20

زینب کیس

محمد امین انصاری قصور کے گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج فار بوائز میں سٹور کیپر ہیں‘ یہ لوگ روڈ کوٹ محلے میں رہتے ہیں‘ یہ انصاریوں کا محلہ ہے‘ یہ لوگ ڈیڑھ سو سال سے یہاں مقیم ہیں‘ امین انصاری کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں تھیں‘ زینب فاطمہ سب سے چھوٹی تھی‘ امین انصاری اپنی بیگم کے ساتھ 22 دسمبرکوعمرے پر گئے‘ یہ چار جنوری کو مدینہ منورہ میں تھے جب ان کے چھوٹے بھائی حافظ عدنان نے انہیں فون کر کے بتایا ”بھائی زینب

نہیں مل رہی“ یہ دونوں میاں بیوی مسجد نبویؐ گئے‘ روضہ رسولؐ پر حاضری دی اور عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ ہم نے اپنی بیٹی کا نام اہل بیت کی محبت میں زینب فاطمہ رکھا تھا‘ آپؐ اہل بیت کے صدقے ہماری بچی کی لاج رکھ لیں“ یہ دعا قبول ہو گئی‘ اللہ تعالیٰ نے زینب کے ذریعے پورے ملک کا منجمد نظام جڑوں سے ہلا دیا‘ ستر برسوں سے سویا ہوا معاشرہ جاگ گیا۔زینب فاطمہ 4 جنوری کی شام سات بجے گھر سے نکلی‘ آٹھ بجے ماموں عمران انصاری کو اطلاع ملی اور ساڑھے آٹھ بجے بچی کی تلاش شروع ہو گئی‘ محلے داروں نے اجتماعی مسائل کے حل کیلئے شاہین اسلام ویلفیئر سوسائٹی بنا رکھی ہے‘ سوسائٹی کے نوجوان اکٹھے ہوئے‘ مسجدوں میں اعلان ہوا اور بچی کی تلاش کی مشترکہ کوششیں شروع ہوگئیں‘ ساڑھے نو بجے ون فائیو پر کال کی گئی‘ ایس پی انویسٹی گیشن عبدالقدوس بیگ اور ایس ایچ او حاجی اشرف پہنچ گئے‘ ڈی پی او ذوالفقار احمد بھی آ گئے‘ پولیس صبح کے ساڑھے تین بجے تک بچی کو تلاش کرتی رہی لیکن زینب نہ ملی‘ ماموں عمران انصاری اور حاجی مقصود صابر نے اگلی صبح سی سی ٹی وی فوٹیج کی تلاش شروع کی‘ گھر سے تھوڑے سے فاصلے پر گوگا بلڈنگ مٹیریل کی عمارت تھی‘ عمران انصاری کو گوگا کے کیمروں میں بچی اور ملزم مل گئے‘ ماموں نے موبائل فون سے سی سی ٹی وی کی فوٹیج بنائی‘ گھر آئے اور خواتین کو فوٹیج دکھائی‘ خاندان میں تین بچیاں ہم عمر ہیں‘ یہ لوگ ہمیشہ تینوں کے ایک جیسے کپڑے خریدتے تھے‘ خواتین نے دوسری بچیوں کے کپڑے نکالے‘ فوٹیج میں نظر آنے والی بچی کے کپڑوں کے ساتھ میچ کئے اور ثابت ہو گیا گوگا بلڈنگ مٹیریل کے کیمروں میں نظر آنے والی بچی زینب ہی ہے‘ عمران انصاری اور حاجی مقصود دوڑ پڑے‘ گوگا مٹیریل کے بعد پنجاب سکالرز سکول تھا‘ سکول کے کیمرے کام نہیں کر رہے تھے‘ سکول کے بعد الخلیل بیکری کا گودام تھا‘ بچی اور ملزم دونوں بیکری کے کیمروں میں بھی نظر آ گئے‘ کیمروں کی حد کے آخر میں گلی تھی‘ ملزم بچی کو لے کر اس گلی میں مڑ گیا‘ یہ دونوں گلی کے بعد غائب ہو گئے‘ عمران انصاری نے کیمروں کی فوٹیج پولیس کے حوالے کر دی‘ پولیس‘ خاندان اور شاہین اسلام ویلفیئر سوسائٹی یہ تینوں بچی کو تلاش کرتے رہے‘ محلے کا کونا کونا چھان ماراگیا لیکن بچی نہ ملی‘ یہ تلاش چار دن جاری رہی یہاں تک کہ 9 جنوری کی صبح آ گئی‘ مجاہد سکواڈ کے ایک ملازم صابر حسین نے ہیڈ کوارٹر کو اطلاع دی مجھے کوڑے میں ایک بچی کی لاش ملی ہے‘ پولیس فوراً شہباز روڈ کچرا کنڈی پہنچی‘ ربن لگایا اور لاش کا معائنہ شروع کر دیا‘ عمران انصاری کو بارہ بجے محلے کی ایک خاتون نے فون کر کے بتایا ”کچرے کے پاس پولیس آئی ہوئی ہے‘ آپ اگر چیک کر لیں یہ کہیں زینب نہ ہو“ یہ لوگ دوڑ کر وہاں پہنچ گئے‘ امین انصاری کے گھر سے تین سو میٹر کے فاصلے پر گندہ نالہ ہے‘ نالے کو لینٹر ڈال کر بند کر دیا گیا ہے‘ نالے پر صرف گٹر ٹائپ چھوٹا سا سوراخ ہے‘ محلے کا سارا کوڑا یہاں پھینکا جاتا ہے‘ زینب کی لاش نالے کے اندر پڑی تھی‘ عمران انصاری خود موقع پر موجود تھے‘ انہوں نے مجھے بتایا ”لاش پرانی محسوس نہیں ہوتی تھی‘ بچی کے بال بھی صاف ستھرے تھے اور بازوؤں میں بھی لچک تھی‘ بچی کو اٹھاتے وقت بازو آرام سے مڑ گئے‘ بچی کے چہرے کی صرف وہ سائیڈ سرخ تھی جو زمین کے ساتھ لگی ہوئی تھی‘ جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا تاہم بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور زیادتی کے دوران گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی‘ لاش کی کنڈیشن بتاتی تھی بچی اغواء کے بعد دو تین دن زندہ رہی تھی اور لاش بھی کسی دوسری جگہ سے لا کر نالے میں پھینکی گئی تھی“۔

میں نے اس آبزرویشن کی وجہ پوچھی تو عمران انصاری نے جواب دیا ”لاش صاف ستھری تھی‘ بچی کے بال اور کپڑے تک صاف تھے‘ جسم پر چند شاپروں کے علاوہ کوئی گند نہیں تھا اور دوسرا ہم 9 جنوری سے پہلے کئی بار یہ جگہ دیکھ چکے تھے“ میں نے عمران انصاری سے پوچھا ”کیا ڈی پی او نے آپ کو لاش تلاش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو دس ہزار روپے دینے کا کہا تھا“عمران انصاری نے فوراً انکار کر دیا‘ ان کا کہنا تھا”ذوالفقار احمدنے لاش تلاش کرنے والے مجاہد سکواڈ کے صابر حسین کو میرے سامنے تھپکی دی تھی اور اسے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے دس ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا‘

ہم سے رقم مانگنے کی خبر غلط تھی‘ عمران انصاری کا یہ بھی کہنا تھا چیف منسٹر نے ذوالفقار احمد کو او ایس ڈی بنا کر زیادتی کی‘ وہ پہلے دن سے ہمارے ساتھ کوآپریٹ کر رہے تھے‘ وہ ہوتے تو ہمارا مجرم جلد گرفتار ہو جاتا“۔زینب کی لاش ملنے کے بعد قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے‘ شہر بند ہو گیا‘ ہجوم نے گاڑیوں کو آگ لگا دی اور ڈی سی آفس پر دھاوا بول دیا‘ پولیس کی فائرنگ سے دو لوگ ہلاک اور 10زخمی ہو گئے‘ ملزم عمران علی ان ہنگاموں میں پیش پیش تھا‘
وہ بچی کی تلاش کے دوران بھی شاہین اسلام سوسائٹی کے کارکنوں میں شامل تھا‘ وہ علامہ طاہر القادری کے خطاب کے دوران علامہ صاحب کے پیچھے کھڑا تھا‘ یہ آپ کو چودھری منظور حسین کے پیچھے بھی نظر آیا تھا‘ یہ احتجاج کے دوران چودھری منظور سے الجھ بھی پڑا تھا‘ عمران انصاری اور حاجی مقصود صابر نے پولیس کے ساتھ مذاکرات کئے اور احتجاج کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ ملزم عمران علی احتجاج کے خاتمے کے اعلان پر حاجی مقصود اور عمران انصاری سے لڑ پڑا‘ اس کا کہنا تھا ہم بچی کے قاتل کی گرفتاری تک سڑکوں پر رہیں گے‘ حاجی مقصود اور عمران انصاری نے اسے بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا۔
زینب کا قاتل عمران علی امین انصاری کا محلے دار تھا‘ یہ لوگ راج مستری ہیں‘ والد ارشد مستری کا کام کرتا تھا‘ وہ ایک ماہ قبل انتقال کر گیا‘ عمران علی تین بھائی اور چار بہنیں ہیں‘ یہ بھائیوں میں سب سے بڑا ہے‘ نعت خوانی اور نقابت اس کا ذریعہ معاش تھا‘ یہ محلے میں دین دار اور شریف بھی مشہور تھا‘ یہ بچی کے اغواء کے دن سے خاندان کے ساتھ ساتھ پھر رہا تھا‘ زینب کے ماموں عمران انصاری کے بقول ”مجھے بچی کے جنازے کے اگلے دن عمران علی پر شک ہو گیا‘ میرے شک کی دو وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ شیو تھی‘

عمران علی نے جنازے سے اگلے دن داڑھی صاف کرا دی تھی‘ میں نے سوچا عمران کو اچانک داڑھی صاف کرانے کی کیا ضرورت تھی‘ دوسری وجہ میں ہر وقت اپنے موبائل پر قاتل اور زینب کی فوٹیج دیکھتا رہتا تھا‘ مجھے عمران کی چال قاتل کی چال سے ملتی جلتی محسوس ہوتی تھی‘ مجھے اس کے جوتے بھی ویسے ہی دکھائی دیتے تھے چنانچہ میں نے شاہین اسلام سوسائٹی کے نوجوانوں سے بات کی لیکن یہ نہیں مانے‘ ان کا کہنا تھا یہ نہیں ہو سکتا چنانچہ میں چپ ہو گیا لیکن 14 جنوری کو میرا شک یقین میں بدل گیا“۔

پنجاب حکومت نے 14 جنوری کو محلے کے تمام بالغ لوگوں کے ڈی این اے سیمپل لینے کا فیصلہ کیا تھا‘ پنجاب فرانزک لیب کی ٹیم قصور آئی‘ پولیس نے امین انصاری کے گھر 83 لوگ اکٹھے کئے اور نمونے لینا شروع کر دیئے‘ پہلا نمونہ ماموں عمران انصاری کا لیا گیا‘ ملزم عمران علی کی باری آخری تھی‘ عمران انصاری کے بقول ”میں نے دیکھا جوں جوں عمران علی کی باری آ رہی تھی وہ بے چین ہوتا جا رہا تھا‘ وہ ہمارے گھر کے صحن میں چار پائی پر بیٹھاتھا‘ میں نے اپنے موبائل فون سے اس کی تین تصویریں لیں‘

پہلی تصویر 14 جنوری دن دو بج کر 49 منٹ پر لی گئی (یہ وہی تصاویر ہیں جو بار بار میڈیا پر دکھائی جا رہی ہیں‘ عمران انصاری نے مجھے تصویروں کے سکرین شارٹس بھی بھجوا دیئے) ملزم عمران علی کو صحن میں بیٹھے بیٹھے دورہ پڑا اور وہ نیم بے ہوش ہو گیا‘ پولیس ڈر گئی اور اس نے اسے سیمپل دیئے بغیر جانے کی اجازت دے دی یوں ملزم عمران علی ڈی این اے ٹیسٹ سے بچ گیا‘ عمران علی کے دورے نے بھی میرا شک پکا کر دیا‘ میرے ایک محلے دار ملک توفیق بھی اسے دیکھ رہے تھے‘

وہ بھی مجھ سے اتفاق کرنے لگے“۔ عمران انصاری کے بقول ”ہم اس کے بعد پولیس کو بار بار ملزم کی نشاندہی کرتے رہے لیکن ہماری بات کو سنجیدہ نہیں لیا گیا‘ ہم نے سپیشل برانچ کو بھی بتا دیا تھا‘ سپیشل برانچ نے ملزم کی نگرانی شروع کر دی‘ میں نے ایس ایچ او حاجی اشرف اور ڈی پی او کو بھی بتایا آپ عمران علی سے بھی تفتیش کریں‘ پولیس دوبار اسے لینے بھی آئی لیکن یہ گھر پر نہیں تھا‘ میں 20 جنوری کو ایک بار پھر ڈی پی او آفس گیا‘ میری درخواست پر ڈی پی او نے فورس بھجوائی اور یہ عمران علی کو گھر سے لے آئے‘

ملزم کے خون کے نمونے لئے گئے لیکن اس نے اس دوران دل کے دورے کا ڈرامہ شروع کر دیا‘ پولیس دوبارہ ڈر گئی‘ ملزم عمران علی کے والد کا چالیسواں بھی تھا چنانچہ پولیس نے اس کا شناختی کارڈ جمع کیا اور اسے اس کے چچا کے حوالے کر دیا‘ میں نے ڈی پی او سے پوچھا ”سر آپ نے ملزم کیوں چھوڑ دیا“ ڈی پی او نے جواب دیا ”یہ مرگی اور دل کا مریض ہے‘ یہ اگر مر جاتا تو یہ ہمارے گلے پڑ جاتا“ میں نے انہیں بتایا ”جناب یہ ہمارے محلے میں رہتا ہے‘ ہم نے اسے کبھی بیمار نہیں دیکھا‘ ڈی پی او نے مجھے تسلی دی آپ فکر نہ کریں‘ ہم اس پر نظر رکھیں گے‘ میں واپس آگیا لیکن ملزم عمران علی نے اس رات نیند کی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی“۔ آپ اس ہوش ربا داستان کا اگلا حصہ اگلے کالم میں ملاحظہ کیجئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں