11

نقیب اللہ محسود کی ہلاکت پر

جاؤ پولیس میں پائے جاتے راؤ انواروں سے کہو، ابھی تو ایک نقیب مرا ہے،
وہ ہمارے قبیلے کے سارے نقیب مار دے۔ خوبصورتی جہاں ملے ، جب ملے مار دے،
وہ ہمارے سارے پیارے رشتے اور ہماری دلاری جوانیاں مار دے،
وہ مار دے۔
دہشت گردی یا کسی بھی بہانے مار دے۔
وہ کچھ بھی کہہ کے کسی کو بھی ، کہیں بھی ، مار جو سکتا ہے!
تو مار دے، جو بچے ہیں ، سب مار دے۔
ہماری ایسی تمام نکھری بکھری محبتوں کو، ہماری معصوم مسکراہٹوں سے جڑے رشتوں ناتوں کو مار دے۔
وہ قوم کے حال اور مستقبل کے شجر کو
اور باپوں کے دلوں کے ثمر کو مار دے۔
اس کے ہاتھ میں گن کی طاقت ، دماغ میں اختیار کا نشہ اور لب پہ دہشت گردی کا بہانہ جو آ گیا ہے،
سو وہ جسے چاہے، جب چاہے، جیسے چاہے مار دے۔
بقول پروین شاکر !
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
اب اس کی مرضی
کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے
بہار کو انتظار لکھ دے

وفا کے رستوں پہ چلنے والوں
کی قسمتوں میں غبار لکھ دے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں
ہجر کو حصہ دار لکھ دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں