41

حیا ایمان کا حصہ ہے

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی ﷾
جمعۃ المبارک 2 جمادی الاول 1439ہجری بمطابق 19 جنوری 2018
عنوان: حیا ایمان کا حصہ ہے
ترجمہ: محمد عاطف الیاس
پہلا خطبہ
الحمدُ للهِ! ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے، وہ بڑے فضل واحسان والا ہے اور اسی نے حیاء کو ایمان کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
’’زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔‘‘ (الرحمن: 29)
میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے ہیں اور جنوں اور انسانوں کے لیے اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، برکتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
بعدازاں! اے مومن معاشرے کے لوگو!
اللہ سے ڈرو اور اس سے حیا کرو۔ خوب ذہن نشین کر لو کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اور ہر جگہ آپ کو دیکھتا ہے اور آپ کا حال جانتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران :102)
اے امت اسلام!
بھلے اخلاق کی طرف بلانا نبی کریم ﷺ کی رسالت کا اولین مقصد ہے۔ مسند امام احمد میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
مجھے تو اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘
اچھے اخلاق ہمیشہ ایمان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اہل ایمان میں کامل ترین ایمان اس کا ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔
اسے امام ابوداؤد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اللہ کے بندو! اچھے اخلاق سے ایمان مکمل اور مزین ہوتا ہے، اچھے اخلاق سے میزان پھرتا ہے، ایمان بڑھتا ہے اور انسان کمال کے مرتبے کو چھونے لگتا ہے۔
اچھے اخلاق میں سے حیا کو ایمان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے جہاں حیا ختم ہوجائے وہاں ایمان بھی ختم ہوجاتا ہے اور جتنی حیاء کم ہوجائے اتناہی ایمان بھی کم ہوجاتا ہے۔
مستدرک امام حاکم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’حیا اور ایمان ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ جب ان میں سے ایک ختم ہوجائے تو دوسرا خود بخود ختم ہو جاتا ہے ۔‘‘
اسی طرح نبی ﷺ نے دیگر اخلاق کی نسبت حیا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’ہر دین کا ایک خاص اخلاق ہوتا ہے اور اس دین کا خاص اخلاق حیا ہے۔‘‘
اسے امام ابن ماجہ نے حسن درجے کی سند سے روایت کیا ہے۔
حیا جس چیز میں پائی جائے وہ اسے مزین کر دیتی ہے اور جس چیز سے حیاء چین لی جائے وہ انتہائی بری ہو جاتی ہے۔
ابن قیم ﷫ فرماتے ہیں: حیا ہر بھلائی کی جڑ ہے، یہ اخلاق میں افضل ترین، فائدہ مند ترین اور قیمتی ترین اخلاق ہے۔ اگر حیا کا اخلاق نہ ہوتا تو نہ وعدے پورے ہوتے، نہ امانتیں ادا ہوتیں، نہ کسی کی حاجت پوری ہوتی، کوئی بھلائی کو پسند نہ کرتا، کوئی برائی سے نہ رکتا اور کسی کی پردہ پوشی بھی نہ کی جاتی۔
اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر ان میں حیاء نہ ہو تو وہ بہت سارے فرائض سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں، کسی مخلوق کا حق ادا نہ کریں، کسی رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی نہ کریں اور نہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔
اللہ کے بندو! حیا نبیوں اور رسولوں اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے صحابہ اور تابعین کا اخلاق ہے۔
یہ ہیں موسی ، جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
’’حضرت موسی انتہائی پاکباز اور حیا کرنے والے تھے، ان کی حیا کا یہ حال تھا کہ لوگوں کو ان کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا تھا۔‘‘
اسی طرح ہمارے رسول ﷺ حیا کے اخلاق میں سب سے آگے تھے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ پردے کے پیچھے بیٹھی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرم و حیا کرنے والے تھے۔ جب وہ کسی چیز کو ناپسند کرتے تو ان کے چہرے کارنگ تبدیل ہوجاتا اور ہم اسی سے پہچان لیتے کہ آپ کو کوئی چیز ناگوار گزری ہے۔ یعنی وہ دوسروں کو ٹوکنے سے حیا کرتے تھے یہاں تک کہ ناگواری ان کے چہرے پر نظر آنے لگتی تھی۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے دریافت کیا: کہ عورت حیض کے بعد غسل کس طرح کرے؟ سیدہ بیان کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا طریقہ سکھایا اور فرمایا:
پھر مشک کی خوشبو لے کر اپنے آپ کو پاک کر لینا۔
اس عورت نے پوچھا: اس سے اپنے آپ کو کس طرح پاک کر لوں؟ اس پر آپ ﷺ شرما کر اور دوسری طرف منہ کرکے فرمانے لگے:
عجیب بات ہے! سبحان اللہ! اس سے اپنے آپ کو پاک کر لو!
سیدہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے اس عورت کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور پھر انہیں سمجھایا کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرمارہے ہیں۔
اسی طرح جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے گھر آجاتے اور دیر تک بیٹھے رہتے تو آپ ﷺ کو بہت تنگی محسوس ہوتی مگر آپ ﷺ حیا کرتے ہوئے انہیں کچھ نہ کہتے اور ناگواری کا اظہار تک نہ کرتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں یہ آیت نازل فرما دی:
’’جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبیﷺ کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔‘‘ (الاحزاب: 53)
ایک روز رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک انصاری صحابی کے قریب سے ہوا جو اپنے بھائی کو زیادہ شرم کرنے پر ٹھوک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اسے مت روکو، حیا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اپنے بچوں کو بھی حیا سکھاتے تھے اور ان کی تربیت بھی اسی اخلاق پر کرتے تھے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے ان کی تربیت اسی اخلاق پر فرمائی تھی۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نبی اکرم ﷺ کی مجلس میں نو عمر نوجوان تھے۔ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے پوچھا:
’’بھلا بتاؤ! وہ کونسا درخت ہے جس کے پتے کبھی نہیں کرتے، اور جو مسلمان کی مثال ہے؟ ‘‘
صحابہ کرام مختلف جڑی بوٹیوں کا ذکر کرنے لگے اور میرے دل میں آیا کہ یہ تو کھجور کا درخت ہے مگر میں حیا کے مارے نہ بولا۔ صحابہ کرام نے پھر آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ ہی بتائیے کہ وہ کونسا درخت ہے؟ آپ ﷺ نے بتایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ حیا اخلاق اللہ تبارک وتعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور اس سے جڑا ہوا اللہ تعالی کا ایک نام بھی ہے۔ اللہ کی حیا کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت دینے والا اور کرم نوازی کرنے والا ہے، نیکی کی قدر کرنے والا اور بہت بلند ہے۔ وہ عطا کرنے والا ہے جب اسکا بندہ ہاتھ اٹھا کر اس سے کچھ مانگتا ہے تو اللہ اسکے ہاتھ خالی لوٹ آنے سے حیا کرتا ہے۔ اللہ تعالی کسی ایسے بوڑھے شخص کو بھی سزا دینے سے حیا کرتا ہے جس کے بال دین اسلام کی خدمت میں سفید ہوگئے ہوں۔

حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
’’میرے بندے نے میرے ساتھ عدل نہیں کیا! مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا رد کرنے سے حیا کرتا ہوں اور جب وہ گناہ کرنے لگتا ہے تو وہ مجھ سے حیاء نہیں کرتا۔‘‘
اللہ کے بندو! سچا مسلمان اللہ سے حیا کرتا ہے اور وہ یاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے، وہ نیک کام میں دیر نہیں کرتا، نعمت کاشکر کبھی نہیں بھولتا، جہاں اللہ تعالی نے جانے سے منع کیا ہے، اللہ اسے وہاں کبھی نہیں دیکھتا اور جس جگہ جانے کا حکم دیا ہے، وہ اسے وہاں کبھی غیر حاضر نہیں پاتا۔ اللہ سب سے بڑھ کر اس چیز کا حقدار ہے کہ اس سے حیاء کی جائے اور نبی کریم ﷺ نے بھی صحابہ کرام کو یہی نصیحت کی تھی۔
امام ترمذی کی جامع میں حسن درجہ کی سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ ہو تعالئ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ سے یوں حیا کرو جیسے اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔‘‘
اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ الحمد للہ! ہم حیا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’میں اس حیا کی بات نہیں کر رہا! حقیقی حیا یہ ہے کہ تم سرکی اور سر میں موجود چیزوں کی حفاظت کرو، پیٹ کی اور پیٹ میں موجود چیزوں کی حفاظت کرو اور موت اور فنا ہوجانے کو یاد کرو۔ جو آخرت کا طالب ہوتا ہے وہ دنیا کی زیب و زینت سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔ جو ایسا کرتا ہے وہی اللہ سے صحیح معنوں میں حیا کرنے والا ہے۔‘‘
اس عظیم حدیث میں نبی ﷺ نے چار چیزوں کی طرف اشارہ کیا جو کہ ساری بھلائی کو اکٹھا کر لیتی ہیں:
پہلی چیز یے کے سر کی حفاظت کی جائے اور سر میں موجود چیزوں کی حفاظت کی جائے، یعنی اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کیا جائے، اللہ کے سامنے اپنے سر کوتکبر سے نہ اٹھایا جائے۔ اس حدیث کے مفہوم میں حرام کاموں سے آنکھ، کان اور زبان کی حفاظت بھی آجاتی ہے۔ فرمان الٰہی ہے:
’’کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے۔‘‘ (الاسراء: 36)
تیسری چیز یہ کہ پیٹ کو حرام کھانے سے محفوظ کیا جائے، اسی طرح پیٹ سے متصل چیزوں، جیسے دل، ہاتھ، شرمگاہ اور ٹانگوں کی حفاظت کی جائے۔
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو مجھے ضمانت دیتا ہے اس چیز کی جواس کے منہ میں ہے اور اس چیز کی جو اس کی ٹانگوں کے درمیان ہے، تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘
دل کے اندر اللہ سے جتنی حیا موجود ہوگی اتنا ہی انسان اپنے سر کی اور اپنے پیٹ کی حفاظت کرے گا اور حرام سے دور رہنے کی کوشش کرے گا۔
ایک تابعی کی موت کا وقت آیا تو وہ رونے لگے، جب کچھ زیادہ ہی رو دیے تو لوگوں نے انہیں ملامت کیا کہ موت تو حق ہے، اس پر اتنا زیادہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر اللہ نے میرے گناہ معاف کر بھی دیے تو بھی میں اپنی کرتوتوں کی وجہ سے اللہ سے ملنے سے حیاء کرتا ہوں! دنیا میں بھی جب ہم کسی کی تھوڑی بہت حق تلفی کر لیتے ہیں اور پھر وہ ہمیں معاف کر دیتا ہے تو ہم ہمیشہ کے لیے اس سے شرم کرتے رہتے ہیں۔
اے مومن معاشرے کے لوگو!
حیا عقل و دانش کی علامت ہے، دوسروں کے ساتھ تعامل کا ادب ہے، بھلائی اور کامیابی کا راستہ ہے اور دنیا و آخرت کی سعادت کا ذریعہ ہے۔
حیا اہل تقویٰ کا شعار ہے، نیک لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہے اور مومنوں کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ کا پردہ ہے۔ جب انسان گناہوں میں بڑھ جاتا ہے اور توبہ کی طرف نہیں پلٹتا تو اس سے حیا چھین لی جاتی ہے اور جس سے حیاء چین لی جاتی ہے تو اس کی ہلاکت کا وقت آ جاتا ہے، پھر وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگتا ہے، اس کی برائیاں واضح ہوجاتی ہیں اور نیکیاں چھپ جاتی ہیں۔ ایسا شخص اللہ کے ہاں بھی بے قیمت ہوتا ہے۔
علامہ ابن قیم ﷫ فرماتے ہیں: حیا کا لفظ حیات یعنی زندگی سے لیا گیا ہے۔ جس میں حیا نہیں ہوتی وہ دنیا میں مردوں کی مانند ہوتا ہے اور آخرت میں بدبخت ہوتا ہے۔ بے حیائی، بے غیرتی اور گناہوں کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو کھینچ لاتا ہے۔ جو گناہ کے وقت اللہ سے حیاء کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عذاب دینے سے حیا کرتا ہے اور جو اللہ سے حیا کیے بغیر گناہ کرتا جاتا ہے اللہ تعالی بھی اس سے قیامت کے دن حیا نہیں کرتا۔
اے امت اسلام!
برے الفاظ بولنا، برے کام کرنا، مردوں کا عورتوں کی مشابہت اور عورتوں کا مردوں کی مشابہت اختیار کرنا، جھوٹ بولنا، گمراہی پھیلانا، دوسروں کے احساسات کا خیال نہ کرنا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر آداب کا خیال نہ کرنا اور بھلے طریقے کو چھوڑنا بے حیائی کی وہ صورتیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو رہی ہیں۔
اسی طرح بے حیائی کی صورتوں میں کھلے عام کیے جانے والے گناہ بھی شامل ہیں۔ ان گناہوں کی وجہ سے دنیا و آخرت کی عافیت ختم ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
’’میری ساری امت عافیت میں ہے، یعنی قیامت کے دن وہ عافیت میں ہوگی سوائے ان لوگوں کے جو کھلے عام گناہ کرتے ہیں، کھلے عام گناہ کرنے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ کوئی شخص رات کے وقت کوئی گناہ کر بیٹھے اور جب صبح اٹھے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے گناہ کی پردہ پوشی فرمائی ہو، پھر وہ خود لوگوں کو بلا بلا کے یہ کہیے کہ اے فلاں! رات میں نے یہ اور یہ گناہ کیا تھا۔ رات کے وقت اللہ اس کی پردہ پوشی فرما رہا تھا اور صبح اٹھ کر اس نے اپنے رب کا ڈالا ہوا پردہ ہٹا دیا۔‘‘
نہیں خدا کی قسم زندگی میں کوئی خیر نہیں ہے بلکہ آگر حیا نہ ہو تو ساری دنیا میں کوئی خیر نہیں ہے۔ انسان جب تک حیا کو اپنائے رکھے اسی وقت تک وہ سلامت رہتا ہے۔ بالکل اس طرح جس طرح درخت اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک جڑیں مضبوط ہوں۔
اے مومن معاشرے کے لوگو!
خوب ذہن نشین کرلو کہ دل میں حیا کی موجودگی تین چیزوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک اللہ کی تعظیم اور اس سے۔ دوسری اس چیز کے یقین سے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہمارے ہر حال سے واقف ہے۔ جب دل میں اللہ تعالی کے پیار اور تعظیم کے ساتھ یہ یقین موجود ہوگا کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہمارے ہر حال سے واقف ہے اور اس سے ہماری کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے تو دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے حیا خود ہی آ جاتی ہے۔
فرمان الٰہی ہے:
’’درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ اُن کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور اُن کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ (آل عمران: 164)
اللہ مجھے اور آپکو قرآن وسنت میں برکت عطا فرمائے آیات اور ذکر حکیم سے نفع پہنچائے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں اپنے لیے اللہ سے معافی مانگتا ہوں آپ بھی اسی سے معافی مانگو تو معاف کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ
الحمد للہ۔ ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جس کی تعریف ساری کائنات کرتی ہے، اور جس کی عظمت اور پاکیزگی کی وجہ سے سارے چہرے اسی کی طرف اٹھتے ہیں۔ میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں، سلامتی اور برکتیں ہوں آپ ﷺ پر، ‏ آپ کے اہلبیت پر اور صحابہ کرام پر۔
بعدازاں! اے مومنو!
جیسا کہ مردوں کے حق میں شرم و حیا کی موجودگی مردانگی اور اخلاق کا تقاضہ ہے اسی طرح یہ عورتوں کے حق میں زینت اور کمال ہے۔ مردوں کی نسبت عورتوں میں شرم و حیا کی اہمیت زیادہ ہے۔
اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں اس پاکیزہ عورت کا ذکر فرما کر اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے، جو مکمل حیا اور بہترین اخلاق اپناتے ہوئے موسی علیہ السلام کے پاس پاکیزہ چال چلتے ہوئے آئی اور چند الفاظ بولے کہ جن میں کسی قسم کا جھکاؤ یا نرمی نہیں تھی۔ اللہ تعالی نے ان کا ذکر فرماتے ہوئے قرآن کریم میں فرمایا:
’’ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی “میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔‘‘ (القصص: 25)
صحیح بخاری کی روایت ہے کہ سلیم رضی اللہ تعالی عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آ کر پوچھا کہ اگر عورت خواب میں وہ چیز دیکھ لے جو کہ مرد دیکھا کرتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ یہ سن کر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے چادر سے اپنا منہ ڈھانپ لیا اور کہا: ام سلیم! تیرےہاتھ خاک آلود ہوں۔ تو نے نبی ﷺ کی محفل میں عورتوں کو رسوا کردیا ہے۔
اللہ کے بندو! غور کرو کہ ام سلمہ پر رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر حیا کس طرح غالب آگئی تھی حالانکہ محفل میں صرف ان کے شوہر اور ایک دوسری عورت تھی۔
اے مومن معاشرے کا لوگو!
جب مسلمان معاشرے میں ہی عام ہوجاتی ہے تواس کے افراد کے اخلاق بہت بلند ہو جاتے ہیں، ان کی ادب آداب شاندار بن جاتے ہیں، ان میں نیک اخلاق اور بھلے روئے رائے جو جاتے ہیں۔ حیا کا ان کو کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس سے ان کو خیر ہی ملتی ہے۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’حیا سراسر بھلائی ہے اور ہیں اسے بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے۔‘‘
اے اللہ! ہمیں بہترین اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرما، کیونکہ تو ہی بھلے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرما سکتا ہے۔ ہمیں برے اخلاق سے بچا تو ہی ہمیں برے اخلاق سے بچا سکتا ہے۔
اے اللہ اے ارحم راحمین ہم تجھ سے ہدایت تقوی شرم و حیا اور بے نیازی کا سوال کرتے ہیں۔
اے اللہ رحمتیں نازل فرما محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر جس طرح تونے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی تھی، یقین تو بڑا بزرگی والا اور قابل تعریف ہے۔ اے اللہ برکتیں نازل فرما محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر جس طرح تونے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکت نازل فرمائی تھی، یقین تو بڑا بزرگی والا اور قابل تعریف ہے۔
اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین ابوبکر عمر عثمان علی اور تمام صحابہ وتابعین سے راضی ہوجائے۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے اور اپنا فضل و کرم فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا!
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما شرک اور مشرکین کو رسوا فرما دین کی حدود کی حفاظت فرما اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی والا بنا۔
اے اللہ اے ذالجلال والإكرام! تمام مسلم ممالک کے احوال درست فرما۔
اے اللہ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے پریشان مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں دور فرما کرداروں کا قرض ادا فرما ہمارے اور مسلمانوں کے تمام بیماروں کو شفا عطا فرما۔
اے اللہ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے ہم تجھ سے تیرے فضل کے نام احسان کرم نوازی اور عنایت کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو مسلمان ممالک کو ہر قسم کی برائی سے محفوظ فرما اے اللہ بلاد حرمین کی حفاظت فرما اے اللہ بلاد حرمین کی حفاظت فرما اے اللہ بلاد حرمین کی حفاظت فرما اس کی نگہبانی فرما ہمارے اوپر امن و سلامتی اور سکون و چین کو ہمیشہ کے لئے محفوظ فرما۔
اے اللہ جو ہمارے بارے میں یہ ہمارے ملک کے بارے میں یا اسلامی ممالک کے خلاف چال چلے اے پروردگار تو اسے اسی کی چال میں ہلاک فرما اے عزت اور طاقت والے یا ذالجلال والاکرام اسی کی چالوں میں اس کو ہلاک فرما۔
اے اللہ خادم حرمین کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے اسے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت پر جزائے خیر عطا فرما اسے اوراس کے ولی عہد کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہو کی سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے کہ میں ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو راضی ہوتا ہے۔
اے اللہ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوانوں کی نصرت فرما ان کی تائید فرما ان کی نگہبانی فرما ان کی رائے درست فرما انہیں ثابت قدمی نصیب فرما تو ان کا مددگار اور معاون بن جا۔
اے اللہ یارب العالمین زندہ اور مردہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو اپنے فضل و کرم اور احسان سے معاف فرما۔
’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ (الصافات)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

حیا ایمان کا حصہ ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں