52

برکت حاصل کرنے کے طریقے

مسجد نبوی کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الباری بن عواض الثبیتی
جمعۃ المبارک 2 جمادالاولیٰ 1439 ھ بمطابق 19 جنوری 2018
عنوان: برکت حاصل کرنے کے طریقے
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
پہلا خطبہ
الحمد للہ! ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے، وہی سچے اور مخلص لوگوں پر کرم نوازی فرمانے والا اور ان کے ساتھ برکت کا وعدہ فرمانے والا ہے۔ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔ اسی نے صدقے کو افضل عمل بنایا ہے، میں اس نعمت پر بھی اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی نے دوزخ کو کافروں اور مشرکوں کا ٹھکانہ بنایا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ ﷺ نے جادوگروں کے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو آزاد کیا، اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور نیکوکار صحابہ کرام پر۔
بعدازاں!
میں اپنے آپکو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں، پرھیزگاری اختیار کیجئے کیوکہ پرہیزگاری کی گھنی چھاؤں میں ہی حقیقی سعادت اور مکمل بھلائی ہے۔ پرہیزگاری کو صحیح معنوں میں اپنے سے ہی جنت کا راستہ مل سکتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران: 102)
اللہ تعالی نے دنیا کو اپنے بندوں کے لیے رہنے کی جگہ بنایا ہے اور اس میں اپنی برکت نازل فرمائی ہے۔ فرمایا:
’’اُس نے (زمین کو وجود میں لانے کے بعد) اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیا کر دیا۔‘‘ (فصلت: 10)
اللہ تعالی نے انبیاء کو لوگوں میں سے منتخب فرمایا اور پھر انکی زندگی اور انکے اعمال میں برکت نازل فرما دی۔ نوح کے متعلق اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ حکم ہوا ، اے نوح( )اتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں۔‘‘ (ہود: 48)
عیسیٰ کے متعلق فرماتے ہیں:
’’مجھے بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں۔‘‘ (مریم: 31)
نبی کریم ﷺ کی برکت تو واضح ہے اور صحابہ کرام نے آپ کی برکت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔
قرآن کریم بذات خود ایک مبارک کتاب ہے اور اس کی پیروی برکت کا باعث ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہو جائے۔‘‘ (الانعام: 155)
برکت کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز میں بڑھاؤ اور خوشگواری آجائے۔ اگر کسی کم چیز میں برکت آجائے تو وہ بڑھ جاتی ہے، اگر برکت کسی جگہ ٹھہر جائے تو اس جگہ میں برکت کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔ برکت کے بہت سے فائدے ہیں، یہ مال، اولاد، وقت، علم، عمل اور انسانی اعضاء کے لیے انتہائی مفید ہے۔
اللہ تعالی نے مکہ مکرمہ میں، مدینہ منورہ میں اور مسجد اقصیٰ اور اس کے قریبی جگہوں میں برکت نازل فرمائی۔ فرمان الٰہی ہے:
’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا۔‘‘ (آل عمران: 96)
رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
اے اللہ! مدینہ منورہ میں مکہ مکرمہ سے دوگنی برکت نازل فرما۔
فرمان الٰہی ہے:
’’ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔‘‘ (الاسراء: 1)
اسی طرح اللہ تعالی نے امت محمدیہ مہں برکت فرمائی تو وہ بڑھ گئی اور تعداد میں اتنی زیادہ ہوگی کہ تمام دیگر امتوں پر فوقیت لے گئی۔ فرمان نبوی ہے:
درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے کبھی نہیں چڑھتے اور جو مسلمان کی مثال ہے۔ بھلا بتاؤ وہ کونسا درخت ہے؟ لوگ مختلف جڑی بوٹیوں کا ذکر کرنے لگے اور پھر کہنے لگے اے اللہ کے رسول! آپ ہی بتا دیجئے وہ کونسا درخت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ درخت کھجور کا درخت ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ برکت کی تلاش میں رہے۔ وہ اپنے جسم، زندگی، اولاد اور اپنے سے متعلقہ ہر چیز میں برکت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی پھل لایا جاتا تو آپ فرماتے:
اے اللہ! ہمارے شہر میں برکت نازل فرما، اے اللہ! ہمارے صاع میں برکت نازل فرما! اے اللہ! ہمارے مد میں برکت نازل فرما! اے اللہ! ہمارے شہر میں برکت نازل فرما! اے اللہ! ہمیں دوگنی برکت نصیب فرما۔
مسلمان اپنے گھر میں ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتا رہتا ہے تاکہ اس کے گھر میں برکت آجائے۔ اسی مقصد کے لیے وہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کرتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
جب تم میں سے کوئی گھر داخل ہوتے وقت اور کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان ایک دوسرے سے کہنے لگتے ہیں: آج تمہیں نہ تو رہنے کی جگہ ملے گی اور نہ کھانا نصیب ہوگا۔
اسی طرح آپ نے فرمایا:
’’سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے پڑھنے میں برکت ہے اور اسے چھوڑنے میں ندامت ہے۔‘‘
اسی طرح برکت حاصل کرنے کے لیے استغفار بھی کثرت سے کرتے رہنا چاہیے۔ نوح کی دعوت کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:
’’میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔ تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا۔‘‘ (نوح :10۔ 12)
نمازفجر باجماعت ادا کرنے سے بھی برکت حاصل کی جاتی ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت ڈالنے کی دعا کی ہے۔ توجو صبح اٹھ کر نمازفجر باجماعت ادا کرتا ہے اسے برکت نصیب ہوتی ہے۔ فرمان نبوی ہے:
اے اللہ! میری امت کو صبح کے وقت میں برکت عطا فرما!
آپ ﷺ نے کسی لشکر یا کسی دستے کو بھیجنا ہوتا تو انہیں صبح صبح بھیجتے۔ اسی طرح تجارت کرنے والے معروف شخص صخر کے متعلق آتا ہے کہ وہ صبح کے وقت تجارت کرتے تھے تو انہیں بہت برکت ملی اور ان کا مال بڑھ گیا۔
برکت حاصل کرنے کابہترین طریقہ برکت کی دعا کرنا ہے۔ عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی تو لوگ انہیں آکر کہنے لگے: اللہ آپ کو بہت مال و دولت اور اولاد عطا فرمائے! مگر آپ نے انہیں منع کردیا کہ ایسا نہ کہو۔ تو لوگوں نے پوچھا پھر ہم کیا کہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہو: اللہ تمہیں برکت دے اور تمہارے اوپر برکت نازل فرمائے۔ ہمیں ایسا ہی سکھایا گیا ہے۔
کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کرنے سے بھی برکت حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ سلام اسلام کی ایک خاصیت ہے جو صرف اسی امت کو عطا فرمائی گئی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دعا ئے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فر مائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ۔‘‘ (النور: 61)
تجارت میں برکت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تجارت میں سچائی اپنائی جائے اور واضح معاملہ کیا جائے۔ فرمان نبوی ہے:
فروخت کرنے والا اور خریدنے والا آزاد ہیں جب تک نہ ہو سودا طے کرکے الگ نہ ہوجائیں۔ اگر وہ سچ بولیں گے اور چیزوں کو واضح کر دیں گے تو انہیں برکت نصیب ہوجائے گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں گے اور چیزوں کو چھپائے گے تو ان کے سودے کی برکت جاتی رہے گی۔
صلہ رحمی بھی برکت کا ایک عظیم ذریعہ ہے، اس انسان کی عمر اور برکت میں اضافہ ہوتا ہے۔ فرمان نبوی ہے:
جسے یہ پسند ہو کہ اس کا رزق کشادہ کر دیا جائے اور اس کی عمر طویل کردی جائے یا اس کی موت کے بعد اس کا ذکر خیر دیر تک باقی رہے تو وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔
اسی طرح اتحاد واتفاق بھی برکت کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ ہمارے نبی ﷺ ہر حال میں صحابہ کرام کو اتحاد و اتفاق اور اختلاف سے بچنے کی تلقین کرتے رہتے تھے۔
ایک مرتبہ صحابہ کرام کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم کھاتے بھی ہیں مگر ہمارا پیٹ نہیں بھرتا! آپ نے فرمایا:
کیاتم اکٹھے مل کر کھاتے ہو یا الگ الگ کھاتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم تو الگ الگ بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:
اکٹھے بیٹھ کر کھایا کرو اور اللہ کا نام لے کر کھایا کرو، یوں کرو گے تو تمہارے کھانے میں برکت نازل ہوجائے گی۔
جو برکت مزید بڑھانا چاہیے تو وہ جان لے کہ کمزور لوگوں پر احسان کرنا ایک ایسا میدان ہے جس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرکے برکت کمائی جا سکتی ہے۔ فرمان نبوی ہے:
’’آپکے کمزور لوگوں کی وجہ سے آپ کو رزق بھی ملتا ہے اور آپ کی مدد کی جاتی ہے۔‘‘
دوسری روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’مجھے کمزور لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ تمہیں رزق اور نصرت کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی ملتی ہے۔‘‘
جب مسلمان کی زندگی میں برکت آ جائے تو اسے اللہ تعالی بہترین سمجھ پر مبنی عمل کرنا نصیب فرماتا ہے اور ایمان وعلم کے بھرا دل عطا فرماتا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قضاۓ حاجت کے لیے گئے تو انہوں نے آپ کے لیے وضو کا پانی تیار کر دیا۔ جب وہ لوٹے تو انہوں نے پوچھا: یہ پانی کس نے تیار کیا ہے؟ جب بتایا گیا تو آپ نے فرمایا:
اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ نصیب فرما!
اور اللہ تعالی نے اپنے نبی کی دعا سن لی اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما دین کے بہترین عالم بن گئے۔
ان کے متعلق آتا ہے کہ ان کے گرد حدیث کے ہزاروں طالب علم اکٹھے ہو جاتے تھے۔
انسان کی زندگی میں برکت کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ اپنے ہم عمروں سے بڑھ کر کام کرنے لگتا ہے اور ان میں نمایاں نظر آنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خاص کرم نوازی ہوتی ہے جو وہ جسے چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے، اور اس برکت کے ساتھ لوگوں کو نیکی اور عمل صالح میں مدد ملتی ہے۔
اچھی زبان اور نیک کام کے ساتھ طویل عمر کا نصیب ہو جانا اللہ تعالی کی برکت ہی سے ممکن ہے۔ یہ نعمت اللہ تعالیٰ اصحاب توفیق بندوں کو ہی عطا فرماتا ہے۔ فرمان نبوی ہے:
’’آپکے بڑوں کے ساتھ ہی برکت ہے۔‘‘
مسلمان کی زندگی میں برکت کا ایک اور پہلو یہ ہی بھی ہے کہ اسے اللہ تعالی نیک اور پیار کرنے والی بیوی اور بھلی اولاد نصیب فرما دے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:
’’عورت کے ساتھ چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے:
ایک اس کے مال کو دیکھتے ہوئے، ایک اس کی نسل کو دیکھتے ہوئے، ایک اس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے اور ایک اس کے دین کو دیکھتے ہوئے۔ تو تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں! دین دار عورت کو پالو۔
اگر عورت دیندار ہو تو گھر میں برکت بڑھ جاتی ہے۔
ایک واضح برکت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندے کو بہت مال عطا فرما دے اور اسے نیک اور بھلے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
جو اللہ کے دیے ہوئے مال کو نافرمانی میں استعمال کرتا ہے اور مال میں سے اللہ کا حق نہیں نکالتا تو اس کے مال کی برکت جاتی رہتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اللہ سود کز مٹاتا ہے اور صدقات کو نشو و نما دیتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
البقرہ 276
اللہ مجھے اور آپکو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے۔ آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے۔ میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنے لیے، آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگیے۔ یقیناً! وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
الحمدللہ! میں اللہ کی بے انتہا تعریف کرتا ہوں! جو اس کا ساتھ اختیار کرتا ہے وہ کبھی رسوا نہیں ہوتا، اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے وہ کبھی عزت نہیں پاتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور ہمارا اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ میں بھی روای دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور منتخب پیغمبر ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ صل اللہ علیہ وسلم پر آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔
بعدازاں!
میں اپنے آپکو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں!
مسلمانوں کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے ملک میں اور اپنی امت میں برکت کو تلاش کریں اور اسے پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے گئے طریقے کے مطابق زمین میں زندگی بسر کی جائے۔ فرمایا:
’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے ۔‘‘ (الاعراف: 96)
کوئی دانشمند اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ دین اسلام کے طریقے سے دوری برکت کے خاتمے اور خیر کے زوال کی وجہ ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں قوم سبا کا حال بھی سنایا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کی تھی تو انہیں برکت کی جگہ گھاٹا اٹھانا پڑا! فرمایا:
’’سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاؤ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا۔ مگر وہ منہ موڑ گئے آخرکار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ (سبا: 15۔ 16)
سنو! نبی ہدایت اور نبی رحمت پر درود و سلام بھیجو، کیونکہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے کلام مجید میں یہی حکم دیا ہے، فرمایا:
’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘ (الاحزاب: 56)
اے اللہ! محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی بیویوں پر اور آپ ﷺ کی اولاد پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں، اے اللہ! محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی بیویوں پر اور آپ ﷺ کی اولاد پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھی، یقینا تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے۔
اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین، ابو بکر، عمر، عثمان اور علی تمام اہل بیت اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہوجا! اے سب سے بڑھ کر کرم نوازی فرمانے والے! اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے راضی ہوجا!
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! کفر اور کافروں کو رسوا فرما! اپنے اور دین کے دشمنوں کو ہلاک فرما! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سکون نصیب فرما!
اے اللہ! جو ہمارے بارے میں یا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں برا ارادہ رکھے، یاللہ، تو اسے خودی میں مصروف کر دے! اسی کی چالوں میں اسے ہلاک فرما! اے دعا سننے والے
اے اللہ! اے پروردگار عالم! اے عزت اور قوت والے! ہر جگہ کمزور مسلمانوں کی مدد فرما! اے اللہ! تو ان کا مددگار اور معاون بن جا۔ اے اللہ! وہ بھوکے ہیں، تو انہیں کھانا نصیب فرما! وہ پیدل ہیں، تو انہیں سواری نصیب فرما! وہ مظلوم ہیں، تو ان کی مدد فرما!
اے اللہ! ہم تجھ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور جہنم سے تیری پناہ میں آتے ہیں!
اے اللہ! ہم تجھ سے مکمل خیر کا سوال کرتے ہیں، جلد آنے والی خیر کا اور دیر سے آنے والے خیر کا، اس خیر کہ جس کا ہمیں علم ہے اور اس خیر کا جس کا ہمیں علم بھی نہیں ہے اور ہر طرح کی برائی سے تیری پناہ میں آتے ہیں، جلد آنے والی برائی سے اور دیر سے آنے والی برائی سے، اس برائی سے جو ہمیں معلوم ہے اور اس برای سے بھی اس کا ہمیں علم نہیں ہے۔
اے پروردگار عالم! اے اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما، جس پر ہمارے معاملے کا دارومدار ہے، ہماری دنیا کی اصلاح فرما! جس میں ہمارا معاش ہے، ہماری آخرت کی اصلاح فرما! جس کی طرف ہمیں واپس لوٹنا ہے۔ زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا سبب بنا اور موت کو برائی سے نجات کا ذریعہ بنا۔
اے اللہ! ہماری مدد فرما اور ہمارے خلاف دوسروں کی مدد نہ فرما! ہمارے لئے چالبازی فرما اور ہمارے خلاف دوسروں کے لئے چالبازی نہ فرما، ہمیں ہدایت دے اور ہمارے لئے ہدایت کا راستہ آسان فرما اور ہم پر ظلم کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما!
اے اللہ! ہمیں ذکر کرنے والا، شکر کرنے والا، لوٹنے والا، توبہ کرنے والا اور رجوع کرنے والا بنا! ہماری توبہ قبول فرما اور ہماری مشکل آسان فرما اور ہماری حجت درست فرما۔ اے پروردگار عالم! ہماری زبانوں کو حق بیان کرنے کی توفیق عطا فرما!
اے اللہ! ہم تجھ سے خیر کی ابتدا مانگتے ہیں! خیر کا آخری حصہ مانگتے ہیں! مکمل خیر مانگتے ہیں! پہلی اور آخری خیر مانگتے ہیں! ظاہر اور باطن خیر مانگتے ہیں اور تجھ سے، اے پروردگار عالم، جنت کے اعلی درجوں کا سوال کرتے ہیں۔
اے اللہ! ہم تجھ سے تیری نعمت کے زوال سے، اچانک آنے والی پکڑ سے اور تجھے ناراض کرنے والی ہر چیز سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
اللہ ہمیں اپنی برکت، رحمت، فضل و کرم اور کشادہ رزق نصیب فرما۔
اے اللہ! ہمارے عمل میں، ہماری عمر میں، ہماری بیویوں میں، ہماری اولاد میں، ہمارے مال میں اور ہماری ہر چیز میں برکت عطا فرما! ہم جہاں بھی ہوں ہمیں بابرکت بنا!
اے اللہ! ہم تجھ سے بھلی موت کا سوال کرتے ہیں۔ تمام گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔
اے اللہ! ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما! ہمارے فوت شدگان کی مغفرت فرما اور اے پروردگار عالم! ہمارے معاملات سنبھال لے۔
اے اللہ! ہمارے حکمران کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔ اے اللہ! اسے ہدایت کی راہ دکھا اور اسکے اعمال تجھے راضی کرنے والے بنا۔ اس کے ولی عہد کو بھی توفیق عطا فرما۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اے پروردگار عالم! تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما!
’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ (الاعراف: 23)
’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔‘‘ (الحشر: 10)
’’ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(البقرہ: 201)
’’ اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔‘‘
(النحل: 90)
اللہ کو یاد کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور عطا فرمائے گا اللہ کا ذکر تو بلندتر ہے اور اللہ آپ کے اعمال سے باخبر ہے۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں