21

مدارس میں بچوں پر جسمانی تشدد: وفاق المدارس کے منتظمین کی ذمہ داری

اخباری رپورٹس کے مطابق کراچی کے علاقے بن قاسم ٹاؤن میں ایک مدرسے کے نو سالہ طالب علم محمد حسین پر قاری نے ’’بدترین تشدد‘‘ کیا، جس سے محمد حسین موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ بھئی، یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ حفظ کرنے والا بچہ قاری صاحب کے تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہوا ہو۔ پچھلے بیس سال کے اخبارات ہی اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ کو ایسے بیسیوں کیسز مل جائیں گے کہ قاری صاحب کے وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا یا اس کا کوئی عضو تلف ہو گیا۔

کوئی شک نہیں کہ جسمانی تشدد اسکولز میں بھی ہوتا ہے، اور اسکولز میں تشدد کی بھی کئی ایک ویڈیوز آپ کو سوشل میڈیا پر شیئر ہوتی ملیں گی لیکن یہ بہر حال ماننا پڑے گا کہ حکومت نے اسکولز میں مار پر پابندی لگائی ہے، بھلے استاذ باز نہ آتے ہوں لیکن اسے ایک جرم ضرور بنا دیا ہے۔ تو مدارس میں مار پیٹ اور جسمانی تشدد کے حوالے سے کس نے پابندی کی بات کرنی ہے؟ کیا حکومت اور میڈیا نے؟ ہماری رائے میں یہ وفاق المدارس کی ذمہ داری ہے کہ وہ مدارس میں جسمانی تشدد پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد پاس کرے۔

اور اگر وفاق المدارس ایسا نہیں کرتا تو پھر حکومت اور میڈیا تو یہ کام کرے گا ہی۔ اور پھر ان کو تکلیف ہو گی کہ یہ انہیں ان کے اسکولز کی حالت یاد کروائیں گے۔ تو بھئی، اسکولز میں جسمانی تشدد ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ مدارس میں اس کو جواز بخش دیا جائے۔ اور نہ ہی ضدی اور ہٹ دھرم بن کر یہ انکار کر دیا جائے کہ مدارس میں کوئی مار پیٹ یا جسمانی تشدد نہیں ہوتا ہے۔ پانچوں وفاق المدارس کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ مدارس میں مار پیٹ اور جسمانی تشدد پر پابندی کے حوالے سے نہ صرف ذیلی مدارس کو آڈرز جاری کریں بلکہ اس حوالے سے خاص طور حفظ کے اساتذہ کی تربیت کے لیے ورکشاپس بھی منعقد کروائیں۔

ہمارے قابل احترام دوست محمد علی گلیانہ صاحب جو کہ خود مدرسہ سے فارغ التحصیل اور فاضل عالم دین ہیں، اس حوالے سے ایک آگاپی مہم چلانے کا آغاز کر رہے ہیں تو جن حضرات کو اس بات سے اتفاق ہو کہ مدارس کی اس معاملے میں اصلاح ہونی چاہیے، وہ ان کے ساتھ تعاون کریں۔ اس سے پہلے کہ آپ کی اصلاح دوسرے لوگ کریں اور جب وہ کریں گے تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ کہاں تک جائیں گے تو بہتر یہی ہے کہ اپنے لوگوں سے ہی اصلاح لے لیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: اے اہل ایمان! انصاف اور عدل کے ساتھ کھڑے ہوئے جاؤ، اللہ کے لیے گواہ بن کر، چاہے یہ گواہی تمہارے اپنے خلاف جا رہی ہو، یا تمہارے والدین کے یا تمہارے رشتہ داروں کے۔

تو بھئی درندہ اگر داڑھی رکھ لے تو بھی درندہ ہی کہلائے گا اور جانور اگر مدرسہ میں داخل ہو جائے تو اس کے جانور ہونے کا اسٹیٹس تبدیل نہیں ہو جاتا ہے لہذا خواہ مخواہ کے ظلم کوچھپانے اور اس کے دفاع کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح سوشل میڈیا پر مذہبی ایکٹیوسٹس نے زینب کیس میں آگاہی تحریک چلائی ہے تو اسی طرح محمد حسین کیس میں بھی ایک ایسی مہم چلائیں کہ جس سے دنیا کو معلوم ہو کہ خود آپ میں ایسے لوگ ہیں جو اس ظلم اور تشدد کے خلاف ہیں۔ اور یہ دعوی کرنے سے پہلے کہ مدارس میں جسمانی تشدد نہیں ہوتا، ذرا اس آیت پر غور کر لیں جو اوپر نقل ہوئی ہے، وہ آیت آپ کو آپ کا مقام یاد کروا دے گی کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔ باقی ہم آپ سے زیادہ مدارس کے سگے بھی ہیں اور مخلص بھی۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں