10

ملکی سیاست سے اخلاقیات کی رخصتی! – محمد عاصم حفیظ

ارض پاک کو ان دنوں جن سنگین مسائل کا سامنا ہے اس میں سے شاید سب سے اہم اخلاقی گراوٹ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم اخلاقیات سے عاری ہوتے جا رہے ہیں۔ معمولی تنازعات اور سیاسی و فکری اختلافات کو لیکر غیر اخلاقی جملے بازی حتی کی گالی گلوچ تک سے گریز نہیں کیا جاتا۔

اب یہ الیکشن کا سال ہے اور ملک کا سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر ایک کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیا ہے جس کی آڑ میں ہر کوئی جب چاہے جو چاہے کہنے کا اختیار رکھتا ہے۔ افسوس تو یہ بھی ہے کہ سیاسی و سماجی رہنماؤں کو اس کا احساس تک نہیں بلکہ بعض تو خود گالی گلوچ کو معمول سمجھ بیٹھے ہیں۔ ان کی تقریر پرجوش ہی نہیں ہوتی جب تک وہ کسی مخالف پر طنز کے تیر نہ چلائیں، گالیوں سے اس کی مرمت نہ کریں جبکہ سخت جملے بول کر عوام کو نہ اکسائیں۔ کبھی وقت ہوتا تھا جب عمر، تعلیم، رشتے اور وضع داری کا پاس کرتے ہوئے کسی کے خلاف کچھ برا کہنے سے پرہیز کیا جاتا تھا لیکن یہ سب اب ماضی کی بات ہے۔ چند روز پہلے ہی شیخ رشید جنوبی پنجاب میں گرجے۔ انہیں لائیو نشریات میں اپنی ریٹنگ بڑھانی تھی جس کے لیے انہیں اور کوئی نہ ملا تو حلقے سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونیوالے وفاقی وزیر جناب ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کے بارے انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی۔ اتنی غلیظ گالیاں جو کوئی علیحدگی میں کہنے سے شرما جائے شیخ صاحب نے بھرے مجمع میں ٹی وی چینلز کی براہ راست نشریات میں اگل ڈالیں۔ یہ کتنا خطرناک رجحان ہے کہ جو چند افراد کا جلسہ کرتا ہے وہ طاقت کے نشے میں چور ہو کرجسے چاہے جو چاہے کہہ ڈالتا ہے۔ برسوں سے خدمت خلق، دینی و عصری علوم کے پراجیکٹس، رفاحی منصوبے لگا کر دکھی انسانیت کی خدمت کرنیوالے عالم دین ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کے بارے شیخ رشید کے یہ الفاظ یقیناً ان لوگوں کی توہین ہیں کہ جو حافظ صاحب سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔ شیخ رشید کے لیے اس سےبڑھ کر ڈوب مرنے کا مقام اور کیا ہوگا کہ حافظ صاحب نے اس کی بات کا جواب تک دینا مناسب نہیں سمجھا۔ کاش شیخ رشید جنہیں ڈاکٹر عبدالکریم صاحب کا نام بھی ٹھیک سے معلوم نہیں تھا کسی مقامی شخص سے تھوڑی سی معلومات لے لیتے تو وہ انہیں بتاتا کہ جس کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے جا رہے ہیں، وہ بیت اللہ شریف مسجد الحرام میں قرآن پاک پڑھانے کا استاد رہا ہے۔ شاید اسی ایک بات کا حیا انہیں بدزبانی سے روک دیتا۔

یہ تو صرف ایک واقعہ ہے کہ جب ایک عزت دار کی پگڑی اچھالی گئی ہے۔ ہم روز دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پوسٹس اور بیانات و تقاریر کے ذریعے اخلاقیات کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسی پوسٹ بھی آتی ہے کہ کسی رہنما کی تصویر کے ساتھ یہ تک لکھ دیا جاتا ہے کہ ” لعنت بھیج کر شئیر کریں”۔ جی ہاں! ہر کوئی دوسرے طبقے پر طعن و تشنیع اور لعنتیں بھیجنے میں مصروف ہے۔

المیہ تو یہ بھی ہے کہ بعض دینی جماعتوں کے کارکنوں میں بھی یہ زہر تیزی سے سرایت کرتا جا رہا ہے۔ برداشت اور صبر و تحمل رخصت ہو رہی ہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا رواج ہے اور بڑے بڑے لیڈرز اس بیماری کا شکار بن رہے ہیں۔ الیکشن کے اس سال میں سیاسی حرارت ملک میں آگ لگا رہی ہے۔ سیاسی اختلاف ہونا بری بات نہیں لیکن اس پر دوسرے کو طنز، طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا حتیٰ کہ گالیوں تک کا سہارا لینا انتہائی خطرناک رجحان ہے جسے روکنا ہوگا ورنہ یہ آگ ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے جائے گی اور جب سیاسی بادل چھٹیں گے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہمارے ہاتھ کچھ نہیں نہیں آیا۔ صرف و ہ تلخ یادیں ہوں گی، عزیز دوستوں کے بچھڑنے کے قصے ہوں گے اور معزز شخصیات کی پگڑیاں اچھالنے کی ندامت ہو گی۔

کاش! ہمارے سیاسی، دینی اور سماجی رہنما اس طوفان بدتمیزی کا احساس کریں اور نوجوان نسل تحمل، برداشت اور عزت و احترام سے اختلاف کرنا سیکھ جائے۔ کاش ہماری سیاست اخلاقیات کی پابند ہو۔ کاش ہم سیاسی و دیگر اختلافات کو نفرت و دشمنی میں بدلنے سے پرہیز کرنا سیکھ جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں