22

جنسی تعلیم کیوں اور کیسے؟ – محمد ریاض علیمی

پاکستان کے تمام “تعلیمی اداروں” میں باقاعدہ طور پر “جنسی تعلیم” کو نصاب کا حصہ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں یہ تصور مغرب کے “تعلیمی اداروں” سے لیا جارہاہے جہاں کا معاشرہ “جنسی طور” پر آزاد معاشرہ ہے۔ وہاں بالغ ہوتے ہی “جنسی تسکین” حاصل کرنے کے لیے مخالف جنس سے تعلقات استوار کرنا روز مرہ کا معمول ہے۔ وہاں جنسی تعلیم اس لیے دی جارہی ہے تاکہ نو عمر ” بچے اور بچیاں” جنسی تعلقات میں “احتیاطی تدابیر” اختیار کرتے ہوئے مختلف اقسام کی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اسی تصور کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں 2009 کے بعد بعض نجی اسکولوں میں جنسی تعلیم کا باقاعدہ آغاز کیا جاچکاہے۔

ایک خبر کے مطابق Life Skilled Based Education کے نام پر “سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ” کے منظور شدہ نصاب میں چھٹی سے دسویں تک کے بچوں اور بچیوں کو یہ پڑھایا جا رہا ہے کہ ان کا کسی سے “جنسی تعلق” کس نوعیت کا ہونا چاہیے۔ اسی طرح یہ بھی تعلیم دی جارہی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ کس طرح دوستی کرنی چاہیے اور ان سے کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ نے جنسی تعلیم کے نصاب میں شامل “جنسی حقوق” کی تعریف کی جس میں “جنسی جوڑے” چننے میں آزادی کا حق اور “باہمی رضامندی” سے جنسی تعلق رکھنے کا حق وغیرہ شامل ہیں۔

پاکستان میں پہلے بھی بھی مغرب کی طرز پر اسکولوں میں جنسی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے کی کوششیں کی جارہی تھی۔ لیکن قصور میں “زینب” سے ساتھ پیش آنے والے سانحہ کے بعد جنسی تعلیم کا چرچہ زیادہ ہوگیا ہے۔ پاکستان میں مکمل طور پر اسکولوں میں جنسی تعلیم کو بطورِ نصاب شامل کرنے پر قراردادیں منظور کی جارہی ہیں۔ جس کا مقصد یہ بتایا جارہا ہے کہ بچے اس آگاہی کی بدولت کسی کی “جنسی ہوس” کا نشانہ بننے سے محفوظ رہ سکیں گے۔
اس بات میں کوئی عار نہیں کہ بچوں کو ان کے جسم میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں درست معلومات دی جائے۔ جب بچے بلوغت کی عمر تک پہنچتے ہیں تو ان میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہونے کے ساتھ تجسس بھی پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان بتانا ضروری ہے۔

لیکن یہ کام والدین بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کی ذمہ داری سب سے پہلے والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت کریں اور وقت کے ساتھ ساتھ انہیں اچھے اور برے کی تمیز سکھائیں۔ اسی طرح والدین اپنے بچوں کو بلوغت کے وقت سمجھائے کہ اس عمر میں انسانی جسم میں کچھ تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، ان سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں خود اپنے بچوں کوشائستگی کے ساتھ اور ان کی فہم کے مطابق یہ باتیں سمجھانی چاہئیں۔
ان کے دوستوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ بری صحبت سے دور رہنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ جنسی تعلیم دینے کا ایک یہی مثبت انداز ہے، اس کے علاوہ اگر تعلیمی اداروں میں اس کو نصاب کا حصہ بنادیا گیا تو یہ مزید مسائل کا باعث ثابت ہوگا۔ “جنسی تعلیم” کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے اگر بچوں کی عادات و اطوار اور نفسیات کے مطابق تربیت کی جائے تو یقینی طور اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ اگر جنسی تعلیم کو باقاعدہ نصاب بناکر “مخلوط تعلیمی اداروں” میں پڑھایا گیا تو اس سے جرائم میں کمی کے بجائے اضافے کا خدشہ ہے۔

ذرا تصور کریں کہ ایک کلاس میں “لڑکے اور لڑکیاں” موجود ہیں اور ٹیچر انہیں بتائے کہ “لڑکے اور لڑکیوں” میں بلوغت کی یہ علامات ہیں۔ اور اگر ٹیچر کلاس میں “لڑکوں اور لڑکیوں” کے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے متعلق انہیں ایک ہی کلاس میں آگاہ کرے گا تو فطری طور پر ان کے ذہنوں میں “مخالف جنس” کے بارے میں جاننے کا تجسس ابھرے گا۔ اور وہ لازما ایک دوسرے کے بارے میں کشش محسوس کریں گے۔ بچوں میں “جنسی کشش” پیدا کر نے کے بعد پھر ہم یہ امید کیسے رکھ سکتے ہیں معاشرے میں بے راہ روی کا خاتمہ ہوجائے گا۔

جس معاشرے میں پہلے ہی “پرنٹ اور الیکٹرانک” میڈیا فحاشی پھیلا رہا ہو۔ “انٹرٹینمنٹ” کے نام پر اخلاق باختہ پروگرام دکھائے جارہے ہوں، بچوں کو کارٹون کی آڑ میں “رومانوی مناظر” دکھائے جارہے ہوں، اور رہی سہی کسر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پوری کررہا ہو تو جنسی برانگیختی کے ایسے ماحول میں اگر اسکولوں میں “لڑکوں اور لڑکیوں” کو ساتھ بٹھا کر جنسی تعلیم بھی شروع کردی گئی تو ہمیں اس کے بھیانک نتائج کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔

اسکولوں میں جنسی تعلیم دینے کے بعد یہ تو ہوسکتا ہے کہ شاید “جنسی تشدد” اور “زنا بالجبر” کے واقعات میں کچھ کمی آجائے لیکن اس اقدام سے جنسی آزادی اور “زنا بالرضا” کی کثرت اور “سیکس فری سوسائٹی” کا اندیشہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں لڑکوں اور لڑکیوں کو ایک ساتھ بٹھا کر جنسی مسائل سے آگہی دے کر مغرب کی طرح جنسی درندے نہیں بنانا بلکہ انہیں معاشرے کا ایک باحیا اور باکردار شخص بنانا ہے۔ اسکولوں میں جتنا زور جنسی تعلیم دینے پر دیا جارہا ہے، اگر اس کا دسواں حصہ اخلاقی تعلیم دینے پر خرچ کردیا جائے تو معاشرے میں ہونے والے درندگی کے واقعات میں نمایاں طور پر کمی واقع ہوسکتی ہے۔

Hits: 0

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں