17

رومانیہ کی ماں تجھے سلام!

رومانیہ یورپ کا ملک ہے جہاں اس وقت ہزاروں لوگ سخت برفباری کے باوجود‘ سڑکوں پر نکل کر حکومت اور پارلیمنٹ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ رومانیہ کو یورپ کے کرپٹ ترین ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین گھروں سے باہر نکلے اور سیٹیاں بجاتے پارلیمنٹ کی طرف چل پڑے‘ جب انہیں پتا چلا کہ پارلیمنٹ ایسا بل لا رہی ہے جس سے کرپٹ سیاسی ایلیٹ کلاس کو فائدہ ہو گا۔ قانون کے تحت اب آڈیو اور ویڈیو ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے جا سکیں گے۔ اس طرح پراسیکیوشن کو کمزور بنانے کے لیے عدالتی ریفارمز کے نام پر ایسے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں جن سے رومانیہ میں کرپٹ عناصر اور کرپشن کو تحفظ ملے گا۔
پچاس ہزار کے قریب ان مظاہرین کے لبوں پر جو نعرے تھے وہ پاکستان میں بھی سنے جاتے ہیں۔ وہ سب مظاہرین جہاں پارلیمنٹ کے باہر چور چور کے نعرے لگا رہے تھے وہیں سیٹیاں بھی بجا رہے تھے کہ تم سب لٹیرے ہو۔ ایک چونتیس سالہ خاتون سے پوچھا گیا کہ آپ اتنی سردی اور برفباری میں کیا کرنے آئی ہیں؟ وہ بولیں: میرے دو بچے ہیں، میں ان کے بہتر مستقبل کے لیے باہر نکلی ہوں۔ میں چاہتی ہوں وہ ایک ایماندار اور اچھے معاشرے میں پلیں بڑھیں نہ کہ کرپٹ معاشرے میں۔ اس لیے میں احتجاج کر رہی ہوں کہ چوروں کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر عدالتی ریفارمز کے نام پر کرپٹ ایلیٹ کو تحفظ دیں۔
اب اگر ایک لمحے کے لیے رومانیہ کو چھوڑ کر پاکستان لوٹیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہی ایشوز اس وقت ہمیں درپیش ہیں۔ پاناما سکینڈل کے بعد جس طرح ملک کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان نے عدلیہ کو ٹارگٹ کر کے‘ پارلیمنٹ کو اپنی ذات کے لیے استعمال کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ جیسے رومانیہ میں کرپٹ ایلیٹ نے پارلیمنٹ کو عدالتی ریفارمز کے نام پر استعمال کیا تاکہ ان کو سزائیں نہ ہو سکیں، ایسے ہی پاکستان میں ہو رہا ہے۔ عدالت پر پہلا حملہ اس وقت کیا گیا جب نواز شریف کو سپریم کورٹ سے برطرفی کے بعد قانونی طور پر پارٹی کا چیئرمین بنانے کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی۔ یوں سپریم کورٹ کو پیغام بھیجا گیا کہ وہ کسی بھی نااہل شخص کو اپنا لیڈر ماننے کے لیے آزاد ہیں۔ نواز شریف اور ان کے حامی اب عدالت سے ناراض ہیں کہ وہ بھلا کیسے ان کا احتساب کر سکتی ہے کیونکہ احتساب کا حق عدالت کو نہیں بلکہ عوام کو ہے۔
تو کیا احتجاج کرتے رومانیہ کے پچاس ہزار باشندے پارلیمنٹ کے اندر گھس کر حکمرانوں اور ایلیٹ پر تشدد شروع کر دیں کیونکہ عوام ہی انصاف کرتے ہیں؟
یہاں نواز شریف صاحب عوام کو اپنے انصاف کے لیے باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں تو رومانیہ میں عوام حکمرانوں اور پارلیمنٹ کے خلاف باہر نکلے ہوئے ہیں کہ انہوں نے کیوں عدالتوں کی طاقت کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ججوں پر یہ کہہ کر حملہ کیا ہے کہ ججوں کو بھرتی کرتے وقت ان کا کریکٹر دیکھا جانا چاہیے۔ کیا صرف ان ججوں کا کردار دیکھنے کی ضرورت ہے جو شریف خاندان کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں یا پھر سب کا؟
دراصل جب بائیس سال قبل سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ چیف جسٹس تعینات کرتے وقت صرف سنیارٹی دیکھی جائے گی، اس کے بعد سے سیاستدانوں کے ہاتھ سے ججوں کو ساتھ ملانے کی پاورز ختم ہو گئی ہیں۔ وزیراعظم پہلے چیف جسٹس بھی اپنی مرضی کا لگا سکتے تھے جیسے آرمی چیف؛ تاہم چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے تاریخی فیصلے میں لکھا تھا کہ اب صرف سنیارٹی کا فارمولہ ہو گا۔ یوں وہ دوڑ ختم ہو گئی جو ہمیں آرمی چیف کی تقرری کے وقت نظر آتی ہے کہ پہلے پانچ سینئر آرمی افسران میں سے کون چیف بنے گا۔ اب جوڈیشل کمیشن ججوں کی تقرری کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگرچہ ججوں کی تقرری کو چیک کرنے کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کو بھی سونپا گیا تھا تا کہ ججوں پر ”سیاسی آنکھ‘‘ رکھی جائے؛ تاہم سپریم کورٹ نے اس آئینی ترمیم کو بھی تبدیل کر دیا تھا۔ ویسے ہم نے دیکھا کہ جب سے سیاستدانوں کے ججوں کو تعینات کرنے کے حوالے سے اختیارات ختم ہوئے ہیں اس کے بعد عدالتوں کو بہتر اور قابل جج ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ عدالتیں بہتر اور آزادانہ فیصلے کرنے لگ گئی ہیں اور یہی بات سابق وزیراعظم نواز شریف سے لے کر موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تک‘ کسی کو ہضم نہیں ہو رہی۔
سوال یہ ہے کہ کسی ملک کی اشرافیہ کو قانون کے دائرے میں رہنا پسند کیوں نہیں ہے؟ جس قانون کے تحت حکمران بن کر مار دھاڑ کر کے دولت بناتے ہیں، اسی قانون کے تحت خود کو احتساب کے لیے پیش کیوں نہیں کرتے؟ ویسے یہ لوگ اتنی دولت کس لیے بناتے ہیں؟ کیا حکمرانوں کے نزدیک اقتدار دولت کمانے کے لیے ملتا ہے؟ کیا ان کے اندر اتنا حرص بھر گیا ہے کہ انسانوں پر حکومت کر کے بھی ان کا دل نہیں بھرتا؟ میں سمجھتا تھا کہ دنیا میں سب سے بڑا نشہ اقتدار کا ہوتا ہے۔ اپنے جیسے لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے کرنے کے اختیار سے بڑی دولت کیا ہو سکتی ہے۔ ہر طرف لوگ آپ کی راہ میں آنکھیں بچھائے ہوئے ہوں، اس سے بڑا منظر کیا ہو سکتا ہے۔ لوگ دیکھ کر تالیاں بجائیں۔ آپ پر پھول برسائیں، گالیاں یا ٹماٹر نہیں۔ آپ کسی گلی محلے جائیں تو بچے آپ کو دیکھنے کے لیے باہر نکل آئیں۔ عورتیں گھروں کی بالکونی سے جھک کر آپ کی ایک نظر دیکھنے کی خواہش رکھتی ہوں۔ ہر طرف آپ کے نعرے لگ رہے ہوں۔ انسان کی زندگی میں اس سے بہتر اور کیا منظر ہو سکتا ہے کہ لوگ رک کر عقیدت سے آپ کے ہاتھ چومیں یا آپ کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں؟کیا یہ سب منظر لال نوٹوں کے رنگ کے آگے ماند پڑ جاتے ہیں؟ کیا ساری رات یہ سوچ کر نیند نہیں آتی کہ کل آپ نے کس ڈیل میں کتنا پرافٹ کمانا ہے یا کس عدالت میں پیشی ہے یا پھر آپ سکون کی نیند سوتے ہیں کہ آپ کو خدا نے بادشاہ بنایا، اپنے جیسے انسانوں پر اختیار دیا اور آپ نے اس فرض کو بخوبی نبھایا اور آپ اس امتحان پر پورے اترے ہیں؟
آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ بادشاہ کو زمین پر خدا کا نائب کیوں کہا گیا ہے؟ آپ نے کبھی سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ کسی بھی سلطنت کے بادشاہ کو کیوں مقدس سمجھا جاتا تھا؟ یا پھر آپ نے سمجھ لیا ہے کہ بڑا انسان وہ نہیں، جو کسی ملک کا بادشاہ یا وزیراعظم ہے بلکہ وہ ہے جو عوام کے کپڑے اتار لے، دولت لوٹ کر سوئس بینکوں کو بھر دے، دبئی، لندن، لکسمبرگ کے علاوہ دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنائے؟ بے تحاشا دولت ہو۔ ایسی دولت جس کا نہ آپ خود حساب رکھ سکتے ہوں اور نہ کسی کو حساب دے سکتے ہوں؟ حیران ہوتا ہوں کہ ان کرپٹ خاندانوں کے اندر سے ایک بھی آواز نہیں ابھرتی جو اس کرپٹ ایلیٹ کی کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف بغاوت کرے اور سرعام پوچھے کہ بتائو یہ سب پیسہ ہم نے کہاں سے کمایا؟ اگر ہم نے فیکٹریوں سے کمایا ہے تو پھر دوسرے بڑے صنعتکار خاندانوں کی پانچ براعظموں میں جائیدادیں کیوں نہیں؟ اس لیے کہ وہ ہماری طرح تین تین دفعہ وزیراعظم نہیں بنے یا وزیراعلیٰ نہ لگے؟
پھر سوچتا ہوں کہ اپنے بچوں کو تو ہر کوئی سمجھا لیتا ہے کہ ہم اتنا مال ان کے لیے ہی بنا رہے ہیں لیکن داد تو ان سیاسی کاریگروں کو دیں جنہوں نے ہزاروں، لاکھوں پاکستانیوں کو بھی قائل کر لیا ہے کہ کرپشن کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔
ویسے آج کل جب کرائے پر دستیاب لبرلز اور بنارسی ٹھگوںکو کرپٹ عناصر اور کرپشن کا دفاع کرتے دیکھتا ہوں تو رومانیہ کی اس چونتیس سالہ ماں کی عزت دل و نظر میں اور بڑھ جاتی ہے جو اس لیے برف باری اور شدید سردی میں کھڑی‘ حکمرانوں کی کرپشن اور پارلیمنٹ کے ذریعے عدالت کی طاقت کم کرنے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے کہ اس کے دو بچے ایک بہتر معاشرے میں سانس لیں اور جوان ہوں۔ کرپٹ عناصر اور کرپشن کا دفاع کرتی ہماری پڑھی لکھی ایلیٹ بھی اتنی ہی بے ایمان اور کرپٹ ہے جتنے ہمارے لیڈرز۔ ان تعلیم یافتہ ٹھگوں کے اندر اس رومانیہ کی ماں جیسی اخلاقی جرأت بھی نہیں کہ غلط کو غلط کہہ سکیں اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کے لیے رات بھر برف باری اور شدید سردی میں سیٹیاں بجاتے ہوئے اس ایلیٹ کے خلاف چور چور کے نعرے لگا سکیں۔
رومانیہ کی سڑکوں پر رات بھر برف باری اور شدید سردی میں اپنے دو بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سیاسی لٹیروں کے خلاف احتجاج کرتی ماں تجھے سلام!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں