ذریعے لوگوں کی عقلوں تک رسائی ممکن رہتی ہے۔
پھر بس بد اخلاقی اور برے گمان کا دور دورہ ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر مختلف تہمتیں لگانے لگتے ہیں، برے الفاظ استعمال کرنے لگتے ہیں، شیطانی طریقوں کے استعمال پر اتر آتے ہیں، بات کا بتنگڑ بنانے لگتے ہیں اور چھوٹی غلطیوں کو مصیبت کا درجہ دینے لگتے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں ایسا رویہ نظر آئے تو جان لیجئے کہ اس معاشرے میں اخلاق کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
مومن لعن طعن کرنے والا، برای بکنے والا اور گندے الفاظ ‏منہ سے نکالنے والا نہیں ہوتا۔
اسے امام ترمذی اور دیگر علمائے حدیث نے روایت کیا ہے۔
انسان میں عقل اور حکمت ہو تو وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اس کے لیے اچھے اور برے میں تمیز کرنا آسان ہوجائے، جہاں وہ باآسانی یہ جان لے کہ کونسی چیز کو مقدم کرنا ہے اور کون سی چیز کو مؤخر، کس چیز کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دینی اور کس چیز کی اہمیت کم نہیں کرنی۔
عقل و دانش مندی سے کام لیا جائے تو انسان ہر چیز کو مناسب اہمیت دینا سیکھ لیتا ہے اور پھر وہ ہر حقدار کو اس کا حق دیتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یا تو وہ احساس سے خالی ہوتا ہے یا وہ چیزوں کو ان کی قدرو قیمت کے مطابق اہمیت دینا نہیں جانتا ہوتا۔ ظاہر ہے کہ احساس ختم ہونا اور چیزوں کو مناسب اہمیت نہ دینا، دونوں ہی بری چیزیں ہیں، مگر چیزوں کو ان کی حیثیت سے کم اہمیت دینا زیادہ برا ہے۔ اگر انسان چیزوں کی اہمیت جان ہی نہ سکے اور اس لیے انہیں مناسب اہمیت نہ دے سکے تو اسکا نہ جاننا بڑی مصیبت ہے اور اگر وہ جان کر بھی انہیں مناسب اہمیت نہ دے تو جان بوجھ کر چیزوں کو مناسب اہمیت نہ دینا زیادہ بڑی مصیبت ہے۔
اس مختصر وقت میں ہم دوسری قسم کے بارے میں بات کریں گے۔ یعنی علم کے باوجود چیزوں کو مناسب اہمیت نہ دینا۔ ایسا کرنے والا مصیبت کو خود دعوت دیتا ہے اور دوہرے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔
ایک گناہ یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر گناہ کرتا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ وہ گناہ کو گناہ جاننے کے باوجود اس پر بضد رہتا ہے۔
دوسروں کو مناسب اہمیت نہ دینے والا کبھی ذمہ دار ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ وہ دوسروں کے حقوق صحیح طرح ادا کر سکتا ہے۔ کسی طور پر بھی دوسروں کو کم تر سمجھنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ یہ ایسی بری صفت ہے جسے اپنانے والا بھی برا بن جاتا ہے۔
چیزوں کو مناسب اہمیت نہ دینے والا دوسروں کو کمتر اور حقیر سمجھتا ہے۔ اور دوسروں کو حقیر سمجھنا اخوت، عدل و انصاف، وسطیت اور حقوق العباد کی ادائیگی کے تقاضوں کے خلاف جاتا ہے۔ دوسروں کو کمتر سمجھنے سے بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں، جیسا کہ گالی گلوچ، دوسروں کو حقیر سمجھنا، ان کا مذاق اڑانا اور ان کی بےعزتی کرنا۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ وہ اسے رسوا کرتا ہے اور ‏ نہ وہ سے حقیر سمجھتا ہے۔ تقوی یہاں ہے۔ ‘‘
یہ الفاظ آپ ﷺ نے تین مرتبہ کہے اور یہ فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔
پھر آپ نے فرمایا:
انسان کی برای کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھنے لگے۔ مسلمان کی ہر شئے دوسرے مسلمان کے لئے ناجائز ہے، اس کے خون پر حملہ کرنا یا اس کے مال پر حملہ کرنا یا اس کی عزت پر حملہ کرنا حرام ہے۔
جو اللہ کا حق اور لوگوں کا حق جانتا ہے وہ دوسروں کو کبھی حقیر نہیں سمجھتا، کیوں کہ جو آپ کو حقیر سمجھے گا وہ آپ کے ساتھ ناانصافی کرے گا اور اسی طرح جو کسی چیز کو حقیر سمجھے گا وہ یقینی طور پر وہ اس چیز کے مالک کو بھی حقیر ہی سمجھے گا۔
دوسروں کو حقیر سمجھنا اس وقت سب سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب یہ انفرادی سطح سے بڑھ کر اجتماعی سطح پر آجاتا ہے اور معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگتے ہیں کہ کون دوسرے کو زیادہ حقیر سمجھتا ہے۔
اللہ کے بندو! بندہ دوسروں کو حقیر اس وقت سمجھتا ہے جب وہ اپنے متعلق یہ گمان کرنے لگتا ہے وہ کامل ہے، پھر وہ اپنے گمان کے مطابق اپنی کامل تصویر میں کوئی نقص دیکھتا ہے، تو وہ اس نقص کو چھپانے کے لیے دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے تاکہ وہ اپنے آپکو اور دوسروں کو اپنے کمال کا دھوکا دے سکے، اور یہ ثابت کر سکے کہ وہ دوسروں سے بہتر ہے۔ کوئی شخص دوسروں کو اس وقت تک حقیر نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ بیک وقت کم عقلی اور ناسمجھی کا شکار نہ ہو جائے۔
لوگ بھی دوسروں کو حقیر سمجھنے والے کی عزت نہیں کرتے، نہ اس کی تعریف کرتے ہیں اور نہ اس کے قریب بیٹھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ معاشرے کا ایک قابل فخر آدمی بنے۔ دوسروں کو حقیر سمجھنے والے پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ اس کے منہ سے جو الفاظ نکلتے ہیں، وہی الفاظ جلد یا بدیر گھوم کر دوسروں کے منہ سے نکلتے ہوئے اسی کے کان میں پڑتے ہیں۔
عاصم بن ضمرہ علی ﷫ ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: آزمائش انسان کے الفاظ سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو یہ کہہ کر ذلیل کرے کہ تو نے کتے کا دودھ پیا ہے تو کہنے والے کو کتے کا دودھ یقینی طور پر پینا پڑتا ہے۔
لوگوں کو حقیر سمجھنا معاشرے میں اسی وقت رواج پاتا ہے جب قلم کی امانت اور زبان کی امانت اور عدل و انصاف کی امانت کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی صورت میں دوسروں کو حقیر سمجھنا عام ہوتا ہے اور پھر معاشرے میں اس سے جڑی کئی اور بیماریاں پھیل جاتی ہیں، جیسا کہ خود پسندی، غرور اور لا پروائی۔ اور ان کی وجہ سے پھر تکبر سامنے آتا ہے جو کہ حق کو رد کرنے اور دوسروں کو برا بھلا کہنے کا نام ہے۔ تکبر کرنے والا بھی بد ترین شخص ہوتا ہے۔ اور لازمی نہیں کہ کوئی عزت والا یا مالدار ہی تکبر کرے، بلکہ یہ مرض ہر اس نفس میں آسکتا ہے جس میں بیماری ہو، چاہے وہ لوگوں میں کمتر اور عوام الناس ہی میں سے کیوں نہ ہو۔
حدیث مبارک میں رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کا بھی ذکر کیا جو فقیر ہونے کے باوجود تکبر کرتا ہے۔ فرمایا:
’’اللہ تعالی قیامت کے دن نہ اس کی طرف متوجہ ہو گا، نہ اسے پاک کرے گا اور نہ اس سے بات کرے گا اور اس کے لیے دردناک سزا ہوگی۔ ‘‘
ہمارے بزرگوں نے بھی دوسروں کو حقیر سمجھنے سے منع کیا ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ اخلاق میں تین چیزیں شامل ہیں، ایک تعامل کے وقت اچھا برتاؤ، دوسرا دنیا کے معاملات اور تیسرا آخرت کے معاملات۔
ابن المبارک اور ایوب بن قریہ اور دیگر علامات ﷭نے لکھا ہے کہ جو علماء کی ناقدری کرتا ہے اس کی آخرت تباہ ہوجاتی ہے اور جو حکمران کی ناقدری کرتا ہے اس کی دنیا جاتی رہتی ہے اور جو اپنے بھائیوں کو حقیر سمجھتا ہے اس کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں۔
اللہ کے بندو! دوسروں کو حقیر سمجھنا ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے انسان خود عیب والا بن جاتا ہے، اس کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دنیا وآخرت تباہ ہو جاتی ہیں۔ سچا مسلمان کسی بھی شخص کو حقیر نہیں سمجھتا چاہے وہ کسی بھی حالت میں ہو۔ مومن نہ کسی کے نسب کو حقیر سمجھتا ہے، نہ کسی کے پیشے کو حقیر سمجھتا ہے، نہ کسی کو فقروفاقہ، یا کمزوری، یا کم عمری، یا جہالت کی وجہ سے حقیر سمجھتا ہے۔
اسی طرح سچا مسلمان اہم چیزوں کو ترتیب دینے میں کوتاہی نہیں کرتا۔ یعنی وہ اہم ترین چیز کو چھوڑ کر اہم چیز کی طرف نہیں جاتا یا بے قیمت اور بے فائدہ چیز کو دوسری چیزوں سے مقدم نہیں کرتا، چاہے وہ چیز عمل ہو یا کوئی بات۔
اسی طرح وہ اپنے دشمن کو بھی اس کی حیثیت سے کم اہمیت نہیں دیتا کیونکہ جو ایسا کرتا ہے تو اسکی سوچ میں خلل ہوتا ہے اور دور اندیشی سے خالی ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والا معاملات کو صحیح طرح سمجھ نہیں سکت۔ ا
سچ کہا ہے شاعر نے:
لڑائی کے وقت کسی کو کمتر نہ سمجھو کیونکہ مچھر بھی شیر کا خون نکال دیتا ہے۔
یاد رکھیے کہ اچھے اخلاق اپنانا بھی ایک ذمہ داری ہے، تو اللہ تعالی کو ذمہ داریاں نبھا کر دکھائیے۔ ہوشیار رہیے! کہیں آپ پر جہالت اور خواہشات نفس غالب نہ آجائیں، کہیں آپ اخلاق کے معاملے میں پیچھے نہ ہٹ جائیں یا ان کی اہمیت کم نہ کر دیں۔ فرمان الٰہی ہے:
’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔‘‘ (الاحزاب: 72)
اللہ مجھے اور آپکو کتاب وسنت میں برکت عطا فرمائے اور آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اپنے لئے آپ کے لئے اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں آپ بھی اسی سے معافی مانگیے اور اسی کی طرف رجوع کیجیے یقینا میرا رب معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
الحمدللہ! اللہ کے لیے بے انتہا اور کثیر تعریف ہے، ایسی تعریف جیسی وہ پسند کرتا ہے اور جس سے وہ راضی ہوتا ہے۔
بعد ازاں!
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ بہت سے لوگ اپنے گناہوں کو چھوٹا اور بے ضرر سمجھتے ہیں۔ وہ خطرناک سے خطرناک گناہ کو بھی ہلکا سمجھتے ہیں اور بڑی آسانی سے اس کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔ گناہ کرتے وقت یہی کہتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالی معاف کرنے والا ہے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے۔ گناہ پر بضد قائم رہنے والوں کے لیے اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ نجانے لوگ گناہوں کے معاملے میں کیوں اتنے بے پرواہ ہیں، وہ اپنے گناہوں کو بال سے بھی باریک سمجھتے ہیں اور انہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے اور گناہ کرنے کے بعد اللہ سے معافی بھی نہیں مانگتے اور اپنے گناہ پر نادم بھی نہیں ہوتے۔
سمجھ دار انسان کسی چھوٹے گناہ کو چھوٹا نہیں سمجھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پہاڑ بھی پتھروں سے بنتے ہیں اور سیلاب بھی قطروں سے بنتا ہے۔ جو صرف امید پر قائم رہتا ہے وہ بہت زیادہ گناہ کر بیٹھتا ہے اور جو صرف اللہ سے ڈرتا ہے وہ اپنے لیے بہت تنگی پیدا کرلیتا ہے۔ حالانکہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’خبردار ہو جاؤ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے۔‘‘ (المائدہ: 98)
اللہ سے امید اور اللہ کا ڈر یو لازم اور ملزوم ہیں جیسے ایک پرندے کے دو پر کہ جن میں سے اگر ایک بھی ٹوٹ جائے تو پرندہ اڑ نہیں سکتا۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’ان گناہوں سے بچو جنہیں عام طور پر حقیر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ کسی وادی میں ٹھہرے ہوں اور پھر ان میں سے ہر کوئی جا کر چھوٹی موٹی لکڑیاں اکٹھی کر کر لے آئے۔ وہ لکڑیاں اتنی زیادہ ہو جائیں کہ وہ باآسانی اپنا کھانا تیارکرسکیں۔ جب حقیر سمجھے جانے والے گناہوں پر قائم رہا جاتا ہے تو وہ انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔‘‘ اسے امام احمد اور دیگر علمائے حدیث نے روایت کیا ہے۔
یاد رکھیے کہ سچا مسلمان اپنے گناہ کو چھوٹا اور حقیر نہیں سمجھتا بلکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا گناہ اس کے ایمان کو کم کر دے گا اور اس کی وجہ سے اللہ تعالی اس سے ناراض ہو جائے گا اور صاحب توفیق وہ ہے کہ جو کسی بھی گناہ کو حقیر نہ سمجھے چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’مومن اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے، گویا وہ ایک پہاڑ ہے جو عنقریب اس کے اوپر گزرنے والا ہے اور فاجر اپنے گناہوں کو اتنا ہلکا سمجھتا ہے گویا کہ وہ اس کی ناک پر بیٹھی ایک مکھی ہے جیسے وہ بس ہاتھ ہلا کر اڑا سکتا ہے۔‘‘ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے
اسی طرح امام بخاری ہی کی روایت میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: تم کچھ ایسے گناہ کرتے ہو جنہیں تم بال سے بھی باریک سمجھتے ہو، یعنی بے قیمت سمجھتے ہو، جب کہ ہم انہی گناہوں کو رسول اللہ ﷺ کے دور میں تباہ کن گناہوں میں شمار کرتے تھے۔
اللہ ہمیں اور آپکو اپنی خوشنودی عطا فرماکر اپنے غصب سے بچا لے، عافیت دے کر سزا سے بچا لے، اور اپنی رحمت سے اپنے غصے سے بچائے۔ ہم اللہ کی کماحقہ ثنا بیان نہیں کرسکتے وہ ایسا ہے جیسا اس نے خود بتایا ہے۔
کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے قیمت مت سمجھو اور اپنی زندگی کے معاملات کو انصاف کے ساتھ منظم کرو، اپنے دل کو نبی کریم ﷺ کے طریقے پر چلا کر اس کی حفاظت کرو کیونکہ دلوں کی بیماریوں کی جڑ گناہوں کو حقیر سمجھنا ہے۔
اللہ آپکی نگہبانی فرمائے! درود و سلام بھیجو انسانوں میں سب سے افضل اور مخلوقات میں سب سے بہتر ہستی، حوضِ کوثر اور شفاعت کرنے والے نبی اکرم، محمد بن عبداللہ ﷺ پر۔ اللہ تعالی نے آپ کو یہ حکم دیتے ہوئے پہلے اپنا ذکر فرمایا پھر اپنے فرشتوں کا ذکر فرمایا پھر تمہیں اے مومنو کہ کے پکارا، فرمایا:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب: 56 )
اے االلہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں، یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔ اے االلہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں، یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ چاروں خلفائے راشدین ابو بکر وعمر عثمان اور علی اور تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر اے سب سے بڑھ کر احسان فرمانے ہم سب سے بھی راضی ہو جا
اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! شرک اور مشرکین کو رسوا فرما۔
اے اللہ اپنے دین اپنی کتاب سنت رسول ﷺ اور اپنے مومن بندوں کی مدد فرما۔
اے اللہ اے دعا سننے والے جو ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برا ارادہ رکھے تو اسے خود ہی میں مصروف کر دے اسکی چالوں کو اس کی ہلاکت کا ذریعہ بنا دے!
اے اللہ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانی دور فرما مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبت دور فرما قرض داروں کے قرض ادا فرما ہمارے اور مسلمانوں کے تمام بیماروں کو شفا عطا فرما!
اے اللہ ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما ہمارے حکمرانوں کو اپنے سے ڈرنے والا اور پرہیز گار بنا اور اے پرودگار عالم انہیں اپنے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ ہمارے حکمران کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے اے زندہ جاوید یا ذالجلال والاکرام اسے اچھی کابینہ نصیب فرما۔
اے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کی احوال درست فرما اے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کی احوال درست فرما اے زندہ جاوید دین اسلام کی وجہ سے تنگ کیے جانے والے کمزورمسلمانوں کو نصرت عطا فرما۔
اے اللہ تو ہی الہ ہے تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے تو بے نیاز ہے اور ہم فقیر اور محتاج ہیں۔ ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما۔ اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما۔
اے اللہ یا ذالجلال والاکرام یارب العالمین! ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں اپنی خیر سے محروم نہ فرما!
’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرة: 201)
اللہ کے بندو!
اللہ عظیم و جلیل کو یاد کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا اس کی نعمتوں اور نوازشوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں مزید نوازے گا اللہ کا ذکر تو بلندتر ہے اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

چیزوں کو ان کی قیمت کے مطابق اہمیت دیجئے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں