52

حق پر ثابت قدمی

مسجد حرام کے امام وخطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید حفظه الله

جمعہ المبارک 25 ربیع الثانی 1439 ہجری بمطابق 12 جنوری 2018

عنوان: حق پر ثابت قدمی

ترجمہ: محمد عاطف الیاس

پہلا خطبہ

الحمدللہ، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اسی نے تمام مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، ان کا رزق مقرر فرمایا ہے اور ان کی ضرورت پوری فرمائی ہیں۔ میں اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔ وہ انتہائی پاکیزہ ہے۔ وہ اپنے بندوں کو اب بے انتہا نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ میں واضح علم اور پختہ یقین کے ساتھ عمل سے بھی اپنی بات کو ثابت کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے! وہ واحد ہے! اس کا شریک نہیں ہے! میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے دین اسلام کی عمارت کو قائم کیا اور اس کی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔ اللہ کی رحمتیں، سلامتی اور برکتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر جو کہ امت کے نیک ترین اور پرہیزگار ترین لوگ تھے، تابعین پر اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔

بعدازاں!

اللہ آپ پر رحم فرمائے! میں اپنے آپکو اور آپ سب کو اللہ تبارک تعالیٰ سے ڈرنے اور اچھے اخلاق اپنانے کی تلقین کرتا ہوں! کیونکہ ساری اولاد آدم غلطیاں کرنے والی ہے، جب آپ سے غلطی ہو جائے تو گناہ چھپایا کرو، انہیں لوگوں کے سامنے بیان مت کیا کرو، اللہ سے معافی مانگا کرو اور گناہ پر بااصرار نہ رہا کرو۔  پھر گناہ کے بعد نیکی کرنے کی کوشش کیا کرو۔ خوش قسمت وہی ہے جو اپنے ماضی سے سبق سیکھتا ہے اور اپنا محاسبہ کرتا ہے اور محروم وہ ہے جو دوسروں کے لیے مال جمع کرتا ہے اور خود اپنے اوپر خرچ کرنے سے کنجوسی کرتا ہے۔ بہترین عمل اس کا ہے جو آج کا کام کل تک موخر نہیں کرتا۔

اللہ کے بندے! دوسروں کی مالداری سے تمہارا رزق کم نہیں ہوتا، ان کی سعادت تمہاری خوشی کم نہیں کرتی، تو اچھے اخلاق اپناؤ، نیتوں کو صاف رکھو تاکہ اللہ بھی اور لوگ بھی تمہارے ساتھ محبت کرنے لگیں۔ صبر، شکر اور استغفار کا دامن کبھی مت چھوڑو۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اے نبی!(ﷺ) ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو۔‘‘   (الاعراف: 199)

اے مسلمانو!

دل کا نام قلب اسی لیے رکھا گیا ہے کہ یہ متردد اور متقلب رہتا ہے۔ حالات اور ماحول اس کا حال تبدیل کر دیتے ہیں۔ ایک طرف اسے بھلائ کھینچ رہی ہوتی ہے اور دوسری طرف برای اپنی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔ ایک طرف فرشتہ ثابت قدم کررہا ہوتا ہے اور دوسری طرف شیطان ورغلا رہا ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:

’’ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں۔‘‘    (الانعام: 110)

نبی کریم ﷺ ہمیں دل کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اسے بڑا ہی انوکھا اور شاندار بنایا ہے! آپ ﷺ نے دعا میں ’’ اے دلوں کو پھیرنے والے‘‘ کہہ کر یہ واضح کیا ہے کہ دل اللہ تبارک وتعالیٰ پھرتا ہے۔

اسی طرح آپ ﷺ نے دعا بھی فرمائی: کہ اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما! اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپکو بھی دل کے پھر جانے سے ڈر لگتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

میں اس حوالے سے امن میں کیسے رہ سکتا ہوں۔ دل تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں پھیرتا رہتا ہے۔

دوسری روایت میں آتا ہے: کہ اللہ اگر دل کو سیدھی راہ پر چلانا چاہے تو اس دل والے کو ہدایت دے دیتا ہے اور اگر اسے گمراہ کرنا چاہے تو اسے گمراہ کردیتا ہے۔

اسے امام احمد﷫ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

اللہ کے بندو!

دل کبھی ایک طرف مائل ہوتا ہے اور کبھی دوسری طرف مگر اللہ تبارک وتعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو ثابت قدمی بھی اسی بدولت ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: کہ اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو دین پر ثابت قدمی نصیب فرما۔ اسے امام ابن ماجہ اور امام ترمذی نے سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔

قول و عمل میں ثابت قدمی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے۔ انسان اپنی ساری زندگی میں اس نعمت کا پھل کھاتا رہتا ہے اور پھر سب سے بہتر پھل تو اسے قبر میں ملتا ہے۔ فرمان الہی ہے:

’’ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے۔‘‘             (ابراہیم: 27)

اللہ آپکی نگہبانی فرمائے! ثابت قدمی یہ ہے کہ انسان فتنوں، خواہشات نفس اور مختلف ورغلانے والی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے حق اور ہدایت پر قائم رہے۔

اہل علم فرماتے ہیں: صاحب توفیق وہدایت کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اسکا علم جتنا بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی اس کا تواضع بھی بڑھتا جاتا ہے اور لوگوں کے ساتھ نرمی بھی بڑھتی جاتی ہے۔ اسی طرح جتنا اس کا عمل بڑھتا ہے اتنا ہی اس کا ڈر اور خوف بڑھتا جاتا ہے اور جتنا مال بڑھتا جاتا ہے اتنی ہی سخاوت، کرم نوازی اور احسان بڑھتے جاتے ہیں۔

جب اسکی عمر طویل ہو جاتی ہے تو اس میں مال کی ہوس کم ہوجاتی ہے، دنیا والوں کے ساتھ تعلق کمزور پڑ جاتا ہے اور ان کے حال اور خبروں سے دوری آتی جاتی ہے۔

اللہ کے بندو!

ثابت قدمی کا اسی وقت پتہ چلتا ہے جب انسان ایسے دور اور معاشرے میں رہتا ہے جس میں ہر کوئی کنجوسی کا قیدی اور خواہشات کا غلام ہوتا ہے۔ جہاں ہر شخص اپنی ہی راہ کو حق سمجھتا ہے۔

بزرگ فرماتے ہیں: ثابت قدمی کی نشانی یہ ہے کہ انسان آخرت کی طرف متوجہ ہو جائے اور دنیا سے بے نیاز ہو جائے اور موت کے آنے سے پہلے ہی موت کی فکر کرنے لگے۔

اے مسلمانو!

چونکہ دل کی ثابت قدمی انتہائی اہم ہے، اسی لیے اہل علم نے ان اسباب ووسائل کا ذکر کیا ہے کہ جن سے ثابت قدمی حاصل ہوسکتی ہے اور جن سے انسان فتنوں اور مشکلات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

ان اسباب و وسائل میں سب سے پہلا اور اہم سبب اللہ تعالی کی توحید کا اقرار کرنا ہے۔ ایسی توحید کہ جو انسان کے دل میں بھی ہو، اس کی زبان پر بھی ہو اور اس کے عمل میں بھی نظر آتی ہو۔ توحید کے لئے اللہ تعالی کو پہچاننا بھی لازمی ہے۔ اللہ کے متعلق کتاب کے پاس جتنا زیادہ علم ہوگا اتنا ہی آپ اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہونگے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔‘‘           (فاطر: 28)

توحید میں اللہ تبارک وتعالیٰ کی تقدیر پر ایمان رکھنا، تمام معاملات اسی کے سپرد کرنا اور اسی پر بھروسہ کرنا شامل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

مومن کا معاملہ بھی بڑا نرالہ ہے۔ اس کے ہر کام میں اس کے لئے بھلا ہے اور یہ معاملہ صرف مومن ہی کا ہے۔ جب اسے خوشی نصیب ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور شکر اس کے ہاتھ میں بہتر ہے۔ جب اسے مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو صبر کرتا ہے اور صبر اس کے حق میں بہتر ہے۔

جب انسان توحید کا مکمل طور پر اقرار کر لیتا ہے تو وہ صحیح معنوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈرنے والا بن جاتا ہے۔ وہ اللہ تعالی کی توفیق کے زوال سے ڈرنے لگتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی ایمان لانے کی، یعنی کہ ثابت قدم رہنے کی تلقین کی ہے۔ فرمایا:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ۔‘‘              (النساء: 136)

اسی طرح فرمایا:

’’تاکہ ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے۔‘‘             (المدثر: 31)

طلق بن حبیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پرہیزگاری اختیار کر کے فتنوں سے بچو۔

اللہ کے بندو! ثابت قدمی کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ انسان نیکی پر قائم رہے اور نیک اعمال کرتا رہے، اپنی بساط کے مطابق بھلائی کے کام کرتا رہے، دین کی راہ پر قائم رہے، لوگوں کی مدد کرتا رہے اور تمام کاموں کا مقصد اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی اور اسی سے اچھی جزا کی طلب بنائے۔

نیک اعمال کرنے والے کو اللہ تبارک وتعالی رسوا نہیں کرتا۔

ثابت قدمی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ علماء کے ساتھ رہا جائے اور دینی مسائل جاننے کے لیے انہی کی طرف رجوع کیا جائے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’اہل ذکر سے پوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔‘‘                (النحل: 43)

اسی طرح فرمایا:

’’حالانکہ اگر یہ باہر سے آنے والی خبروں کو رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں۔‘‘           (النساء: 83)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر علماء کے ساتھ رہا جائے تو گمراہی سے بچا جاسکتا ہے۔

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علماء کی مجالس کے علاوہ ساری دنیا تاریک ہے۔

علماء کی نصیحتوں  اور رہنمائی پر عمل کرنا فتنوں اور گمراہیوں سے محفوظ رہنے اور راہ راست پر قائم رہنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔

اسی طرح ثابت قدمی کا ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اپنائی جائے، کیونکہ مومن اپنے بھائی کا آئینہ ہوتا ہے اور بھائی ہوتا ہے، اسے گھاٹے سے بچاتا ہے اور اس کی غیر موجودگی میں اس کے مال اور حقوق کی حفاظت کرتا ہے، اس کا دفاع کرتا ہے اور اسے ثابت قدمی کی تلقین کرتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو۔‘‘        (الکہف: 28)

ثابت قدمی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگی جائیں، اس کی طرف لپکا جائے، اس کے ذکر میں وقت گزارا جائے اور اس کے ساتھ تعلق کو بڑھایا جائے۔

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے یہ لازمی ٹھہرایا ہے کہ وہ ہر رکعت میں اس سے ہدایت کا سوال کریں۔ فرمان الٰہی ہے:

’’ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔‘‘    (الفاتحہ: 6)

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اگر بندے کو دن رات، ہر وقت ہدایت کا سوال کرنے کی ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالی اس پر یہ لازمی نہ ٹہراتا۔ مگر حقیقت یہ ہے انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ہر لمحہ ضرورت رہتی ہے، کہ وہ اسے ہدایت پر قائم رکھے، ثابت قدمی نصیب فرمائے، ہدایت کی پہچان نصیب فرمائے اور ہدایت کی راہ پر چلنے کی ہمت نصیب فرمائے۔ انسان خود اپنا نفع کرنے اور نقصان سے بچنے سے تو قاصر ہے۔

ثابت قدمی کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب سے جڑا جائے۔ فرمان الہی ہے:

’’ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ قرآن پاک کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں۔‘‘  (الفرقان: 32)

اسی طرح فرمایا:

’’دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں۔‘‘      (الانعام: 104)

اللہ کی نگہبانی فرمائے! غور کیجئے کہ کتاب اور بصیرت میں کتنا گہرا تعلق ہے۔ اگر انسان کو بصیرت مل جائے تو حق و باطل، بھلائی اور برائی اور سنت اور بدعت کے درمیان فرق کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ آج فتنوں کے دور میں تو مسلمان کو سب سے بڑھ کر بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بصیرت کا نور ہی فتنوں کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: اگر آپکو اپنے دین کا صحیح علم ہو تو فتنہ آپ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا۔ فتنہ کا نقصان تب ہوتا ہے جب آپ کے لئے حق اور باطل کو ممتاز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی طرح ثابت قدمی کا ایک ذریعہ حاصل کردہ علم پر عمل کرنا ہے۔ یعنی شرعی مسائل، احکام اور آداب میں سے آپ کو جن جن چیزوں کا علم ہے ان پر عمل کیا جائے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا۔ اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے۔ اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے۔‘‘             (النساء: 66۔ 68)

جو شخص اپنے علم پر عمل کرتا ہے اللہ تعالی اسے مزید علم عطا فرماتا ہے اور پھر اسے سب سے بڑی عطا، تقوی دے دیتا ہے۔ فرمان الٰہی ہے:

’’اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا۔‘‘  (الانفال: 29)

ثابت قدمی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ زبان کو شکایت سے روکا جائے، صبر کیا جائے اور نفس کو قابو میں رکھا جائے۔ جلد بازی، غصہ، لالچ، اکتاہٹ، بے ضابطگی اور حرص سے بچا جائے۔ ان کاموں سے بچنے سے دل کو ہدایت ملتی ہے، اللہ تعالی کی محبت میں نصیب ہوتی ہے اور لوگوں کی محبت بھی مل جاتی ہے۔

ان سارے اسباب کو جمع کرنے والی چیز اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھنا ہے اور اس کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہے۔ مومن مایوس ہونے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ اللہ تعالی سے اچھی توقع رکھنے والا ہوتا ہے۔ مگر خیال رہے کہ نیک اعمال کرنے، اللہ کی طرف متوجہ ہونے، اطاعت گذاری پر قائم رہنے اور فرماں برداری کے بغیر اللہ تعالی کے متعلق اچھا گمان رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس رب کی قسم جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں! کسی کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھے گمان سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ملی! اس کی قسم جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں! جو اللہ تعالی کے متعلق اچھا گمان کرتا ہے، اللہ اس کے گمان کے مطابق اسے ضرور عطا فرماتا ہے، کیونکہ ساری خیر تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

مومن جب اللہ تبارک وتعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہے تو اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کے نفس کو سکون مل جاتا ہے، اسے انتہا درجہ سعادت نصیب ہو جاتی ہے۔ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تقدیر پر راضی ہوجاتاہے اور اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔

پیارے بھائیو!

ثابت قدمی کے عظیم اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ دل میں یہ یقین ہو کی عاقبت پرہیزگار لوگوں ہی کی ہے اور اللہ کا وعدہ حق ہے۔ جب یہ یقین دل میں ہوتا ہے تو مومن تمام مشکلات پر صبر کرتا ہے اور دین پر قائم رہتا ہے۔ پھر وہ جان لیتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے دین کی حفاظت ضرور کرے گا اور اپنے لشکر کی مدد لازمی فرمائے گا۔ فرمان الٰہی ہے:

’’یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پوا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘                 (الصف: 8 9)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس چیز سے منع کیا تھا کہ وہ ان لوگوں کی وجہ سے پریشان ہوں یا دل تنگ کریں، جنہوں نے دعوت کے آغاز میں دین قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، اسی طرح اہل ایمان کے لیے بھی یہ درست نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کی وجہ سے تنگ دل ہوں جو ایمان نہیں لاتے۔

بہت سے لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ جب وہ اہل اسلام کے حالات بدلتے دیکھتے ہیں تو وہ نوحہ کرنے لگتے ہیں اور یوں رونے لگتے ہیں جیسے بڑی مصیبت والے روتے ہیں، جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس چیز سے منع فرمایا ہے اور لوگوں کو صبر، توکل اور ثابت قدمی کی تلقین فرمائی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ یقین رکھے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ پرہیزگارلوگوں اور احسان کرنے والوں کا ساتھی ہے، اس پر بھی یقین رکھے کہ اس پر جو بھی مصیبت آ رہی ہے وہ اس کے گناہوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے آرہی ہے اور اللہ کا وعدہ حق ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور صبح و شام اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے۔

نیک لوگ فرماتے ہیں: لوگوں کو فقر وفاقہ سے نہ ڈراؤ، کیوںکہ یہ شیطان کا کام ہے، جب تم ایسا کرتے ہو تو تم بے علمی میں شیطان کی مدد کررہے ہوتے ہو۔ فرمان الٰہی ہے:

’’شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔‘‘      (البقرہ: 268)

خوب جان رکھو کہ جس نے آپ کو منہ کھولنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے وہ آپکو کبھی بھولنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالی جب بھی اپنی حکمت سے کوئی دروازہ بند کرتا ہے تو اس کی جگہ رحمت کا ایک دروازہ ضرور کھولتا ہے۔

بعدازاں! اے اللہ کے بندو!

اللہ جسے چاہتا ہے ان اسباب کو اپنانے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے جو اس کے فضل و کرم سے فتنوں اور مصیبتوں کے وقت ثابت قدمی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جو فائدہ انسان کے حق میں لکھ دیا گیا ہوتا ہے، وہ اسے مل کر رہتا ہے چاہے وہ اس فائدے کو ناپسند کرتا ہو اور جو فائدہ اس کے حق میں نہیں لکھا گیا ہوتا وہ اسے کبھی حاصل نہیں ہو سکتا چاہے وہ کتنی ہی تگ ودو کیوں نہ کر لے۔

جس شخص کی صبح و شام یہی فکر ہو کہ اللہ راضی ہو جائے، اللہ اس کی دوسری حاجتیں خود ہی پوری کردیتا ہے، اس کی ساری پریشانیاں اپنے ذمہ لے لیتا ہے، اس کے دل کو محبت الہی کے لیے پاکیزہ کردیتا ہے۔ کسی زندہ انسان کے متعلق یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ وہ فتنے سے ضرور محفوظ رہے گا لیکن فتنوں سے حفاظت انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جن کی طر ف اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں اشارہ کیا ہے اور جن پر اللہ تبارک وتعالی نے رحمت فرمائی ہے:

’’مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے۔ اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔‘‘               (ہود: 118۔ 119)

فرمان الٰہی ہے:

’’ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔‘‘        (ابراہیم: 27)

اللہ مجھے اور آپکو قرآن عظیم میں اور محمد ﷺ کی سنت میں برکت عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اپنے لئے، آپ کے لئے اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں! آپ بھی اسی سے معافی مانگیں، یقینا! اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

الحمداللہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں وہی سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔ اسی کا فرمان ہے:

’’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔‘‘            (الملک: 14)

میں اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں اور اس کی بے انتہا نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کی تھوڑی عبادت پر بھی راضی ہو جا تا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ ایسی گواہی ہے کہ جو جہنم کے عذاب سے بچا لیتی ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالی، جبریل، اللہ کے نیک بندے اور تمام فرشتے آپ ﷺ کے مددگار ہیں۔ اے اللہ! رحمتیں۔ برکتیں اور سلامتی نازل فرما آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی پاکیزہ آل پر، نیکیاں کرنے والے صحابہ کرام پر، اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے راہ حق پر قائم رہنے والوں پر۔

بعد ازاں! اے مسلمان معاشرے کے لوگو!

ثابت قدمی کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالٰی سے راضی ہوجائے جائے۔ اللہ کی رضا مندی اللہ تعالی کے متعلق اچھے گمان سے جڑی ہوئی ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے  اس صفت کا ذکر قرآن کریم میں چار مرتبہ فرمایا ہے۔ فرمایا:

’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے۔‘‘                (المائدہ: 119، التوبہ: 100، المجادلہ: 22، البینہ: 8)

تو اے اللہ کے بندے! اپنے حال پر غور کر۔ کیا تو واقعی اللہ سے راضی ہے؟

اللہ آپکے نگہبانی فرمائے! اللہ تعالی سے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی لکھی ہوئی ہر چیز پر راضی رہا جائے۔ یہ یقین رکھا جائے کہ اچھے اور برے حالات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے لیے بھلائی ہی لکھی ہے۔ جب آپ اللہ سے راضی ہو جائیں گے تو آپ لوگوں کے سامنے شکایتیں بھی کم کریں گے اور حلات سے تنگی کا اظہار بھی کم ہی کریں گے۔

اگر اللہ آپ کو عطا فرمائے تو بھی آپ اس سے راضی رہیں گے اور اگر آپ کو نہ دے تو بھی آپ اس سے راضی ہی رہیں گے۔ اگر وہ آپ کو صحت عطا فرمائے گا تو بھی آپ سے راضی رہیں گے اور اگر آپکو بیماری میں مبتلا کرے گا تو بھی آپ اس سے راضی ہی رہیں گے۔

اللہ آپکی نگہبانی فرمائے! اللہ سے راضی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اسباب پر عمل کرنا چھوڑ دے اور مشکلات کو حل کرنے کی کوشش سے ہاتھ دھو لے، اس کا معنیٰ یہ بھی نہیں ہے کہ کسی مصیبت پر آپ کو پریشانی نہیں ہوگی یا کسی مشکل میں آپکو درد نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ سے راضی رہتے ہوئے بھلائی کی تگ و دو جاری رکھی جائے۔

اس شخص کا حال بھی دیکھ لیجیے جو اللہ کے دیے پر راضی نہیں ہوتا، اگر ایسا شخص ساری دنیا کا مال بھی سمیٹ لے تو بھی راضی نہ ہو گا۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

’’جو اللہ کے دیے پر راضی ہوتا ہے اس کی رضامندی کا فائدہ اسی کو ہوگا اور جو ناراض ہوتا ہے اس کو اس کی ناراضگی کا نقصان اسی کو ہوگا۔‘‘

اللہ سے راضی ہو جانے سے اللہ بھی انسان سے راضی ہو جاتا ہے۔ ہم اللہ سے رب کے طور پر، اور محمد ﷺ سے نبی کے طور پر اور اسلام سے دین کے طور پر راضی ہوگئے۔

اے اللہ! ہمیں اپنے متعلق اچھا گمان کرنے والا بنا، صحیح معنوں میں توکل کرنے کی توفیق عطا فرما، اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمارا یقین پختہ فرما یہاں تک کہ ہمیں قرآن وحدیث میں بتائی گئی باتوں پر ان چیزوں سے زیادہ یقین ہو جائے جو ہمیں نظر آتی ہیں۔

اللہ ‏ آپ پر رحم فرمائے! اللہ سے ڈرو اور تمام پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوجود یہ یقین ضرور رکھو کہ ہمارا رب کریم انتہائی محسن ہے، وہ بہت نوازنے والا اور بہت نعمتیں دینے والا ہے۔ ہم پر اس کے بہت سے احسانات ہیں اور اس کے ہر کام میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ وہی تنگی کو خوشحالی میں بدل دیتا ہے اور مصیبتوں کو نعمتوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔

ہمیں امید کے ساتھ عمل کرتے رہنا چاہیے، اور ثابت قدمی کے ساتھ محنت کرنی چاہیے کیونکہ فتح قریب ہے، اجر بہت زیادہ ہے، ہر معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ ھر چیز پر غالب ہے مگر اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے۔

درود و سلام بھیجے نبی ہدایت پر کہ جو رحمت بناکر مبعوث کیے گئے تھے اور جن پر درود و سلام بھیجنے کا حکم ہمیں اللہ تعالی نے دیا ہے۔ فرمایا:

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘      (الاحزاب: 56)

اے اللہ رحمتیں برکتیں اور سلامتی نازل فرما اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی مصطفی نبی مجتبیٰ محمد ﷺ پر آپ ﷺ کی پاکیزہ آل پر، اور ازواج مطہرات امہات المومنین پر۔

اے اللہ! خلفائے راشدین ابوبکر عمر عثمان اور علی سے راضی ہوجا قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا اے سب سے بڑھ کر کرم نوازی فرمانے والے!

اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما شرک اور مشرکین کو رسوا فرما سرکشوں، بے دینوں اور تمام دشمنان دین کو ہلاک فرما۔

اے اللہ ہمیں ہمارے گھروں میں امن نصیب فرما اے اللہ ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما اے اللہ ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما اور ہمارے حکمران تجھ سے ڈرنے والے اور پرہیز گار بنا۔

اے اللہ ہمارے حکمران کو توفیق عطا فرما اپنی فرمانبرداری سے اسے عزت عطا فرما اس کے ذریعہ اپنا کلمہ بلند فرما اسے اسلام اور مسلمانوں کی نصرت کی توفیق عطا فرما اسے عرب کے ولی عہد کو اور اس کے بھائیوں کو اور مددگاروں کو ان اعمال کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے، انہیں نیکی اور بھلائی کی طرف لے جا۔

اے اللہ اے پروردگار عالم  تمام مسلمان حکمرانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما انہیں اپنے بندوں پر رحم کرنے والا بنا اور انہیں حق و ہدایت پر اکٹھا فرما۔

اے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کی احوال درست فرما ہے اللہ ہر جگہ مسلمانوں کے احوال سدھار دے اے اللہ ان کی جانوں کی حفاظت فرما انہیں حق و ہدایت پر اکٹھا فرما انہیں سنت پر اکٹھا فرما ان کے بھرے لوگوں کو ان کا حکمران بنا انہیں برے لوگوں کی برائی سے محفوظ فرما ان کے ملکوں میں امن عدل اور سلامتی عام فرما انہیں شر فتنوں اور ظاہری اور باطنی بیماریوں سے دور فرما۔

اے اللہ ہماری فوج کی مدد فرما اے اللہ ہمارے فوجیوں کی مدد فرما جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کررہے ہیں اے االلہ ان کے نشانے درست فرما اون کی رائے درست فرما انہیں ہمت عطا فرما انہیں سر بلندی نصیب فرما انہیں ثابت قدمی عطا فرما انہیں ظلم کرنے والوں کے خلاف فتح نصیب فرما انہیں اپنی تائید نصیب فرما اور انہیں اپنی نصرت عطا فرما۔ ان کی شہادت پر رحم فرما اور انکے زخمیوں کو شفا عطا فرما اے دعا سننے والے ان کے گھر والوں اور انکی اولاد کی حفاظت فرما۔

اے اللہ فلسطین میں ہمارے مظلوم بھائیوں کی مدد فرما ملا فلسطین برما افریقہ لیبیا عراق یمن شام اور ہر جگہ مسلمانوں کی مدد فرما اے اللہ ان پر سخت وقت آگیا ہے اور انہیں مصیبتوں نے آ گھیرا ہے اردو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے ان کی مصیبت سنگین ہو گئی ہے اور ان پر ظلم و زیادتی کی جارہی ہے انہیں گھروں سے نکالا جارہا ہے اور انہیں بے حق مارا پیٹا جارہا ہے اے اللہ ان کی مدد فرما اے اللہ ان کی مدد فرما اور ان کا معاملہ سنبھال لے ان کی مصیبت دور فرما ان کی مشکل آسان فرما انہیں جلد فتح نصیب فرما ان کے دلوں کو جوڑ دے انہیں دین پر اکٹھا فرما انہیں اپنی تائید سے نواز دے اپنی فورڈ سے ان کی مدد فرما اور اپنی نصرت سے ان کی نصرت فرما۔

اے اللہ سرکش ظالموں کو اور ان کے مددگاروں اور معاونوں کو ہلاک فرما اے اللہ انہیں الگ الگ کر دے ان کا اتحاد اتفاق پاش پاش کر دے انہیں دنیا میں بکھیر دے اور انہیں اے پروردگارعالم، تباہ و برباد فرما دے!

اے اللہ غاصب اور ظالم اور حملہ آور یہودیوں کو تباہ و برباد فرما اے اللہ غرض سے ظالم صہیونی افواج کو تباہ و برباد فرما اللہ تعالی عاجز کرنے والے نہیں ہیں یا اللہ ان پر اپنا وہ عذاب نازل فرما جمالی موسی دور نہیں رہتا اے اللہ ہم تمہیں ان کے سامنے کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

اے اللہ تو ہی الہ ہے تو ہی بے نیاز ہے اور ہم فقیر او رمحتاج ہیں اے اللہ تو ہی ہمارا الٰہ ہے اور تو بے نیاز ہے ہم سب فقیر اور محتاج ہیں ہم پر رحمت والی بارشیں نازل فرما اور ہمیں مایوس نہ فرما۔

اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم پر بارش نازل فرما اے اللہ ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں اور تو معاف کرنے والا ہے اللہ آسمان سے ہم پر بارش نازل فرما اور نازل کی جانیوالی بارش کو اپنی اطاعت میں اضافہ کا باعث بنا اس کے ذریعے ہمیں مزید عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ تیز بارش نازل فرما جو ساری بیماریاں دور کردے جیسے تو زمین کو بھی زندگی نصیب فرمائے اور بندوں کو بھی پینے کا پانی نصیب فرمائے اور جسے ہر شخص اپنے کام مکمل کر سکے۔

اے اللہ ہم تیری ہی ایک مخلوق ہے ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں اپنے فضل وکرم سے محروم نہ فرما۔

’’ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔‘‘ (یونس: 85)

’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘          (الاعراف: 23)

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘           (البقرہ: 201)

’’ پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

حق پر ثابت قدمی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں