16

1800علماء کا دہشت گردی کے خلاف ’’ پیغامِ پاکستان‘‘ کے نام سے مبسوط فتویٰ

متقفہ فتوے سے ملک کو درپیش دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی: صدر ممنون
پاکستان کے اربابِ اقتدار وسیاست اور مذہبی قیادت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے استیصال کے لیے ’’ پیغامِ پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک مبسوط فتویٰ اور قومی بیانیہ جاری کیا ہے۔

’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے عنوان سے قومی بیانیے کی تقریب رونمائی اسلام آباد میں منگل کے روز ایوان صدر میں منعقد ہوئی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کے جاری کردہ متقفہ فتوے سے ملک کو درپیش دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ’’ یہ متفقہ فتویٰ اقوام عالم میں ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لیے درست سمت میں ایک قدم ہے۔ اس سے پاکستان کا ایک نرم اور مثبت تشخص اجاگر ہوگا۔اس میں اسلام کو ایک امن پسند ، بھائی چارے ، رواداری کے دین کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے‘‘۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اقوام کو ترقی کے لیے آگے بڑھنا چاہیے اور آیندہ چار سو سال کے دوران میں ایک مثبت طرز عمل کا اظہار کرنا چاہیے ۔انھوں نے کہا کہ اس فتوے سے قومی یک جہتی اور وحدت کے قیا م میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر ہم مستقبل کے لیے اپنی سمت درست کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں امن اور استحکام ہو کیونکہ اس کے بغیر ہم ترقی کا سفر شروع نہیں کرسکتے۔ہمیں سازشی نظریوں کے مفروضوں کے بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہیے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان اس لیے قائم نہیں کیا گیا تھا کہ دنیا کے غریب ممالک کی فہرست میں ایک اور ملک کا اضافہ کردیا جائے ۔آج کے جدید دور میں دنیا کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمان اسلامی اصولوں کے مطابق ایک کامیاب قوم بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔

ممتاز عالم دین مفتی رفیع عثمانی نے ’’ پیغام ِ پاکستان ‘‘ کے اجراء کے موقع پر کہا کہ یہ ایک تاریخی بیانیہ ہے اور تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء نے اس دستاویز کے ہر ہر لفظ پر مہینوں غور کیا ہے۔ اس کے بعد یہ فتویٰ جاری کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس سے ملک میں موجودہ صورت حال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور قو م کے امن اور خوش حالی کی منزل کی جانب گامزن ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیراہتمام دہشت گردی کے خلاف یہ بیانیہ علمائے کرام ، ارکان پارلیمان، دانشوروں اور پالیسی سازوں سمیت معاشرے کے مختلف طبقوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔بیانیے میں کہا گیا ہے کہ ملک ،اس کی حکومت یا مسلح افواج کے خلاف مسلح جدوجہد غیر قانونی اور حرام ہے ۔

اس دستاویز کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی اسلامی شقوں پر مکمل عمل درآمد کرائے۔ تاہم اسلام کے نفاذ کے نام پر ہتھیار اٹھانا فساد فی الارض کے مترادف ہے۔قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ اسلام میں خود کشی ناقابل قبول اور گناہ کبیرہ ہے اور خودکش حملوں کی حمایت کرنا بہت سے گناہوں کی حمایت کے مترادف ہے۔

پاکستانی علماء نے اس فتوے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی فرد یا گروپ کو جہاد کے اعلان کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔خودکش بم دھماکے حرام ہیں کیونکہ یہ اسلام کی بنیاد ی تعلیمات کے منافی ہیں۔اس میں ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مسترد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ شریعت پر عمل درآمد کے نام پر حکومت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر در حقیقت خود اسلامی ریاست کے خلاف غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
بشکریہ العربیہ ڈاٹ کام

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں