73

فتنوں کے دور میں ثابت قدمی کی اہمیت

مسجد نبوی کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صلاح البدیر حفظہ اللہ

جمعۃ المبارک 24 ربیع الثانی 1439 ھ بمطابق 12 جنوری 2018

عنوان: فتنوں کے دور میں ثابت قدمی کی اہمیت

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

پہلا خطبہ

ہر طرح کی حمد و ثناء اللہ کے لیے ہے، اگر اس سے امید لگائی جائے تو وہ سب سے زیادہ کرم نوازی کرنے والا ہے اور سب سے بڑھ کر عطا فرمانے والا ہے۔ اسی نے ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے، جو کہ صبح وشام زندگی کی امید لیے سوتی اور جاگتی ہیں اور طرح طرح کی تمنائیں کرتی ہیں، پھر حادثات ان کی امیدیں دوڑتے ہیں اور لوگوں کو موت کی طرف دھکیلتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں یہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی مسلسل نازل ہونے والی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور صحابہ کرام پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

پرہیزگاری اختیار کرو کیونکہ پرہیزگاری میں عزت اور کامیابی ہے اور گنہگاری میں تباہی اور رسوائی ہے۔ رب ذوالجلال کا فرمان ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘(آل عمران :102)

دنیا میں ہمیشہ رہنے کی امید نہیں لگائی جاسکتی اور اس میں فنا سے بچنے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ دنیا کے لوگ یا تو خود موت کے قریب ہوتے ہیں یا کسی مردہ کے اولاد ھوتے ھیں۔ موت بہت قریب ہے اور اس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ انسان کا ہر سانس اسے پیدائش سے دور اور موت سے قریب کر دیتا ہے۔ موت بھی کیسی مخلوق ہے! کہ اس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے۔ جب انسان کی زندگی کی گھڑیاں پوری ہو جاتی ہیں تو وہ گھڑیاں اسے ایسی گھڑی کے حوالے کردیتی ہیں جس کے بعد اس کی زندگی ممکن نہیں رہتی۔

دن بھی کتنی تیز چلتے ہیں! پہلے وہ ہمیں تیزی سے لیے چلتے ہیں پھر ہمیں چھوڑ کر آگے چل پڑتے ہیں۔ ہر نیا دن کسی نہ کسی امید کو توڑتے ہوئے موت کو قریب کر دیتا ہے۔

ہم سے پہلے اس دنیا میں رہنے والی انتہائی خوبصورت اور قدآور قومیں آج کہاں ہیں؟ وہ آج کہاں ہیں؟ اپنے آپ سے پوچھیے وہ کہاں ہیں؟

جب ان کی موت کا وقت آیا تو وہ تباہ ہو گئے اوراس دنیا سے گزر گئے اور وہی وقت ہم پر بھی آنا ہے۔

ہم نے کتنے زندوں کو مرتے دیکھا ہے اور کتنے ایسوں کو بھی روز دیکھتے ہیں جن کا وقت بس آیا چاہتا ہے، مگر نجانے ہم پھر بھی کیوں اتنے غافل ہیں اور موت سے یوں بے خبر ہیں کہ گویا ہم اسے اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ ہی نہیں رہے۔

اے غفلت میں رہنے والے! کیا تم بھول گئے ہو کہ ہم انسان ہیں؟ ہمیں تقدیر کے مطابق رہنا ہوتا ہے، ہم سفر میں ہیں اور ہماری منزل قبر ہے۔ ہمیں موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور حشر میں ہمیں اکٹھے ہونا ہے۔ تو آخر کب تک تم واپس نہ پلٹو گے اور باز نہ آؤ گے؟ کب تک تم کسی وعظ پر کان نہ دھرو گے اور کب تک تمہارا دل نرم نہیں ہوگا؟ کیا ابھی بھی دل نرم ہونے کا وقت نہیں آیا؟ کیا ابھی بھی رات کے وقت اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور معافی مانگنے کا وقت نہیں آیا؟

ہم نیند میں ہیں؟ یا ہمارے دل بہت سخت ہوگئے ہیں؟ میرے بھائی! جاگ جاؤ اور غفلت سے بچ جاؤ۔

تم کیسے سو سکتے ہو جبکہ آگ تو مسلسل بھڑک رہی ہے اور اس کے شعلے کبھی ٹھنڈے نہیں ہوتے۔

اس دنیا سے تو نبی بھی گزر گئے اور وہ بھی اپنی امت کے لئے باقی نہ رہے، اگر کسی کو ہمیشہ کی زندگی نصیب ہو نا ہوتی تو انبیاء ہی کو ہو جاتی۔

موت کے تیر کبھی غلط نشانے پر نہیں لگتے اور جسے موت کا تیر آج نہیں لگا اسے کل تو لگنا ہی ہے۔

فرمان الٰہی ہے:

’’اے محمد!(ﷺ)، ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟‘‘

(الانبیاء: 34 35)

وہ سب کہاں ہیں جن کے ساتھ ہم بہت اٹھتے بیٹھتے تھے اور جن کے ساتھ ہمارا دل لگا ہوا تھا؟ وہ سب کہاں ہیں جن کی طرف ہم بڑی نرمی اور شفقت سے پلٹتے تھے؟ ہم نے اپنے کتنے عزیزوں کی آنکھیں بند ہوتی دیکھی ہیں؟ کتنے پیاروں کو قبروں میں اتار کر واپس لوٹ آئے؟ کتنے قریبی لوگوں کو لحد میں اتار کر تھوڑی دیر انتظار تک نہ کیا؟ تو کیا موت نے کبھی کسی بیمار پر رحم کیا ھے یا کسی کمانے والے کو اپنے بچوں کے لیے چھوڑا ہے یا کسی ذمہ دار کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے مہلت دی ہے؟ جو وہ آپ کو مہلت دی گئی!

آخر کب تک غرور اور غفلت میں بھٹکتے پھرو گے؟ یہ نیند کی رات کب ختم ہو گی اور کب اٹھنے کا وقت آئے گا؟

ہائے افسوس! ایسی قیمتی عمر فضول میں ضائع ہوگئی جس کا ایک گھنٹہ خریدنے کے لئے اگر زمین وآسمان کی ہر چیز دے دی جائے تو بھی کم ہے۔

کیا تم نا سمجھی میں، فنا ہونے والی چیز کی قیمت میں، ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ادا کر رہے ہو؟ کیا تم اللہ کی خوشنودی کی بجائے ناراضگی خرید رہے ہو یا جنت دے کر جہنم لے رہے ہو!؟

تم اپنے نفس کے دوست ہو یا دشمن؟ اپنے نفس کو ہر مصیبت میں کیوں دھکیل رہے ہو؟

ہاۓ افسوس! تو نے اپنے نفس کو بہت سستے داموں بیچ ڈالا! تو نے اپنے آپ کے ساتھ بہت زیادتی کی۔

اے اللہ کے بندے!

آج تم جو چاہتے ہو اور جو اچھا لگتا ہے، وہ کرتے رہتے ہو، مگر قریب ہے وہ وقت جب تم مر جاو گے اور قلم اٹھا لیے جائیں گے۔

اللہ کے بندے!

بڑے گناہ کا مرتکب فاسق ہے اور چھوٹے گناہ پر بضد رہنے والا بھی فاسق ہے۔

مگر چھوٹے یا بڑے گناہ کا کوئی مرتکب دین اسلام سے خارج نہیں ہوتا البتہ توبہ کرنا ضروری ہے، ہر اس گناہ سے کہ جو انسان کو ندامت کی طرف دھکیلنے والا ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

’’اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے۔‘‘      (النور: 31)

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالی رات کے وقت اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کے وقت گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن کے وقت ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کر لے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سورج مغرب سے نہیں نکل آتھا۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ ‘‘

میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ میں بھی بڑا گنہگار ہوں مگر میرے گناہوں پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔

جب بھی میرا نفس مجھے کسی گناہ کی طرف دھکیلتا ہے تو میرے اور نور ایمان کے درمیان اندھیرے کی دیوار حائل ہوتی ہے۔

کبھی مجھے اپنے نفس کی غفلت پر بھی تعجب ہوتا ہے، میں کس طرح اس اتنی غفلت میں رہتا ہوں جبکہ مجھے معلوم ہے کہ کل جب مجھے موت مجھے پکارے گی تو میں انکار نہ کر پاؤں گا۔

مجھے اس پر بھی تعجب ہوتا ہے کہ میں موت سے کتنا نے خبر ہوتا ہوں حالانکہ وہ میری طرف بڑھ رہی ہوتی ہے اور مجھے اس کے بڑھنے کا احساس بھی ہو رہا ہوتا ہے۔

میں نے دن رات اللہ کی نافرمانیاں کی ہیں، نافرمانی کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔

میرے لئے تباہی ہے! اگر میں جنت سے محروم ہوگیا، اور میرے لیے تباہی ہے اگر میں جہنم میں چلا گیا۔ میرے لئے تباہی ہے! میرے لئے تباہی ہے۔

ارشاد الٰہی ہے:

’’(اے نبیﷺ) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے۔‘‘  (الزمر: 53)

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں آپ بھی اسی سے معافی مانگو۔ وہ رجوع کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اسی نے ہمارے لیے دین کو کامل فرمایا ہے اور ہمیں اپنی نعمت کاملہ سے نوازا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں پر اس کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ گواہی ثابت قدم م رہنے والوں کے لیے بہترین پناہ گاہ ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ ان کے پروردگار نے انہیں رحمت بنا کر مبعوث فرمایا تھا۔ اللہ کی ہمیشہ رہنے والی  اور بے انتہا رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور تمام صحابہ کرام پر۔

بعدازاں! اے مسلمانو!

اللہ سے ڈرتے رہو، اسے یاد رکھو، اس کی فرمانبرداری کرو اور اسکی نافرمانی سے بچو۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘          (التوبہ: 119)

اے مسلمانو!

ہمارا دین ہیں ہمارا راس المال ہے۔ یہی ہمارا ذخیرہ اور ہمارے مستقبل کو بہتر بنانے والا سامان ہے۔

ہر مصیبت کا ازالہ ممکن ہے مگر دین کی مصیبت کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔

انسان کے دین کے علاوہ اسے جس چیز میں بھی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ جائے اس کے لئے آسان ہے اور اس کا مقابلہ ممکن ہے مگر دین میں مصیبت آجائے تو پھر سلامتی ممکن نہیں رہتی۔

دیکھو! اب فتنے کا موج مارتا طوفان بڑھتا چلا جا رہا ہے، اس کے سانپوں کے رینگنے کے نشانات نظر آنے لگے ہیں، اس کے کچھ مکار ساتھی ادھر ادھر چھپے بیٹھے ہیں، کچھ دوسرے لوگ خاموشی سے آگے بڑھتے جارہے ہیں، اور کچھ لوگ ابھی چھپے ہوئے ہیں جو عنقریب بے پردہ ہو جائیں گے اور ساری دنیا فتنوں اور آزمائشوں سے بھری پڑی ہے! تو آزمائش کے لیے اپنے صبر کو تیار کر لو!

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت کے دور میں بہت برائی میں تھے تو اللہ تعالی نے آپکے ہاتھ خیر لاکر ہمیں اس برائی سے نجات عطا فرما دی۔ تو کیا اس بھلائی کے بعد پھر برائی آ جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں! سیدنا حذیفہ نے دریافت کیا: وہ برائی کیا ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رات کے اندھیرے کی طرح کے فتنے جو ایک دوسرے کے بعد آئیں گے، وہ سب گائے کے منہ کی طرح ملتے جلتے ہوں گے، آپ کو سمجھ نہیں آئے گی کہ پہلا کونسا ہے اور دوسرا کونسا۔ اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جب تک تمہیں اپنے دین کا علم ہوگا اس وقت تک کوئی فتنہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا مگر جب تمہارے لیے حق اور باطل میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا تو پھر تم فتنے کا شکار ہو جاؤ گے۔ اسے امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: اگر کوئی یہ جاننا چاہتا ہو کہ وہ فتنے کا شکار ہے یا نہیں تو دیکھے کہ وہ کسی ایسی چیز کو اب حلال تو نہیں سمجھتا جسے وہ پہلے حرام سمجھتا تھا؟ اگر کوئی ایسی چیز ملے تو اس کا مطلب ہے کہ انسان فتنے کا شکار ہو چکا ہے۔ اسی طرح اگر اسے کوئی ایسی چیز بھی مل جائے جسے وہ پہلے حلال سمجھتا ہو اور اب وہ اسے حرام سمجھنے لگا ہو تو بھی وہ فتنے کا شکار ہو چکا ہے۔ اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔

اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اپنی رائے، یا خواہش یا اپنی پسند سے کسی چیز کو حرام یا حلال سمجھنے لگے تو وہ فتنے کا شکار ہو چکا ہے۔

مالک بن انس رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: جب بھی ہمارے پاس کوئی ایسا شخص آ جاتا ہے جو زبان میں ذرا مہارت رکھتا ہے تو وہ ہم سے یہ مطالبہ کرنے لگتا ہے کہ ہم اس چیز کا انکار کردیں جو جبرئیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس لے کر آئے تھا۔

کیا اتنی طویل عمرگزارنے کے بعد اب جب موت بالکل قریب آچکی ہے، اس وقت میں بحث کرنے والوں سے بحث میں الجھ جاؤں؟ اور دوسروں سے دین کے متعلق بحث کرنے لگوں؟ دوسروں کی رائے کو دیکھتے ہوئے اپنے دین کی واضح دلائل کو چھوڑ دوں؟ بھلا رائے بھی کبھی صحیح علم کا مقابلہ کرسکتی ہے؟

ہمارا دین نے تو ہمیں ایسا طریقہ سکھایا ہے جو دنیا کے ہر کونے میں قابل عمل ہے۔

ہمارا دین اس طرح واضح ہے جیسے دن میں سورج واضح ہوتا ہے، اس میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے۔

کوئی دوسرا طریقہ آمنہ کے بیٹے محمد ﷺ کے طریقے کی جگہ نہیں لے سکتا۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں نبی ﷺ کے تمام کئے ہوئے کاموں کی اتباع کرتا ہوں۔ آپ کے طریقے میں سے کسی چیز کو نہیں چھوڑتا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں کوئی چیز بھی چھوڑوں گا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔

اللہ کے بندو! کتاب اللہ، سنت رسول اور دین کے اخلاق اور اصولوں پر ثابت قدم رہو۔ گمراہ کرنے والوں اور فتنوں میں ڈالنے والوں سے چوکنے رہو۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اُس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے۔‘‘( المائدہ :49)

شفیع انسانیت، نبی اکرم ﷺ پر درود وسلام بھیجو! کیوںکہ جو ان پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔

اے اللہ اپنے بندے اور رسول محمد صل اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرما۔ اے اللہ تمام اہل بیت اور صحابہ کرام سے راضی ہوجائے۔ اے کرم فرما نے والے اور اے عطا فرمانے والے ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما شرک اور مشرکین کو رسوا فرما دشمنان دین کو تباہ و برباد فرما ہمارے اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی اور سکون وچین عطا فرما

اے اللہ اے پروردگار عالم ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جس سے خوش اور راضی ہوتا ہے اسے نیکی اور بھلائی کی طرف لے جا۔ موسے اور اس کے ولی عہد کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جس میں اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود ہو۔

اے اللہ ہم  تیری نعمت کے زوال سے اور عافیت کے خاتمے  سے اور اچانک آنے والی سزا سے پناہ مانگتے ہیں۔

اے اللہ! ہمیں رزق میں کشادگی نصیب فرما، کسی کو ہم پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور کافروں کو ہم پر حکمرانی کا موقع نہ دے۔

اے اللہ ہمارے بیماروں کو شفا عطا فرما تنگ حال لوگوں کی تنگ حالی دور فرما ہمارے قیدیوں کو رہائی نصیب فرما ہمارے فوت شدگان کی مغفرت فرما اور اے پروردگار عالم ہمیں ہمارے دشمنوں پر فتح نصیب فرما۔

اے اللہ اے پروردگار عالم ہمارے فوجیوں کی مدد فرما جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں۔

اے اللہ کمزور مسلمانوں کا ساتھ دے اے اللہ اے پروردگار عالم مشکل میں پڑھنے والے تمام مسلمانوں کو مشکلات سے نکلنے کا راستہ نصیب فرما۔

اے اللہ ہمیں اپنی ملاقات کے لیے پاکیزہ فرما اپنی عطا فرما کر ہماری حفاظت فرما اور اپنی تقدیر پر رضامندی نصیب فرما اور حلال دے کر حرام سے نجات عطا فرما اور اپنے فضل سے نواز کر دوسروں سے بے نیاز فرما۔

اے اللہ ہمیں ہمارے گناہوں سے دور کردیں اور ہمیں شیطان مردود سے بھی دور کردے۔

اے سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے اے بہت درگزر کرنے والے ہم سب کو معاف فرما ہم سب کو معاف فرما ہم سب کو معاف فرما اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے۔

اے اللہ ہماری دعائیں سن لے اور ہماری پکار قبول فرما لے! اے کریم اے عظیم اے رحیم۔

Hits: 6

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں